آئینۂ عالم

زمباوے – 18اپریل: قومی دن کے موقع پر خصوصی تحریر

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

        ”زمباوے “جنوبی افریقہ کاملک ہے جس کی125میل لمبی سرحد جنوبی افریقہ سے ملتی ہے۔ یہ جنوب اور جنوب مغرب سے” بٹسوانہ “سے ملحق ہے، شمال میں ”زیمبیا“ہے اور مشرق اور شمال مشرق میں ”موزمبیق“کی ریاست موجود ہے۔ زمباوے کا کل رقبہ کم و بیش ڈیڑھ لاکھ مربع میل ہے۔ زمباوے کا دارالحکومت ”ہرارے“ہے۔ سطح سمندر سے اس ملک کی سرزمین کی بلندی کم و بیش ایک ہزار فٹ ہے۔ یہ ملک سمندر کے جوار سے محروم ہے۔ اگست سے اکتوبر تک یہاں بہت گرمی پڑتی ہے اور یہ دورانیہ سال کا خشک اورگرم ترین دورانیہ ہوتا ہے۔ بحرہند سے اٹھنے والی مون سون ہوائیں جون میں یہاں سے گزرتی ہیں تو اس ماہ کا موسم نسبتا خوشگوار رہتاہے۔ یہ ملک افریقہ کے شہرت یافتہ جنگلات سے بھراہوا ہے۔ ”ہوانگ نیشنل پارک“ یہاں کا بہت بڑا جنگلاتی منصوبہ ہے جس کا رقبہ پانچ ہزار مربع میل سے بھی زیادہ ہے۔ بڑے اور چھوٹے ہر طرح کے جنگلی جانور جن میں شیر، چیتا، لومڑ اور ہاتھی وغیرہ بھی شامل ہیں ملک کے شمالی جنگلات میں بکثرت پائے جاتے ہیں جبکہ دریاوں میں مگرمچھ  کی بھی بہت سی نسلیں موجود ہیں۔ دنیا کی سب سے قیمتی نسل کے شاہین اور عقاب بھی اﷲ تعالی نے دنیا کی اسی سرزمین پر پیدا فرمائے ہیں۔

        زمباوے میں پانچ لاکھ سال قبل کے پتھر کے زمانے کے انسانی آثار پائے جاتے ہیں۔ اسی تاریخ میں پندرویں صدی میں زمباوے کی سرزمین پرانسانوں نے قدم رکھے۔ یورپین افراد افریقہ کو سر کرنے کے نقطہ نظر سے سولوہیں صدی میں یہاں سے گزرے اور انہیں سونے کی تلاش بھی درپیش تھی۔ برٹش ساوتھ افریقہ کمپنی نے 1890میں اس سرزمین پر اپنے بہت سے معاشی اور سیاسی اثرات ثبت کیے۔ زمباوے کے لوگوں کا اپنا ہی مورثی مذہب ہے۔ ”شونا“بولنے والے مظاہر قدرت کو خدا ماننے سے ملتے جلتے عقائد کے مالک ہیں”ماٹوپو“کی پہاڑیاں جو زمباوے کی سرزمین پر ہی واقع ہیں ان کی مقدس سرزمین کے طور پر گردانی جاتی ہیں،”ماواری“نام کا خدا ان کے ہاں اس کائنات کی سب سے بڑی طاقت سمجھاجاتاہے۔ مقامی آبادی کے 50% لوگ اس عقیدے کے ماننے والے ہیں اور 25%عےسائی مذہب کے لوگ ہیں۔

        زمباوے کو زمین کے اعتبار سے چھ مختلف حصوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔ مشرقی بالائی حصہ جس میں 25 انچ سالانہ کے حساب سے بارش ہوتی ہے، یہ باغات کے لیے اور دیگر مختلف فصلوں کے لیے کارآمد ہے۔ وسط سے مغرب تک کا علاقہ جو ملک کے بیس فیصد علاقے پر مشتمل ہے یہاں پر20سے 25انچ سالانہ بارش ہوتی ہے، یہ علاقہ تمباکو اورمکئی کی کاشت کے لیے موزوں ہے اور جانوروں کی پرورش کے اکثر فارم بھی یہاں موجود ہیں۔ تقریباَ اتنا ہی علاقہ جنوب مغرب میں ہے جہاں 16سے20انچ سالانہ بارش ہوتی ہے یہاں بھی مختصر مدت کی متعدد فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ ملک کا ایک تہائی حصہ جو کہ جنوب میں واقع ہے اور یہاں 14سے 18انچ سالانہ بارش ریکارڈ کی جاتی ہے ۔ دریائے زمباوے کے ساتھ ساتھ کا علاقہ جہاں16انچ سالانہ سے بھی کم بارش ہوتی ہے یہاں صرف مویشی پالنے کاکام ہی کیاجاتا ہے اوراسی دریا کے انتہائی شمال کاعلاقہ جو کسی طرح کی بھی فصلوں کے لیے نامناسب ہے۔ زمباوے کی قومی آمدن میں زراعت کا حصہ15% اور زرمبادلہ میں زراعت کا حصہ 40% تک ہے۔ ملک کی کم و بیش نصف آبادی زراعت سے براہ راست یا بالواسطہ منسلک ہے۔ مکئی، تمباکواور کپاس یہاں کی نقدآور فصلیں ہیں جو ملکی ضروریات پوری کرتی ہیں اور برآمد بھی کی جاتی ہیں، لیکن مکئی بہت کم برآمد کی جاتی ہے،مونگ پھلی،کیلا،گنااورمالٹا سمیت متعدد دیگر فصلیں یہاں کاشت کی جاتی ہیں۔

        زمباوے کی دوتہائی سے زیادہ آبادی اپنی مقامی زبان””شونا“بولتی ہے جو یہاں کی سرکاری طور پر اولین زبان ہے، جب کہ بقیہ آبادی کی اکثریت ”نبلے“زبان بولتی ہے۔ یہ دونوں زبانیں ”بنٹو“ زبان سے نکلی ہیں۔ بنٹو بان قبائل اس سرزمین پر آج سے ایک ہزار سال پہلے آباد ہوئے تھے جن کی زبانیں آج تک وہاں کی تہذیب کا اہم حصہ ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہاں پر برطانیہ سے آئے ہوئے بہت سے لوگ آباد ہوئے جنہیں گورا ہی کہا جاتاہے، طویل غلامی اور گوراراج کے بعد اپریل 1980میں زمباوے میں آزادی کا سورج طلوع ہوا توآزادی کے بعد اگر چہ بہت سے واپس بھی چلے گئے لیکن ان گوروں کی نصف سے زائد آبادی تو پیدائش کے اعتبار سے زمباوے سے ہی متعلق ہے۔ پھر جنوبی افریقہ سے بھی گوروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے ایک زمانے میں ہجرت کر کے زمباوے میں پناہ لی جس کے باعث زمباوے کی زبان، معاشرت اور معیشیت پر ابھی تک بھی گوروں کے بہت سے اثرات باقی ہیں چنانچہ وہاں کی معاشی پالیسیوں میں بھی ہنوزگوروں کی ترجیحات کو دخل حاصل ہے تاہم آزادی کے بعد سے زمباوے کی حکومت نے سیلزٹیکس ختم کر دیا اور غریب لوگ اپنا چولھا جلانے کے لیے جو ایندھن استعمال کرتے ہیں اس پر سے بھی سرکاری ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔ 2005کے مطابق ایک کروڑ اکیس لاکھ کی آبادی ہے اورآبادی میں اضافے کی شرح 1.5% ہے۔ یہاں کی دفتری زبان انگریزی ہے اور تعلیم کا اور خاص طور پر اعلی تعلیم کا ذریعہ بھی انگریزی زبان ہی ہے۔ ایک بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مقامی کالوں اور باہر سے آئے ہوئے گوروں کی نسل کو رنگین نسل کے نام سے زمباوے میں یاد کیاجاتاہے۔

        زمباوے میں افریقہ کا سب سے گوڑھا ریلوے کا نظام موجود ہے، یہ ملک اپنے پڑوسی ملکوں سے بھی ریلوے لائین سے جڑا ہوا ہے اور ملک بھر میں ریلوے لائین اور سڑکوں کاجال تقریباَ اکٹھے ہی چلتے ہیں۔ یہاں کی ہوائی سروس پہلے ائر زمباوے کے نام سے تھی لیکن ا ب اس کا نام ”ائرروہدیشیا“رکھ دیا گیاہے۔ ملک میں ایک ہی بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے جو دارالحکومت”ہرارے“ میں قائم ہے اور اسکا رن وے دنیا کے سول ہوائی اڈوں میں سب سے بڑا رن وے ہے۔ ملک کے انیس دیگر بڑے شہروں میں بھی حکومت نے ہوائی اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ زمباوے کا آئین دسمبر1979میں لندن میں لکھاگیا اور18اپریل 1980کو آزادی کے بعد یہاں نافذ کر دیا گیا،صدارتی آئین میں جمہور کی حکمرانی کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ آئین کے مطابق پارلیمان کی سو نشستوں میں سے بیس کی تعداد گوروں کے لیے مخصوص ہو گی جس کے لیے گورے ہی ووٹ ڈالیں گے لیکن یہ بیس ارکان پارلیمان میں آئین کی ترمیم کے دوران اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ بعد کی ترامیم میں وہاں کی پارلیمان نے اراکین کی تعداد میں پچاس کا اضافہ کر دیا جن میں ایک سو بیس منتخب اراکین کے لیے، دس نشستیں علاقائی قبائلی سرداروں کے لیے، آٹھ نشستیں صوبائی گورنروں کے لیے اور بارہ افراد کا تقررصدر کی صوابدید پر چھوڑ دیاگیا۔ ایوان بالا کی 66 نشستیں ہیں اور ان میں سے ایک محدود تعداد صدر کی نامزد کردہ اور کچھ علاقائی قبائلی سرداروں کے لیے مخصوص ہیں۔ آزادی سے قبل وہاں کی مقامی حکومتوں میں گورے ہواکرتے تھے لیکن 1981کے انتخابات کے بعد سے مقامی حکومتوں میں بھی مقامی افراد رئیس البلدیہ بن کر آنے لگے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ وہاں کی اعلی عدالتیں ہیں اور صدر ان عدالتوں کے سربراہوں کاتقرر کرتاہے۔ زمباوے میں تمام افریقی ممالک کے مقابلے میں پرائمری تعلیم کی شرح سب سے زیادہ ہے اور کل آبادی کا 90% تعلیم یافتہ ہے۔ ایڈزکامرض بھی اس ملک میں بہت زیادہ ہے جس کے باعث بعض اوقات ہلاکتیں بھی واقع ہو جاتی ہیں۔

        اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق زمباوے میں 1,2ملین مسلمان آباد ہیں۔ یہاں کی مسلمان آبادی زیادہ تر ہندوستان اور پاکستان سے آئے ہوئے مسلمانوں پر مشتمل ہے اگرچہ یہاں کے مقامی لوگوں میں سے بھی کچھ مسلمان ہیں لیکن بہت کم۔ مسلمانوں کی ایک مختصر تعداد مشرق وسطی اور افریقہ کے دیگر ملکوں میں سے بھی ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئی ہے۔ ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں مسلمانوں کی مساجد موجود ہیں اور دارالحکومت ”ہرارے“میں اٹھارہ مساجد ہیں،”بلواو“ نامی شہر میں آٹھ مساجد ہیں جب کہ بعض دیہاتی علاقوں میں بھی مساجد ہیں،یہ مسلمانوں کی تعداد پر منحصر ہے کہ جہاں مسلمانوں کی ایک معقول تعداد بستی ہے وہاں مسجد بنالی جاتی ہے۔ افریقن مسلم ایجنسی کے نام سے وہاں کے مسلمانوں کی تنظیم ان کے جملہ معاملات کی نگران ہے۔ یہ تنظیم انسانی بنیادوں پر وہاں کے دیہاتوں میں بہت تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے کاموں میں فوقیت فلاحی کام ہیں۔ مسلمانوں کے اخلاص اور صحیح عقیدے کی بدولت کچھ قبائل کے سردار مذہب عیسائیت سے اسلام کی طرف پلٹ آئے ہیں اور ظاہر ہے ان قبائل کے لوگوں میں بھی اسلام تیزی سے سرایت کر رہاہے۔ ”مالوائی“پڑوسی ملک سے بھی اسلام کے بہت مبلغین یہاں آتے رہتے ہیں،ان کی تبلیغ کے بہت اثرات یہاں پائے جاتے ہیں۔ مسلمان اب تک آبادی کا بمشکل ایک فیصد ہی ہیں لیکن ان کی تعداد میں روزبروزتیزی سے اضافہ ہورہا ہے خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں۔ اسی طرح عیسائیوں کے بھی بہت سے مشنری ادارے یہاں پر متحرک ہیں اور دیگر مذہب میں سے ایک قلیل تعداد یہودیوں کی بھی اس ملک میں موجود ہے۔

( بشکریہ یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

Close