آئینۂ عالم

جیسی روح ویسے فرشتے

حفیظ نعمانی

 ملک کی آزادی کے زمانہ میں محترمہ تارا علی بیگ ایک اہم خاتون تھیں جن کے تمام بڑے لیڈروں سے تعلقات تھے۔ جن میں مسٹر جناح بھی تھے۔ محترمہ نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ محمد علی جناح ایسے آدمی تھے جن کی تعریف تو کی جاسکتی ہے لیکن ان سے محبت نہیں کی جاسکتی۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے سراپا اور لباس کی تفصیل بتائی ہے۔ اس کے بعد دوسری تفصیلات بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ انہوں نے ایک پارسی خاتون روٹی پٹیٹ سے شادی کی جو سر دینا ناتھ پٹیٹ کی ہمشیرہ تھیں۔ وہ انتہائی حد تک مغرب زدہ تھیں اور بہت سی رنگین داستانیں ان سے وابستہ تھیں اور کئی معاشقے ان سے منسوب تھے۔ بعد میں تارا بیگ نے لکھا ہے کہ لیکن تعجب ہوتا ہے کہ ان جیسے شخص نے ایک اسلامی ملک کی بنیاد کیسے ڈالی جبکہ قرآن اور مذہب کے متعلق ان کی معلومات واجبی تھیں؟

اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ 71 برس ہوگئے پاکستان کا سربراہ ایک بھی ایسا نہیں ہوا جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ وہ اسلامی ملک کا سربراہ ہے نواب زادہ لیاقت علی خاں، اسکندر مرزا، ذوالفقار علی بھٹو، آصف زرداری، یحییٰ خان، بے نظیر بھٹو، پرویز مشرف، نواز شریف اور اب عمران خان۔ ایک نام بھی ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں یہ کہا گیا ہو کہ اسے اس کی فکر تھی کہ ملک والوں کی دینی حالت کیسی ہے؟ ابتدا میں مولانا شبیر احمد عثمانی، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا یوسف بنوری اور مولانا امین احسن اصلاحی جیسے حضرات موجود تھے تو دینی سرگرمیوں کا کچھ ذکر سننے میں آجاتا تھا۔ پھر جب سے بھٹو، زرداری، بے نظیر، نواز شریف اور پرویز مشرف یا عمران خان کا زمانہ آیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ان سے سلام کرنا بھی نہیں آتا۔

عمران خان کے بارے میں جتنا ان کی بالنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے اس سے زیادہ ان کی عیاشی کی داستانیں چرچے میں رہی ہیں لکھنے والے اور کہنے والے چار پانچ پر رُک جاتے ہیں جن میں زینت امان، سیتا وائٹ، جمائمہ گولڈ اسمتھ، رحام نہر اور بشریٰ مائیکا پر کہانی ختم کردیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے جتنے وکٹ گرائے ہیں تقریباً اتنی ہی دوشیزائوں کو گرایا ہوگا۔ عمران خان کے بارے میں سب سے معتبر بیان اس انگریز لڑکی کا ہے جسے سیتا وائٹ کہا جاتا ہے اور جس کے پیٹ سے عمران خان کی ایک بیٹی بھی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ عمران خان کے دو چہرے ہیں۔ پاکستان پہونچتے ہی وہ بہت بڑا قدامت پسند بن جاتا ہے جو لوگوں پر توجہ نہیں دیتا مجھے بار بار کہتا کہ لوگوں کی طرف مت دیکھو۔ میرے پیچھے چلو کار میں بھی اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ یہاں تک کہ جہاز میں بھی عمران خان نے پچھلی نشست پر بٹھایا۔ لیکن لندن پہونچتے ہی دوسرا عمران بن جاتا تھا جہاں میں اس کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کھلے بندوں گھوم سکتی تھی اور اس سے مسلسل باتیں کرتی تھی یہ بھی اس نے ہی کہا کہ عمران خان نے مجھ سے کہا تھا کہ اب میں کرکٹ چھوڑ رہا ہوں اور سیاست داں بنوں گا اس لئے اب ہمیں اپنے راستے الگ الگ کردینا چاہئیں۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کی زندگی میں 25  سے زیادہ لڑکیاں تو وہ آئی ہیں جن سے ان کے عہد و پیمان کی ڈور شادی پر ٹوٹی اور پانچ وہ ہیں جن سے شادی کی یا دکھاوے کی شادی کی اور ایک بیٹی لندن میں ہے اور دو بیٹے ان کے پاس۔

پانچ سال پہلے نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ انہوں نے الیکشن میں جگہ جگہ کہا کہ وہ ہندوستان سے اچھے تعلقات بنائیں گے۔ اور ابتدا میں وہ بلانے پر دہلی آئے اور ہندوستان کے وزیراعظم بغیر بلائے پاکستان گئے۔ پھر جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ عمران خان جن کے کرکٹ کھلاڑی ہونے کی وجہ سے اُمید تھی کہ ہندوستان سے دوستی پر الیکشن لڑیں گے ان کی ہر تقریر مودی جی کے خلاف تھی۔ اور وہ کامیاب ہونے کے بعد ہندوستانی میڈیا سے شکایت کررہے ہیں کہ انہیں بالی ووڈ کا ویلن بناکر دکھایا۔ انہیں الیکشن لڑتے وقت یہ سوچنا چاہئے تھا کہ ان کا کردار کیا رہا ہے؟ ان کے زمانہ کے ہندوستانی ہندو کھلاڑی سنیل گواسکر، کپل دیو، روی شاستری وغیرہ تھے کیا انہوں نے یا کسی پاکستانی کھلاڑی نے سنا کہ ان کا کتنی لڑکیوں سے تعلق رہا؟ جبکہ ان دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق تھا۔ عمران خاں کا مذہب اسلام ہے جس میں غیرشادی شدہ اگر زنا کرے تو سزا سو کوڑے ہے اور اس شرط کے ساتھ کہ مارنے میں نرمی نہ کی جائے یعنی کھال ادھیڑ دی جائے۔ ہندوستان میں ہندوئوں کی حکومت ہے قانون یہ ہے کہ اگر دونوں بالغ ہیں اور دونوں رضامندی سے جنسی عمل کررہے ہیں تو بس آڑ میں کریں۔ بی جے پی کے اپنے وقت کے سب سے بڑے لیڈر اٹل بہاری باجپئی نے اعتراف کیا تھا کہ وہ بھی کنوارے ہیں اور پھر صفائی دی کہ بس اتنے کنوارے ہیں کہ شادی نہیں کی ہے ورنہ… اور نہ جانے کتنے لیڈروں کے بارے میں لوگ ذکر کرتے ہیں۔ پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے بھی نہ جانے کہاں کیا کیا ہوگا لیکن کوئی اعتراف اس لئے نہیں کرتا کہ شرعی سزا سب کو معلوم ہے۔ یہ کیا قیامت کے آثار نہیں ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا زانی، دھوکہ باز اور متلون مزاج اس ملک کا وزیراعظم بنے جسے بناتے وقت ہر زبان پر نعرہ تھا۔ پاکستان کے معنیٰ کیا۔ لاالہ الااللہ؟

اب یہ عمران خان کا فرض ہے کہ وہ حلف لینے سے پہلے شرعی عدالت قائم کریں اور اعتراف کریں کہ انہوں نے جو جو کیا ہے اس کی سزا اگر سو کوڑے ہیں تو وہ مارے جائیں۔ شرعی سزا کے بعد وہ پاک دامن ہوجائیں گے اور انہیں ایک مسلم ملک کا سربراہ بننے کا حق ہوگا۔ ہم ہندوستانی مسلمانوں کو جب کوئی عمران خان کے واقعات سناتا ہے اور گواسکر یا تیندولکر کی پاک دامنی کے قصیدے سناتا ہے تو شرم سے سر جھک جاتا ہے۔ پاکستان میں پاک دامن کھلاڑی بھی ہیں لیکن ان کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ اب پانچ سال تک پاکستان کے وزیراعظم وہ ہوں گے جن کا ہر بال ناپاک ہے وہ جب پاکستان میں مہاجر مسلمانوں کا خیال نہیں کرتے تو ہندوستانی مسلمانوں کا کیا خیال کریں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close