آئینۂ عالمخصوصیعالم اسلام

ترکی کا قضیہ

ہم تو ان لوگوں میں سے ہیں جنھیں کہیں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہونے کی خبر ملتی ہے تو غمگین ہوجاتے ہیں اور کہیں مسلمانوں کو راحت اور آسانی پہنچنے کی اطلاع پہنچتی ہے تو خوش ہولیتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 ترکی کے صدارتی انتخابات میں رجب طیّب اردوان کو کام یابی حاصل ہوگئی۔ اس خبر نے مجھے خوشی سے سرشار کردیا اور میری طرح دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں انسان بھی اپنی مسرّت کو چھپا نہیں سکے۔ ٹھیک اسی طرح بہت سوں کی طرف سے منفی تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وہ انہیں بدترین ڈکٹیٹر ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور بہ طور ثبوت ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان کی کم زوریاں اور غلطیاں نمایاں کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جنھیں اس سے بھی تسلّی نہیں ہو رہی ہے ، چنانچہ وہ زہر میں بُجھے ہوئے طنز و تشنیع کے تیر برسارہے ہیں اور ان کی جانب ‘امیر المومنین’ اور ‘سلطان الامۃ’ جیسے ألقاب منسوب کر رہے ہیں۔

   ہاں ، ہمیں ترکی میں اردوان کی کام یابی سے خوشی ہوئی ہے۔

  اس لیے نہیں کہ ترکی میں اسلام کا بول بالا ہو گیا ہے ، "حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا ہے۔ "

  اس لیے نہیں کہ ترکی میں اردوان کے ذریعے خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگئی ہے۔

اس لیے بھی نہیں کہ ترکی میں سیاسی اسلام کو فتح حاصل ہوگئی ہے اور اس کے بدخواہوں کو منھ کی کھانی پڑی ہے۔

ہمیں خوشی اس لیے ہوئی ہے  کہ ترکی میں اسلام کو جو دیس نکالا دیا گیا تھا اور مسلمانوں پر جو بدترین ظلم ڈھایا گیا تھا ، اس کے خاتمے میں اردوان کا بھی کچھ حصہ ہے۔

سب جانتے ہیں کہ 1924 میں خلافتِ عثمانی کے الغاء کے بعد کمال اتاترک کے ذریعے اسلام کا نام لینا جرم قرار پایا تھا ، شعائرِ اسلام پر پابندی عائد کردی گئی تھی ، مساجد کو اصطبل اور شراب خانوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، اذان دینا اور قرآن پڑھنا ممنوع ٹھہرا تھا۔ یوں تو سیکولرازم یعنی لامذہبیت کو ریاست کا مسلک قرار دیا گیا تھا ، لیکن حقیقت میں اس کے پردے میں اسلام کو کھرچ کھرچ کر پھینک دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ ظلم اتاترک کے بعد بھی دہائیوں تک جاری رہا۔ جن افراد نے اسلام سے اپنی وابستگی ظاہر کی انھیں تختہ دار پر چڑھادیا گیا اور موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ قابل صد مبارک باد ہیں وہ لوگ جنھوں نے ان حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا اور جبر کے بدترین ماحول میں نئی نسل کے دل میں اسلام کی شمع جلائے رکھی۔ ہمیں اردوان کی کام یابی پر اس لیے خوشی ہے کہ ہم انہیں اس سلسلۃ الذھب کی ایک کڑی سمجھتے ہیں۔

اردوان اور ان کے پیش رَو پروفیسر نجم الدین اربکان  دونوں کا مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کے خلاف جبر کا یہ ماحول ختم ہونا چاہیے۔ جب  انسانوں کے لیے بنیادی آزادی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ، اس کے تحت انھیں کھلی چھوٹ ہے کہ جو غلط کام کرنا چاہیں کریں ، جس بے حیائی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیں کریں تو مسلمانوں کو آزادی کیوں نہ دی جائے کہ وہ اپنے دین کے تقاضوں پر عمل کر سکیں۔

 اربکان اور اردوان کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ اربکان نے اپنی سیاست اسلام کے نام پر کی ، چنانچہ حسبِ توقّع ان کی پارٹی کو بار بار پابندی کا سامنا کرنا پڑا ، ان کی حکومت کی برخاستگی کی نوبت آئی ، حتیٰ کہ سیاسی عمل میں ان کی شرکت پر بھی روک لگائی گئی ، جب کہ اردوان نے شعوری طور پر اسلام کا نام لینے سے احتراز کیا ، اگرچہ اقدامات برابر ایسے کرتے رہے جن سے مسلمانوں کو آزادیاں نصیب ہوں اور وہ اپنی مرضی سے ارکانِ اسلام پر عمل کر سکیں اور شعائرِ اسلام سے اپنے تعلّق کا اظہار کرسکیں۔ اردوان کے کام کا خلاصہ محبّ مکرّم پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے ایک موقع پر ایک جملے میں یوں بیان کیا تھا : ” اردوان نے ترکی کو جبری کفر سے اختیاری کفر تک پہنچادیا۔ "

ہمیں اردوان کی کام یابی پر اس لیے خوشی ہے کہ اس نے دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ، شامی مہاجرین کی بہت بڑی تعداد کو اپنے یہاں پناہ دی ، فلسطینی کاز کی حمایت کی ، غزّہ کے محصور مسلمانوں کے لیے امدادی سامان بھجوایا ، مصر کی جائز منتخب حکومت کے سربراہ مرسی کی اخلاقی حمایت کی اور اخوان المسلمون پر سیسی حکومت کے مجرمانہ مظالم کے خلاف آواز بلند کی  اور بنگلہ دیش میں برما کے بے یار و مددگار مسلمانوں کے لیے امدادی سامان بھجوائے ۔ کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب ارکان کی لفّاظیاں اور زبانی جمع خرچ ہے ، لیکن سوچنا چاہیے کہ دوسرے مسلم حکم رانوں سے تو یہ بھی نہ ہوسکا ، بلکہ ان کی نہ صرف ہم دردیاں ، بلکہ ان کا دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح کا تعاون ظالموں کو حاصل رہا۔

 ہم نہیں کہتے کہ اردوان نے ترکی میں اسلامی خلافت قائم کردی ہے۔ اس کا دعویٰ خود اردوان کو بھی نہیں ہے ، ان کی پارٹی کے دستور کی بنیاد اسلام پر نہیں ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اردوان کے اقدامات سے مسلمان دینی اعتبار سے ان آزادیوں سے بہرہ ور ہوئے ہیں جن سے وہ محروم تھے۔ ان شاء اللہ ایک وقت آئے گا جب کُھلّم کُھلّا  اسلام کا نام لیا جا سکے گا اور ترکی کے حکم رانوں کے لیے کتاب و سنّت کے مطابق نظمِ مملکت کو چلانے کے عوامی مطالبے کو ٹالنا ممکن نہ ہوسکے گا۔

  ہمیں افسوس ہے کہ اردوان کا مذاق اُڑانے اور انھیں ‘امیر المومنین’ کا طعنہ دینے والے وہ لوگ ہیں جو خود کو کتاب و سنت کا علم بردار کہتے ہیں۔ یہ انہی کا ذہنی فساد ہے جو ان کی زبان پر آجاتا ہے۔ ہم نے یا ہماری طرح اردوان کی کام یابی پر خوشی منانے والوں نے اردوان کو اصطلاحی معنیٰ میں کبھی ‘امیر المومنین’ نہیں قرار دیا۔

  ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کون اپنا ہے اور کون پرایا ؟ ہم تو ان لوگوں میں سے ہیں جنھیں کہیں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہونے کی خبر ملتی ہے تو غمگین ہوجاتے ہیں اور کہیں مسلمانوں کو راحت اور آسانی پہنچنے کی اطلاع پہنچتی ہے تو خوش ہولیتے ہیں۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close