آئینۂ عالم

دہشت گردی کا معمہ اور اس کا سرغنہ امریکہ

آفتاب عالم فلاحی

1979 میں منعقدہ ایک سیمینار میں برطانوی اور امریکی انٹلیجینس اداروں نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے عوامی مفادات کے خلاف تشدد کے استعمال کو دہشت گردی کا نیا معنی قرار دیا۔ اس کے بعد اس کو بھی واضح کیا گیا کہ کون کون سی تحریکیں ،جماعتیں اور تنظیمیں دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ ان ملکوں کا دعوی تھا کہ یہ اقدامات اس وجہ سے لیے گئے ہیں تاکہ دہشت گردی کو دنیا میں پھیلنے سے روکا جائے مگر جب ہم دہشت گردی کی اس اصطلاح پر غائرانہ نظرڈالتے ہیں تو اس میں مغربی ممالک کی عصبیت نظر آتی ہے جیسا کہ ہندوستان میں اندراگاندھی کے قتل کے واقعے کو امریکہ نے دہشت گردی قرار دیا مگرشاہ فیصل کے قتل کو ایسا نہیں قراردیا۔ اسی طرح اوکلاہوما میں ایف بی آئی کی عمارت کو دھماکے سے اڑانے کے عمل کوامریکہ نے پہلے تو اسے دہشت گردی قرار دیا مگر بعد میں جب اس حملے کے پیچھے بعض امریکی عسکری گروپوں کا ہاتھ ملا توامریکہ اسے ایک مجرمانہ عمل کے طور پر پیش کرنے لگا۔ پھر1997 میں پیرس میں جی سیون کانفرنس ہوئی جس میں امریکہ نے دہشت گردی سے متعلق چالیس تجاویز پیش کیں اور دہشت گردی کے خلاف قانون پاس کرایا۔ دہشت گردی کے خلاف اس جدید قانون کے بعد امریکہ ہر اس تنظیم، تحریک اور جماعت کے درپے ہو گیا جو اس کے مفادات کے خلاف تھیں۔ اسی طرح امریکہ یہ تصور کرنے لگا کہ وہ ہر اس شخص کو گرفتار کر سکتا ہے جسے وہ دہشت گردی میں ملوث سمجھتا ہے اور اسے اپنی من پسند کی سزائیں بھی دے سکتا ہے۔

آئیے اب امریکہ کی اس نام نہاد دہشت گردی کی تعریف کا جائزہ لیتے ہیں۔ دنیا میں ہر وہ ملک جو امریکی مفادات کے خلاف ہو اور اس کی آنکھ میں آنکھ ملاتا ہو امریکہ اسے دہشت گرد قراردیتا ہے، مثال کے طور پر شمالی کوریا، چین، صدام حسین کے دور میں عراق اور قذافی کے دور حکومت میں لیبیا۔ ان کے بارے میں امریکہ نے بارہا کہا کہ یہ ممالک دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں اور اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس طرح ہر وہ تنظیم اور تحریک بھی دہشت گرد ہے جو اس کے مفادات میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے کہ مصر میں اسلامی جہاد، فلسطین میں حماس، الجیریا میں ایف آئی ایس وغیرہ۔ معاملہ صرف ایسے ممالک یا تنظیموں کو دہشتگرد تصور کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکہ ان کے خلاف ہر طرح کا حربہ بھی استعمال کرسکتا ہے، مثلا اقتصادی پابندیاں عائد کرسکتا ہے، انھیں کالعدم قراردے سکتا ہے اور ضرورت پیش آئی تو ان پر فوجی کاروائی کا حق بھی سمجھتا ہے جیسا کہ عراق میں صدام اور لیبیا میں قذافی کے خلاف وہ ایسا پہلے ہی کرچکا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ دنیا میں امن قائم کرنا نہیں چاہتا ہے بلکہ اپنی داداگیری اور چودھراہٹ کے ذریعے دنیا میں سپرپاور بنا رہنا چاہتا ہے اور اس کی خاطر چاہے اسے کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پڑے اور چاہے کتنے ہی بین الاقوامی قوانین اورانسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیں جائیں، اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کو صرف اپنے مقاصد اور مفادات سے سروکارہے۔ بعض دفعہ اپنی مقصد برآری کے لئے خود اپنے ہی اصولوں کو توڑدیتا ہے جیسے افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، اسی اور نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین سے اس کی سرد جنگ جاری تھی اور سوویت یونین کے خاتمے کے لئے اسے مضبوط قوت درکار تھی تو اسے افغانستان میں طالبان سب سے مناسب معلوم ہوئے لہذا سوویت یونین کے خلاف طالبان کی بھرپور حمایت کی اور ان کو ہرطرح کی مالی اور عسکری امداد سے طاقتور بنایا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس زمانے میں جہاد کی خوب تشہیر بھی کی اور اسی وقت پاکستان کے اسکولوں میں جہاد کو نصاب میں شامل کرایا تاکہ جہادیوں کی بڑی کھیپ ان اسکولوں سے تیار ہوکر افغانستان میں مجاہدین کی مدد کرے اور اس مقصد میں امریکہ کافی کامیاب بھی ہوا کیونکہ اس وقت پاکستان اور بعض دوسرے ملکوں میں جہاد نہ صرف ہر بچے کی زبان پر تھا بلکہ مدارس کے علماء بھی امریکہ کے اس جہادی پروپگینڈہ میں بھرپور کردار نبھا رہے تھے۔ یہی نہیں بلکہ اس وقت کے نیویارک ٹائمز جیسے اخبارات بھی جہاد کی حمایت میں لکھتے تھے اور افغانستان میں سوویت کے خلاف جہادی گروہوں کی سرگرمیوں کو امن سے تعبیر کرتے تھے۔ نتیجتہ سوویت یونین کا انہدام ہوگیا اور امریکہ کو دنیا میں سپرپاور کی کرسی بھی مل گئی مگر اس کے بعد سے امریکہ اپنی ساری توانائی اسلامی جماعتوں، تحریکوں اور جہادی گروہوں کو کچلنے میں صرف کررہا ہے کیونکہ اب اس کی نظر میں اس کے مفادات کے بیچ میں اسلام سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔ مفاد پورا ہوجانے کے بعدامریکہ نے 2001 میں افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا اور طالبان کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

آئیے امریکی دہشت گردی کا ذرا وسیع مفہوم میں جائزہ لیتے ہیں، مصر میں 27 سالوں سے ڈکٹیٹر حسنی مبارک مصری عوام کا استحصال کرتا رہا اور مسلم مفادات کے بجائے امریکی مفادات کا محافظ بنارہا مگر امریکہ نے کبھی اسے دہشت گرد یا جمہوریت مخالف حکمراں سے تعبیر نہیں کیا لیکن عرب انقلاب کی لہر کے نتیجے میں جب مصری عوام مبارک کے خلاف احتجاج کرنے لگی تو امریکہ عوام کی حمایت میں کھڑا نہیں ہوا بلکہ حسنی مبارک کے اقتدارکو بچانے کی جی توڑکوشش کی مگر ناکام رہا۔ لیبیا میں قذافی کا جھکاؤ امریکہ کے بجائے اٹلی اور فرانس کی طرف زیادہ تھا اس لئے قذافی کو مختلف مواقع پر دہشت گرد اور دہشت گردی کو فروغ دینے والا ڈکٹیٹر کہا۔ اسی لئے جب لیبیا میں عوامی احتجاج شروع ہوا تو مصرکے برعکس یہاں امریکہ نے فورا نیٹو کی مدد سے قذافی کا صفایا کردیا۔ عراق اور افغانستان میں امریکی افواج کے ظلم کے ردعمل میں اگر کوئی مسلم گروہ ان پر جوابی حملہ کرتا ہے تو وہ انتہا پسندی اور بربریت کہلاتی ہے مگر امریکی ڈرون کے نتیجے میں معصوم مسلمان عورتوں اور بچوں کی ہلاکت صرف ایک غلطی کہلاتی ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کی چلکاٹ رپورٹ میں یہ اعتراف کیا جا چکا ہے کہ عراق پر فوجی کاروائی ایک غلطی تھی مگراب ان سے کون سوال کرے کہ اس غلطی کے نتیجے میں لاکھوں عراقی مسلمانوں کا قتل کیا دہشت گردی نہیں ہے۔ اگر کسی مغربی شہری کا قتل ہوتا ہے تو امریکہ سمیت پوری دنیا اس عمل کو وحشیانہ اور بربریت جیسے الفاظ سے تشبیہ دیتی ہے مگر امریکہ جاپان پر ایٹم بم گراکر، افغانستان و عراق کو تباہ وبرباد کرکے اور لاکھوں معصوم شہریوں کا قتل کرکے بھی امن کا ٹھیکہ دار بنا ہواہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں بلا تفریق مذہب ملت اگر کسی معصوم کا قتل ہو تو وہ دہشت گردی ہے چاہے قاتل کا تعلق کسی بھی تنظیم، گروہ، جماعت یا ملک سے ہو۔ کوئی مسلم اگر کسی بے قصور کے قتل میں ملوث ہو تو اس کا یہ فعل یقیناً قابل مذمت ہوگا ٹھیک اسی طرح کسی بے گناہ کا قاتل اگر امریکہ ہو توامریکہ بھی دہشت گرد کہلایا جانا چاہیے مگر حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے، اگر کسی مغربی ملک میں کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو پوری دنیا حیوانیت،انسانیت سوزاور بربریت جیسے کلمات سے اس حملے کی مذمت کرتی ہے اور تقریبا تمام بااثر ممالک کے سربراہان سمیت عالمی اور قومی شخصیات اظہار یکجہتی کے لئے اس مغربی ملک کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں جس کی مثال پیرس حملہ کے وقت ہم دیکھ چکے ہیں۔ 19 جولائی 2016 کو ٹیلی گراف میں شا ئع ایک خبرکے مطابق شمالی شام کے ایک گاؤں میں امریکی ڈرون حملہ میں تقریبا 60 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں بچے اورخواتین بھی شامل تھیں، اس حملے کا نشانہ داعش کے جنگجو تھے مگر غلطی سے ایک شامی خاندان جو کردوں اور داعش کے مابین جاری جنگ سے جان بچا کربھاگ رہا تھا اس حملے کی زدمیں آگیا۔ تصور کریں اپنے وجود سے لے کر اب تک ٹی وی پر مبینہ دہشت گرد تنظیم داعش کے شائع کردہ قتل کے واقعات میں جتنی بڑی تعداد ہلاک نہیں ہوئی ہے اس سے کہیں زیادہ افراد امریکہ کے صرف ایک ڈرون حملہ میں ہلاک ہوگئے مگر اس کے باوجود امریکہ امن کا محافظ کہلاتا ہے۔

امریکہ کی اس نام نہاد دہشت گردی نے دیگرممالک کو کس طرح متاثر کیا آئیے اب اس پربھی روشنی ڈالتے ہیں، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے کہ دہشتگردی خود امریکہ کی پیداوار ہے اور اسے ختم کرنے کے بجائے امریکہ اسے اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرتا ہے لہذا دوسرے ممالک نے بھی امریکہ کی اس مکاری اور مکروفریب کے فن کوسیکھ لیا ہے۔ ان ممالک کے سربراہان نے بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی جیسے موثر ہتھیار کا استعمال شروع کر دیا ہے اوردہشتگردی کی تعریف میں کس طرح یہ دوہرا معیار اختیار کرتے ہیں اس کی بھی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ ہمارے ملک ہندوستان میں نکسل گروہ عام شہری ہی نہیں بلکہ پولیس جوانوں کو شہید کردیتے ہیں مگر اس کے بعد بھی اخبارات کی سرخیوں میں ان کے اس فعل کو دہشت گردی سے منسوب نہیں کیا جاتا بلکہ اسے مجرمانہ عمل کہاجاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہندوستان کے کسی خطے میں کوئی مسلم قتل میں ملوث پایا جاتا ہے تو فورا اسے اسلامی دہشت گردی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ امریکہ اور دیگرمغربی ممالک میں عوامی مقامات پر شوٹنگ کے واقعات اکثر سننے میں آتے ہیں جس میں بہت سارے معصوم اور بے قصوشہریوں کو گولی سے بھون دیا جاتا ہے مگر کبھی بھی اخبارات میں ان واقعات کو دہشتگردی سے تعبیر نہیں کیا جاتا بلکہ اسے شوٹنگ کا ایک واقعہ کہہ کر خبرکودبا دیا جاتاہے۔ شام میں آکر یہ نام نہاد دہشت گردی اور بھی مضحکہ خیز ہوجاتی ہے جہاں ظالم بشاراب تک تقریبا چارلاکھ ستر ہزار شہریوں کوقتل کرچکاہے مگر پھر بھی خود کو منصف کہتاہے اورعوامی مزاحمت کو دہشت گردی قراردیتا ہے۔ اس لئے بشار، حزب اللہ اور ایران شام میں لڑنے والے گروہوں کوتکفیری دہشت گردکہتے ہیں جبکہ ترکی اورسعودی سمیت بیشترسنی ممالک ایران اورحزب اللہ کے جنگجوؤں کو روافض دہشت گردکہتے ہیں۔ سانپوں کا سر امریکہ اپنی مذموم خصلت کے مطابق دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے میں یہاں بھی اپنے مفادات کا پاس ولحاظ رکھتا ہے، چونکہ بشارکا جھکاؤ امریکہ کے بجائے روس کی طرف زیادہ ہے اس لئے عوامی احتجاج کے خلاف جب بشار معصوم شہریوں کو قتل کرنے لگا تو امریکہ نے اسے دہشت گردی سے تعبیر کیا مگر جب اسے یہ معلوم ہوا کہ بشار حکومت کے انہدام کے بعد عوام جمہوریت کے بجائے اسلامی ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں تو اس کے کان کھڑے ہوگئے اور وہاں پر لڑنے والے عسکری گروہوں کو دہشت گرد سمجھنے لگا اور بعض کو دہشت گردی کی سیاہ فہرست میں شامل بھی کردیا جبکہ حقیت یہ ہے کہ جن کو امریکہ دہشتگرسمجھتا ہے وہاں کی عوام کی نظرمیں وہ مسیحا ہیں جس کا مظاہرہ گذشتہ ہفتے حلب میں دیکھنے کو ملا۔ جب حلب کا محاصرہ ٹوٹا تو عوام ان پر پھول برساکر اپنے مسیحاؤں کا استقبال کررہے تھے۔

1945 میں دوسری عالمی جنگ کے آخری مرحلے میں امریکہ جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم گراکرتقریبا94000 ہزارلوگوں کوقتل کرچکاہے۔ اکتوبر2015 میں آنلائن پبلیکیشن انٹرسیپٹ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق افغانستان، صومالیہ اوریمن میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں نوے فیصد ہلاکتیں غلطی سے ہوئیں اسی طرح عراق میں لاکھوں لوگوں کو امریکہ نے دنیا کے سامنے جھوٹ گھڑ کر قتل کردیا۔ اس کے جرم اور دہشتگردی کی داستان اتنی طویل ہے کہ ایک مکمل کتاب بھی اس کا احاطہ نہیں کرسکتی مگر اس کے باوجود بھی وہ پوری دنیا میں امن کا ٹھیکہ دار بناہو ا ہے اور جسے چاہتا ہے دہشتگرد اور ویلن بناکر پیش کردیتا ہے اور دنیاخاموش تماشائی بن کر نہ صرف اس کے تمام کالے کرتوتوں کو دیکھ رہی ہے بلکہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں اس کی حمایت بھی کرتی ہے جبکہ حقیت یہ ہے کہ امریکہ خود دہشت گردی کاسرغنہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آفتاب عالم فلاحی

آفتاب عالم فلاحی مضامین ڈاٹ کام کے خصوصی کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور عالمی سیاست پر تجزیاتی مضامین لکھتے ہیں۔ aftabfalahi@mazameen.com

متعلقہ

Back to top button
Close