آئینۂ عالمنقطہ نظر

برصغیر کے مسلمان اور مسلم ممالک کی خارجہ پالیسیاں!

عزیر احمد

انٹرنیشنل ریلیشن (عالمی تعلقات) کی بنیاد نیشن-اسٹیٹس کے درمیان تنازعات پہ مبنی ہوتی ہے، بسا اوقات لڑائی، جھگڑے واقع ہوتے ہیں اور حل کرلئے جاتے ہیں ، مگر Conflict (تنازعہ) باقی رہتا ہے، اسٹیٹس کا نیچر ایک دوسرے سے دشمنی ہے الا یہ کہ دوستی اور تعاون کی کوئی وجہ پائی جائے، لیکن جب وہ وجہ ختم ہوجاتی ہے تو پھر دونوں اسٹیٹ کے درمیان Rivalry لوٹ آتی ہے.

یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کیونکہ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں جو دوست اور Allies تھے یعنی فرانس، بریطانیہ اور اٹلی، وہی دوسرے جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں ، دوسری جنگ عظیم میں اٹلی جرمنی کی طرف چلا جاتا ہے اور فرانس روس اور بریطانیہ کے ساتھ مل کے جنگ لڑتا ہے لیکن اسی جنگ سے پہلے جب روس میں کمیونزم کا عروج ہوتا ہے اور یوریوپین ممالک اور امریکہ کی کپٹلزم کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اسی وجہ سے وہ جرمنی کے تئیں Appeasement کی پالیسی اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کمیونزم کو شکست دینے کے لئے ہٹلر کی نازی ازم اور مسولینی کی فاشزم ہی کام آسکتی ہے، اس وجہ سے جب ہٹلر (جرمنی) بعض ان ممالک جیسے ہولینڈ اور چیکوسلوواکیہ پہ حملہ کرتا ہے جو روس کے زیر اثر تھے تو فرانس اور برطانیہ خاموشی اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے تنگ آ کے روس جرمنی کے ساتھ معاہدہ کرلیتا ہے پھر جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوجاتی ہے تو وہ Allies (فرانس، بریطانیہ) کے ساتھ جنگ میں نہیں شریک ہوتا ہے یہاں تک کہ جرمنی اس کے خلاف بھی جنگ کا اعلان کردیتا ہے اور اس کی سرحدوں پہ اپنی فوج پھیلا دیتا ہے پھر وہ بھی جرمنی کے ساتھ اپنے معاہدے کو توڑ کر اس کے خلاف جنگ کا اعلان کردیتا ہے، اسی طرح امریکا بھی جنگ میں شامل نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ جاپان پرل ہاربر پہ حملہ کرکے اس کے خلاف جنگ کا اعلان کردیتا ہے، اس کے بعد امریکا Allies کے قریب آ جاتا ہے اور روس سے اس کے اچھے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں کیونکہ سب کے سامنے ایک مشترکہ دشمن (Axis Powers)  نظر آتے ہیں یعنی جاپان، جرمنی اور اٹلی، لیکن جیسے دوسری ہی جنگ عظیم ختم ہوتی ہے Allies کے درمیان دوستی اور Co-operation میں دراڑ پڑجاتی ہے، پھر آپس میں ریس شروع ہوجاتی ہے نتیجہ کے طور پہ امریکہ اور روس ایک دوسرے کے مخالف بن کے ابھرتے ہیں اور سرد جنگ کی شروعات ہوجاتی ہے. اور دنیا دو گروہوں میں بٹ جاتی ہے ایک Captlist world اور ایک Communist world، پھر ایک تیسرا گروہ بھی وجود میں آتا ہے جسے Non-aligned movement کا نام دیا جاتا ہے، یہ وہ ممالک ہوتے ہیں جو نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں اور ان دونوں گروپوں کی Rivalry سے دور رہتے ہیں پھر گزرتے وقتوں کے ساتھ مفاد کی بنیاد یہ امریکا اور روس میں سے کسی ایک کے قریب آجاتے ہیں .

یہاں ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ملکوں کے تعلقات مفاد کی بنیاد پہ رکھے جاتے ہیں ، نیشنل انٹرسٹ خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتی ہے، وقتی مفاد کے خاطر تعلقات بنائے اور توڑے جاتے ہیں ، کوئی بھی اسٹیٹ کسی اسٹیٹ کا دوست نہیں ہوتا ہے، اپنے برابر کے اسٹیٹ سے ریس اور مقابلے کی دوڑ ہمیشہ لگی رہتی ہے، اور اپنے سے بڑے اور طاقتور اسٹیٹ کے قریب ہر اسٹیٹ آنا چاہتا ہے، خارجہ پالیسی میں مذہب کا رول بہت کم ہوتا ہے، اگر کسی جگہ مفاد اور مذہب میں سے کسی ایک کو بچانے کی بچانے کی بات آتی ہے تو اسٹیٹ مفاد کو ترجیح دیتے ہیں .

اتنی لمبی چوڑی باتیں لکھنے کی وجہ لوگوں کو یہ بر صغیر کے مسلمانوں کو حقیقی دنیا سے واقف کرانا ہے، یہ خود ہندوستان اور پاکستان میں رہتے ہیں ، جمہوریت کے قصیدے گاتے ہیں ، اور یہاں بیٹھ کے مسلم ملکوں کی خارجہ پالیسیوں پہ اپنی سوچ کے حساب سے کمنٹ کرتے ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ جیسا ہم سوچتے ہیں اسی حساب سے مسلم ملکوں کی خارجہ پالیسی ہو، اتنا بھی دھیان نہیں دیتے کہ بات جب مفاد کی آتی ہے تو مذہب کو بھلادیا جاتا ہے، مفاد ہی کی بنیاد پہ ترکی اسرائیل سے رابطے استوار کرلیتا ہے، اپنے دیرینہ دشمن روس کے قریب آجاتا ہے، ترکی کے سرحدی علاقوں میں کردوں کے بڑھتے ہوئے سورش پہ لگام لگانے کے لئے روس اور ایران کے ساتھ گول میز کانفرنس پہ بیٹھ جاتا ہے، ہندوستان کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان چین کی گود میں بیٹھ جاتا ہے، اور اس کے ہاتھ میں اپنی معیشت کی باگ دوڑ دے دیتا ہے، اسی طریقے سے بات جب مفاد کی آتی ہے تو روس چین اور ایران ایک ساتھ ہوجاتے ہیں باوجودیکے کہ روس اور چین الحادیت کو بڑھاوا دیتے ہیں اور ایران بزعم خویش اسلام کا سچا سپاہی ہے.

یہی معاملہ سعودیہ عربیہ کے ساتھ ہے، اس کی خارجہ پالیسی بھی مفاد اور انٹرسٹ پہ Based ہے، وہ بھی امریکہ سے قریب صرف اس وجہ سے ہے کیونکہ اسے Regional Power یعنی ایران سے خطرہ ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنی بادشاہت بھی برقرار رکھنی ہے،  اسی لئے وہ امریکہ کا دوست ہے ورنہ اگر امریکہ کا سہارا نہ ہوتا پوری دنیا میں جس طریقے سے جمہوریت کی لہریں چل رہی ہیں اس میں سعودیہ کی بادشاہت خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی ہوتی، سعودیہ اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ، اور یہ ضرورت مذہب پہ نہیں مفاد پہ منحصر ہے، یہی وجہ ہے کہ جب اوبامہ کے دور میں امریکہ سے تعلقات بگڑ گئے تھے تو سعودیہ چین اور جاپان کے قریب آگیا تھا جو کہ امریکہ مخالف کے طور پہ جانے جاتے ہیں .

ملکوں کے جو مفاد ہوتے ہیں وہ اپنے سرحدوں ، اور اپنے لوگوں کے آرام اور سکون پہونچانے کی غرض سے بنائے جاتے ہیں ، اس میں سرحد سے باہر کے لوگوں کا کوئی رول نہیں ہوتا ہے، مثال کے طور پہ اگر سعودیہ یا ایران اپنی کوئی بھی خارجہ پالیسی بنائیں گے تو یہ سوچ کے نہیں کہ اس پہ دنیا بھر کے مسلمان کیا سوچیں گے بلکہ وہ یہ سوچ کر بنائیں گے کہ اس سے ان کے ملک اور ان کے افراد کو کیا فائدہ پہونچ سکتا ہے، اور یہ خارجہ پالیسی ملک کس حد ان نیشنل انٹرسٹ کے حق میں ممد و معاون ثابت ہوسکتی ہے.

اب خلافت نہیں ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو دھیان میں رکھ کر پالیسیاں بنائیں جائیں ، یہ نیشن اسٹیٹ کا دور ہے، سرحدیں اور ملکی مفاد حقیقت ہیں ، اور اس حقیقت سے منہ چھپانا خواب میں جینے کی ایک ناکام کوشش ہے.

ہر قوم میں نیشنلزم عروج پہ ہے، اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لئے کچھ کردکھانے کی خواہش ہی سب کا خواب ہے، یہ جو ورلڈ آرڈر ہے اسے ختم اب اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب ایک بار پھر سے عالمی جنگ ہو، عالمی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں ، انٹرنیشنل لاء اور انٹرنیشنل کنونشینز کو یک لخت قلم موقوف کردیا جائے، پھر سرحدیں ختم کرنے کی کوشش کی جائیں اور مذہب کی بنیاد پہ لوگوں کو جوڑا جائے، مگر ان سب میں بربادی اور تباہی ہے، مذہب کے نام پہ انسانیت کا بے انتہا خون بہانا ہے، اس سے بہتر ہے کہ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ جو ورلڈ آرڈر ہے اس کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے، اس کی اصلاح کی جائے، اور امن و امان کے مزید راستوں کو تلاش کیا جائے.

ہمارے لئے ہندوستان یا پاکستان میں بیٹھ کر کسی بھی خارجہ ملک کی پالیسی پہ تنقید کرنا بہت آسان لگتا ہے، مگر کبھی وہاں کے باشندوں سے پوچھو کہ انہیں یہ خارجہ پالیسی کیسی لگتی ہے، ان کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے، یقین مانئے جس چیز کو ہم غلط مان کر واویلا مچارہے ہوں گے وہاں کے لوگ اسء صحیح مان کر اپنی حکومت کی عقلمندی اور دانش مندی پہ داد دے رہے ہوں گے، سوچوں کا زاویہ ہمیشہ مختلف ہوتا ہے، ہم اپنے مفاد کے حساب سے سوچتے ہیں ، اور وہ اپنے مفاد کے حساب سے، اور اس میں غلط کیا ہے، ظاہر سی بات ہے وہ وہی کرنا اور سوچنا چاہیں گے جو ان کے ملک کے حق میں بہتر ہو، کیونکہ ملک ان کا ہے، حکومت ان کی ہے، تو سوچنے اور کرنے کا حق بھی انہیں کو ہے، ہم کون ہوتے ہیں دوسرے ملکوں کی خارجہ پالیسیوں پہ انگلی اٹھانے والے، ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے ملک کی اصلاح کے بارے میں سوچیں ، اور دوسرے ملک کے بارے میں سوچنا ترک کردیں ، اپنے حصے کا دیا اگر ہم خود جلائیں گے تو دھیرے دھیرے پوری دنیا میں روشنی ہوجائے گی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Back to top button
Close