آئینۂ عالمخصوصیعالم اسلام

جمعہ نامہ: ان تازہ خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے

ڈاکٹر سلیم خان

قوم پرستی کے فاسد نظریہ نے گزشتہ ایک صدی سے عالم انسانیت کو اپنے پنجے میں جکڑ رکھا  ہے۔ علامہ اقبال نے جب اس کو عصر حاضر کا سب سے بڑا بت قرار دے دیا تو ممکن ہے بہت سے لوگوں کو یہ سختی ناگوار گزری ہوگی لیکن حال میں چینی مسلمانوں کے خلاف مسلم ممالک کے ناعاقبت اندیش  رویہ نے اس کی حقانیت ثابت کردی۔  چین کے اندر مسلمانوں پر بدترین مظالم کے خلاف اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کے ۲۲  غیر مسلم ممالک نے صدائے احتجاج بلند کی تو اس کے خلاف ۳۷مسلم ملکوں نے چینی حکومت کےظالمانہ اقدامات کی حمایت کرکےاوئغور مسلمانوں پر ظلم و ستم کو جائز قرار دے دیا۔  پاکستان، الجزائر، بحرین، متحدہ عرب امارات،عمان، کویت، قطر، شام، اور سعودیہ عربیہ وغیرہ  نے چینی مظالم کو حق بہ جانب ٹھہراتے ہوئے مظلوم مسلمانوں پردہشت گردی   اور انتہا پسندی تہمت لگادی۔  یہ قوم پرستی کی کرشمہ سازی ہے کہ جس نے اس ناقابلِ تصور سلوک  کو ممکن بنادیا۔  شاعر مشرق  دورِ جدید کے اس بت کو دین نبویؐ  کا غارت گر  یونہی نہیں کہا تھا؎

یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے

غارت گر کاشانۂ دین نبوی ہے

اقوام متحدہ کے اس شرمناک واقعہ نے ثابت کرتا ہے کہ وطن پرستی کی تلوار کس طرح  ملت اسلامیہ کے جسدِ واحد کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی  ہے۔ اس  اقدام نے  عالم اسلام کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا ہے جس میں حکمرانوں کی  وہی صورت نظر آتی  ہے جو سورۂ محمد کی۲۲ ویں  آیت میں  بیان ہوئی  ہے  :‘‘پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے’’۔ چینی مسلمانوں کے ملی رشتے کو جس طرح تار تار کیا گیا ہے اس کی مثال اسلامی تاریخ میں شاید ہی ملے۔  ویسے جو ممالک اپنے ہم سایہ  کے خلاف کشت و خون میں مصروف ہیں۔  اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کی خاطر اپنے  ہی ملک کے باشندوں کو طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا کرکےان کے حقوق سلب کرتے ہیں ان سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ غیروں کے ذریعہ اپنے بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں گے یا  کم از کم اس کی حمایت کردیں گے۔  یہ لوگ  ظالموں کی حمایت اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کے اپنے جبر و استبداد کو بہ وقتِ ضرورت ظالموں کی مددو استعانت مل سکے۔  دنیائے دنی میں رونما ہونے والے مختلف واقعات پر قرآن حکیم کی آیات کبھی کبھار اس طرح مستنبط ہوجاتی  ہیں کہ ایسا لگتا ہے گویا ابھی نازل ہورہی ہیں اور انسان امام رازی اوور صاحب کشاف جیسے مفسرین سے بے نیاز ہوجاتا ہے بقول اقبال ؎

تیرے وجود پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب ِ کشاف

وطن پرستی کی بنیاد اپنے اقتدار کو محفوظ و مامون  رکھنے کی ہوس میں اصحابِ اقتدار کی حالت زار قرآن حکیم میں یوں بیان ہوئی ہے کہ  ‘‘ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے’’،(محمد ۲۳)۔ مراسیل حسن میں ہے کہ: "جب لوگ زبان کے بہت میٹھے ہوں، اور دلوں میں کینہ بھرا ہوا ہو، اور رشتہ داری توڑیں تو اس وقت اللہ تعالی ان پر اپنی لعنت کرتے ہوئے انہیں بہرہ، اوراندھا کر دیتا ہے”۔  کتاب الٰہی  ا نکو استفہامیہ انداز میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ‘‘  کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے ہیں’’(محمد: ۲۴)۔  کسی نے  مسلم بھائیوں کی حمایت پر معاشی مفاد کو مقدم کررکھا ہے تو کوئی  اپنے سیاسی  اقتدار کی خاطر یہ مذموم حرکت کررہا ہے۔ یہ جس خوش فہمی میں مبتلا کردیئے گئے ہیں اس کےمتعلق  ارشادِ ربانی ہے ‘‘پس جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اُس سے پھر گئے اُن کے لیے شیطان نے اِس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کر رکھا ہے’’(محمد ۲۵)۔

ان آیات کو پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ گویا یہ بالکل آج کے حالات پر نازل ہوئی ہیں۔    مسلم سربراہان  کی وفاداریاں منقسم ہیں وہ کبھی مسلمانوں کی حمایت کا  دم بھرتے ہوئے   دشمنوں سے کس طرح  ساز باز کرلیتے ہیں اِس کی منظر کشی ملاحظہ فرمائیں ‘‘ انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے اللہ اُن کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے’’۔ (محمد۲۶)۔ آگے ایسے نافرمان لوگوں کی جانے والی تنبیہ بھی قابلِ توجہ ہے فرمایا‘‘ پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور اِن کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے؟ یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اُس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اُس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا اِسی بنا پر اُس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیے’’ (محمد ۲۷ تا ۲۹)۔

دینداری کا چولہ اوڑھ کر امت کو فریب دینے والوں سے متعلق  کتاب الٰہی سوال کرتی ہے:‘‘  کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا؟ ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لو گے اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے (محمد ۳۰)۔  رب کائنات نے اقوام متحدہ کی اس قرار داد کےذریعہ   بہت سوں کی نقاب کشائی کرکے ان کی پہچان کرادی۔ ان میں کئی تو غیر جانبدار رہے مثلاً انڈونیشیا، ملیشیا، ترکی اور ایران جبکہ  ایسے موقع پر وہ موقف  بھی پسندیدہ نہیں  ہے اور کئی کھل کر ظالم کی حمایت میں آگئے جیسے پاکستان، سعودی عرب، سوڈان  اور مصر وغیرہ۔    اس مصیبت سے نکلنے کا واحد علاج یہ ہے دنیا بھر کے مسلمان وطن پرستی کا بت توڑ کر ایک جسدِ واحد بن جائیں کیونکہ بقول اقبال؎

اقوم میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے

قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. مصر اور سعودی عرب کے حکمرانوں سے تو کوئی امید ہی نہیں تھی کیونکہ یہ بکے ہوئے خوفزدہ حکمران ہیں۔

    لیکن ترکی؛ ایران اور پاکستان کے حکمرانوں کو رب ذوالجلال والاکرام کے دربار میں ایک دن جواب دینا ہوگا۔

    ان بطش ربك لشديد○
    (بیشک تیرے رب کی پکڑ بڑی شدید ہے )

متعلقہ

Back to top button
Close