آئینۂ عالم

اٹھو! تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

انشاءاللہ نیوزی لینڈ میں بہا معصوم نمازیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

احساس نایاب

اُٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

خدا بھی اہل ہمت کو ہی پرواز دیتا ہے

اٹھو کشمیر برما کے سرو و سمن آواز دیتے ہیں

تمہیں افغان کے کوہ و دمن آواز دیتے ہیں

لہو میں تیرتے گھر و صحن آواز دیتے ہیں

فلسطینوں کی لاشیں بےکفن آواز دیتے ہیں

عالم اسلام کے شیروں اٹھو! تمہارے مظلوم بھائی تمہیں آواز دے رہے ہیں اب بھی خاموش رہ کر کتنے جنازوں کو کندھا دوگے؟ مستقل یہی حالات رہے تو وہ دن دور نہیں جب تمہارے جنازے اٹھانے کے لئے کندھے بھی میسر نہیں ہونگے،جس طرح سے پوری دنیا میں اسلام پر حملہ کیا جارہا ہے، بےقصور مسلمانوں کا خون ناحق بہایا جارہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہمارا خون خون نہیں پانی ہے، دیکھ رہے ہو نہ تم بھی کشمیر کی سرخ وادیوں میں پسرا ہوا ماتم، برما میں جلتے ہوئے بےبس و بیکس زندہ جسم، بےقصور فلسطینیوں کے چیتھڑے اڑاتی بمباریاں،ان سبھی کی لاشوں پہ بہتے آنسو ابھی تھمے بھی نہ تھے کہ دنیا کا امن پسند ملک کہلانے والا نیوزیلینڈ کی دو مسجدوں میں جمعہ کے دن ٹھیک خطبہ جمعہ کے وقت ہتھیار سے لیس بزدل صلیبی نے گھُس کر نہتے نمازیوں پہ اندھا دھند گولیوں کی بوچھار کردی اور چند ہی لمحوں میں پوری مسجد کو معصوموں کے خون سے نہلادیا، اس پورے خونی کھیل کو فیس بک لائیو کے ذریعے اور دیگر سوشل میڈیا پہ دھڑلے سے اپلوڈ کر کے ہزاروں لاکھوں افراد کی نظروں کے سامنے 50 سے زائد معصوم نمازیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس پورے خونی کھیل کو ساری دنیا تماشائی بن کر دیکھتی رہی۔

جدید ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں جہاں انسان کچھ ہی پل میں آسمانوں کی سیر کررہا ہے وہیں افسوس زندہ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی کوئی اس قتل عام کو روک نہیں پایا یا یوں کہیں کہ کوئی روکنا ہی نہیں چاہتا ہوگا، کیونکہ جس انداز سے لائیو ویڈیو بناتے ہوئے اُس درندے نے قتل عام کیا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہورہی ہے کہ اس کے پیچھے کسی ایک یا دو شخص کا ہاتھ نہیں بلکہ یہ سازش کے تحت انجام دیا گیا ہے، دشمنان اسلام کی طرف سے عالم اسلام کو کھلی وارننگ دینے کی کوشش ہے جس کے لئے چند وحشیوں کو مہرہ بناکر ان کی پشت پناہی کی جارہی ہے، مگر ان کی وحشیانہ حرکات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ دشمنان اسلام کو اسلام سے کتنا خوف ہے جو آج انکا خوف ایمان والوں سے نفرت کرنے پر انہیں مجبور کررہا ہے اور یہ اُن کی بوکھلاہٹ ہی کا نتیجہ ہے جو یہ انسانیت کو بھول کر درندے بن چکے ہیں، یہاں بیشک انکا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کو ڈرانا خوفزدہ کرنا ہے لیکن انشاءاللہ ظالم دجال کی پیروی کرنے والے اپنے اس گندے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ وہ ہمارا جتنا خون بہایئنگے ہمارا ایمان اتنا ہی پختہ، ہمارے حوصلے اتنے ہی بلند ہونگے، ہم مسلمان ان کی اس بزدلانہ حرکت سے ہرگز نہیں گھبراتے ہیں۔

ویسے بھی مسلمانوں پہ اس طرح کے حملے پہلی بار نہیں ہوئے ہیں بلکہ برسوں سے یہی سب کچھ تو ہوتا آرہا ہے، لیکن افسوس ایسی درندگی کو دیکھ کر بھی ساری دنیا اس قدر انجان بنی ہوئی ہے جیسے کہ مسلمانوں کا جنم ہی ان درندوں کے ناپاک ہاتھوں سے قتل ہونے کے لئے ہواہو، آخر اس طرح کے حادثات کے وقت کہاں مرجاتے ہیں اقوام متحدہ کے اراکین ممالک اور حقوق انسانی کے علمبردار اور جھوٹے دعویدار؟

کیا ایسے وقت میں ان کی ذمہ داریاں مسلمانوں کے قتل پہ محض جھوٹی ہمدردی جتاکر مذمتی قرارداد کا فریب دکھا کر عالم اسلام کے دلوں میں غصے سے دہکتے ہوئے لاوے کو جھوٹی تسلیوں کے سرد چھینٹوں سے دبانے کی ناکام کوشش کرنا ہے تاکہ اس بیچ ایک اور دہشتگرد بزدلانہ حملے کی تیاری کرسکے، اگر یہی کسی نام نہاد مسلمان نے کیا ہوتا تو ناجانے کتنا واویلا کیا جاتا ساری دنیا سمٹ کر ایک جٹ ہوجاتی اور اسلام کی مخالفت کرتے ہوئے اکثریت والے کئی مسلم علاقوں کو آگ میں پھونک دیا جاتا ہمارے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہوئے زمین تنگ کردی جاتی، بےقصور نوجوانوں پہ دہشتگردی کا ٹھپہ لگاکر اُن کی زندگیاں تباہ و برباد کردی جاتیں، جس طرح امریکہ میں بیٹھے سب سے بڑے دہشتگرد نے ستمبر 2001 میں سازش کے تحت اس طرح کے گھناؤنے کارنامے انجام دیےاور 9/11 ورلڈ ٹریڈ سنٹر پہ ہوئے حملے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، جس کا اندازہ ( مائی نیم ایز خان، آئی ایم ناٹ ٹیرریسٹ, نامی ہندی فلموں سے لگایا جاسکتا ہے ) جبکہ اُس حملے کے پیچھے کی حقیقت سے ساری دنیا بخوبی واقف تھی باوجود اس کے اسلام کو بدنام کرنے، مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے انہیں ایک بہانہ کافی تھا جس کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

اُسی طرح حال ہی میں سیاسی داؤپیج کے چلتے پلوامہ میں حملہ کروا کر جگہ جگہ مسلمانوں خاص کر کشمیری مسلمانوں کا جینا حرام کردیا گیا اور اُن حالات میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کی میڈیا جو مچھروں کے مرنے پر بھی مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے دہشتگردی کا راگ الاپتے ہوئے چلا چلا کر اپنا گلا پھاڑ کر عوام میں مسلمانوں کے خلاف آگ بھڑکانے، نفرت کا زہر گھولنے میں سب سے آگے رہتی ہے آج وہ 50 معصوموں کی شہادت پہ اندھی، گونگی، بہری بن چکی ہے، کھلے عام ہوئی دہشتگردی کو ذہنی بیماری و جذباتیت کا نام دیا جارہا ہے، کیونکہ آج جو ہوا ہے وہ کسی غیر مسلم کے ساتھ نہیں بلکہ بےقصور، مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہے جن کا خون بہانا ہی انکا اصل مقصد ہے چاہے یہ سفاک درندگی کسی بھی ملک میں، کسی بھی شکل، کسی بھی طریقے سے کیوں نہ انجام دی گئی ہو۔

مگر یاد رہے مسلمان انسانیت، امن سلامتی و اتحاد کے خاطر خاموش ہیں لیکن ماضی سے حال تک کے وہ تمام مظالم بھولے نہیں ہیں، یاد ہیں ہمیں فلسطنیوں کی وہ بےکفن لاشیں، خون سے تربتر زار و قطار روتے، بھوک سے بلکتے ننھے بچے، بےآبرو ہوتی ہماری ماں، بہنیں کچھ نہیں بھولے ہم، نہ کشمیریوں کی آہ وزاریاں، معصوم بچوں سے چھینی گئی بینائیاں پردہ نشینوں کے سر سے جبراً کھینچی گئی چادریںاور برما کی وہ وحشت جہاں مسلمانوں کو کاٹ کر گِد کو کھلایا گیا تھا، برہنہ جسموں کو پیڑوں پہ لٹکایا گیا تھا جسے دیکھ کر شیطان نے بھی اللہ کی پناہ مانگی ہوگی جو رہتی دنیا تک انسانیت پہ بدنما داغ ہے۔

اور یاد ہیں ہمیں مصر، شام، افغانستان، سوڈان کے ہر وہ واقعات جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی کوشش کی گئی اور اُس دن کو تو مسلمان چاہ کر بھی بھلا نہیں سکتا جب قندوز میں دستار بندی کے دوران ہمارے ننھے ننھے حافظ قرآن، جنت کے شہزادے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لاڈلوں پہ ظالم امریکی دہشتگردوں نے بم گرائے تھے، آج بھی ہماری آنکھوں میں بسے ہیں سفید کفن میں لپٹے ہوئے وہ پرنور چہرے، تم شیطانوں کو اُن بھولے بھالے بچوں پر بھی ترس نہیں آیا تھا خود کو دنیا کا سب سے طاقتور ملک سوپر پاور کہتے ہو لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ تم اتنے بزدل اتنے کمینے کم ظرف ہو کہ تم نے بچوں، عورتوں اور نہتھے نوجوانوں پہ بار بار حملہ کروایا گیا یاد ہے ہمیں۔

” وہاں افغانیوں کے خون سے بہتے ہوئے دھارے

اُبلتا ہے لہو سینو سے یا چشموں کے فوارے

کسی کے ہیں جگر گوشے کسی کے ہیں جگر پارے

وہاں ماؤں نے وارے کیسے کیسے آنکھ کے تارے

میرے الفاظ کیا ہر شعر کا مضمون جلتا ہے

میں جس دم سوچنے لگتی ہوں میرا خون جلتا ہے ”

بیشک ہمارا خون کھولتا ہے، کیونکہ دنیا بھر کے مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں، بھلے زخم وہاں لگ رہے ہیں لیکن درد یہاں ہوتا ہے عزتیں وہاں پامال کی جاتی ہیں، احساس ہمیں ہوتا ہے۔ لیکن انشاءاللہ بہت جلد ہر زخم ہر درد ہر رسوائی کا بدلا لیا جائیگا چاہے وہ حسن سلوک کے ساتھ ہو یا نعرہ تکبیر کے ساتھ۔

آج جو مسلمان خاموش ہیں اس خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھیں کیونکہ ہر خاموشی کے بعد طوفان اُٹھتا ہے، ہر ظلم و زیادتی کے بعد جانباز مجاہد جنم لیتا ہے ویسے بھی قدرت سب کچھ دیکھ رہا ہے، بےگناہ خون کے ہر قطرے کا بدلہ لے گی ہر ظالم پہ بجلی بن کر گرے گی۔

نیاموں میں رکھی ہر وہ شمشیر چمکے گی جب ہواؤں میں نعرہ تکبیر کے ساتھ اللہ اکبر کی صدائیں گونجے گی پھر وہ محشر کا عالم بھی ہوگا جب ہمارے ہاتھ اور ظالموں کے گریبان ہونگے۔

آج بیشک اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دجالی مریدوں کے دلوں پہ مہر لگادی ہے، ظالم کو ڈھیل دی ہوئی ہے اور جو کچھ ہورہا ہے وہ آمد دجال کی تیاریاں ہیں لیکن یاد رہے اسلامی لشکر کے سپہ سالار امام مہدی علیہ السلام کا نزول بھی عنقریب ہوگا اور اُس وقت ہر مسلمان اُس اسلامی لشکر کا سپاہی بنے گا اسلئے موجودہ حالات سے مسلمانوں کو خوفزدہ، رنجیدہ، مایوس یا ناامید نہیں ہونا چاہئیے، کیونکہ شہادت تو ہر مومن کی چاہت ہے.

” مرتب ہورہی ہے جہدِ اسلامی کی تحریریں

لہو دیکر بدلتی ہیں سدا قوموں کی تقدیریں ”

اگر قوم کی تقدیر بدلنی ہے تو اپنے اندر ایمانی حرارت پیدا کریں، جنگجو سپاہی کی طرح خودی کو شمشیر بنالیں اپنے حوصلوں کی پرواز اتنی اونچی کریں جہاں سے زندگی بےمعنی اور شہادت مقصد بن جائے، کیونکہ ایمان والوں نے اپنی تاریخ کئی قسم کی اذیتیں سہہ کر، اپنے چہیتوں کی قربانیاں دیتے ہوئے اپنا خون بہاکر رقم کی ہے اور نیوزی لینڈ میں نمازیوں کو جو شہادت ملی ہے سبحان اللہ، اُس پاک ذات کی قسم ایسی شہادت پہ تو ہم خادموں کی ہزاروں زندگیاں قربان ہیں، بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہوکر ذکر و تلاوت کے دوران سانسوں کا رُکنا خوش نصیبوں کا مقدر ہے جسے دیکھ کائنات بھی رشک کر رہی ہوگی ایسے شہداؤں پہ لاکھوں، کروڑوں سلام۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ ہر مسلمان کو ایسی شہادت نصیب ہو جس کی چاہت بچپن سے اپنے ساتھ لے کر جی رہا ہے اور ہر لمحہ حق کے خاطر سر پہ کفن باندھ کر رب الہی کے ایک اشارے کا منتظر ہے۔

آخر میں اپنے جانباز مجاہدوں کے نام احساس کا پیغام

اسلام کے جانبازوں اٹھو جنگجو سپاہی کی طرح آگے بڑھو

کچل ڈالو ہر ایک فتنہ ستم کا، بربریت کا

اٹھو اور توڑ ڈالو ہر ہاتھ اہل اذیت کا

اگر کچھ حریت کا جوش ہے جذبہ حمیت کا

رہے رب کی زمیں پر کیوں یہ غلبہ آمریت کا

اٹھو تم دین فطرت کی حقیقت کا حوالہ ہو

تمہارے نام سے اسلام کا پھر بول بالا ہو

جہاد فی سبیل اللہ پھر تیار ہوجاؤ

اگر پہلے نہ تھے تیار تو اب تیار ہوجاؤ

جو سچ پوچھو تو ہے حکمِ الہی تیار ہوجاؤ

نہ اب پہنچوگے تو پہنچوگے کب ؟ تیار ہوجاؤ

اٹھو آگے بڑھو کفار نے پھر تم کو للکارا ہے

تمہاری ٹھوکروں میں تھا کبھی تاج سرِ دارا

اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close