آئینۂ عالمہندوستان

دنیا کے نقش پر دو حیران کن تصویریں

راحت علی صدیقی قاسمی

کائنات کی دیدہ زیبی، دلکشی، رعنائی و خوبصورتی، اس کا حسن و جمال انسان کے لئے کھلونے کے مثل تخلیق کیا گیا ہے، اس کائنات کا سب سے محترم و مکرم باشندہ انسان ہے، اسی کے لئے یہ بزم ہستی سجائی گئی ہے، اس بارات کا دولہا وہی ہے، کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا خدمت گذار اور مطیع وفرمابردار ہے، انسان کائنات میں موجود اشیاء سے فائدہ اٹھاتا ہے، اس کے حسن سے تسکین حاصل کرتا ہے، زمین کے پیٹ میں دفن خزانوں سے آسائش و آرائش کے سامان مہیا کرتا ہے، زمین کا سینہ روند کراپنے لئے غذا حاصل کرتا ہے، اور زندگی کی گاڑی کو رفتار عطا کرتا ہے.

 کائنات میں بسنے والے تمام افراد اس خیال پر متفق ہیں کہ دنیا کی سب سے قیمتی شئے انسان کی زندگی ہے، دولت شہرت جاہ و حشم اس کے سامنے بے وقعت ہیں، سرداری حاصل کی جاسکتی ہے، دولت کو بڑھایا جاسکتا ہے، لیکن زندگی وہ قیمتی دولت ہے، سانسیں وہ انمول خزانہ ہیں، جس کو خریدا نہیں جا سکتا، جس کا حصول کسی بھی قیمت پر ناممکن ہے، لہٰذا تمام خیالات اور مذاہب سے وابستہ افراد انسانی جانوں کے قدرداں ہیں، چنانچہ تمام مذاہب نے سختی کے ساتھ انسانی جانوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے، قتل و غارت گری کے دروازے کو بند کیا ہے، انسانی اقدار کے تحفظ کا پیغام دیا، چنانچہ مذہب اسلام تو ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے، قتل کی مذمت کرتا ہے، دیگر تمام مذاہب بھی یقینی طور پر انسانیت کے تئیں ہمدردانہ جذبہ رکھتے ہیں، اور قتل و غارت گری کے مخالف ہیں، لیکن مختلف صورتوں میں انسان ہی انسان کا خون چوسنے لگتا ہے، اس کی گردن مارنے لگتا ہے، اس کے خون سے ہاتھوں کو رنگین کرنے لگتا ہے، اس کے خون کو اپنی بے رنگ زندگی کا رنگ تصور کرنے لگتا ہے، اپنے خوابوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انسانی خون کو سنگ میل سمجھنے لگتا ہے.

 نتائج کی شکل میں ایسی صورت حال وقوع پزیر ہوتی ہے، جو انسانیت کو رسوا اور آدمیت کو شرمسار کردیتی ہے، سیاسی مفاد کی خاطر تجارتی ترقی کی خاطر انسانوں کا خون بہتا ہے، مذہبی تشدد کی خاطر انسانوں کا خون بہتا ہے، مختلف وجوہات انسانی جانوں کے اتلاف کا ذریعہ بن رہی ہیں، جن میں سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مذہب کے نام پر گائے کے تقدس کی حفاظت کے لئے بھیڑ کے ذریعہ قتل کئے جارہے ہیں، افواہوں کی بنیاد پر انسانی جانوں کو ہلاک کیا جارہا ہے، بعید از عقل ہے کہ جو مذہب گائے کی تقدیس کا حکم دے رہا ہے، اس کی بزرگی کا فرمان جاری کررہا ہے، کیا وہ مذہب انسانی خون کی تقدیس اور بزرگی کو بیان نہیں کرتا؟ پھر ہمارے ہاتھ کیوں انسانی خون میں رنگے ہوتے ہیں ؟ کیوں بھیڑ جمع ہوتی ہے، اور اپنے ہی جیسے شخص کو قتل کردیتی ہے؟ کیا یہ قتل واقعتا مذہبی فریضہ سمجھ کر کیا جاتا ہے؟ یا چند افراد مذہب کا چولہ پہن کر بھیڑ کو اکسا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ؟ حقیقت کیا ہے؟ ہم کبھی اس ضمن میں غور و فکر ہی نہیں کرتے، اس بے فکری اور جذباتیت کے نتیجہ میں آئے دن انسان کی بلی چڑھائی جارہی ہے، اور یہ بلی چڑھانے والے کوئی اور نہیں ’’جیو ہتھیا‘‘ (جاندار کے قتل) کے مخالف ہیں، جیو ہتھیا کی مخالفت کا عالم یہ ہے کہ انڈا کھانا بھی جرم سمجھتے ہیں، لیکن انسانوں کے خون بہانے کو جرم نہیں سمجھتے، چنانچہ انسان کا قتل ان کی نگاہ میں عبادت بن جاتا ہے، سوال پیدا ہوتا ہے.

 آخر ان کے ذہنوں میں یہ تصور کہاں سے اور کس طرح پیدا ہوا، جواب بالکل آسان ہے، ملک کو مخصوص فضا عطا کرنے کے لئے یہ تصور دیا جارہا ہے، سوشل میڈیا ان خیالات کو عام کرنے اور بھیڑ کو اکسانے میں اہم رول ادا کر رہا ہے، آخر کون ہے جو ملک میں ایسی فضا چاہتا ہے؟ کون ہے جو بھیڑ کو اکساتا ہے؟ کس کو اس صورت حال کا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

غور کیجئے ان سوالوں کے جواب آپ کے ذہن میں موجود ہیں، اور غور کرنے کے بعد بھی اگر ذہن جواب نا دے، تو بی جے پی کے مرکزی وزیر جینت سنہا کا عمل دیکھئے، وہ ضمانت پر رہا ہونے والے قاتلوں کی گل پوشی کررہے ہیں، آخر یہ عمل کیوں ؟ کیا وہ لوگ ان کے رشتہ دار ہیں قریبی ہیں ؟ سیاسی دوست ہیں ؟ یا ان کا عمل جینت کو پسند آیا؟ آخر اس پذیرائی کی کیا وجہ ہے؟

ان سوالوں پر غور کیجئے، پوری کہانی فلم کی مانند آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوگی، ملک کی صورت حال ذہنوں پر عیاں ہو جائے گی، ہمارے ملک میں ہجومی تشدد کا عالَم یہ ہے کہ دو ماہ کی قلیل مدت میں ملک کی چودہ ریاستوں میں 29 افراد کا قتل کیا جاچکا ہے، بھیڑ کی وحشت و درندگی پر لگام نہیں لگ رہی ہے، عدالت عالیہ فکرمند ہندوستان کا ہر باشندہ خوف وہراس میں مبتلا ہے، صورت حال اتنی نازک ہوگئی کہ بچہ چوری کی محض افواہ پر جانیں لی جارہی ہیں اپنے بچوں کے ساتھ کر سفر کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے،ماضی قریب میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، جہاں محض شک بنیاد پر لوگوں کی پٹائی کی گئی. حالانکہ وہ اپنی اولاد کے تھے، مخصوص افراد نے بھیڑ کے حوصلے بلند کردئیے انہیں نتائج اور سزاؤں سے بے نیاز کردیا ہے۔

 ایسے موقع پر جینت سنہا کا یہ عمل انتہائی متحیر کن ہے، یہ عمل ملک کے منظر نامے پر ایسی تصویر بناتا ہے، جو ملک کو نفرت کی بھٹی میں جھونکنے والا ہے، حالانکہ انہیں غلطی کا احساس ہو گیا ہے، لیکن اس عمل کے تاثر کو کیسے روکا جاسکتا ہے، پذیرائی انسانیت کے محافظوں کی ہوتی ہے۔

اسی قبیل کا ایک واقعہ تھائی لینڈ میں پیش آیا ہے، چھوٹا سا ملک اس نے 12 بچوں کو بچانے کے لئے دن رات ایک کردیا، پوری دنیا سے مشورہ کئے، دنیا بھر 50 ماہر غوطہ خوروں کو اکٹھا کیا، تھائی لینڈ سے 40 غوطہ خور تلاش کئے، بے جوڑ محنت ہمت و حوصلہ تقریباً تین ہفتوں کی جہد مسلسل نے 13 جانوں کو محفوظ کر دیا، وہ افراد قابل ستائش ہیں، ان کی محنت قابل تعظیم ہے، تھائی لینڈ میں انسانیت کی8 حفاظت کے لئے یہ کوشش جاری تھی، ہمارے ملک میں بچہ چوری کے شک لوگوں کا قتل کیا جارہا تھا، دنیا میں یہ دو حیران کن تصویریں ہماری نگاہوں نے دیکھی ہیں، قاتلوں کی پذیرائی ہونا انتہائی افسوس کی بات ہے، جینت سنہا کو تعریف کرنی ہے، تو ان غوطہ خوروں کی کریں، جنہوں نے جان پر کھیل کر بچوں کو بچایا، انسانیت کی اقدار کی حفاظت کا راستہ دکھایا، اس کی عظمت سے روشناس کرایا اور ہمارے ملک کو بھی سبق دیا، یہاں طبی امداد میں قلت کے باعث بچوں کی جان جاتی ہے، پھر تحقیقات ہوتی ہیں، قبل از وقت کچھ بھی نہیں ہوتا، پر تھائی لینڈ نے بے جوڑ محنت سے نیا نظریہ پیش کیا ہے، اور پوری کائنات کے لئے رہنما ثابت ہوا ہے۔

کاش ہمارے میں بھی اس طرح انسانیت کی حفاظت کی جائے، انسانوں کی قدر کی جائے، بھیڑ پر لگام کسی جائے، سیاسی مفاد کو انسانیت پر ترجیح نہ دی جائے، تو اس آزاد ہندوستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوجائے گا، جو گاندھی آزاد نہرو، بھگت اور اشفاق نے دیکھا تھا، بلکہ اس صورت میں پوری دنیا ہندوستان کی ثنا خواں ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close