آئینۂ عالم

برطانیہ: عالمی انتشار کا نقطہءآغاز

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
گزشتہ ہفتے عالمی سیاست میں ایک بہت بڑ اواقعہ رونماہوا،برطانوی عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے 23 جون 2016 کو یورپین یونین سے نکل جانے کے حق میں ووٹ کیاجس نے ساری دنیاکو حیران وششدر کردیا۔یورپین یونین سے انخلاءکے حق میں ۲۵فیصد سے زائد لوگوں نے ووٹ دیے اور یونین میں شامل رہنے والوں کی تعداد میں محض 47 فیصد تھی۔ اس ریفرنڈم میں برطانیہ کے کل آبادی کے 27 فیصد لوگوںنے حصہ لیاجن کی کل تعداد 3 کروڑ سے زائد ہے۔ کہاجاتاہے کہ 1992 کے بعد سے اب تک ووٹ ڈالنے والوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور بڑی تعداد میں ارکان پارلیمان یورپین یونین میں شریک رہنا چاہتے تھے لیکن ان کی خواہش کے برخلاف برطانوی عوام یورپین یونین میں شامل ہونے کے خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے مختلف صوبوں میں مختلف انداز سے لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیاہے۔مثلا جبرالٹر میں 95 فیصد لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیااور محض 823 لوگوں نے یورپین یونین کے خلاف ووٹ کیاجب کہ اسکاٹ لینڈ ،آئرلینڈ اور لندن جیسے شہروں میں بھی یورپین یونین میں برقراررہنے کے حق میں ووٹ دیا۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ برطانیہ کے بڑے شہر اس انخلاء کے خلاف ہیں۔ یہ سماجی تقسیم اس جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں، مضافات میں رہنے والوں اور کم آمدنی رکھنے والے طبقات یورپین یونین سے پریشان ہیں اور اس سے نجات چاہتے ہیں۔ اس ووٹ کے بعد لندن اور اسکاٹ لینڈ نے
برطانیہ سے علیحدگی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
دنیامیں کسی کو بھی اس فیصلے کی توقع نہیں تھی،اسی لیے 23 جون کو دنیااچانک چونک سی گئی اور بازار حصص ایک دم گر گیا،دنیانے محسوس کیاکہ گویاکوئی بڑاخطرہ سر پر منڈلارہاہے۔یورپین یونین کے دیگر ممالک اور ان کے سربراہان نے بھی اس نتیجے پر اظہار تا¿سف کیاہے۔عام طور پر تجزیہ نگاروںنے اس نتیجے کو سخت گیر عناصر کی برتری سے تعبیر کیاہے،اس موقع پر یہ دیکھاجانا بہت دلچسپ ہوگاکہ پر آشوب سیاست کے اس زمانے میں برطانوی عوام کے اس فیصلے کا عالمی سیاست پر کیااثر پڑے گا۔یورپی یونین 28 یوروپی ممالک کا اختلاط ہے جس میں سے 19 ممالک کی کرنسی بھی ایک ہی ہے،بقیہ 8 ممالک اپنی اپنی کرنسی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کی تباہ خیزیوں کے بعد فرانس اور جرمنی نے آپس میں یہ طے کیاتھاکہ وہ اب مزید کسی جنگ میں نہیں پڑیں گے، ان کے ساتھ اٹلی، نیدر لینڈ،بیلجیم اور لگژم برگ بھی شریک ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں 1949 میں یوروپی یونین کا قیام عمل میں آیا اور 1973 تک اس کا کامیاب تجربہ دیکھنے کے بعد دیگر پڑوسی ممالک بھی اس میں شریک ہوگئے۔اسی وقت ایک ریفرنڈم کے ذریعے ہی برطانوی عوام نے بھی یوروپی یونین میں شرکت کی منظوری دی تھی،لیکن اپنی کرنسی اور پاسپورٹ کو الگ رکھا تھا،تب سے اب تک کل ملاکر 28 چھوٹے چھوٹے قریبی ممالک نے اس اتحاد میں شرکت کی اور اپنے باڈرس کو ایک دوسرے کے لیے کھول دیا، نیز اقتصادی اور دیگر امور میں بھی شرکت کی۔ ان کی اپنی ایک مشترکہ پارلیمنٹ، عدالت اور کمیشن ہے اور زیادہ تر فیصلے باہمی رضامندی سے کیے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس الحاق کے سبھی ممالک مذہبا عیسائی ہیں۔ ایک طرح سے یہ کہاجاسکتاہے کہ یہ دنیاکا سب سے بڑاعیسائی بلاک ہے جس نے اپنی اقتصادیات کے ذریعے تمام دنیاکے اقتصاد کو کنٹرول کررکھاہے۔ پچھلی ایک دہائی سے یوروپین یونین میں شامل چھوٹے چھوٹے ممالک خود کو محبوس محسوس کررہے ہیں۔خاص طور پر یونان جیسے ممالک اس سے پہلے بھی یوروپی یونین سے علیحدگی کی بات کرتے رہے ہیں لیکن ان کی کچھ شرائط کو قبول کرکے انھیں اس سے باز رکھاگیا۔ تمام 28 ممالک میں برطانیہ سب سے بڑا اور اقتصادی طور پر سب سے مضبوط ملک ہے جو اس یونین کے کل بجٹ کا ساڑھے 12 فیصد حصہ اداکرتاہے۔ ایسے میں اس کا علیحدہ ہوجانااس پورے خطے کے وجود پر سوالیہ نشان کھڑا کررہاہے۔ عالمی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ یہ پوروپین یونین کے لیے اتنا بڑاخطرہ ہے کہ جوپوری کی پوری یونین کو اگلے چند سالوں میں تتر بتر کردے گا۔ یہ بھی واضح رہناچاہیے کہ یوروپی یونین کا قیام اقوام متحدہ کے قیام کے فورا بعد عمل میں آیاتھا، یوروپی یونین کے ٹوٹنے کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کا مستقبل بھی خطرے میں پڑجائے گا۔ یہ بھی یاد رکھناچاہیے کہ یوروپی یونین کی طرح ہی دنیا کے بہت سے ممالک خاص طور پر چھوٹے ممالک اقوام متحدہ کے وجود پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کرتے رہے ہیں۔ ان کا مانناہے کہ اقوام متحدہ میں کچھ بڑی طاقتوں کی چودھراہٹ ہے جس کی وجہ سے تمام فیصلے انھیں کے حق میں ہوتے ہیں اور ترقی پذیر اور غریب ممالک کے مفادات کو نظر انداز کردیاجاتاہے۔ یہی الزام یوروپی یونین پر بھی ہے۔ رومانیہ بلگیریہ ،سلواکیہ،یونان،سویڈن نیدرلینڈ جیسے ممالک یوروپی یونین سے خوش نہیں ہیں،بالکل انھیں خطوط پر اگر اقوام متحدہ کو دیکھاجائے تو افریقی ممالک،عرب ممالک یعنی چند ملکوں کو چھوڑ زیادہ تر مسلم ممالک اقوام متحدہ سے خوش نہیں ہیں۔اس کی ایک مثال پچھلے 70 سال سے جاری اسرائیل اور فلسطین کا قضیہ بھی ہے جہاں فلسطینیوں پر مستقل اسرائیلی مظالم ڈھائے جاتے رہتے ہیں اور اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف قرارداد یں پاس کرکے ہی مطمئن ہوجاتاہے اور آج تک اسرائیل کے خلاف کسی ایک بھی قرار داد پر عمل آوری نہیں کراسکا۔ اسی طرح شام کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ بری طرح ناکام ثابت ہوا۔ شام کی جنگ شروع تو ہوئی قیام جمہوریت کے نعرے سے مگر عالمی طاقتوں نے اس جنگ کے بہانے شام کے بے قصور شہریوں کا جو حشر کیا ہے اور جس طرح اس تاریخی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے برباد کیا ہے۔ آدھے سے زیادہ عوام کو قتل یا بے گھر کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اب انہیں پناہ گزینوں کی باز آباد کاری کو لے کر یوروپی مالک آنا کانی کرہے ہیں اور کھل کے کہہ رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے اپنے ملک میں دیکھنا پسند نہیں کرتے جبکہ عالمی ادارے یوروپ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کو اپنے ممالک میں آباد کریں۔ مگر حقوق انسانی کے علمبردار اپنے ہی پیدا کیے ہوئے مسئلے سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے یوروپی یونین سے علیحدہ ہونے کے پیچھے یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ اور اقوام متحدہ کی ایک نہیں چل رہی ۔ یہی حال چھوٹے چھوٹے افریقی ممالک اور جنوب مشرقی ممالک کا بھی ہے جس کی وجہ سے بیشتر ممالک اقوام متحدہ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ امریکہ اور یوروپی یونین اقوام متحدہ پر پوری طرح قابض ہیں۔ چھ مستقل ممبران میں چین کے علاوہ سبھی یوروپ کے عیسائی ممالک ہیں جس کی وجہ سے یہ عالمی ادارہ منصفانہ فیصلے کرنے کے بجائے جانب دارانہ فیصلے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یوروپی یونین منتشر ہوئی تو اس کا سیدھا اثر اقوام متحدہ کی صحت پر پڑے گااور اس کے وجود کا برقرار رہنامشکل ہوجائے گا۔ ایسے میں عالمی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ کہنا ابھی مشکل ہے، لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ اس سیاسی شورش کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کوہی ہوگا۔ایک ایسے وقت میں جب کہ عیسائی دنیاایک دوسرے کے انتہائی قریب آرہی ہے اور ہزار وں سال سے باہم متصادم عیسائی فرقے اب اتحاد کی باتیں کررہے ہیں اور واضح طور اعلان کررہے ہیں کہ مغربی ایشیا میں عیسائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف عیسائیت کو متحد ہوناچاہیے جس کے نتیجے میں اسی سال 12 فروری کو روم کے پوپ فرانسس اور ماسکو کے فادر کرل کے مابین ہوانا کے ہوائی اڈے پر دوگھنٹے ملاقات کی اور اس کے بعد ایک طویل مشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا جس میں دونوں بڑے عیسائی فرقوں کے مابین اتحاد کے پروگرام کو منظوری دی گئی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک جانب یوروپی یونین کے نام سے عیسائی ممالک منتشر ہورہے ہیں دوسری جانب کیوبا جیسے کمیونسٹ اور امریکہ مخالف ملک میں عیسائی اتحاد پروان چڑھ رہاہے اور یہ اعلان بھی کیا جا رہاہے کہ وہ ایشیا کے مسلم خطے میں عیسائیوں پر ہونے مظالم کے خلاف متحدہ جدوجہد کے لیے پرعزم ہے۔ اس کا ایک واضح مطلب تو یہ سمجھنا چاہیے کہ مستقبل میں یہ عیسائی اتحاد جغرافیائی بنیادوں پر ہونے کے بجائے مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر عالمی سطح پر کسی ایک قیادت کے ماتحت کیاجائے گا اور اس کے لیے امریکہ سے زیادہ موزوں اور مضبوط ملک کوئی بھی نہیں ہے، لہٰذا برطانیہ کے اس اقدام کا سیدھا فائدہ سیاسی سطح پر امریکہ کو ہی ہوگا، علاوہ ازیں اقتصادی سطح پر بھی یہ امریکہ کی فتح ہوگی۔ ڈالر اور یورو کے مابین کشمکش ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔یورو جو کہ یوروپی یونین کی مشترکہ کرنسی ہے لمبے عرصے ڈالر کے مقابلے بہت مضبوط رہاہے جس کی وجہ سے امریکی اقتصاد بقیہ یوروپ کے مقابلے کچھ کمزوررہاہے۔ پچھلے دنوں امریکی بازار نے یوروپ کے یورو کو کمزور کرنے کی بہت سی کوششیں کی ہیں اور بہت کامیابی کے ساتھ ایک وقت میں یورو اور ڈالر کی قیمت تقریبا برابر ہوگئی تھی، آج بھی کوئی زیادہ بڑافرق نہیں ہے۔ یورو کی اس گرتی قیمت کی وجہ سے ہی چھوٹے ممالک میں اقتصادی بحران پیدا ہوتارہاہے۔ عالمی منڈی میں بھی اسی کشمکش کی وجہ سے کئی بار بحران پیداہواہے۔ یوروپی یونین کے ٹوٹنے کا سیدھا مطلب یوروکا خاتمہ ہوگا جس کے نتیجے میں عالمی بازار میں ڈالرتنہامالک رہ جائے گا اور امریکی اقتصادیات بلاشرکت غیرے دنیا پہ چھاجائے گی۔ گویا سیاسی اور اقتصادی دونوں پر سطح پر امریکہ کو فائدہ ہوگا۔ یہ فائدہ در اصل اسرائیل کو طاقت دے گا کیوںکہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کا وجود کبھی پسند نہیں آیا، حالانکہ وہ اقوام متحدہ کا حصہ ہے اور ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی سب سے اہم قانونی کمیٹی کا چیرمین بھی بنایاگیاہے۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ اقوام متحدہ نے ہمیشہ ہی فلسطین کی حمایت میں اور اسرائیل کی مخالفت میں بار بار تجاویز پاس کی ہے اور اسرائیل پر بلاواسطہ سیاسی دباو بناتارہاہے، اسی کے زیراثر یوروپی یونین کے بھی کچھ ممالک اسرائیل کے خلاف رہے ہیں۔ ایسے میں یہ دونوں بڑے بلاک اسرائیل کی پسند کے زمرے میں نہیں آتے، ویسے بھی ان عالمی اداروں کے ٹوٹ جانے سے خود اسرائیل کو بھی بے تحاشا اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ لہٰذا یہ ماننا زیادہ قرین از قیاس ہے کہ بین الاقوامی سیاست کا یہ اہم ترین واقعہ دنیا کو دوبڑے مذہبی بلاک میں تقسیم کردے گا۔ ایک طرف عیسائیت اور دوسری طرف اسلام جو پہلے ہی سے عیسائیت کے نشانے پر ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں حالیہ ایام میں مروج جمہوری نظام کے ذریعے جو قوتیں اقتدار میں آئی ہیں وہ سب کی سب سخت گیر، مذہبی اور اسلام مخالف قوتیں ہیں۔ یہ بات خود مسلم ممالک پر بھی صادق آتی ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں جمہوری نظام کے ذریعے ہی سیاسی اسلام کے پیروکاروں کو ہی غلبہ حاصل ہواہے۔ گویااسلام اور غیر اسلام دونوں خیموں میں مذہبی عناصر تقویت حاصل کررہے ہیں۔ اسرائیل میں نتن یاہوکا دوبارہ انتخاب مذہبی جنون پر مبنی ان کی تقریرکا نتجہ تھا۔ میانمار میں مبینہ جمہوریہ پسند رہنما آن سانگ سوچی وہاں کے سخت گیر بودھ بھکشووں کے تعاون سے ہی اقتدار میں آئیں۔ عالمی سطح پر انھیں عیسائیت کا تعاون بھی حاصل رہا۔ خود ہمارے ملک میں بھی ہندو سخت گیر عناصر مضبوط حکومت قائم کرنے اور اس کامیابی کے امریکی عیسائی لابی کے حلیف بھی بن گئے۔ اسی طرح امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ جیسے مسلم دشمن امیدوار کی بڑھتی مقبولیت اور برطانیہ میں انھیں سخت گیرعیسائی عناصر کی کامیابی اور اس پر مستزاد ہوانا میں مذکورہ بالا عیسائی مذہبی راہنماوں سے ملاقات ،جو پورے ایک ہزار سال بعد وقوع پزیر ہوئیں ہیں یہ واضح اشارہ کرتے ہیں کہ کہ دنیا مذہبی خطوط پر آگے بڑھ رہی ہے اور ہر عالمی ادارے کو توڑ کر اسلام اور غیراسلام کے خانوں میں بٹ رہی ہے۔ ہم اس سے قبل بھی لکھ چکے ہیں کہ عیسائیت، یہودیت، ہندومت اور بودھ مت آپس میں متحد ہوکر اسلام کے خلاف مورچہ بندی کررہے ہیں۔ برطانیہ کا یوروپی یونین سے انخلاء اور اس کے نتیجے میں یوروپی یونین اور اقوام متحدہ کے استحکام پر منڈلاتے یہ بادل یہی بتاتے ہیں کہ آنے والے چند سالوں میں دنیا ایک اور مذہبی جنگ سے دوچار ہونے والی ہے۔ شام کے عوام پر ہونے والے مظالم اس کا نقطہء آغاز سمجھے جاسکتے ہیں۔ اگلے دوسال میں اس برطانیہ کا ٹوٹ جانا یقینی محسوس ہوتاہے کہ جس کی حکومت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتاتھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close