آئینۂ عالمخصوصی

آہ ….. برما کے مظلوم مسلمان

آہ ….. برما کے مظلوم مسلمان

برما کے نہتےمسلمانوں پر قیامت صغریٰ ٹوٹ رہی ہے۔ 2012سے اب تک ان کی پریشانیوں کا کوئی سدباب نہ ہوسکا۔ نہ تو برماکی سرکار اپنے ظلم سے رک رہی ہے اور نہ عالمی ادارے کو ئی مؤثر اقدام کر پارہے ہیں۔
برما میں روہنگیائی مسلمانوں کا یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے؛بل کہ بات اس وقت بگڑی جب 1982میں جنرل نی ون کی ایک فوجی حکومت نے نیا شہریت کا قانون پاس کیا ؛جس کے تحت روہنگیا ئی مسلمانوں کی شہریت رد کردی گئی ۔ اور اس قانون کی رو سے لاکھوں روہنگیا ئی مسلمانوں سے شہری حقوق سلب کر کے ان کو ملک کے اندر ہی کیمپوں میں رہنے پر مجبور کردیا گیا؛جس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ روہنگیائی مسلمان کو اپنا گھر بار چھوڑ کے کسی نہ کسی کیمپ میں پناہ گزیں ہونا پڑا اور برمائی فوج نے انہیں روزگار حاصل کرنے کی خاطر بھی کیمپوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔
برمی مسلمانوں کی تاریخ:
برما کے۱۰/ لاکھ مسلمانوں پر الزام ہے کہ وہ وہاں کے مقامی باشندے نہیں ہیں ؛بلکہ بنگالی ہیں ،اور بنگلہ دیشی مہاجرین کی حیثیت سے برما پر ان کا کوئی حق نہیں ہے ، جبکہ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ 1826میں جب برطانوی راج نے اپنی حدود کو وسیع کرتے ہوئے ریاست بنگال کی توسیع کی اور برما تک بنگال کی ریاست کو پھیلادیا تب وہاں کی زرخیز زمینوں پر کھیتی کرنے کی غرض سے بڑی تعداد میں بنگالی مزدوروں کو وہاں لے جا کر آباد کیا ۔ واضح رہے کہ بنگالی باشندوں کو کھیت مزدور کی حیثیت سے نہ صرف برما لے جایا گیا بلکہ برطانوی سامراج نے انہیں مفلس مزدور سمجھ کر دنیا کے دیگر بہت سے ممالک میں بھی آباد کیا مثلاً آسام ، ماریشس ،مالدیپ ، سورینام، ترینڈاڈ ، گیانا اور دیگر جنوبی امریکی ممالک تک ان مسلمانوں کو لے جایا گیا ان کی نسلیں آج بھی وہاں آباد ہیں اور اپنے پرانے دیار ان کو یاد تک نہیں ہے ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر برما میں بھی ان بنگالی مسلمانوں کو آباد کیا گیا تھا ،حالانکہ اس سے قبل بھی وہاں خاطر خواہ مسلم آبادی موجود تھی ۔ برما میں عرب مسلمانوں کی آٹھویں صدی عیسوی سے آمد اور مستقل قیام مؤرخین کااتفاق ہےکہاجاتا ہے کہ برما میں 1430-34کے زمانے سے ہی مسلمانوں کی آبادی موجود تھی اور ماروک علاقے کے راجہ بارا میکھلا نے 1430میں بنگال کے سلطان جلا ل الدین محمد شاہ کی فوج کی مدد سے ارکان صوبے پر اپنا تسلط قائم کیا تھا اور اسی زمانے میں سلطان بنگال کے مسلمان فوجی وہاں آباد ہوگئے تھے ۔ اس جنگ کے معاوضے کے طور پر ارکان کے راجہ نے وہاں کے کچھ علاقے بھی بنگالی سلطنت کی تحویل میں دے دیئے تھے؛ جن پر مسلم آبادیاں بسائی گئی تھیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس کے بعد لمبے عرصے تک اراکان میں بنگالی اسلامی سکوں کا چلن جاری رہا۔خود اراکان کا راجہ بھی جو سکے ڈھلواتا تھا اس میں ایک جانب برمی زبان ہوتی تھی اور دوسری جانب فارسی زبان لکھی ہوتی تھی۔ یہ سلسلہ 1666تک جاری رہا اور اس مرحلے میں اراکان سے چٹاکانگ تک کا علاقہ برما میں شامل رہا ۔ سلطنت بنگال سے علیحدگی کے بعد بھی لمبے عرصے تک برما کے بودھ راجہ اپنے لئے مسلم خطابات استعمال کرتے رہے۔
1785 تک اراکان ایک خود مختار صوبہ تھا جس پر برما کا کوئی تسلط نہیں تھا اور وہ سلطنت بنگال کی حمایت سے اپنی خود مختاری قائم کئے ہوئے تھا لیکن 1785 میں برمانے اس خود مختار ریاست پر قبضہ کرلیا اور ہزاروں اراکانی باشندوں کو قتل کردیا۔ اس سے گھبرا کر بڑی تعداد میں اراکانی لوگ صوبۂ بنگال میں بھاگ کر آگئے جہاں اس وقت برٹش حکومت تھی ۔ اس کے نتیجے میں اراکان صوبے کی آبادی بہت کم رہ گئی تھی چنانچہ 1826میں جب برطانوی راج برما تک پھیل گیاتو بنگال اوربرما کے درمیان کوئی بین الاقوامی سرحد نہیں رہی اور نگریزوں نے بڑی تعداد میں بنگالیوں کو اراکان پہنچ کر کھیت مزدور کی حیثیت سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں اراکان ضلع کی آبادی میں خاطرخواہ اضافہ ہوا؛یہی وہ مسلمان ہیں جن کو آج روہنگیا ئی مسلمان کہاجاتا ہے ۔
میڈیا کا دوہرا معیار:
میڈیا کا دعوی ہے کہ وہ لوگوں کو تمام معلومات بلاکم وکاست فراہم کرتا ہے اور سچائی واچھائی کا ساتھ دیتا ہے؛ مگر موجودہ دور میں میڈیا ایک بزنس کے طور پر کام کر رہا ہے اور یہ چند ایسے ہاتھوں میں ہے جو صرف اور صرف اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں اور اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی وہ لوگوں کو خبریں اور معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کی مثال برما کی موجودہ صورتحال پر ہمارے میڈیا کی خاموشی ہے۔ برما میں بے شمار مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے مگر ہمارا میڈیا بالکل خاموش ہے، اس کی وجہ صرف اور صرف مغربی میڈیا کی اجارہ داری، مغربی ممالک کو خوش کرنا اور میڈیا مالکان کے مفادات ہیں، جس کی وجہ سے ایک مسلمان ملک برما کے مسلمانوں کی شہادت پر بالکل خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ میڈیا دعوے تو بہت کرتا ہے کہ وہ لوگوں تک حقائق پہنچا رہا ہے مگر اصلیت تو یہ ہے کہ میڈیا لوگوں تک صرف وہی معلومات پہنچاتا ہے جس سے اس کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ آج میڈیا کا برما کے مسلمانوں کے بارے میں بالکل کوئی خبر نہ دینا اور اس مسئلے پر خاموش رہنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہم مغربی ممالک کے اتنے زیادہ غلام ہوچکے ہیں کہ مسلمانوں کے حق میں آواز بھی بلند نہیں کرسکتے۔
برمی مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ امت محمدیہ کا حصہ ہیں،اگر وہ عیسائی یا یہودی یاایسی ہی کسی جنس سے ہوتے تو پوری دنیاکا میڈیاآسمان سر پر اٹھا لیتا،نیٹوکی افواج امن عالم کا نعرہ بلندکرتی ہوئی پہنچ جاتیں،امریکی قیادت کے دورے ہی ختم نہ ہوتے،اقوام متحدہ حقوق انسانی کی پامالی پر قراردادیں منظورکرتاہوااپنے خزانوں کے منہ کھول دیتا،شیوخ عرب اتنی بڑی بڑی اورموٹی موٹی رقوم کے چیک پیش کرتے کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں،عالمی اداروں کے نمائندے اپنے کارندوں کے ہمراہ مظلومین کے ایک ایک فرد کے ساتھ کھڑے ہو کرتصویریں بنواتے اوردنیابھر کی’’ این جی اوز‘‘ان کے حالات پر ڈاکومینٹری فلمیں اور ڈرامے بناکر عالمی ایوارڈ حاصل کر چکی ہوتیں۔افسوس ہے ان مسلم دشمن قوتوں پرکہ جوکتوں اوبلیوں سےتو پیارکرتے ہیں لیکن برماکے مسلمانوں کوحیوانات سے بھی بدتر سمجھ کربے اعتنائی برت رہے ہیں۔
کہتے ہیں مساوات اسی کو تو ستم ہے
اتنی ہی خوشی ان کو ہے جتنا مجھے غم ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close