اے ملک شام۔۔۔۔ ہم حاضر ہیں۔۔۔!!!

ڈاکٹرسمیریونس
اگررسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان زندہ ہوتے تو شام میں ہونے والے مظالم کے تعلق سے آپ ﷺ کیا کرتے؟ سور یا میں ہونے والے مظالم و واقعات کا کوئی منظرجب میں اسکرین پر دیکھتاہوں یا اس سے متعلق کوئی خبرسنتاہوں تو فوراًیہ سوال میرے ذہن میں پیدا ہوتاہے ۔ اس سوال کا جواب میں قارئین پر چھوڑتاہوں جسے وہ نبی اکرم ﷺ کے اس موقف سے خود ہی پالیں گے جوآپ ﷺ نے غزوۂ موتہ کے وقت اختیار کیاتھا۔
غزوہ موتہ کا بنیادی سبب یہ تھاکہ سرزمین شام میں شرحبیل بن عمرو الغسانی النصرانی نے جوروم کی بیزنطینی مملکت کا حلیف تھا مبلغ رسول الحارث بن عمیرؓ کو قتل کردیاتھا۔ ان کی شہادت کی خبر ملتے ہی نبی اکرم ﷺ نے ان کے قصاص کی خاطر اور امت کی کرامت وعظمت کو اس کے ایک فرد کے قتل کے ذریعہ جو ٹھیس پہنچائی گئی تھی ، اس کی تلافی کے لئے تین ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر غزوۂ موتہ کے لئے روانہ فرمایاتھا۔
شام میں اہل سنت کے اشراف اور معززافراد پر ہونے والے ظلم و ستم کی دردناک صورتیں اور مقامات مقدسہ کی بے حرمتی اور صحابہ و تابعین کے آثارو باقیات کی پامالی کو دیکھتے ہی مذکورہ بالا سوال میرے ذہن میں آیا۔
علویوں نے بوڑھوں، نوجوانوں، مردوں، عورتوں ، دوشیزاؤں اور بچوں سب کو قتل کا نشانہ بنایاکسی کو نہ بخشا۔
فرعون کے مظالم بھی مات کھا گئے۔
قرآن کریم نے فرعون کے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ فرعون لڑکوں کو قتل کرتاتھا اور عورتوں کو زندہ رکھنا تھا، لیکن شامی حکمرانوں نے کسی بچے، بوڑھے اور عورت کو بھی نہ چھوڑا۔
ارشاد ربانی ہے:’’ان فرعون علا فی الارض وجعل اھلھا شیعا یستضعف طائفۃ منھم یذبح ابناء ھم ویستحیی نساء ھم انہ کان من المفسدین‘‘(القصص)
شامی حکمرانی کے مظالم کے منھ بولتے واقعات
پوری دنیا نے دیکھا کہ یہ لوگ مسجدوں اور تاریخی آثار کو کس طرح مٹارہے ہیں، عثمان بن عفانؓ کامنارہ ابھی چند ماہ پہلے ہی ڈھایاگیاہے۔ اس منارہ کو گراتے وقت وہ کس طرح تفنن و تنوع کے مظاہردکھلارہے تھے ، شہید بابری مسجد کے منارہ کو ڈھاتے ہوئے شدت پسند بھی اس کا مظاہرہ نہ کرسکے۔ پوری دنیا نے بشار الاسد کی سرکش فوجیوں کے مظالم کے واقعات دیکھے کہ کس طرح یہ لوگ مسلمانوں کو چھری سے اس طرح ذبح کر رہے تھے جس طرح بکری کو ذبح کیاجاتاہے۔ قتل نہیں بلکہ نحر کیاجارہاتھا۔ ایک شہ رگ کو کاٹ کر چھوڑدیاجاتاتاکہ تڑپتے ہوئے موت کو گلے لگائے۔
لاذقیہ کی رہنے والی معصوم بچی ’’علاالجباوی‘‘ کے قتل کا منظرمیری آنکھوں سے جدا نہیں ہورہاہے کس طرح ان ظالموں نے اس کی آنکھوں میں گولی مار کر اسے قتل کردیا۔ ’’واذاالموء دۃ سئلت بأی ذنب قتلت‘‘(التکویر) اور جب زندہ درگور کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کس جرم میں اسے قتل کیاگیا۔
حمص، حماۃ، ادلب اور شام کے تمام ہی شہروں اور دیہاتوں نے اپنے شہید معصوموں کے نعشوں کو بے رحم اور سنگدل علویوں کے ہاتھوں تذلیل ہوتے ہوئے دیکھا ۔ بشار الاسد کے وفاداروں نے سابق ظالم حافظ الاسد کے اس عمل کو اسوہ بنایاہے جو اس نے فروری 1982ء میں اہالیان حماۃ کے ساتھ کیا۔ اس نے اس شہر کا محاصرہ جنگی جہازوں، بکتربندگاڑیوں اور میزائلوں سے کیا جس کے نتیجہ میں تیس ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوگئے۔ فلسطین میں ظالم صہیونی بھی قبضہ سے لے کر اب تک اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل نہ کرسکے۔
نبی اکرم ﷺ کے نزدیک شام کا مقام
متعددصحیح احادیث میں وارد ہے کہ آپ ﷺ نے شام کے لئے خیروبرکت کی دعافرمائی ایک بار آپ ﷺ نے یوں دعا مانگی :’’اللھم بارک لنا فی شامنا‘‘ اے اللہ ہمارے ملک شام میں برکت عطافرما ۔ دو بار آپ نے یہ جملہ ارشادفرمایا اور پھر تیسری بار کہا: اس ملک میں زلزلے اور فتنے اٹھیں گے اور شیطان کے وسوسے یہیں زیادہ سر اٹھائیں گے۔(متفق علیہ)
چندسالوں تک شام خیروبرکت سے محروم تو رہ سکتاہے لیکن ہمیشہ رہے ایسا ممکن نہیں۔ اس کی برکت کے لئے یہ بات کافی ہے کہ آپ ﷺ اپنے رب کی دعوت پر اسراء و معراج کے موقعہ پر یہاں تشریف لے گئے اور بیت المقدس میں انبیاء کی امامت فرمائی اور اس طرح پوری دنیا کی قیادت و سیادت کا منصب سنبھالا۔ ’’الشام ارض الحشروالمنشر‘‘شام کی زمین ہی ارض محشرہوگی۔(اخرجہ السیوطی وصححہ الالبانی)
آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام جامع اموی دمشق کے مشرقی گنبد کے پاس اتریں گے اور وہیں ’’لد‘‘ کے مقام پر دجال کو قتل کریں گے اور یہیں ہمیں اکٹھاکیاجائے گا اور حساب و کتاب ہوگا۔
ہائے رے شام!
شام۔۔۔ کتنا خوبصورت، کتنا حسین، کتنا قدیم اور کتنا عظیم ہے یہ میرا ملک۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ یہیں سے مسلم فوجیں عہد اموی میں مشرق و مغرب تک روانہ ہوئیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی عظیم ترین حکومت وجودمیں آئی جس کی سرحدیں فرانس سے چین تک پھیلی ہوئیں تھیں۔ یہیں سے اسلام یوروپ، افریقہ اور سندھ و ہند میں پھیلا اور یہیں سے مسلمانوں نے مصر کے تعاون سے عماد الدین زنگی، نور الدین محمود اور صلاح الدین ایوبی کے عہد میں صلیبی قوتوں کو منھ توڑ جواب دیا اور اسلامی شہروں اور مقامات مقدسہ کی حفاظت فرمائی۔
نبی اکرم ﷺ کی شام و مصر کے ساتھ بھلائی کی وصیت گویا ان ملکوں کی مدد ونصرت کی جانب اشارہ ہے کیونکہ ان ملکوں کی ترقی سے پوری امت مسلمہ کی ترقی وابستہ ہے۔
یہ بات حد درجہ تکلیف دہ ہے کہ شام فرانسیسی استعمال سے نکل کر نصیری استعمار کے قبضہ میں چلاگیا۔ شام کے موجودہ حکمراں شیعوں کے ایک گمراہ فرقہ ’’نصیریہ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں جواقلیت میں ہیں لیکن فرانس نے اپنے قبضہ کے دوران ان کی ہرطرح کی مدد فرمائی اور ملک سے نکلتے وقت اقتدار کی کنجیاں ان کے حوالے کردیں۔ نصیریہ کا بانی نصیرالدین الطوسی ہے جس نے چھٹی صدی ہجری میں ایک نیا دین ایجاد کیا اور ایک بڑی تعداد نے اس کی پیروی کی ۔ سقوط بغداد میں اس کا اہم رول رہاہے ، اس نے اسلامی حکومت کے خاتمہ کے لئے ہلاکو کابھرپور تعاون کیاتھا۔ یہ لوگ حضرت علی بن ابی طالبؓ کو خدامانتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اندر حلول کرآیا تھا اور بجلی کی کڑک ان کی آواز اور اس کی چمک ان کا کوڑاہے اور ان کامسکن بادل ہے۔ اسی لئے یہ لوگ بادل کو گزرتے ہوئے دیکھ کر کہتے ہیں:’’السلام علیک یا امیرالمومنین‘‘(اے امیرالمومنین ! آپ پر سلام) ظاہری شکل و صورت کے لحاظ سے یہ مسلمان نظرآتے ہیں لیکن ان کے عقائد خراب اور حد درجہ قابل تشویش ہیں۔اس گروہ نے ہرعہد میں سنی علماء کو اپنا نشانہ بنایا اور بدعات ومنکرات کو فروغ دیا۔ بروقت شام میں یہی لوگ ہیں جوبچوں اور عورتوں کو قتل کررہے ہیں اور یہ گمان کررہے ہیں کہ دنیا حقائق سے بے خبرہے۔ درانحالیکہ کیمرے اور فضائی جہاز ہرچیز اور ہر واقعہ کی منظرکشی عالمی پیمانے پر پہونچارہے ہیں۔
اہل شام کو ایک پیغام
تم لوگوں نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے جس پر امت کو فخروناز ہے ۔ یہ نہ سمجھوکہ آزادی کے ایام بہت دور ہیں، ہرگزنہیں۔ لیکن انقلاب لمبے صبرکاحاجتمند ہے۔ کیونکہ بلندی کا راستہ پرخطر اور کامیابی کا راستہ قربانیوں کا خواستگار ہوتاہے۔ یہ درست ہے کہ دردزہ تکلیف دہ ہوتاہے لیکن اس کے معاًبعد پیدائش وجودمیںآتی ہے۔خوش ہوجاؤ۔تم لوگوں نے زیادہ ترراستہ طے کرلیاہے کیونکہ خوف و دہشت پر تم لوگوں نے غلبہ پالیاہے اوریہ تمہارے مبارک انقلاب کا اہم ترین پیش خیمہ ہے۔
اے ہمارے شامی بھائی تم لوگ کامیاب ہوگئے ہو، اگرچہ بشارالاسد نے ابھی کنارہ کشی اختیار نہیں کی ہے اور نظام تمہارے سینوں پر راسخ ہے ، لیکن پھر بھی تم لوگ کامیاب ہوگئے ہو کیونکہ تم لوگوں نے بندگی اللہ کے لئے خالص کردی ہے ۔ تو خوش ہوجاؤکیونکہ اللہ نے اپنے بندوں کے ساتھ نصرت ومددکاوعدہ فرمایاہے:’’وعداللہ الذین آمنوامنکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا یعبد وننی ولایشرکون بی شیئا ومن کفر بعد ذلک فاولٰئک ھم الفاسقون‘‘(سورۃ النور)
میرے ایک دوست نے مجھ سے یہ قصہ بیان فرمایاکہ ایک عرب ملک میں ان کی ملاقات ایک شیخ سے ہوئی ۔ جب انھیں گرفتار کیاگیا اور پولیس والوں نے پوچھا کیا ہم تمہیں صہیونی طریقہ پر عذاب دیں یا شامی طریقہ پر؟ تو انھوں نے بلاترددوتوقف کے جواب دیا: میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر کہتاہوں کہ صہیونی طریقہ پر۔کیونکہ انھوں نے شامی تعذیب کے بارے میں سن رکھاتھا کہ وہ لوگ اس طرح سزادیتے ہیں جس کی فظاعت و شناعت کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔
شام کا عجیب و غریب انقلاب
مجھے یہ واقعہ یاد آرہاہے کہ مصری انقلاب کے فوراًبعدایک شامی دوست کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، اس نے مجھے مصری انقلاب پر مبارکبادپیش کی ۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا شامی ساتھی بھی تھا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو برکت سے نوازے، بہترانجام آپ لوگوں کے لئے ہو (ابھی شامی انقلاب کا آغازنہیں ہواتھا) اس پردونوں ساتھی فی الفوراس جگہ سے روانہ ہوگئے اور کسی نے بھی اس پر ایک لفظ بولناگوارہ نہ کیا۔
پوری شامپر یہی فضاچھائی ہوئی ہے کیونکہ وہاں کا نظام حددرجہ سرکش ہے اور جاسوسی کا نظام اس قدر وسیع ہے کہ لوگ سیاسی نظام کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ صورتحال یہہے کہ شوہر کو اپنی بیوی سے اور بھائی کو اپنے بھائی سے جاسوسی کا خطرہ ہے۔
شام کی سیاسی فضاکسی انقلاب کا پتہ نہیں دے رہی تھی اس لئے انقلاب کی خبرسن کر بے ساختہ میری زبان سے نکلاکہ یہ اللہ کی کاریگری ہے ۔
اے اہل شام! ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مددفرمائے، غلبہ و نصرت سے ہمکنار کرے۔ اے سلیمان الحلبی اور عز الدین القسام کے جانشینوں! بشارکا سیاسی ڈھانچہ تمہارے سامنے گرنے ہی والا ہے، اسے ہرگز طاقتورنہ گمان کرو۔ تم لوگوں نے اپنی کوششوں سے اس کے ناقابل تسخیرقلعہ ہونے کی قلعی کھول دی ہے۔ کہاں تھایہ شامی نظام جب صہیونی جہازوں نے 2003ء میں دمشق کے جنوبی حصہ پر بمباری کی اور کیاکرلیا اس نظام نے جب 2007ء میں تمہارے ایٹمی مرکز پر اسرائیل نے بمباری کی تھی ۔ ہربارصرف یہی کہتارہا:مناسب وقت پر جواب دیں گے اور ابھی تک وہ مناسب وقت نہیں آیا۔ اے بشار کے وفاداروں ! کیاتم لوگوں نے گولان کی ان پہاڑیوں کو واپس لینے کے لئے جس پر اسرائیل نے 1967ء میں قبضہ کرلیاتھاکوئی عملی جدوجہدکی۔ نصیری نظام نے یہ پوری قوت صرف اہالیان ملک کو مارنے کے لئے اکٹھاکی تھی ۔ اے اہل شام! ثابت قدم رہو۔ انقلاب کے جھنڈے کو بلند رکھو۔ تم نے صرف اللہ کے لئے اس انقلاب کا آغازکیاہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور ہرگز وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔
امت مسلمہ کے نام پیغام
اے امت قرآن! اے امت اسلام! اے اہل عرب! شام کے مسئلہ کو اپنے دلوں میں دفن مت ہونے دینا۔ اسے اپنے دلوں میں، گھروں میں، اپنی عورتوں اور بچوں اور دوستوں کے دلوں میں اور اپنے دائرہ عمل میں اور اپنی مجلسوں میں زندہ رکھو۔ اس پر اپنی بھرپور توجہ مبذول کرو۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ اس کا دفاع کرو ، ہراجتماعی موقعہ کو اس کے لئے استعمال کرو۔ اپنی گفتگو میں اس کو تازہ رکھو تاکہ مظلومین سے ظلم کے ازالہ کے لئے عوامی لہر پیدا ہوسکے۔ شامی نظام نے اہل شام کو پانی، بجلی اور کھانے اور زندگی کے ہرعمدہ ذریعہ سے محروم کررکھاہے بلکہ ظالم پولیس والے ماہ رمضان میں قیدیوں کے سامنے افطار کرتے تھے اور انھیں افطار سے محروم رکھتے تھے۔
اے عربی قبائل! نظا م کی تبدیلی کے بعد کون نظام کو سنبھالے گا، اس مسئلہ پر اپنے آپ کو مشغول کرنے کے بجائے شام میں اپنے اہل و عیال کے احوال و کوائف پر غور کرو اور ان کے مسائل پرسوچو۔ تبدیلی سیادت کا معاملہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے:’’وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم‘‘(سورہ محمد)



⋆ مضامین ڈیسک

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔