آئینۂ عالممعاشرہ اور ثقافت

 زندہ معاشرہ اور مردہ معاشرہ

ندیم عبدالقدیر

 دریاعبورکر کے امریکہ میں غیر قانونی طو رپر  داخل ہونے کی کوشش میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ایک والد اور اس کی 2؍سال کی بچی کی تصویر نے امریکہ اور یوروپ میں لوگوں کو ہِلا دیا ہے۔

 اس تصویر میں والد نے اپنی بیٹی کو ٹی شرٹ کے اندر پیٹھ پر رکھا ہے اور اپنے والد  سے لپٹے ہوئے اسی حالت میںبیٹی اپنے باپ سمیت اپنی آخری منزل پر پہنچ گئی۔ یہ تصویر ایک والد اور بیٹی کے پیار کی ایسی علامت   ہے جسے بیان کرنے کےلئے شاید دنیا کی کسی بھی زبان کی کسی بھی لغت میں کوئی لفظ نہیں ہے۔

امریکہ اورمیکسیکو کے درمیان ’ریو گرینڈ‘ نامی دریا ہے۔ اس کا پاٹ کہیں تنگ اور کہیں اور وسیع ہے۔ بدقسمت والد کئی دنوں سے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا لیکن ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسیوں اور سرحد پر سخت پہرے کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہوپارہا تھا۔ آخر کار اس نے ’ریو گرینڈ‘ دریا کوتیر اکی سے عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بیٹی کو اپنی پیٹھ پر ٹی شرٹ کے اندر کرلیا اور خود اس سفر پر نکل پڑا اس نتیجہ سے لاعلم کہ یہ اس کا آخری سفر ہوگا۔ دریا کی لہریں اور انسانوں کے سرحد کے قوانین کے سامنےوالد کے بازو شل ہوگئے۔دریا کے اس پار ان کی لاشیں پہنچیں۔ ایک صحافی نے   ان کی تصویر کھینچی اور شائع کردی،  اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تصویر دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تصویر بن گئی۔ اس تصویر نے امریکہ میں ارتعاش برپا کردیا۔ ٹرمپ کو ایک بار پھر ہدف ملامت بننا پڑا۔ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکہ نے میکسیکو کیلئے   تارکینِ وطن کے قوانین کافی سخت کردئیےہیں اور غیر قانو نی  تارکین وطن کو امریکہ سے نکال باہر کیا ہے۔ کافی وقت سے یہ معاملہ وہاں گرم موضوع بناہوا ہے۔ ٹرمپ کے اس اقدام کی انسانیت کی بنیاد پرمخالفت ہورہی ہے۔ ایسے میں اس تصویر کے سامنے آنے سے معاملہ اور گرم ہوگیا۔ اس تصویر کا  ۲۰۱۵ء میں ایک تین سال کے ترکی لڑکے کی لاش کی تصویر سے موازنہ کیا جانے لگاہے۔ ترکی کا یہ لڑکا بھی اپنے خاندان کے ساتھ بحری راستے سے یوروپ میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا لیکن ان کی ربر کی کشتی ڈوب گئی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں اس تصویر نے بھی دنیا میں ہنگامہ مچا دیا تھا۔ متوفی لڑکے کے اہل خانہ دراصل کناڈا جانے کے خواہشمند تھے۔ جس وقت یہ تصویر سامنے آئی تھی اُس وقت کناڈا میں الیکشن مہم چل رہی تھی۔ اس تصویر کا اتنا اثر ہوا تھا کہ ترکی کے اس لڑکے کی تصویر کناڈا الیکشن کا موضوع بن گئی تھی۔ امیگریشن کے وزیر نے اس معاملہ کی تفتیش کیلئے اپنی انتخابی مہم کو منسوخ کردیا تھا،  کیونکہ متوفی کے اہل خانہ نے کناڈا میں امیگریشن کی درخواست دے رکھی تھی۔

اب سنئے،  ان دونوں تصاویر میں کل تین لاشیں ہیں۔ مرنے والے نہ ہی امریکی ہیں اور نہ یوروپین،  اس کے باوجود بھی امریکہ اور یوروپ میں ان تصاویر پر ہنگامہ مچ گیا۔ دونوں تصاویر میں متوفین غیر قانونی طورپر سرحد پار کرنے کا جرم کررہے تھے۔ اس کے باوجود کسی نے بھی انہیں مجرم کہنے یا لکھنے کی جسارت نہیں کی۔ سارایوروپ  اور امریکہ ان کی ہمدردی اور حمایت میں کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اپنے ہی ملک کے ایمیگریشن کے قوانین کو ماننے سے انکارکردیا،  صرف انسانیت کی بنیاد پر، اسے کہتے ہیں زندہ معاشرہ۔ ان کے سیاستدانوں کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کہہ سکیں کہ متوفین غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھے، کیونکہ لیڈران بھی جانتےہیں کہ ان کے عوام کےلئے انسانی ہمدردی کا جذبہ زیادہ معنی رکھتا ہے اور وہ ایسی اوٹ پٹانگ دلیلوں پر ان کی دھجیاں بکھیر دیں گے۔

اب اپنے وطن لوٹئے۔ہمارے یہاں معاملہ مکمل طو رپر اس کے برعکس ہے۔ دہشت گردی کے ملزم اراکین پارلیمنٹ بن جاتےہیں، گائے کے لئے انسانی جان کو قتل کردینا جائز سمجھا جاتا ہے،  جئے شری رام کے نعرے لگانا انسانیت کے تمام اصولوں سے اعلیٰ و ارفع مانا جاتا ہے۔ ہمارے لیڈران خود خونریزی کی ترغیب دیتے ہیں اور انسانوں کو قتل کرنے والوں کو اعزاز سے نوازتےہیں۔ وہ اپنے بیانات اور اپنی تقریروں میں انسانوں کو مارنے،  پیٹنے،  قتل کرنے حتی کہ آبروریزی کرنے کی باتیں کہنے سےبھی نہیں ہچکچاتے کیونکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ ان کا سماج ان کا معاشرہ یہی چاہتا ہے۔ یہ کمسن بچیوں کی آبروریزی کرنے والوں کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آتےہیں۔ہمارے سیاستدانوں کے نزدیک انسانی جان سے زیادہ سستی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔  انسانیت کس چڑیا کا نام ہے ؟ یا انسانی ہمدردی کیا شئے ہے۔ اس بات کا ہمارے معاشرے ہمارے سماج کو  پتہ ہی نہیں۔    اسے کہتےہیں مردہ معاشرہ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

Back to top button
Close