آئینۂ عالم

برطانیہ، یورپی یونین اور مسلمان

احتشام شاہد

23 جون کو ہونے والے ریفرنڈم کے برطانیہ پر کئی طرح سے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس لئے اس معاملے کو ’سانوں کی‘ کہہ کر نہیں چھوڑا جاسکتا۔یورپ کی تاریخ جنگوں اور خون خرابے سے بھری پڑی ہے، حال بھی خیر ایسا ہی ہے مگر اب جنگیں غیروں کے محلوں میں لڑی جاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں نہ یہ سب بتایا جاتا ہے اور نہ دکھایا جاتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ دماغی غلامی کے کارن ہمیں یورپ کا تصور ہمیشہ سے فردوس بریں جیسا پڑھایا، بتایا گیا۔ اب تو خیر سے وہ نسل موجود ہے جو اگر کوئی غلطی سے یورپ کی تاریخ پر بات کرلے تو اسے اتنی گالیاں پڑیں گی کہ طبعیت صاف ہوجائے۔ خیر ہم تو خود ٹھہرے آدھے پونے یورپی ہمیں بھلا اب کیا اعتراض، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپ کی یہ مکمل تاریخ نہیں۔ سردست تو ہم اپنے منتشر خیالات تاریخ نگاری کے لئے نہیں لکھ رہے بلکہ اس پریشانی کی وجہ سے لکھنے پر مجبور ہوئے جس میں ہمیں برطانوی حکومت نے مبتلا کرتے ہوئے 23 جون کے ریفرنڈم کا اعلان کیا، جس میں یہ طے کیا جانا ہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہیے یا نہیں؟۔

یورپی یونین کا قیام دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا۔ یہ بات آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ ایسا اس عظیم جنگی نقصان کے بعد کیا گیا مگر اس کی چند دیگر بڑی وجوہات بھی تھیں جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد استعماریت کا خاتمہ اور یورپی اقوام کی دنیا میں کم ہوتی سیاسی و مالی حیثیت کے ساتھ ساتھ  طاقت کے مراکز امریکہ اور روس کی طرف منتقل ہونا بھی تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب یورپی اقوام کو احساس ہوا کے بدلتی دنیا میں ان کا تعصب کی حد تک موجود نیشنلزم کے ساتھ ترقی کرنا ممکن نہیں اس لئے سب سے پہلے فرانس اور جرمنی نے معاہدہ کیا کہ وہ آپس میں کبھی جنگ نہیں کریں گے۔ اس کے بعد نیدرلینڈ (ہالینڈ) کے شہر دی ہیگ میں 1948ء میں پہلی کانفرنس ہوئی، جو مختلف مراحل سے گزر کر موجودہ جدید شکل میں موجود ہے۔ موجودہ یونین چار اداروں پر مشتمل ہے جس میں یورپین کمیشن، یورپین پارلیمنٹ، یورپین کونسل اور یورپین کورٹ آف جسٹس شامل ہیں۔

یورپین کمیشن ان سب میں سب سے طاقتور ادارہ ہے جہاں سارے مالی اور سیاسی معاملات کو طے کیا جاتا ہے۔ کورٹ آف جسٹس کی اہمیت اس حوالے سے اہم ہے کہ اس کے فیصلے براہ راست ممالک پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ کسی کو انصاف اپنے ملک سے نہ ملا یا وہ انصاف سے مطمعن نہ ہوا تو اس نے یورپی عدالت سے انصاف کے لئے رجوع کیا۔ اس حوالے سے برطانیہ سے تعلق رکھنے والی نادیہ ایویدہ کے کیس سے بات سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے کہ جب انہیں برٹش ائیر ویز نے عیسائیت کے مذہبی نشان ’کراس‘ کو پہننے پر ملازمت سے فارغ کردیا تو اُن کو یورپی عدالت نے ہی انصاف دلایا۔

23 جون کو ہونے والے ریفرنڈم کے برطانیہ پر کئی طرح سے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس لئے اس معاملے کو ’سانوں کی‘ کہہ کر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ مگر اتنی زیادہ اہمیت والے اس ریفرنڈم کے بارے میں سب سے مشکل ترین بات یہ ہے کہ برطانیہ کو پورپی یونین شامل کرنے کی حمایت اور مخالفت کرنے والے اب تک کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کرسکے۔ حیرت انگیز طور پر نہ تو اس حوالے سے کسی قسم کےاعداد و شمار پیش کئے جاسکے اور نہ ہی کوئی بیلنس شیٹ پیش کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ اعتراض اس بات پر اٹھایا جا رہا ہے کہ برطانیہ کو یونین میں رہنے کے جو پیسے دینے پڑتے ہیں وہ برطانوی معیشت پر بوجھ ہیں۔ اس لیے جب برطانیہ یورپی یونین سے نکل جائے گا تو ان پیسوں کا بہت بہتر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جیسے علاج معالجے اور رہائش کے ساتھ ساتھ لوگوں کو سرکار کی جانب سے ملنے والے دیگر فوائد شامل ہیں۔

ایک بااعتماد تحقیقی ادارے CBI کی رپورٹ بتاتی ہے کہ برطانیہ اپنی ملک کی مجموعی آمدنی (جی ڈی پی) کا صرف 0.5 فیصد یورپی یونین پر خرچ کرتا ہے جو کہ 340  پاؤنڈ فی گھرانہ بنتا ہے، لیکن یونین میں رہنے کی وجہ سے برطانیہ کو معاشی طور پر بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے جیسے ہر 10 میں سے ایک نوکری یونین سے وابستہ کاروبار سے حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اوسط فی گھرانہ تین ہزار پاونڈ تک کا ریلیف ملتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ برطانیہ سے تقریباً دگنی قیمت (21.4 فیصد) جرمنی یورپی یونین کو دیتا ہے اسی طرح دوسرے نمبر پر فرانس ہے جو 15.72 فیصد دیتا ہے۔ اس فہرست میں برطانیہ تیسرے نمبر پر ہے جو یورپی یونین کی کل آمدنی کا 12.07 فیصد دیتا ہے۔ یہ حصہ اٹلی سے کچھ ہی زیادہ ہے جو 11.47 فیصد دیتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے نظام میں مختلف پروجیکٹس کی مد میں برطانیہ سمیت دیگر ممبر ممالک میں خرچ بھی کی جاتی ہے، جس کا برطانیہ کو بھی فائدہ بھی ہوتا ہے۔

اسی طرح دوسرا اہم ترین نکتہ یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یونین کی وجہ سے برطانیہ آزاد معاشی پالیسی نہیں بنا پاتا جس کی وجہ سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتیں جیسے چین اور بھارت سے تجارتی معاہدے کرنا مشکل بن جاتا ہے۔ اگرچہ یہ نکتہ اپنی جگہ مضبوط تو ہے لیکن یہ کہنا کہ یونین سے نکل کر ایسا کرنا سستا اور آسان ہوگا، شاید حقیقت کے قریب نہیں۔ لندن اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر سائمن ہکس جو خود یونین سے باہر نکلنے کے حامی ہیں وہ یہ مانتے ہیں کہ جغرافیہ کی وجہ سے باہر نکلنے کے باوجود یورپی یونین برطانیہ کی سب سے بڑی درآمدی مارکیٹ ہوگی۔ ایک اور اہم نکتہ یہ بیان کیا جاتا ہے کیوںکہ یورپی یونین ایک فری لینڈ ہے تو مشرقی یورپ سے اور دیگر جگہوں سے امیگریشن برطانوی معیشت پر بوجھ ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے مگر اس سے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے یہ فری لینڈ کے ساتھ ساتھ ’سنگل مارکیٹ‘ بھی ہے۔ اب اسپین میں کاشت ہونے والا زیتون بغیر کسی ٹیکس کے برطانیہ میں دستیاب ہوتا ہے۔ اسی طرح دیگر یورپی ممالک سے آنے والے افراد یہاں آکر صرف مراعات حاصل نہیں کرتے بلکہ ساتھ ان کی بہت بڑی تعداد کاروبار اور نوکریوں کے ذریعے معیشت کی خدمت بھی کرتی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 19 لاکھ برطانوی یورپ میں بھی کام کرتے ہیں۔ زراعت، ماحولیات کے ساتھ ساتھ اسی طرح کی دوسری ضمنی بحث بھی اس کا حصہ ہیں جس میں یورپی یونین کے ساتھ رہنے سے واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے مگر دوسرے فریق کی نظر میں یونین سے پہلے کا برطانیہ بھی انہی خطوط پر قائم تھا۔ یہ اور اس طرح کی کئی باتیں ہیں جن پر فیصلہ 23 جون ہوجائے گا۔

ویسے تو میں کوئی معاشی ماہر نہیں مگر برطانوی معیشت کے بارے میں جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ یہ جرمنی اور فرانس کی طرح انڈسٹریل اسٹیٹ نہیں ہے بلکہ یہ مضبوط بینکاری اور سرمایہ دارانہ بنیادوں پر کھڑی ہے جہاں ایک طرح حکومت شہریوں کو بنیادی ضروریات دیتی ہے تو دوسری طرف ٹیکسز اور زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب کے ساتھ ریٹیل کاروبار کے ذریعہ ان کی جیبوں پر ڈاکہ بھی ڈالتی ہے۔ اگر برطانیہ مضبوط معیشت اور دیر پا استحکام کا خواہ ہے تو اس کو لازمی طور پر اپنی صنعتوں، سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا۔

برطانوی معاشرے کی عمومی تصویر سازی کے ساتھ ساتھ ذاتی طور پر جو چیز میرے لئے سب سے اہم ہے اور بحثیت مسلمان ہونی چاہیے وہ مسلمانوں کا برطانیہ میں مستقبل ہے۔ برطانیہ یورپ کے ساتھ رہے یا الگ اس سے مسلمان کمیونٹی کو کیا فائدہ ہوگا یہ سب سے اہم سوال ہے۔ اس حوالے سے جب یونیورسٹی آف مارکفیلڈ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد پرویز کا پیغام ملا تو اطمینان ہوا کہ مسلم لیڈران بھی اس حوالے سے سوچ رہے ہیں اور اپنے نکتہ نظر سے مسلم کمیونٹی کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں۔ جیسے کہ سب سے بڑا مسئلہ جو برطانوی مسلمانوں کو اس حوالے سے درپیش ہوگا وہ ان کا تحفظ ہے، آیا ایک بڑی برادری کا ایک حصہ رہنا ان کی شناخت اور مذہبی آزادی کے لئے بہتر ہے یا الگ ہونے میں زیادہ بہتر تحفظ کرسکیں گے؟ یورپ کی کل آبادی کا صرف 2 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے اور سیاسی حوالے سے سب سے زیادہ مضبوط مسلمان برطانیہ میں ہیں۔ اب اگر برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہوگیا تو یہاں کے مسلمان دیگر یورپی مسلمانوں سے کٹ تو نہیں جائیں گے؟ بالخصوص شام کی موجودہ صورتحال سے جو تارکین وطن کا مسئلہ پیدا ہوا ہے اس میں برطانیہ کا مسلمان کس صورتحال میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے؟۔

ابتداء میں مسلم کمیونٹی مراعات میں کٹوتی اور نوکریوں میں مسابقت کی وجہ سے یہ خیال رکھتی تھی کہ وہ برطانیہ کے یونین سے نکلنے کی حمایت کرے، لیکن جب بیدار ذہن مسلم لیڈران نے اس حوالے سے اپنے اندرونی حلقوں میں بات کی تو علم ہوا کہ سخت گیر برطانوی نیشنلسٹ جیسے یونائیٹڈ کنگ ڈم پارٹی (یو کے آئی پی) وغیرہ برطانیہ کے یونین سے باہر نکلنے کی مہم چلا رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر برطانیہ باہر نکل گیا تو مستقبل میں مسلم حلقوں کے لئے برا ہوسکتا ہے۔ پھر یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ امریکا کے اور زیادہ قریب ہوجائے گا جس کا سیاسی اثر کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں کچھ مسلم حلقے یورپ میں مسلمانوں کے مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ یورپ کے دیگر ممالک میں مسلمانوں کو برطانیہ کی نسبت کم مذہبی آزادی حاصل ہے جیسے پردہ پر پابندی، مساجد کی تعمیر پر پابندی وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر برطانیہ یونین کا حصہ ہی رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ برطانیہ میں بھی مسلمانوں کو انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑجائے۔ لیکن ذاتی رائے میں یہ دلیل دینے والے وہ یکساں ’پے ریٹ‘ اور ’نادیہ ایویدہ‘ کے کیس کو نظر انداز کردیتے ہیں جس سے مذہبی آزادی کو تقویت ملی۔ شام کے تارکین وطن کے حوالے سے بھی جرمنی کا رویہ برطانیہ کی نسبت بہتر رہا ہے۔ اسی طرح نوکریوں کا معاملہ میں بھی یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ برطانیہ کو اپنی امیگریشن پالیسیوں میں ریلیف حاصل ہے۔

یہ بحث کافی طویل ہے، اس لئے آنے والا وقت ہی اسے سہی یا غلط ثابت کرے گا مگر قومیت کے اثر کو زائل کرنے کے لئے قائم کی گئی یورپی یونین سے اگر برطانیہ باہر نکل جاتا ہے تو لازمی طور پر وہاں انگلش نیشنلزم بڑھتا محسوس ہورہا ہے اور یہ (یو کے آئی پی) جیسی جماعتوں کی مہم میں بہت واضح بھی ہے۔ انہی خطرات کے پیش نظر کنزرویٹو پارٹی کی سابق چئیر پرسن سعیدہ وارثی نے ایک بار پھر یورپی یونین میں رہنے کی حمایت شروع کردی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احتشام شاہد

احتشام شاہد برطانیہ میں مقیم صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close