آئینۂ عالم

خشوگی قتل: مزید حقائق

 ممتاز میر

بار ہا یہ لکھا جا چکا ہے کہ امت مسلمہ نامی کوئی چیز کہیں موجود نہیں۔ کم سے کم بر صغیر مین تو نہیں۔ بر صغیر میں اب خدا اور رسول ﷺ کو ماننے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں۔ اب لوگ باوا،حضرت،پیر ولی مولانا کو مانتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اب صاحبان کشف و کرامت کی بات اگر قرآن مجید سے ٹکرا جائے تو بات انھی کی مانی جائیگی۔ قرآن و حدیث کو تو لوگوں نے پہلے ہی طاق پر رکھ دیا ہے۔ (یہ وہی صورتحال ہے جس کو قرآن نے کہا ہے کہ یہود ونصاریٰ نے اپنے علماء کو خدا بنا لیا ہے)جب مردہ لوگوں سے عقیدت کا یہ حال ہے تو تو پھر صدر، وزیر اعظم۔ بادشاہ یا کراؤن پرنس سے وابستگی کا کیا حال ہوگا؟یہ تو زندہ پیر ہیں۔ ان کی قدرت تو نئے حالات میں سمندروں کو بھی پار کر رہی ہے۔ اب یہ موت(نعوذباللہ)بھی دیتے اور زندگی بھی۔ اب یہ فقر(جیل بھیج کر)بھی دیتے ہیں اور غنی بھی کر دیتے ہیں۔

  اسی لئے جمال خشوگی کو انصاف ملتا نظر نہیں آرہا ہے۔ حالانکہ دو طاقتور ممالک بلکہ سپر پاور بھی جمال مرحوم کو انصاف دلانے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ مگر صاحب کشف و کرامت کراؤن پرنس محمد بن سلطان المعروف بہ MBS ’’دشمنان سعودی‘‘ کے ہاتھوں سے پھسل پھسل جا رہے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ متوقع انجام سے بچنے کے لئے کبھی ٹرمپ کو فون کر رہے ہیں کبھی اردگان کو۔ مگر ان کے چاہنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ ٹرمپ اور اردگان کو ڈرانے کے لئے فون کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا تو معلوم نہیں ہاں اردگان ڈرتے نظر نہیں آتے۔ بلکہ انھوں نے کراؤن پرنس کو ڈرانے کے لئے کچھ سوالات پوچھ لئے ہیں۔ قارئین بھی ملاحظہ کرلیں۔

(۱)۱۵ سعودی حضرات جو کہ ماہرین فن تھے، جیسے فارنسک ایکسپرٹ،پوسٹ مارٹم ایکسپرٹ،مختلف فلائٹس سے آکر اسی دن اسی وقت استنبول کے سعودی سفارت خانے میں کیوں جمع ہوئے تھے؟(۲)وہ ٹیم کس کے حکم پر ترکی آئی تھی؟(۳) سفارت خانے کو فوراً تحقیق و تفتیش کے لئے کھولنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے ہفتوں ضائع کیوں کئے گئے۔ (۴)قتل کو فوراً تسلیم کرنے کے بجائے درجنوں غیر ضرورت بیانات سے معاملات الجھائے کیوں گئے(۵)سرکاری طور پر جس قتل کو تسلیم کرلیا گیا ہے اس کی لاش مل کیوں نہیں رہی ہے؟

(۶)جب سرکاری بیان یہ ہے کہ لاش مقامی معاون کو سونپی گئی تھی تو حکومت بتا کیوں نہیں رہی ہے کہ وہ مقامی معاون کون ہے؟ تا دم تحریر سعودی حکام کی طرف سے،زیادہ صحیح یہ ہے کہ MBS کی طرف سے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ سعودی شاہی خاندان کو فی الوقت منہ چھپانے کے لئے جگہ نہیں مل رہی ہے۔ بیچارہ بوڑھا شاہ نا خلف اولاد کو بچانے کے لئے ہر ایک کو فون کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ یہ بھی سوچ رہا ہو کہ محمد بن نائف ہی کو ولیعہد رہنے دیتا تو کتنا اچھا ہوتا؟اس دوران مگر ایک کام بڑا زبردست ہوا ہے۔ وطن عزیز میں مودی مخالفین ایک سنبت پاترا کے نام سے روتے ہیں جو ہر فورم پر چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہو، الزام کیسا ہی کیوں نہ ہو مودی اور بی جے پی کا دفاع کرتا نظر آتا ہے۔ بالکل ایسے ہی یہاں سعودی شاہی خاندان نے مسلمانوں کے درمیان درجنوں سنبت پاترا پیدا کردئے ہیں۔ جو ان حالات میں بھی سعودی شاہی خاندان کے گن گا رہے ہیں۔ اب مسلمان کس منہ سے اصلی سنبت پاترا کے نام سے رو سکتے ہیں۔

   خیر تو بات چل رہی تھی اردگان کے سوالات کی۔ ان سوالات پر ایک ترکی صحافی لکھتا ہیکہ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ سب کس کے حکم پر ہوا۔ ۱۵،افراد کی ٹیم کے تمام کے تمام لوگ کراؤن پرنس کے اسپیشل سکواڈ کے آدمی تھے۔ انھوں نے اور سفارت خانے کے دیگر آدمیوں  نے دماغ بند کرکے کراؤن پرنس کے حکم کی تعمیل کی اس طرح کے احتیاطی تدابیر کو بھی ملحوظ نہ رکھا۔ جب قتل توقعات سے بہت پہلے کھل گیا تو دماغ نے جو پہلے ہی بند رکھا گیا تھا کام کرنا چھوڑ دیااور آئیں بائیں شائیں کرکے وقت حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ترکی صحافی نے مزید لکھا ہے کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ مقامی معاون زندہ ہو کیونکہ انھیں شک ہے کہ لاش کے ٹکڑے کرکے سمندر برد کیا گیا ہے۔ ان کی تحریر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ معاملہ دبانے کے لئے اردگان کو کسی قسم کی پیشکش کی جارہی ہے۔ ابھی دوچار دن پہلے پاکستان کی حمایت کے لئے عمران خان کو بھی تین ارب ڈالر اور تین سال تک ادھارتیل کا تحفہ دیا گیا ہے۔

   عموماً خواتین سلطنتوں کی تباہی و بربادی کا باعث بنتی ہیں۔ اب اس پر کسی کو تعجب بھی نہیں ہوتا۔ مگر سعودی شاہی خاندان ایسا نیارا ہے کہ  ایک بچے کے ہاتھوں برباد ہو رہا ہے۔ عالم اسلام میں تو پہلے ہی ان کا منہ کالا ہو چکا ہے۔ اگر ان میں کچھ بھی عقل ہے تو جس طرح امریکہ اور شاید ترکی نے(اللہ نہ کرے)اپنے مفادات کے حصول کے لئے جمال خشوگی کی قربانی دی ہے اسی طرح سعودی شاہی خاندان بھی اپنے مفادات کے لئے MBS اور ان کی ۱۵ رکنی ٹیم کی قربانی دے۔ ان تما م کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ اور ترکی اپنی عدالتوں میں ان پر  بالکل شفاف طریقے پر مقدمہ چلائے۔ اور جب تک مقدمہ چلے ان ۱۵۔ افراد کے اہل خاندان کو ترکی میں رکھا جائے اور وہ چاہیں تو انھیں ترکی میں بسایا جائے۔

  عالمی حالات اقوام متحدہ کے وجود کے بعد سے بہت کروٹیں لے چکے ہیں۔ اب تو لوگ ویٹو پاور کے حامل چودھریوں سے بھی تنگ آچکے ہیں اور اس میں تبدیلی کی بات ہوتی رہتی ہے۔ موجودہ حالات میں سفارت خانوں کی Immunity پر بھی غور و خوص ہونا چاہئے۔ اسلام دوغلا نہین ہے۔ ہاں جمہوریت کے خود ساختہ چیمپئن اور انسانی مساوات کے علمبرداروں کا فعل نہ جمہوریت کو پسند کرتا ہے نہ انسانی مساوات کو۔ وہ ایک طرف ۵ بڑوں کے قائل ہیں تو دوسری طر ف سفارتی آداب کے نام پر ہر طرح کی خونریزی و دہشت گردی کی اجازت دیتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close