آئینۂ عالمخصوصی

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

کیا کسی مخصوص لباس پر پابندی عائد کرنا مذہب کے انفرادی عملدرآمد میں دخل اندازی نہیں ہے؟

ڈاکٹر سلیم خان

یوروپ کا جمہوری نظام مادر پدر آزاد معاشرت کا قائل ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر اس نے لادینیت کے آڑ میں مذہب کو ذاتی زندگی تک مقید کردیا اور انسانوں کی بے لگام آزادی کا نعرہ بلند کیا  اور مذہبی رواداری اور انسانی مساوات جیسے خوش رنگ نعروں سے عام و خواص کو گمراہ کیا۔ یوروپ کی اس تہذیبی یلغار کو جب تک  کسی نظریہ نے چیلنج نہیں کیا اس کی روشن خیالی کے خوب چرچے ہوئے  لیکن جب اسلام نے اس کے سامنے اپنی انفرادیت  کو ختم کرنے سے انکار کردیا تو اس نیلم پری کے زہریلے دانت اور خونخوار ناخون اس کے اپنے بلند بانگ دعووں کا دامن تار تار کرنے لگے۔ اس کی سب سے واضح مثال حجاب کے خلاف پھیلنے والی نفرت و  شدت ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا لباس کا تعین فرد کا ذاتی معاملہ نہیں ہے؟  کیا کسی مخصوص لباس پر پابندی عائد کرنا مذہب کے انفرادی عملدرآمد میں دخل اندازی نہیں ہے؟ وہ سیکولرزم جو  مذہب کو اجتماعی زندگی  میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا آخر انفرادی  زندگی میں دخل در معقولات کیوں کرتا ہے۔ کیا یہ اس کے اپنے دعویٰ کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ کیا  یہی وہ رواداری اور مساوات ہے جس کی بنیاد پر تین سو سال قبل یوروپ کی نشاۃ الثانیہ کی گئی تھی اور جسے ساری دنیا کے سامنے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

ایران میں انقلاب کے بعدغالباً معروف اطالوی   صحافیہ آراینہ فلاسی  نے امام خمینی سے انٹرویو لینے کے ارادے سے قم کا سفر کیا۔  حاضری سے قبل  پاسدارن نےفلاسی  چادر اوڑھنے کی تلقین کی۔ امام خمینی  سے ملنے کے بعد صحافیہ نے اعتراض کیا کہ مجھ پر یہ چادر اوڑھنے کی پابندی کیوں ہے؟ امام خمینی  اس کا حق تسلیم کرتے ہوئے کہا یہ پابندی تو مسلمانوں کے لیے تم اس سے مستثنیٰ ہو۔ اس کے ساتھ ہی صحافیہ نے چادر اتار کر پھینک دیکسی نے اُف  تک نہیں کیا۔ جس آزادی کا مطالبہ یوروپی خواتین مسلم ممالک میں کرتی  اسی آزادی سے یوروپ میں مسلم خواتین کو کیوں محروم کیا جاتا ہے۔ کیا مسلمان خواتین اپنی مرضی کا لباس پہننے کے لیے بھی آزاد نہیں ہیں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان چور ، اچکا اور دہشت گرد قرار دینا کیا حق بجانب ہے؟؁۲۰۱۱ کے اندر فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نےحجاب پر پابندی کے قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا  کہ اس کی ضرورت دکانوں سے غیر مجاز طور پر اشیاء اٹھانے والوں اور دہشت گردوں کو اپنی شناخت چھپانے کے مواقع نہیں فراہم کرنا ہے۔ حیرت کی بات ہے آزادیٔ نسواں کا نعرہ لگانے والی کسی تنظیم نے خواتین کے ساتھ اس امتیازی تضحیک آمیز بیان  کے خلاف احتجاج نہیں کیا ۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ جس فرانس کے اندر انقلاب نے جدید سیکولر  نشاۃ الثانیہ کی داغ بیل ڈالی اسی فرانس نے؁۲۰۱۰ میں  سب سے پہلے بر قعے پر پابندی لگائی ۔  اس ظالمانہ قانون کے مطابق، لوگوں کو برقع یا ایسا کوئی لباس عوامی جگہوں پر پہننےکی اجازت سلب کردی گئی  جس سے چہرہ چھپے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر۲۰۵ امریکی ڈالر کے مساوی جرمانہ اورفرانسیسی اخلاقیات پر درس لینے پر مجبوری عائد کی گئی ۔  فرانس کے اس اقدام کو استثنائی قراردے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لیے اسی سال اسپین نے  برسلونا شہر کی بلدیہ عمارتوں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اسی طرح کی پابندیاں کاتالونیا کے کئی دیگر شہر عائد ہوچکی تھی لیکن  سپریم کورٹ نے ایک پابندی کو یہ کہ کر ہٹا دیا کہ اس سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے۔

عدم رواداری کا یہ سلسلہ دن بہ دن پھیلاتا جارہا ہےآگے چل کر بلجئیم نے ایک قانون متعارف کیا جس کے تحت برقع یا کسی شخص کی شناخت کو عوامی جگہ غیرواضح کرنے والے کسی بھی لباس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ قانون شکنی پر ۳۸۰ یورو جرمانہ اور سات دن تک کی قید کی گنجائش رکھی گئی ۔کچھ اطالوی علاقہ جات ذیلی قوانین کے تحت  اسلامی حجاب کو عوامی جگہوں پر پہننے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ اسلامی طرز کی تیراکی کی پوشاکوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے  جو مکمل جسم کو چھپاتے ہیں۔ اس قانون کے تحت ؁۲۰۱۰  میں شمالی اطالیہ کے شہر نووارا میں ایک مسلمان عورت کو حجاب پہننے کی وجہ سے ۵۰۰ یورو کا جرمانہ دینا پڑا ۔ سویٹزرلینڈ بعض  علاقوں میں عوام نے  نقاب پر پابندی لگانے کے حق میں ووٹ کیا۔ڈنمارک میں  ججوں پر عدالتی احاطے میں برقع یا اسی طرح کے مذہبی یا سیاسی نشانات پر پابندی عائد ہے جس میں صلیب، یہودی ٹوپی، پگڑی شامل ہیں۔ترکی نے برقع پر ؁۱۹۲۶ میں پابندی لگا دی تھی تاہم ؁۲۰۱۳ میں ترکی نے عورتوں کو مملکتی اداروں میں چہروں کو چھوڑکر سر اور بالوں کو ڈھاپنے والوں حجاب کی اجازت دے دی۔

ہالینڈ نے ؁۲۰۱۵ میں مکمل چہرے کے اسلامی حجاب کو سرکاری عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور عوامی حمل و نقل کی جگہوں پر ممنوع قرار دے دیا۔ یہ قانون حجاب پر مکمل پابندی عائد نہیں کرتا بلکہ "مخصوص حالات میں جب لوگوں کا دیکھا جانا ضروری ہے” تب پردہ داری کو غیر قانونی قرار دیتا ہےاور قانون شکنی کی صورت میں ۲۸۵ پاؤنڈ اسٹرلنگ تک کا مساوی جرمانہ عائدکرتا ہے ۔ قفقاز علاقے میں بڑھتے روسیوں اور مسلمانوں کے تصادم کے پیش نظر سٹاوروپول کے ارباب مجاز نے مملکت کے زیر انتظام اسکولوں میں اسکارف پر پابندی لگادی۔ اس فیصلے کی روسی سپریم کورٹ کی  توثیق بھی مل گئی۔ چین میں صوبہ سنکیانگ کا دار الحکومت اُرُومچی میں برقعے پر پابندی عائد ہے۔ابھی گزشتہ سال سوویت یونین کی سابقہ جمہوریہ لٹویا نے عورتوں پر اسلامی طرز کے مکمل چہرے کے حجاب پر ملک بھر میں پابندی عائد کر دی ہے۔ خواتین  کی حق تلفی کے خلاف ساری دنیا میں حقوق انسانی اور حقوق نسواں کے علمبردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں  کیونکہ اس کی زد مسلمانوں پر آتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کسی ایک طبقہ کے خلاف اس طرح کا امتیازی سلوک کیا حق بجانب ہے  اگر نہیں تو اسلام کے اوپر دن رات تنقید کرنے والے روشن خیال دانشور اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟  کیا یہ مغرب  کے  سیکولر جمہوری دیو استبداد  کی کھلی  منافقت نہیں ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close