روہنگیائی مسلمان: دنیا کی سب سے زیادہ ستم رسیدہ اقلیت

 اشرف لون

 گزشتہ چند دنوں سے،میانمارکے بے گھر  اور مظلوم روہنگیا مسلمانوں کی تصاویر اور ویڈیوز فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں . کچھ ویڈیو میں ، میانمار کی مسلح فورسز روہنگیا کے غریب افراد جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ، پر فائرنگ کرتی دیکھی جاسکتی ہے اور کچھ میں مکانوں کو جلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ کچھ ویڈیوز میں فوج بچوں وغیرہ کی ٹانگیں ،  بازو وغیرہ  کو چاکو سے کاٹتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے. یہ تصاویر اور ویڈیوز انتہائی   ہیجان خیز ہیں .  تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق جو روہنگیائی اپنے آپ کو سفاک فوج سے کسی طرح بچانے میں کامیاب ہوبھی جاتے ہیں لیکن ان میں سے بہت سارے بعد دریا یا سمندر میں ڈوب بھی جاتے ہیں . عصمت دری کے واقعات کی بھی خبریں موصول ہورہی ہیں . یہاں پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ بہت سی ویڈیو افریکی ملک روانڈا اور دوسری جگہ کی شئر ہو رہی ہیں لیکن یہ بات سچ ہے کہ ان ویدیو میں اچھی خاصی تعداد روہنگیائی مسلمانوں کی ہیں ۔

سابقہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوفی عاانان کے مطابق، روہنگیائی دنیا میں سب سے ستم رسیدہ اقلیتی قوم ہے۔ یہاں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے رخائن ہے جہاں سینکڑوں گھروں کو  مسمار کیا گیا ہے اور گولہ بارود سے اڑادیا گیا ہے. علاقے کے  باشندوں نے الزام لگایا گیا ہے کہ  فوج و پولیس نے غیر مسلح افراد،  بشمول خواتین اور بچوں   پر بے تحاشا فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گزشتہ پانچ دنوں سے سینکڑوں ہلاکتیں  واقع ہوئی ہیں ۔انسانی حقوق کی تنظیم (Human Rights Watch) کی طرف سے حاصل کردہ سیٹلائٹ  تصاویر کے مطابق پچھلے پانچ دنوں میں شمالی رخائن ریاست میں 100 کلومیٹر کے فاصلے پر بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر ملک کے مغرب تقریبا 10 علاقوں کو پر مشتمل رہائشی مکانوں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔

 روہنگیا کون ہیں ؟ بعض سکالروں کے مطابق، روہنگیا رخائن ریاست کے مقامی باشندے ہیں جو کئی صدیوں سے یہاں آباد ہیں جبکہ میانما رحکومت کا موقف اس کے مخالف ہیں اور وہ ان کو میانمار کے باشندے ماننے سے انکار کرتی ہے. سرکار کے مطابق روہنگیا ئی میانمار کے باشندہ نہیں بلکہ  وہ انہیں بنگلہ دیشی  مانتی ہے اور  یہی وجہ ہے کہ روہنگیائی اس وقت ظلم و ستم کے شکار ہیں .  میانمار حکومت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ  اسے مذاکرات اور مصالحت میں دلچسپی نہیں ہے. یہاں تک کہ صحافیوں اور بین الاقوامی حقوق کے اداروں کو بھی ان علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے.اس طرح وہاں میانمار کی فوج وہ سب کالی کرتوتیں چوری چھپے انجام دے رہی ہے جس سے درندے بھی پناہ مانگے۔ برطانیہ  میں مقیم روہنگیائی حقوق کے لیے لڑنے والی تنطیم کے صدر تون کھین کے مطابق. ''حکومت کی طرف سے ایک مثبت قدم اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی انان کی زیر صدارت ایک کمیشن قائم کرنا تھا. تاہم، اس میں کوئی بھی روہنگیائی بطور رکن شامل نہیں تھا  اور اسے محدود منڈیٹ حاصل تھا اور جسے پچھلے ہفتے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ تک لینے سے روک دیا گیا. ''

 روہنگیائی کے مظلوموں کی آخری امید نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی وابستہ تھی،لیکن انہوں نے پہلے سے ہی مایوسوں کو اور زیادہ مایوس کیا. اس سلسلے میں ٹون کھین کہتے ہیں ، ''ہمیں امید تھی کہ جب آنگ سان سوچی کی قیادت میں نئی حکومت 2016 میں اقتدار میں آئی تو حالات میں بدلاو آئے گا لیکن انہوں نے ان تمام قوانین اور پالیسیوں کو جوں کا توں برقرار رکھا جن کے بل بوتے پر ہم پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں . انہوں نے  روہنگیا ئی کو پہنچنے والی امداد پر بھی  پابندیاں  رکھی تھیں ، جو 2012ء کے حملوں کے بعد مختلف کیمپوں میں رہ رہے تھے۔ان پابندیوں سے بہت سے بچے موت کے منہ میں چلے گئے اور بہت سے جسمانی طور کمزور ہوگئے۔''

 تازہ رین مایوسی یہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں نے اس پر بہت دیر تک مجرمانہ خاموشی اپنائی اور ترکی کو چھوڑ کر کسی بھی مسلم اکثریتی ملک نے اس پر لب کشائی نہیں کی۔ کسی بھی ملک کے کسی بھی سربراہ نے روہنگیائی مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی کھلی مخالفت نہیں کی ہے  اور نہ میانمار حکومت کو اس کی فوج کے ذریعے انجام دیے جانے والے جرائم  اور ان کے نتائج کے بارے میں خبر دار کیا. عالمی طاقتوں نے مجرمانہ خاموشی اپنائی ہے۔

  خواتین، بچوں ، بوڑھے اور جوان بنا کسی خطا کی مارے جارہے ہیں . ان کی واحد خطا یہ ہے کہ وہ غلط وقت پر غلط جگہ  پر رہ رہے ہیں . جب پوری منصوبہ بندی کے تحت  عالمی   میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں '' اسلام فوبیا'' پھیلا  یا جارہاہے اور دہشت گردی کو صرف اسلام سے منسلک کیا جا رہا ہے، تو یہ کوئی تعجب نہیں ہے کہ روہنگیا یوں کو   عالمی طاقتوں   سے کچھ مدد یا حمایت نہیں مل رہی ہے. یہ دلچسپ لیکن کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ جب حکومت نے روہنگیا پر حملہ کیا تو میانمار حکومت کی سربراہ آنگ سان سوچی نے  عصمت دری کے واقعات سے انکار کیا اور مظلوم روہنگیا ئیوں پر فوجی کارروائی کا دفاع کیا۔

 روہنگیائیوں کو روزانہ قتل کیا جا رہا ہے۔ان کے مکان جلائے جارہے ہیں اور گھروں سے بے گھر کیا جارہا ہے. ہزاروں افر اد زندگی کی امید میں اپنے   وطن سے بے وطن ہورہے ہیں اور اس دوران ہزاروں افراد قتل ہو رہے اور سیکڑوں دریا اور سمندر میں ڈوب گئے ہیں اور سیکڑوں '' انسانی اعضا کے اسمگلروں '' اور بحری قزاقوں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں. یہاں تک کہ بچوں اور عورتوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے اور چاقووں وغیرہ ہتھیار سے ان پر حملہ ہورہا ہے.  میانمار میں اس وقت  نسل کشی ہورہی ہے جو بدنام زمانہ ہٹلر کو بھی شرمندہ کردے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ عالمی طاقتیں خواب غفلت سے جاگے اور انسانیت کے ناتے اس نسل کشی کو روکے تاکہ بعد میں اس سیکوئی نیا بحران نہ جنم لے۔



⋆ اشرف لون

اشرف لون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے