تیسری جنگ عظیم کا اعلان؟

عالم نقوی

کیا القدس شریف (بیت ا لمقدس۔ یروشلم ) کوڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے ۶۶ سالہ ناجائز اور  غصبی حکومت  اسرائل کی راجدھانی تسلیم کر لینا تیسری جنگ عظیم کے نقارے پر پہلی چوٹ ہے ؟

کیا یہ اقدام اکیسویں صدی میں سرگرم دَجَّال ِاَکبر کے نمائندوں کی سربراہی،نیتن یاہو یا کسی اور فرعون وقت اور قارون زمانہ  کے بجائے   ڈونالڈ ٹرمپ کے سپرد کیے جانے کابا ضابطہ اعلان ہے ؟

 بظاہر اِن دونوں سوالوں کے جواب اِثبات میں ہیں  اور  اُمَّت کے اِتحاد کے سِوَا،اِس مسئلے کا اور کوئی حل ہمیں نہیں معلوم ۔ میں اپنے علم کی محدودیت پہ نازاں ہوں۔ ۔نہیں کچھ اور تری راہ کے سوا معلوم ! اور ہمیں خوشی ہے کہ دنیا کے تین بڑے مسلم ملکوں سعودی عرب، ایران اور ترکی نے ٹرمپ کے اِس دَجَّالی فیصلے کے خلاف کم و بیش یکساں رَدِّ عمل کا اظہار کیا ہے۔

 سعودی شاہ سلمان نے مذکورہ فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اُسے نہ صرف ناقابل ِقبول قرار دیا ہے بلکہ ’اپنے دوست ‘ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اِس فیصلے کو واپس لیں اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے باز رہیں۔

ایران کے صدر حسن  روحانی نے اپنے ترکیہ  ہم منصب رَجَب طیَّب اَردوگان کو فون کیا۔ دونوں ملکوں نے ٹرمپ کے اس اعلان کو غیر قانونی، اشتعال انگیز اور نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے نہایت خطر ناک قرار دیا ہے۔

یہاں تک کہ بھارتی وزارت خارجہ کا بیان بھی ’مودی۔ یاہو۔ ٹرمپ دوستی‘ والے مؤقف کے بجائے، فی الحال، ملک کے روایتی مؤقف کی تجدید پر مبنی ہے !نہایت محتاط اور خالص سفارتی  الفاظ پر  مشتمل   بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘فلسطین کے بارے میں بھارتی مؤقف کسی بھی تیسرے ملک کے نظریے کا پابند نہیں‘۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ  امریکہ کے روایتی اور قدرتی حلیف برطانیہ اور آسٹریلیا تک نے نہ صرف  نئے امریکی مؤقف کو تسلیم کرنے اور اس کا  اِتباع کرنے  سے انکار کر دیا ہے بلکہ کم و بیش اُن ہی الفاظ میں اس’ٹرمپیائی اقدام‘ کی مذمت کی ہے جن کا استعمال انڈونیشیا اور پاکستان جیسے مسلم ملکوں نے کیا ہے۔ اور جہاں تک عرب دنیا، مسلم دنیا اور بڑی حد تک پوری غیر مسلم دنیا کے عوام کے مخالفانہ رَدِّ عمل کا سوال ہے وہ بھی حسب ِمعمول صہیونی مقتدرہ کے ہر فیصلے کے خلاف ہے۔

لیکن، کیا ڈونالڈ ٹرمپ  اس اجتماعی عالمی رد عمل کا احترام کرتے ہوئے اپنا دجالی فیصلہ واپس لے لیں گے ؟ ہمارا جواب ہے:۔ نہیں۔ اس لیے کہ  دنیا بھر  کے  قدرتی وسائل اور اقتدار پر قابض مقتدرہ عوام کی نہیں صرف اپنے مفادکی پابند ہے۔ آپ صرف پچھلے سترہ برسوں کے  مختلف عوامی مظاہروں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کے لیے  بھی ہمارے جواب کی درستگی پر یقین کے سوا کوئی چارہ نہ رہ جائےگا۔

دنیا بھر کے امن پسند عوام کب چاہتے تھے کہ عراق و افغانستان کے   غریب و نادار  و بے قصور عوام پر جنگ مسلط کی جائے ؟سولہ سترہ سال قبل دنیا کا شاید ہی کوئی بڑا شہر ایسا ہو جہاں کے عوام نے لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے نہ کیے ہوں۔ لیکن نہ صرف ’’دہشت گردی مخالف جنگ‘‘(وار اگینسٹ ٹیرر)کے نام پرعراق و افغانستان کو ’اجتماعی تباہی کے ہتھیارو ں(ڈبلیو ایم ڈیز ) کے ذریعے پتھر کے زمانے میں پہنچا  نے سے گریز نہیں کیا گیا بلکہ لاکھوں’ غیر شریک جنگ ‘(نان کمبے ٹنٹ )بے گناہ شہریوں کو بھی موت کے گھاٹ  اتار دیا گیا۔ کیا امن پسندی، عوام دوستی اور جمہوریت کے دعویدار ملک ’استعمار‘ کو ’استثمار ‘ سے روک سکے ؟

’استعمار‘ یعنی فرعونوں اور قارونوں  پر مشتمل’ سامراج ‘۔اور ا’ِستثمار‘ یعنی عوام کا استحصال۔ کسی طاقتور ملک کا اپنے سیاسی اور معاشی فائدے کے لیے کمزور ملکوں کو غلام بنائے رکھنا استعمار (امپیریل ازم )ہے اور استثمار کسی دوسرے کی محنت و مشقت کے نتائج اور ثمرات پر قبضے کا اصطلاحی نام ہے۔

یہود ومشرکین اہل ایمان کے دائمی اور فطری دشمن ہیں(المائدہ۔۸۲)۔ جب تک پوری امت مسلمہ متحد ہوکر اپنے دفاع کے لیے قرآن کریم کے ’پراجکٹ انفال ‘(الانفال۔ ۶۰) پر عمل نہیں کرے گی نہ اس کے مسائل حل ہوں گے نہ دنیا ئے انسانیت کو’’ اِستِعماری اِستِثمار‘‘ سے نجات ملے گی۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر، اِفتراق و اِنتشار کو ختم کر کے اُمَّت ِواحدہ، اُمَّتِ وَسَط اور خیرِ اُمَّت  بنے بغیراب کچھ نہیں ہونے والا۔ محض زبانی جمع خرچ تو کبھی کافی نہیں ہوتا۔ اب یہ سعودی عرب، ایران، ترکی، متحدہ عرب امارات، بحرین، پاکستان اور انڈونیشیا وغیرہ  وغیرہ ستاون مسلم ملکوں کے اصلی امتحان کا وقت ہے۔ صرف بیان بازی سے کام نہیں چلنے والا۔

تیسری جنگ عظیم  تو اِبلیس اور اُس کے سبھی دجالی نمائندوں کا پوری  دنیا میں اپنے  واحد  ’’ استعماری استثماری نظام ‘‘ کے قیام کا آخری ایجنڈا ہے۔ اور یہ تیسری عظیم جنگ اجتماعی تباہی والے  جدید ترین ’ایٹمی، کیمیاوی، حیاتیاتی اور موسمی ہتھیاروں ‘کے  ناقابل تصور اِبلیسی اِستعمال کی عظیم جنگ ہوگی اور اس جنگ میں  حقیقی کامیابی با لآخر اُنہیں  کی ہوگی جوٹرمپوں، یا ہوؤں، شاہوں، مودیوں اور یو گیوں   کے بجائے  صرف اور صرف اللہ واحد ا لقہار و جبار سے ڈرنے والے ہوں گے ! ’’اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ ان کے لیے نجات کی صورت نکال دے گا اور ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے وہم و  گمان بھی نہ ہو اور جس  نے اللہ پر توکل کر لیا تو(بس) اللہ(ہی) اُس کے لیے کافی ہے اور بے شک اللہ اپنے(ہر) کام کو پورا کر کے رہتا ہے اور اُس نے ہر چیز کا ایک اندازہ ( پیمانہ ) مقر ر کر رکھا ہے  (سورہ طلاق آیت۲۔ ۳) فھل من مدکر ؟



⋆ عالم نقوی

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ہم اپنے بچوں کو کیا بنائیں؟

 ہمارے رسول ﷺ فداہ اُمی و َ اَبی تو خود ایک معلم تھے جو دنیا میں بھیجے ہی اس لیے گئے تھے کہ تمام بنی آدم کو کتاب اور حکمت Wisdomکی تعلیم دیں اور اُن کا تزکیہ کریں یعنی اُنہیں عدو مبین کی لائی اور پھیلائی ہوئی گندگیوں سے پاک کریں !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے