آئینۂ عالمخصوصی

سانحہ نیوزی لینڈ: ایک تجزیہ

ڈاکٹر محمد طارق ایوبی

۱۵ مارچ ۲۰۱۹ء بروز جمعہ کو نیوزی لینڈ جیسے مامون و پُر سکون ملک میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو تاریخ انسانی میں اپنی سفاکی، بربریت، اسلام دشمنی اور انسانیت سوزی کے لیے ہمیشہ یاد کیا جائے گا، آسٹریلیا کے ایک سفید فام انتہا پسند، نسل پرست عیسائی دہشت گرد برینٹین ہیریسن ٹرانٹ (پ۱۹۹۱ء)Brenton Harrison Tarrant نے اپنی اسلام دشمنی میں اندھے ہوکر، حیوانیت سے مغلوب ہوکر مشین گن اٹھائی اور کرائسٹ چرچ نامی شہر کی دو مسجدوں کی طرف چل دیا، اس نے ڈرامائی انداز میں بلکہ بچوں کے کمپیوٹر کھیلوں کی طرح گولیاں برسانا شروع کر دیں اور نماز کے لیے مسجد میں موجود تقریباً ۵۰ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، اس پر اسلاموفوبیا Islamophobiaکا ایسا بھوت سوار تھا کہ لاشیں گرتی رہیں اور وہ گولیاں چلاتا رہا، انسان کے درندہ بن جانے کا ثبوت پیش کرتا رہا، پوری دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ اس کاویڈیو فیس بک پر لائیو ہوا، اس حیوانیت و درندگی سے بھر پور واقعہ کے بعد پوری دنیا دہل گئی، لوگوں میں سراسیمگی پھیل گئی، صف ماتم بچھ گئی، اس واقعہ کی جزوی تفصیلات سے قطع نظر اس سے متعلق بعض خاص پہلوہیں جن کا در اصل یہاں تذکرہ کرنا مقصود ہے:

1۔     یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟

اس واقعہ کے پیش آنے کے پیچھے متعدد عوامل و اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن در حقیقت جو سب سے بڑا سبب نظر آتا ہے، وہ مستشرقین کی وہ ہرزہ سرائی، زہر افشانی اور تاریخ کو مسخ کرنے، مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کرنے اسلام کو تشدد و ظلم سے جوڑنے کا سلسلہ ہے، جو انھوں نے صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد شروع کیا تھا، انھوں نے اسلام کی امن پسندی کو مسخ کرکے اس کی ظالمانہ اور مستبدانہ تصویر پیش کی، مسلمان فاتحین Muslim Heroesکو بھیانک و خوفناک قسم کے ظالم وجابر اور وحشی کی حیثیت سے پیش کیا، اسلامی تاریخ کی ایسی وحشیانہ تصویر کھینچی کہ یورپ کی نئی نسل کے قلب و دماغ میں اسلام سے نفرت رچ بس جائے، اور وہ اس کے اوصاف حمیدہ کا مشاہدہ کرنے کے باوجود بھی اس سے متنفر ہوجائے، پروپیگنڈہ اس حد تک کیا گیا کہ ہر عام و خاص اس کی زد میں کسی نہ کسی حد تک آہی گیا اوربڑی حد تک یہ مہم کامیاب ہوگئی، بیسویں صدی کے آخری دہوں میں شعائر اسلامی کی پابندی کو بنیاد پرستی اور دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا، باعمل مسلمان کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھا جانے لگا، دہشت گردی کو جنم دے کر اس کو اسلام سے جوڑ دیا گیا اور مظلوموں کو ہی ہمیشہ دہشت گرد قرار دیا گیا۔

دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ یورپ کے یہود ونصاریٰ کی فطرت میں بنیاد پرستی داخل ہے، عنصریت ان کی فطرت ثانیہ رہی ہے، جو کسی نہ کسی رنگ میں ہمیشہ ہی ان دونوں قوموں میں پائی گئی ہے، چنانچہ پہلے تو یورپ میں مسلمانوں کو سیکورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، ۱۱/۹ کے بعد یہ ذہنیت زیادہ عام ہوئی، اور اس سلسلہ میں بحثیں تیز ہوگئیں، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ۱۱/۹ کا ڈرامہ اسی لیے اسٹیج کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، ان کو جرم کے بغیر مجرم ہونے کے احساس میں اس طرح مبتلا کر دیا جائے کہ وہ اس احساس سے پھر باہر نہ نکل سکیں، لیکن دراصل اس ڈرامہ کے پیچھے جو ذہنیت کار فرما تھی وہ نسل پرستانہ، متعصبانہ اور اسلام دشمنی پر مبنی ذہنیت کار فرما تھی، مغرب کو اصل خطرہ دہشت گردی سے نہیں ہے، بلکہ ان کو حقیقی خطرہ اسلامی تہذیب و ثقافت سے ہے، گزشتہ دو صدیوں کا اگر جائزہ لیا جائے بالخصوص خلافت عثمانیہ کے خاتمہ (۱۹۲۴ء) کے بعد سے اب تک کا جائزہ لیا جائے تو مسلمانوں نے دن بہ دن تنزلی کا سفر طے کیا ہے، مغرب سیاسی، معاشی، فوجی اور علمی اعتبار سے روز بہ روز ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا رہا اور مسلمان روز افزوں تخلف کا شکار ہوتے رہے تا آنکہ پورے عالم اسلام پر مغرب نے سیاسی، فکری، تعلیمی اور معاشی اعتبار سے مکمل تسلط حاصل کر لیا، اسپین میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی تو بڑی تعداد مین مسلمان عیسائی بنا لیے گئے تھے، مغربی ممالک کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو  سہولیتیں فراہم کرکے عیسائی بنا لیا گیا تھا، لیکن ان سب چیزوں کے باوجود مسلمانوں کا بڑا طبقہ اپنی تہذیب و ثقافت کو گلے سے لگائے رہا، گذشتہ منظرنامہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مغربی ممالک میں مسلمانوں کو روز گار کے مواقع فراہم کیے گئے، دن بدن یورپی ممالک میں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی رہی، مسلمانوں کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ جہاں رہتے ہیں، بڑی حد تک اپنے شعار کو سینے سے لگا کر رکھتے ہیں، اسلامی تہذیب و ثقافت کی یہ ایک ایسی نمایاں خصوصیت ہے جس کی مثال مشکل سے ملے گی، علاقائی و نسلی و خاندانی رہن سہن اور لباس و تہذیبی رویّوں میں نمایاں فرق کے باوجود بھی مسلمان جہاں بستے ہیں اپنے بعض شعائر کی وجہ سے وہ پہنچان لیے جاتے ہیں، ایسے مشترک اقدار ہوتے ہیں جو بہر حال ہر جگہ اور ہر ملک کے باشندوں میں پائے جاتے ہیں، تہذیبوں کے ٹکراؤ سے خائف یورپ اور اس ٹکراؤ میں بالآخر امریکی تہذیب کی بالا دستی کا خواب دیکھنے والے انتہا پسند سفید فام نسل پرستوں کے لیے مسلمانوں کا اپنی تہذیب کے ساتھ ان کے ملکوں میں رہنا انھیں کہاں برداشت ہو سکتا ہے، جبکہ وہ خود مسلم ممالک میں رفتہ رفتہ مسلمانوں سے ان کی تہذیب چھین لینے کے لیے کوشاں ہیں، وقتا فوقتا کسی مسلمان پر حملہ، کسی مسجد پر حملہ، کسی پردہ پوش کے حجاب کو نوچنے، کسی عفت ماٰب خاتون کی بے عزتی کرنے، مسلمانوں کو مشکوک نظر سے دیکھنے کے جو اِکّا دُکّا واقعات پیش آتے تھے، وہ در اصل اسی نسل پرستانہ ذہنیت و عصبیت کا نتیجہ ہوتے تھے، جس کا بھیانک ترین نتیجہ اب اس واقعہ کی شکل میں رونما ہوا، اسلاموفوبیا کے پروپیگنڈے سے اگر جنگ نہ کی گئی، مغرب کی عنصری ذہنیت کو اگر بے نقاب نہ کیا گیا تو اب ان واقعات میں مزید اضافہ ہوگا، اتفاق سے جس وقت یہ تحریر لکھی جا رہی ہے عین اسی وقت کیلی فورنیا امریکہ سے ایک مسجد کو آگ کے حوالے کرنے کی خبریں آرہی ہیں، اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ مغرب میں دو غلاپن عام بات ہے، اس کا ہر معیار دوہرا ہے، جو لوگ اس کے خوبصورت کھوکھلے نعروں کے فریب میں مبتلا ہیں ان کو اس واقعہ پر مغربی دنیا کے ردّ عمل سے سبق سیکھ لینا چاہیے اور اب حقیقت سمجھ لینا چاہیے۔

2۔      رد عمل:

اس واقعہ کے متصلا بعد جو رد عمل ہونا چاہیے تھا وہ نہ مسلم ممالک کی طرف سے ہوا اور نہ ہی مغربی ممالک کی طرف سے، مسلم ممالک پیرس حملہ پر تو اظہار تعزیت کر سکتے ہیں، (اور کرنا بھی چاہیے) ماتم کی مجلسیں منعقدکر سکتے ہیں، لیکن مغرب کے یہ غلام نیوزی لینڈ میں پیش آئے اس واقعہ پر کوئی مضبوط متحدہ موقف کیا اختیار کرتے، ان سے تو یہ بھی نہ ہو سکا کہ وہ اس واقعہ کو نسل پرستانہ اور انتہا پسندانہ ذہنیت کی نقاب کشائی کے لیے اور مسلمانوں پر سے تشدد دہشت گردی کا الزام ہٹانے کے لیے ایک مہم بنا دیتے، بلکہ ایسا محسوس ہوا کہ جس طرح مغرب اس واقعہ کو دبا دینا چاہتا تھا اسی طرح مسلم ممالک بھی اس میں برابر کے شریک تھے، برائے نام اظہار تعزیت بہت سے لوگوں نے کیا۔

مغربی ممالک نے اس واقعہ کو اس طرح لیا کہ گویا کوئی اہم حادثہ ہوا ہی نہیں، خدانخواستہ اگر معاملہ برعکس ہوتا تو مغربی میڈیا میں بھونچال آجاتا، پورا مغرب بیک زبان ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ اور ’’مسلم دہشت گرد‘‘ کے نعرے لگاتا اور پوری دنیا کو پھر ظلم سے بھر دیتا، مگر یہاں تو موت کا سا سناٹا تھا، کسی نے بھی اس کو دہشت گردی نہیں کہا اور اگر دہشت گردی کہا تو مذہبی دہشت گردی یا مسیحی دہشت گردی کہنے سے مکمل طور سے گریز کیا، یورپ کیا! بھارت میں بھی ایک ذہنیت یہ نظر آئی جس نے اس بہیمانہ قتل عام پر خوشیاں منائیں، رواداری کی ہر قسم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کو گالیاں دیں، طعنے دیے، ان کی مظلومیت کا مذاق اڑاتے ہوئے یوں کہا کہ بس اتنے ہی مارے گئے، کسی نے بھی اس پر اس طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا کہ جو مغرب میں ایک کتے کے بھی قتل پر کیا جاتا ہے، چہ جائیکہ اس کو واضح لفظوں میں بنیاد پرستی، نسل پرستی، مذہبی و مسیحی دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا، جبکہ وحشی مجرم نے ذرہ برابر بھی اظہار افسوس و ندامت نہ کیا، بلکہ اس نے اپنی گن (Gun) پر جو جملے لکھ رکھے تھے وہ اس کی خطرناک اور مجرمانہ ذہنیت کو سمجھنے کے لئے کافی تھے، تاریخ کی غلط بیانیوں نے اسے کس قدر انسانیت دشمن بنا دیا تھا، یہ اس کے وہ جملے بیان کرتے ہیں جو اس نے بندوق پر لکھ رکھا تھا، اس نے اپنے اس جملہ کو ویانا (Vienna)کی جنگ کا انتقام قرار دیا، اس نے سیاحوں اور مہاجروں کو مخاطب کرکے کہا کہ تمہیں جہنم میں آنا مبارک، اس نے موجودہ استنبول کو قسطنطنیہ میں تبدیل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا، مغرب کی دوہری پالیسی کے باوجود انصاف کی مثالیں بھی سامنے آئیں، انتہا پسندی اور نسل پرستی کے خلاف پُر امن مظاہرے بھی ہوئے، اور یہ بات واضح ہوگئی کہ منصفانہ اقدار ابھی بھی دنیا سے یکسر ختم نہیں ہوئی ہیں، خود وحشی آسٹریلیائی مجرم کی ماں کا ویڈیو بہت وائرل ہوا، جس سے سوال کیا گیا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں، اس سے پوچھا گیا کہ اس کے بیٹے کو کیا سزا ملنی چاہیے، تو اس نے صاف کہا کہ وہ اپنے جرم کے بدلہ سزائے موت کا مستحق ہے، مغرب عام طور پر اس طرح کے حملہ آوروں کو ذہنی مریض قرار دے کر دامن جھاڑ لیا کرتا ہے، مگر اس بار وہ حملہ آور کی منظم اور وحشیانہ کارروائی کو اس طرح کا نام تو نہ دے سکا البتہ صراحت کے ساتھ اس نے مسیحی دہشت گردی بلکہ دہشت گردی کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی گریز کیا۔

3۔      حکومت نیوزی لینڈ کا خیر خواہانہ موقف:

اس کربناک واقعہ کے بعد حکومت نیوزی لینڈ بالخصوص وہاں کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن Jacinda Ardernنے جو موقف اختیار کیا اور جو اقدامات کیے وہ قابل تعریف اور لائق ستائش ہیں، جسینڈا آرڈرن نے مسیحی مظالم کی تاریخ کو اپنے خیر خواہانہ موقف اور جذبۂ رواداری کے ذریعہ جھٹلا دیا، مسیحی دنیا کی بے رحم نسل پرستانہ تاریخ اور مغرب کے ظالمانہ رویّوں سے ہٹ کر ایسا موقف اختیار کیا جس سے ہر طرف ان کی تعریف کی گئی، یہ الگ بات ہے کہ ایسا موقف اختیار کرنے کے بعد سے وہ مسلسل انتہا پسند گوروں اور نسل پرستوں (Racist) کے نشانے پر ہیں، مسلسل ان پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں، انھیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں، مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن وہ قابل تعریف ہیں کہ پوری جرأت سے اس صورت حال کا مقابلہ کر رہی ہیں، انھوں نے جس طرح مسلمانوں کے دکھ درد کو بانٹا، ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اور رواداری کا جو مظاہرہ کیا اس کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بقول ترک صدر رجب طیب اردوغان مغرب کو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے سبق حاصل کرنا چاہیے، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے واقعی عوام اور مسلمانوں کے دکھ درد میں شریک ہوکر انسانیت اور انسانی اقدار سے بے بہرہ یورپ کو انسانیت کا درس دیا ہے، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے حملہ کے فوراً بعد پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مغربی رُت کے برخلاف اس واقعہ کو ’’دہشت گردی‘‘ سے تعبیر کیا، ان کی اس جرأت کو جس قدر سراہا جائے کم ہے، انھوں نے متاثر خاندانوں سے ملاقاتیں کیں، عورتوں اور بچوں کو گلے لگایا، انھوں نے رواداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اور یکجہتی کے لیے مسلمانوں سے ملاقات کے وقت مشرقی مسلم خواتین کی طرح شلوار قمیص اور دوپٹہ کو زیب تن کیا، پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا، نہ صرف مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا بلکہ اس حملہ کے پس پردہ کرداروں کو منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا، انھوں نے اس کی تحقیقات کے لیے شاہی کمیشن بھی تشکیل دیا، انھوں نے دوسرے جمعہ کو سرکاری سطح پر سوگ منانے کا اعلان کیا، پورے ملک میں ۲ منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی، جمعہ کے روز سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویزن سے اذان نشر کرنے اور خواتین کو ڈوپٹہ سر پر رکھنے کا حکم دیا، عوام نے بھی بڑے پیمانے پر اپنی لیڈر کی تقلید کی، دل کھول کر مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوئے، نیوزی لینڈ کے اس موقف سے دنیا بھر کے درندوں کو بہت مثبت اور واضح پیغام دیا گیا، وزیر اعظم کی خیر خواہی اور رواداری نے ایک مسلم نوجوان کو اس حد تک موقع فراہم کیا کہ اس نے انھیں قبول اسلام کی دعوت پیش کردی، محترمہ جسینڈا نے بغور اس کی گفتگو سنی اور جواب میں عرض کیا کہ ’’میرا خیال ہے کہ میں نے وہی کیا جس کا حکم حضرت محمدؐ نے دیا ہے اور جس کا سبق اسلام سکھاتا ہے‘‘، انھوں نے اپنی ایک تقریر کا آغاز بھی حضورؐ کی ایک مشہور حدیث سے کیا جو بہرحال تعصب و نفرت انگیزی کی دنیا میں ایک مثبت پیغام ہے، ہم تو بس یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ہدایت دے اور ان کے سینہ کو اسلام کے لیے کھول دے اللھم اھدھا إلی صراطک المستقیم واشرح صدرھا للاسلام۔

4۔      ترکی کا مضبوط مثالی اور اقدامی موقف:

ترک حکومت اور اس کے سربراہ رجب طیب اردوغان نے اس موقع پر جو موقف اختیار کیا، وہ اسلامی غیرت، ملی شعور اور قائدانہ کردار کا عکاس ہے، اردوغان نے ایک عرصہ سے ’’دفاع‘‘ کو عنوان بناکر اقدامی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، سانحۂ نیوزی لینڈ کے بعد انھوں نے پورے طور سے اقدامی موقف کا اظہار کیا، مغرب نے عرصہ سے جو نظریاتی جنگ (Ideological war) چھیڑ رکھی تھی، اس سانحہ کے بعد اردوغان نے کمالِ حکمت سے وہی جنگ مغرب پر مسلط کردی، اسی کے لیے انھوں نے اس دہشت گردانہ کاروائی کے ویڈیو کو محفوظ کیا، اسے عوامی انتخابی ریلی میں دکھایا اور تابڑ توڑ اقدامی بیانات جاری کیے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نظریاتی جنگ میں مغرب اپنی شکست کو کسی حال میں قبول نہ کر سکے گا، بلکہ اسے تو بیک فٹ پر رہنا بھی گوارہ نہ ہوگا، کیوں کہ وہ ساری تگ و دو ہی نظریاتی بالا دستی کے لیے کرتا آیا ہے، اس لیے یہ بھی خدشہ ہے کہ جلد ہی مغرب ہتھے سے اکھڑ جائے گا، جس کی کوشش وہ مختلف سطح پر متعدد بار کر چکا ہے۔

 دنیا کے تمام مسلم ممالک کے برخلاف ترکی نے اس واقعہ پر اقدامی رخ اختیار کیا، اس واقعہ کو عالمی سطح پر اٹھایا، صہیونیت و صلیبیت پر اس واقعہ کی ذمہ داری ببانگ دہل عائد کی، دنیا کے معتبر ترین صحافیوں اور بڑے بڑے مفکرین نے ترکی کے موقف کی ستائش کی، اور اس کو مضبوط ترین موقف قرار دیا، واقعہ کے معاً بعد اردوغان نے یہ بیان دیا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلی ہوئی دشمنی کی مثال ہے، انھوں نے اس حملہ کو انفرادی کارروائی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم سازش اور منظم حملہ قرار دیا، انھوں نے کہا کیا یورپ میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ اس کو ’’مسیحی دہشت گردی‘‘ قرار دے، انھوں نے صاف طور پر کہا کہ یا تو مغرب دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے سے باز آئے یا پھر اس کے لیے تیار ہو کہ اس واقعہ کو مسیحی دہشت گردی سے تعبیر کرے، انھوں نے اس موقع پر پوری جرأت کے ساتھ اسلاموفوبیا  Islamophobia کے پروپیگنڈے کے خلاف جنگ چھیڑنے کا اعلان کیا، اور واضح الفاظ میں یہ پیغام دیا کہ اسلام کے ساتھ دہشت گردی کو جوڑنے کی مہم کے خلاف ہم اعلان جنگ کرتے ہیں، انھوں نے مغرب کو جسینڈا آرڈرن سے عبرت حاصل کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی دعوت دی کہ وہ نسل پرستی کے عنصر کا خاتمہ کرے ورنہ اس طرح کے حملوں پر قابو نہ پا سکے گا۔

اردوغان نے قائد ملت کی حیثیت سے فوری طور پر نائب صدر اور وزیر خارجہ پر مشتمل وفد کو نیوزی لینڈ بھیجا، اس وفد نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے موقف کی تائید و ستائش کی، جائے واردات کا معائنہ کیا، متاثر خاندانوں سے ملاقاتیں کیں، شہداء کے جنازوں میں شرکت کی، اردوغان نے تقریباً اپنے ہر بیان میں جسینڈا آرڈرن کے موقف کی صراحت کے ساتھ تعریف کی، اور مغرب کو ان سے انسانیت کا سبق دیکھنے کی تلقین کی، انھوں نے بار بار اور ہر موقع پر جسینڈا آرڈن کے ہر بیان اور ہر اقدام کی بھر پور تعریف کی اور لائق ستائش قرار دیا، انھوں نے اس حادثہ کے بعد ایک دور اندیش سیاست داں کی طرح اس کو مغرب کے پروپیگنڈوں کے خلاف استعمال کیا اور اس واقعہ کو لے کر کامیاب سفارتی و سیاسی حکمت عملی کا ثبوت دیا، خود بیانات جاری کیے، پارلیمانی بیان آیا، مذہبی امور کے چیئرمین، وزیر خارجہ، صدارتی ترجمان، پارٹی ترجمان سمیت مختلف سطح پر بیانات جاری کیے گئے، پورے ملک میں اس کے خلاف مظاہرے ہوئے، جب مغرب ہر جگہ سے اس ویڈیو کو ہٹا رہا تھا تو ترکی نے کمالِ مہارت سے ایک سافٹ ویئر ڈیول اپ کرکے اس پر اپ لوڈ کیا، پھر ایک عوامی انتخابی ریلی میں جب اردوغان نے اس ویڈیو کو دکھایا تو مغرب کے ہوش اڑ گئے، مغرب نے اس پر احتجاج کیا، اسی طرح اردوغان کے اس بیان پر اعتراض کیا کہ ’’اگر تم استنبول پر حملہ کے لیے آئے تو ہم تم کو ویسے ہی تابوت میں واپس کریں گے یا یہیں دفن کر دیں گے، جیسے تمہارے آباء و اجداد کے ساتھ کیا تھا‘‘، اردوغان کے اس بیان کا پسِ منظر معلوم نہ ہو تو مغرب کے ماتم اور پروپیگنڈہ سے متاثر ہونا بہت آسان تھا، مگر اردوغان نے پوری دلیری سے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور بار بار دوہرایا کہ ’’استنبول اب تا قیامت اسلامی شہر رہے گا، یہ ہماری گردنوں میں ابو ایوب انصاریؓ اور عثمانیوں کی امانت ہے، یہ اب کبھی قسطنطنیہ نہیں ہو سکتا، یہ سب رد عمل تھا اس وحشی مجرم کے اس عزم کا جس کا اس نے اپنی تحریر میں اظہار کیا تھا کہ ہم عنقریب استنبول پر حملہ کرکے اس کو اس کی قدیم حیثیت پر واپس لائیں گے اور اسے قسطنطنیہ بنائیں گے، اس نے اپنے ۷۴ صفحاتی نوٹ میں اردوغان کے قتل کی بھی اپیل کی تھی، واضح رہے کہ استنبول بازنطینی سلطنت کا پایہ تخت تھا، وہاں موجود مسجد آیا صوفیا (موجودہ میوزیم) اشبیلیہ کا چرچ بننے سے پہلے ایک ہزار سال تک مسیحی دنیا کا سب سے بڑا چرچ تھا، عثمانیوں نے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا، اتاترک نے اپنے استبدادی تسلط کے بعد اسے میوزم میں تبدیل کر دیا، عثمان پاشا کے بنائے ہوئے اس کے منارے ہمیشہ ہی مسیحی دنیا کے دلوں میں چبھتے رہے ہیں، اردوغان نے اپنے حالیہ بیان میں اسے مسجد کی حالت میں دوبارہ تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، اردوغان کی مضبوط و طاقت ور حکمت عملی اور کامیاب میڈیائی و سفارتی مہم کا ایک نمونہ یہ بھی ہے کہ نظریاتی اور سیاسی مد مقابل نے بھی دو روز بعد بیان جاری کیا اور مسلمانوں کے اس قتل عام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیوزی لینڈ میں جو گولیاں برسائی گئی ہیں، وہ ہمارے جسموں میں پیوست ہوئی ہیں ‘‘، یہ اسی کمالسٹ پارٹی کے نمائندہ کا بیان ہے جس کی پارٹی کی بنیاد میں مسلم دشمنی اور اسلام کی مخالفت شامل ہے، مگر تبدیلی جب آتی ہے تو وہ سب کچھ تبدیل کر دیتی ہے، جس ترکی میں کمالسٹ حجاب کی حمایت کے سبب حکومت کا تختہ تک الٹ دیا کرتے تھے، اسی ترکی میں گزشتہ صدارتی انتخابات میں یہ منظر بھی دیکھا گیا تھا کہ کمالی نمائندہ اپنی بیوی کو اسکارف پہناکر عوامی ریلی کے دوران اسٹیج پر لایا تھا، یہ تھی ترک قیادت کے ذریعہ مضبوط تبدیلی کی دلیل، اردوغان نے اس موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کا ایمرجنسی اجلاس بھی طلب کیا اور اس میں نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ کو بھی مدعو کیا، اس سانحہ کے متعلق وہاں بحث کی گئی اور مضبوط و متحدہ موقف اختیار کرنے کی دعوت دی گئی، اس پورے منظرنامہ میں ترکی کا کردار انتہائی مثبت اور موقف بہت مضبوط رہا ہے، اس نے پورے طور پر بیدار مغزی، ملی اور سیاسی شعور کا ثبوت دیا ہے۔

5۔      ایک رویہ یہ بھی:

باوجود اس کے کہ وحشی مجرم نے مسجد میں داخل ہونے کے بعد کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ اس کا مسلک کیا ہے یا کون کس مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے، اس نے تو صرف سب کو مسلمان سمجھ کر ان کے سینوں میں اندھا دھند گولیاں پیوست کر دیں، بقول حفیظ میرٹھی مرحوم   ؎

ننگِ اسلام تھا لیکن یہ مری خوش بختی

مجھ کو مارا ہے مسلمان سمجھ کر آقا

مسلمانوں کے وجود کو گولیوں کی باڑ پر رکھ دیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ مسلکی عصبیت اور فکری کشمکش سے دامن چھڑانے کو تیار نہیں، جس وقت سوشل میڈیا پر بعض ناعاقبت اندیش بد بختوں کی اس طرح کی پوسٹ نظر سے گذری کہ ’’حملہ آور ترکی سے ٹریننگ لے کر آیا تھا، حملہ آور اخوانیوں کی فکر کے رد عمل میں یہ سب کر گیا‘‘ تو بخدا آنکھیں پتھرا گئیں، یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ کوئی مذہبی شخص تعصب میں اس قدر اندھا کیسے ہو سکتا ہے، وہ مسلمانوں کے موقف کو کمزور کرنے پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے، وہ ملت کے مقدمہ کو کمزور کرنے پر کیسے راضی ہو سکتا ہے، وہ محض فکری اختلاف کے سبب کسی کلمہ گو پر الزام تراشی کیسے کر سکتا ہے؟، مگر ہائے افسوس آج خلیج کی محبت اور ترک دشمنی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، حقائق کو پسِ پردہ رکھ کر خبروں کو توڑنے اور پروپیگنڈے کرنے کا منافقانہ کردار پیش کیا جا رہا ہے، جس پر قرآن مجید نے مختلف انداز سے منافقین کی سر زنش کی ہے، کچھ بھولے بھالے ایسے بھی نظر آئے جو پارلیمنٹ میں جن قاری صاحب کو تلاوت کا موقع ملا ان کے دیوبندی ہونے پر مست و مگن تھے اور اسی کو نِرا اعزاز سمجھ کر خوشیاں منا رہے تھے، یہ سب زوال پذیر قوم کے ذہنی و فکری دیوالیہ پن کی دلیلیں ہیں، ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے افراد کے پاس نہ کوئی مشن بچا ہے اور نہ وزن، نہ اس کے پاس منصوبے ہیں اور نہ تربیت یافتہ افراد، بس یہی چند کھوکھلے نعرے اور منافقانہ کردار ہیں جن کے سہارے یہ سب باہم دست و گریباں رہتے ہیں، اور اسی دھماچوکڑی کو اپنے لیے معراج کمال سمجھتے ہیں۔

6۔      ایک نظر اس پر بھی:

یقینا نیوزی لینڈ کا سانحہ کسی خوفناک خواب سے کم نہ تھا جس کا حقیقت میں مشاہدہ کیا گیا، اس پر حکومت نیوزی لینڈ کی رواداری کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے، لیکن اس موقع پر اس کو مسلمانوں کے لیے سبق آموز قرار دینا راقم کی نظر میں درست رویہ نہیں، اس لیے کہ مسلمانوں کی تاریخ جنگی اخلاقیات کو برتنے اور مذہبی رواداری کی بہترین مثالیں پیش کرنے سے بھری پڑی ہے، بلکہ اب تو وہ رواداری سے آگے بڑھ کر فکری غلامی کے مرحلہ میں داخل ہوچکے ہیں، اب ان کی حالت یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ حادثہ ہو تو اظہار غم کے لیے وہ ہر طریقہ اپناتے ہیں، اور مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجاتے ہیں، مگر نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو کتنے مسلمانوں نے مظاہرہ کیا، کتنے لوگ اظہار یکجہتی کے لیے وہاں پہنچے، ظاہر ہے کہ جو بے چارے مصر و شام کے قتل عام پر خاموش رہے، جن کے دلوں میں روہنگیا اور اویغور کی نسل کشی سے اضطراب نہ ہوا، ان پر ان پچاس مسلمانوں کی شہادت کا کیا اثر ہوگا، جو مسجد اقصی کے ارد گرد روز ہونے والی شہادتوں کو نظر انداز کرتے ہیں ان کے دل میں اس واقعہ سے کیوں ہُوک اٹھے گی، پیرس حملہ میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ پر واوویلا مچانے والوں کو چاہیے تھا کہ سانحہ نیوزی لینڈ پر آسمان سر پر اٹھا لیتے اور پوری قوت سے یہ باور کراتے کہ دہشت گردی تو دہشت گردی ہے، اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر افسوس ذہنی غلامی اور مصلحت پسندی نے اس کی اجازت ہی نہ دی، البتہ نیوزی لینڈ کی سربراہِ حکومت سے مسلم حکمرانوں کو یہ سیکھنا چاہیے کہ اپنے عوام کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا چاہیے، ان کے جذبات کا کیسے خیال رکھنا چاہیے اور کس طرح ان کے دل جیتنا چاہیے، اسی طرح حکومت نیوزی لینڈ کے موقف کو ان لوگوں کے لیے نمونہ قرار دینا چاہیے، جن کی تاریخ بہیمانہ وارداتوں، مذہبی منافرت، عدم برداشت انتہا پسندی اور نسل پرستی کے سبب بے رحمی اور وحشیانہ کارروائیوں سے بھری پڑی ہے۔

اس موقع پر مذہبی طبقہ اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے کھل کر رد عمل کا اظہار کیا، اور اس حملہ پر اپنی بے چینی، کرب و ورد کو ظاہر کرنے والے بیانات دیے، مگر افسوس کہ یہی لوگ اس سے زیادہ بھیانک دہشت گردانہ کارروائیوں پر خاموش تماشائی بنے رہے جو کارروائیاں ایک عرصہ سے مسلم ممالک میں مسلم حکمراں کر رہے ہیں، مصر و سعودیہ اس سلسلہ میں سر فہرست ہے۔

کاش مسلمانوں نے عالمی پیمانے پر اس طرح کے کرب کا اظہار اس وقت کیا ہوتا جب مصر میں نہتے نمازیوں اور روزہ داروں پر دن دہاڑے گولیوں کی بوچھار کی گئی تھی، میدان رابعہ کو قبرستان میں تبدیل کر دیا گیا تھا، مسجد رابعہ کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا، بے گناہوں کے بے دریغ قتل کے بعد اب تک جیل میں بند لوگوں کی مظلومانہ پھانسی کا سلسلہ جاری ہے، خود سعودیہ میں ہزاروں علماء کو پسِ دیوار زنداں ڈال دیا گیا ہے، کتنوں کو غائب کر دیا گیا ہے، کتنوں کو ٹارچر کیاجا رہا ہے، طاغوت وقت کی شیطنت کی تائید فرض قرار دی گئی ہے، اس کی مخالفت میں کسی بھی طرح کے جبر و تشدد کو روا رکھا گیا ہے، جس کا انکشاف خود امریکہ کے خفیہ اداروں نے کیا ہے، کیا لوگوں کو یہ واقعات ہلکے پھُلکے لگتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ ان وحشیانہ مظالم پر رگِ غیرت نہیں پھڑکتی، کلیجہ منہ کو نہیں آتا؟ علَم احتجاج بلند نہیں کیا جاتا؟ کہاں کھوجاتا ہے ملی شعور؟ کہاں گم ہوجاتے ہیں دینی غیرت کے حوالے اور احقاق حق کے دعوے؟ اپنوں کے مظالم سے ہی دوسرے شہہ پاتے ہیں اور ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں تو ان سے پھر شکوہ کیسا؟ پہلے اپنوں کا گریبان پکڑیے، ان کے رخ سے نقاب الٹیے اور پھر دوسروں پر توجہ کیجئے!!

7۔      نتیجہ اور لائحہ عمل:

سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد ایک بار پھر مطالعہ اسلام کا شوق بڑھنے کی خبریں آرہی ہیں، بلکہ بعض ذرائع کے مطابق اس واقعہ کے بعد تقریباً چار سو افراد اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ مسلمانوں نے جب نماز ادا کی تو نیوزی لینڈ کے عوام نے علامتی طور پر ان کی حفاظت کے عزم کا اظہار کیا، یہ بھی بڑا خوش آئند منظر تھا کہ دوسرے جمعہ کو جب اذان کی آواز فضا میں گونجی تو نہ صرف عوام بلکہ بہت سے سرکاری اور تعلیمی اداروں کے لوگ اذان کے احترام میں باہر نکل کر کھڑے ہو گئے اور انھوں نے اظہار یکجہتی کے لیے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی، ظاہر ہے کہ یہ وہی اذان کی آواز تھی جس کو دبانے کے لیے عہد نبوی میں مدینہ کا محاصرہ کیا گیا تھا، کفار عرب نے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک بڑے الائنس کے ساتھ مدینہ کی سر زمین میں اسلام کی آواز کو دفن کرنے کے لیے پوری طاقت جھونک دی تھی، اسی آواز کو دبانے کے لیے صلیبی جنگیں برپا کی گئیں، اسی آواز کو دبانے کے لئے روس و فرانس وبرطانیہ نے مل کر خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے کر دیے، اسی آواز کو ختم کرنے کے لئے روس نے مظالم کے پہاڑ توڑے، امریکہ نے علی الاعلان اس اذان والے مذہبِ اسلام کو اپنا دشمن اور اپنے لیے خطرہ قرار دیا، مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ مذہب آیا ہی ہے پھلنے پھولنے اور پھیلنے کے لیے، اس مذہب کی تاریخ یہ رہی ہے کہ اس پر ہر حملہ اس کی اشاعت میں معاون بن جاتا ہے، دشمن کی ہرچال اس کے گلے کا پھندا بن جاتی ہے، یہ وہ اذان ہے جس کی آواز نہ کبھی روکی جا سکی ہے، اور نہ کبھی دبائی جا سکے گی، جسے یقین نہ ہو وہ اسپین، روس اور ترکی کی معاصر تاریخ کا بغور مطالعہ کرلے۔

ضرورت اس بات کی ہے اس اعتماد و یقین کے ساتھ کہ یہ دین اللہ نے پوری انسانیت کے لیے رحمت اور بقا کی ضمانت کے طور پر اتارا ہے، اس دین کو غلبہ کی بشارت دی گئی ہے، اس دین متین کے ماننے والوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر وہ شرک سے گریز کریں گے، وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں گے تو ان کو اس زمین میں استحکام عطا کیا جائے گا، غلبہ و قوت و شوکت ان کا مقدر بنے گی، ضرورت ہے کہ ان بشارتوں پر یقین کرتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ اسلام کی دعوت کو نہ صرف قول سے پیش کیا جائے، بلکہ کردار و عمل کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کی مؤثر ترجمانی کی جائے۔

اسی کے ساتھ ساتھ مغربی پروپیگنڈوں کا پول کھولنے کی مہم چھیڑی جائے، مسخ شدہ تاریخی حقائق کو چھوٹے چھوٹے رسائل کے ذریعہ مثبت اور دعوتی اسلوب میں پیش کیا جائے، اس مہم میں علمی معیار سے بالکل بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے، تاریخ کے حوالے سے عام کی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ از حد ضروری ہے، اسلامی تاریخ میں موجود مذہبی رواداری اور جنگی اخلاقیات کی عدیم المثل نظیروں کو دنیا کی ہر زبان اور ہر قوم کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے، اس کام کی جتنی ضرورت عالمی پیمانے پر ہے، اتنی ہی ضرورت خود ہمارے وطن عزیز میں بھی ہے، نفرت کی پوری عمارت ان ہی تاریخی غلط فہمیوں، مسخ شدہ حقائق اور پروپیگنڈوں پر کھڑی کی گئی ہے، ضرورت ہے کہ کوئی ادارہ اس کی ذمہ داری لے اور اس طرح کے رسائل بڑی تعداد میں متعدد زبانوں میں عام کرے، ان رسائل کا جحم بہت کم، علمی معیار بہت بلند اور اسلوب عام فہم ہونا ضروری ہے، اس قومی و ملی فریضہ میں اداروں اور تنظیموں، اہل قلم اور سرمایہ داروں کو اپنے اپنے حصے کی خدمات پیش کرنے کے لئے آگے آنا چاہیے، ہمارے ذمہ کوشش و عمل ہے، دلوں کی تبدیلی رپ اللہ کو قدرت ہے، ہم اپنی خدمات یش کریں، دعوتی مہم چھیڑیں اور غلط فہمیوں کا ازالے کا سامان فراہم کریں، امید قوی ہے کہ اللہ کی طرف سے ہماری کوششوں سے زیادہ تبدیلی کے فیصلے ہوں گے، وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close