آئینۂ عالمشخصیات

جیسنڈا آڈرن: امن کی سفیر

ان حالات میں ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اس نئی ابتدا کی حوصلہ افزائی کریں۔

ممتاز میر

   ہم گذشتہ ۱۰؍۱۲ برسوں سے یہ لکھتے آرہے ہیں کہ اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مشرق کے مسلمان امت مسلمہ کے منصب سے معزول کئے جا چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک امت مسلمہ اب مغرب میں تیار ہو رہی ہے۔ اور جب اس میں مطلوبہ صفات پیدا ہوجائے گی تو اللہ ان سے اسلام کی یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگاکہ ملت کی نشاۃالثانیہ کا کام لے گا۔ ہم ۱۵ مارچ کونیوزلینڈ کے مشہور شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونے والے واقعے اور ما بعد اثرات کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ نیوزیلینڈ تو مشرق میں واقع ہے۔ ہاں۔ وجودی اعتبار سے تو  نیوزی لینڈ مشرق میں واقع ہے مگر معنوی اعتبار سے نیوزی لینڈ اتنا ہی مغربی ہے جتنا دوسرے یورپی ممالک۔ اتنا ہی سفید فام ہے جتنے یورپ کے دیگر سرد ترین ممالک۔ بہت ممکن ہے کہ ایک دو چار صدیوں بعد یہ مشرقی یا ایشیائی سفید فام ممالک حبشی کہلانے لگیں کیونکہ ابھی چند ماہ پہلے یہ خبر اخبارات کی زینت بنی تھی کہ آسٹریلیا میں پارہ ۴۸ ڈگری تک پہونچ گیا ہے۔ بہرحال یہ اللہ ہے جو حالات کو ضروریات کو  انسانوں کو ادلتا بدلتا رہتا ہے۔

  جمعہ ۱۵ مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ جو کہ کرکٹ میچوں کے لئے مشہور ہے کی دو مساجد میں دہشت گردی کا بہت ہی خوفناک واقعہ پیش آیا۔ ایک  آسٹریلین نژاد سفید فام شہری جو مسلمانوں کے تعلق سے تاریخی تعصب میں شرابور تھااور جس نے اپنے جدید مہلک ہتھیاروں پرعیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی جنگوں کے واقعات کو لکھ رکھا تھا، نے دونوں مساجد میں قریب ۵۰ مسلمانوں کو اپنے مہلک ہتھیاروں کی گولیوں سے ہلاک کر دیا۔ مہلوکین کی تعداد اور بڑھ جاتی اگر دو مسلمان اسے روکنے کے لئے جان کی بازی نہ لگاتے۔ یہاں تک تو سفید فام دہشت گرداپنے مقصد میں کامیاب رہا مگر اس کے بعد حکومت اور عوام کا جو رد عمل سامنے آیااس نے یقیناً دہشت گرد کو پچھتانے پر مجبور کر دیا ہوگا۔

ہمارا خیال ہے کہ اپنے اس گھناؤنے فعل سے اس کا مقصد مسلمانوں میں خوف اور عوام کے درمیان  کے درمیاں نفرت پیدا کرنا ہوگا شاید اسلئے کہ مغرب میں جو قبول اسلام کی لہر آئی ہوئی ہے اس پر روک لگے۔ کہا جاتا ہے کہ ۹؍۱۱ کے متعدد مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا۔ مگر یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ شر میں سے خیر برآمد کرتا ہے۔ ۹؍۱۱ کے بعد بھی اور حالیہ شر انگیزی کے بعد  بھی ہوا یہ کہ قبول اسلام کی لہر پہلے سے بھی بڑھ گئی۔ یہ خبریں آرہی ہے کہ نیوزی لینڈ کی عوام کے درمیان اسلامی کتابوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ قبول اسلام کی لہر تو خیر چلتی رہتی ہے۔ اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ مگر یہ جو نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے تعلق سے ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی ہے ایسالگتا ہے کہ یہ دنیا بھر میں پھیلے گی کیونکہ آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں بھی حجاب سے نفرت کا ایک واقعہ پیش آیا ہے جسے ایک دوسرے سفید فام رکن پارلیمنٹ نے ہی موقع پر ہی ہمدردی کی لہر میں تبدیل کر دیا۔

   نیوزی لینڈ کی فرض شناس خاتون وزیر اعظم محترمہ جیسنڈاآڈرن نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اسلامی لباس زیب تن کیا  سر پر ڈوپٹہ بھی اوڑھااور موقعہء واردات پر پہونچ گئیں۔ وہاں خواتین کو لپٹا لپٹا کر آنسو بھی بہائے اور انھیں دلاسہ بھی دیا۔ یہاں انھوں  نے جوکام کیا وہ عام بات تھی۔ خاص بات انھوں نے یہ کی کہ نیوزی لینڈ پارلیمنٹ کی سیشن کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کروایا۔ یہ وہ عمل ہے جس کے لئے انھیں دنیا کی کوئی طاقت مجبور نہ کر سکتی تھی۔ سوائے اس کے کہ یہ ان پر اور مسلمانوں پر اللہ کا فضل خاص  تھا۔ دوسرا  کام انھوں نے یہ کیا کہ دوسرے جمعے کو یعنی ۲۲ مارچ کو جمعے کی نماز سے پہلے نیوزی لینڈ کے تمام ریڈیو اور ٹی وی چینلوں سے اذان نشر کروایا یہ سب کچھ حکومتی سطح پر ہوا۔ عوام نے اس سے بھی آگے بڑھ کر مسجدوں اور نمازیوں کی حفاظت کا ذمہ لیا۔ مسجدوں کو گھیر گھیر کر کھڑے ہو گئے اور دوران نماز حفاظت کرتے رہے۔ مسجد کے آس پاس کے علاقوں کو پھولوں سے بھر دیا۔ اپنے بچوں کو نماز دیکھنے اور سیکھنے بھیجا۔ خود بھی  مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کے لئے جمع ہوئے اور اپنے بہترین تاثرات کا اظہار کیا۔ یہ سب کچھ جس طرح ہم نے دیکھا ہے بالکل اسی طرح مگر مختلف نظروں سے ہمارے ہی نہیں انسانیت کے دشمنوں نے بھی دیکھا ہوگااور یقین ہے کہ ان کے سینوں پر سانپ لوٹ گئے ہونگے۔

ان حالات میں ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اس نئی ابتدا کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سلسلے میں ہم من حیث القوم محترمہ جیسنڈا آڈرن کو امن کے نوبل انعام کے لئے نامزد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نوبل پرائز کمیٹی اگر بارک اوبامہ کو صرف امریکہ کا صدربننے پر امن  کانوبل انعام (جس کے لئے کمیٹی پر دنیا بھر میں لعن طعن کیا گیا تھا)پیش کر سکتی ہے تو محترمہ جیسنڈا آڈرن کو اتنے سارے اقدامت کرنے  پر بدرجہء اولیٰ امن کا نوبل انعام پیش کرنا چاہئے۔ جبکہ بارک اوبامہ نے اپنے پیشرو صدور کی ماننددنیا میں امن نہیں جنگیں ہی پھیلائیں جس سے بجا طور پر نوبل پرائز کمیٹی کی لیاقت پر غیر جانبدار ی پر اس وقت سوالات کھڑے کئے گئے تھے۔ نوبل پرائز کمیٹی کے لئے یہ موقع  ہے کہ وہ اپنی لیاقت ثابت کرے اپنی غیر جانبدار ی اور خود انحصاری ثابت کرے۔ ورنہ مسلم دنیا میں جو یہ سمجھا جاتا ہے کہ نوبل پرائز مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بھی دئے جاتے ہیں، بجا ثابت ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close