آئینۂ عالمنقطہ نظر

اگر عمران خان مودی کی طرح ناکام ہوتے ہیں تو؟

محمد ہاشم خان

پاکستان کے ممکنہ وزیراعظم عمران خان کی متوقع اورقدرے متنازعہ ’شاندار کامیابی ‘ پر ہندوستانی حکومت کی طرف سے ابھی تک ایسا کوئی خوش کن ردعمل نہیں آیا ہےلیکن پاکستان کی شکست خوردہ سیاسی جماعتوں اور ہندوستانی گودی میڈیا دونوں کا ردعمل سامنے آچکا ہے اور ایک جیسا ہے بس فرق صرف اتنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا ردعمل فطری اور ہمارے میڈیا کا ردعمل مصنوعی یا یوں کہہ لیں کہ ’فیڈڈ‘ یا حب الوطنی کے عین مطابق ہے۔ اگر آپ پاکستان کودشمن ملک کے بجائے پڑوسی ملک سمجھتے ہیں تو آپ بھکتوں کےحب الوطنی کے غیراعلانیہ مگرنافذ کردہ پیمانےپر پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو ہارنے والی’ لت خور‘سیاسی جماعتیں اسے عزت و وقار کے ساتھ تسلیم نہیں کرتی ہیں بلکہ دھاندلی وغیرہ کا الزام عائد کرکے ہزیمت کی ذلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں حالاں کہ اس طرح وہ مزید ذلیل و خوار ہی ہوتی  ہیں۔ اخلاقی شرافت(اگر ہے تو) کا تقاضا یہ ہے کہ شکست کو تسلیم کرتے ہوئے پیچھے ہٹ جائیں اور نیک تمناؤں کے ساتھ اقتدار نئی حکومت کے حوالےکردیں۔

اغراض نفسانیہ کے مریض ان سیاستدانوں اور ان کے نفاق و نااہلی کو جواز فراہم کرنے والےتوند پرست فربہ مائل علماء کوزمین زادوں نے اس بار بری طرح سے مسترد کردیا۔ اب بجائے اس کے کہ وہ اپنی ذات کی کثافت و تکدر کو صاف کرتے، جبہ و دستار پر لگی استردادوانکار کی مہر کو غور سے پڑھتےاور نجابت وکرامت کے نام پر ریشوں اورخلیوں میں سرایت کرگئی تعفن آمیزخباثت وغلاظت کا احتساب کرتےکل جماعتی میٹنگ بلا کر انتخابی نتائج یا بہ الفاظ دیگرعوامی مینڈیٹ کو مسترد کردیا۔ پی پی پی اورمسلم لیگ نواز کا انتخابی نتائج کومسترد کرنا ایک ’کلاسیکی ردعمل‘ سے زیادہ معنیٰ نہیں رکھتا لیکن متحدہ مجلس عمل کا اقدام بہرحال اہمیت رکھتا ہےکہ یہ جماعت ’انبیاء کے وارثین‘ پر مشتمل تھی۔ سو پہلا کام تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ برخود غلط کی شراب پینے اور پلانے کے بجائے اسوہ نبی اقدسﷺ پر عمل کرتےیعنی کہ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ (وانک لعلیٰ خلق عظیم) پیش کرتے اور پھر قرآن مجید کے اس آفاقی پیمانے ’لماتقولون مالاتفعلون‘ کی روشنی میں اپنے ’گناہوں‘ کا جائزہ لیتے نیز اپنی انتڑیوں میں پلنے والےمکدرخیالات کو مسترد کرتے اور کہتے کہ ہم نے زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھا ہے، ہم ایک مثالی کردارپیش کرنے میں ناکام رہے اس لئے عوام نے ہمیں مسترد کردیا ہے اوران کا فیصلہ سرآنکھوں پر۔ خیریہ تو بات رہی تقدس مآب کج کلاہوں کی۔

اب سیاسی بہروپئوں کو بھی دیکھ لیں۔ مسٹر روڈسٹر شہباز شریف ایک طرف تو انتخاب کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں لیکن دوسری طرف پنجاب میں حکومت سازی کادعویٰ بھی پیش کرتے ہیں کہ عوام نے انہیں دوبارہ مینڈیٹ دیا ہے۔ حسن نثار نے لکھا ہے کہ ’عوام کےشعورکی سطح خطرے کے نشان کو چھو رہی ہے۔ ‘حسن نثار یوں تو کچھ زیادہ ہی درست پیش گوئی کرجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیاسی فہم و فراست خاکدانی حقائق سے دور ہوکر پارٹی لائن سلوگن ہوجاتی ہے جو اپنے صوتی طعنے، طنطنے اورطمطراق سے پُر ہوتی ہے ‘ پھر بھی اگر واقعی ایسا ہے تو پھر عوام کو چاہئے کہ سب سے پہلے ان لوگوں کو نشان زد کرلیں جن کے اندر شکست کو برداشت کرنےکی اعلیٰ ظرفی و بلند حوصلگی نہیں ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں کی طرح ہندوستان کی میڈیا کا ردعمل بھی بڑا افسوسناک رہا ہے۔ ہمارے قومی یا گودی میڈیا نے پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کو فوج اور انتخابی کمیشن کے کھاتے میں ڈال دیااورچشم زدن میں عمران خان کو ہندوستان کا دشمن بنا کرپیش کرنا شروع کردیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان کو پاکستانی فوج اورعبوری سیاسی مقتدرہ کے تحت چلنے والے آئینی اداروں کی حمایت واعانت حاصل تھی لیکن یہ بہت منصوبہ بند حمایت تھی اور عوام کے جوش و جذبے سے مشروط تھی جو مابعد عہد جدید کا بیانیہ دیکھنا، سننا اور گنگنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی اس فتح کو خالص فوج، عدالت اور آئینی اداروں کاالتزام قراردیناکے پی کے سے کراچی تک امنڈے عوامی جذبات کے سیلاب کی نفی کرنا ہے اور یہ کوئی مستحسن یا منصفانہ فعل نہیں۔ سب کچھ فوج کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی کلید فوج ہی کے ہاتھ میں ہے۔

اس دوران دوبار ایک ٹیلی ویژن چینل جے کے 24X7 نیوزچینل کے لائیو شو میں جانےکا اتفاق ہوا اور وہاں پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے مضمرات، فوج کی مداخلت اور عدالت کی فعالیت نیز ’یوتھیائی تبدیلی‘ کے ہندوستان پر اثرات جیسے امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ پینل میں شامل اکثر شرکاء نے مایوسی کا اظہارکیا اور یوں پاکستان میں آنے والی ’یوتھیائی تبدیلی‘ کو فوج کے کھاتے میں ڈال دیا گیااور اکثرمبصرین اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان میں آنے والی تبدیلی کا ہندوستان پر کوئی اثرنہیں پڑنے والا، حالات جیسے تھے ویسے ہی رہیں گے۔ جب تک عمران خان دہشت گردی پر لگام نہیں لگائیں گے ان کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہئے۔ خاکسار کا کہنایہ تھا کہ پاکستان میں انتخاب ہندوستان کے ساتھ مذاکرات  یامسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے نہیں ہوا ہے سو ہمیں اس خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر بات چیت کی پیشکش کی جاتی ہے تو اسے قبول کرتے ہوئے گفتگو کی میز پر بیٹھنا چاہئے کہ مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہوگا گولی اور بندوق سے نہیں۔ دوسری بات یہ کہ ندی سے بہت پانی اور بہت خون بہہ چکا ہے، دنیا پوسٹ ماڈرن پیریڈ(عہد مابعد جدید) کی طرف بڑھ گئی ہے سو اب بیانیہ ستر سال پرانا نہیں بلکہ آج کا ہونا چاہئے اور آج کا بیانیہ یہ ہے کہ ہم جینا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں ایک پرامن زندگی چاہئے، پرامن ماحول چاہئے، روزگار، پیسے اور تحفظ چاہئے۔ لیکن دھرم اور محرومیوں سے گرست خمارزدہ ذہن یہ بات بھلا کہاں سمجھیں گے۔ خواہ پاکستان کے سوٹڈبوٹڈ لوگ ہوں یا ہمارے یہاں کے جدیدروشن خیال لوگ، بات جب سرحد اور کشمیرکی آتی ہے تو سب کی جبینیں تن جاتی ہیں۔ جبین خواہ میری ہو یا آپ کی کج ہوجاتی ہےاور یہیں پرآکر ساری کوششیں گھٹنے ٹیک دیتی ہیں۔

مجموعی طور پر ہندوستانی میڈیا کا ردعمل انتہائی مایوس کن تھا جس کا  اظہارعمران خان نے ’شاندار‘ فتح حاصل کرنے کے بعد قوم کے نام اپنی پہلی تقریر میں خودکیا اور کہا کہ انہیں بالی ووڈ کا ولن بنا کر پیش کیا گیا جب کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔ عمران خان کے اس بیان کے باوجود ہمارے میڈیا کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کیوں کہ ہندوستان اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی فوج کے پاس ہوتی ہے اور یہی عمران خان کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا کہ کیا وہ جمہوریت کو فوج کے آہنی شکنجے سے نکال کرعوام کے ہاتھ میں دے پائیں گے۔ یہ ایک مشکل کام ہوگا اور غالباً عمران خان کا یہ مطمح نظر بھی نہیں۔ عمران خان کی کوشش یہی ہوگی کہ انہیں جس کام کے لئے لایا گیا ہے اسے بہ احسن طریقے سے انجام دیں، پاکستانی معیشت ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے، نظم و نسق کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے، تعلیمی ادارے زوال کی طرف گامزن ہیں، بے ورزگاری بڑھ رہی ہے اور دو تہائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے، عمران خان کی یہ بنیادی ترجیحات تھیں اور اسی کام کے لئے انہیں فوج و عوام نے منتخب کیا ہے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لئے نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہوگا کہ ہندوستان کے ساتھ رسمی تعلقات جوں کے توں رہیں گے، بہت ممکن ہے کہ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں ہمارے وزیراعظم نریندر مودی اپنی’ ہگپلومیسی ‘کے ساتھ شریک ہوں، ایک دو راؤنڈ مذاکرات بھی ہوں بس، اس سے زیادہ کچھ اورکی توقع نہیں رکھ سکتےکہ عمران خان ہندوستان کے ساتھ نارمل تعلقات کو برقراررکھتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

نوازشریف کے ساتھ مودی جی کی اکویشن  (Equation) بہت بہتر خیال کی جارہی تھی لیکن کیا اس کیمسٹری کے باوجود کوئی مذاکرات ہوئے ؟ نہیں ہوئے بلکہ اس کے برعکس سرحد پر جنگ کے حالات بدستور بنے رہےلہٰذاایک بڑا ملک اور ایک بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ پاکستان کے استحکام میں اپنا مثبت کردار اداکریں کہ بقول واجپئی جی ہم خوشحال پڑوسی چاہتے ہیں کنگال پڑوسی نہیں۔ یہ بہت ممکن ہے کہ خوشحال خاک زادے جنگ کے بجائے امن کی بات کریں لہٰذا عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔ عمران خان کے لئے داخلہ اور خارجہ پالیسی کے درمیان توازن کو برقراررکھتے ہوئے ملکی انتظام و انصرام کو چلانا اتنا آسان نہیں ہوگااور کہیں نہ کہیں انہیں فوج کے سامنے کچھ سرنگوں ہونا پڑے گا کہ پاکستانی فوج کے لئے کسی ابھرتے ہوئے سیاست دان کا اسکروٹائٹ کرنا کوئی مشکل کام نہیں اوریہ کوئی غیرتاریخی عمل بھی نہیں ہوگا۔

برطانیہ میں مقیم معروف پاکستانی ادیب افسانہ نگارخرم بقا اپنے ملک کو بہترسمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں اپنا تجزیہ کچھ یوں پیش کیا ہے کہ’’ سردست عمران خان کی ترجیحات میں معیشت، لاء اینڈ آرڈر اور خارجہ پالیسی سر فہرست ہیں۔ خارجہ پالیسی فوج متعین کرتی ہے۔ ‘‘ وہ آگے سوال کرتے ہیں کہ’’ کیا ایسی صورت میں عمران خان آزادانہ طور پر بالخصوص ہندوستان کے ساتھ کوئی خارجہ پالیسی تشکیل کرپائیں گے یہ دیکھنے کی بات ہےاور صرف وقت ہی اس کا جواب دے سکتا ہے۔ ‘‘

چلتے چلتے ایک بات اور یاد دلانا چاہوں گا۔ جیسے ۲۰۱۴ کے پارلیمانی انتخاب میں مودی کی سونامی آئی تھی کچھ ایسی ہی لہر پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ مودی بھکتوں کا خیال تھا کہ وہ  بڑا چمتکار لائیں گے، چمتکار تو کچھ نہیں آیاہاں کانگریس کو روز کوس رہے ہیں کہ ۷۰ سال کی گندھ صاف کررہا ہوں، اس میں وقت لگے گا۔ میری ہمدردیاں پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ عمران خان بھی مودی بن جائیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو عمران خان کسے کوسیں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد ہاشم خان

مضمون نگار ناقد اور افسانہ نگار ہونے کے علاوہ ممبئی کے روزنامہ’’ہم آپ ‘‘ کی ادارتی ٹیم کے سربراہ ہیں۔​

متعلقہ

Close