آئینۂ عالم

سر زمین شام: احادیث کی روشنی میں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

ملک شام انبیاء کرام علیہم السلام کی سرزمین ہے اور ایک قدیم اسلامی ملک ہے، اسلام کے ابتدائی عہد میں یہ سلطنت روما کا مرکز تھا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی جانب سب سے پہلا مسلمانوں کا قافلہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ کیا تھا، یہ وہی لشکر تھا جس کو خود رسول اللہ ﷺ نے رومیوں کے حملوں کے سد باب کی خاطر روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا، لیکن آپ کی وفات کی وجہ سے اس کی روانگی آپ کی حیات طیبہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے اپنےمشن میں کامیابی کے بعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کومختلف اصحاب نبی کی قیادت میں چار ہزار پر مشتمل فوج کے ساتھ شام کا رخ کرنے کے لئے کہا، چناں چہ یہ لشکر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں روانہ ہوا، اس لشکر نے سب سے پہلے شمالی اور مشرقی فلسطین کو فتح کیا، اور پھر حضرت عمر کا دور شروع ہوا تو اس دورمیں مسلمانوں کے اس لشکر نے طویل جنگ کے بعد شام کو فتح کیا، تاریخی اعتبار سے شام پندرہ ہجری میں ہونے والے جنگ یرموک سے پہلےہی اسلامی سلطنت میں داخل ہوچکا تھا۔ اس اعتبار سے شام ایک قدیم ترین اسلامی سرزمین ہے۔

گرچہ شام رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اسلامی سلطنت میں شامل نہ تھا، لیکن بذریعہ وحی آپ ﷺکو اس کا علم ہوچکا تھا کہ وہ جلد ہی اسلامی سلطنت میں داخل ہونے والا ہے اور اللہ نے اس سرزمین کو خصوصی برکتوں سے نوازا ہے، اس لئے آپ ﷺنے اس سرزمین کی فضیلت کوبیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو مسکن بنانے کی بھی ترغیب دی۔ ایک روایت میں آپ ﷺکا ارشاد ہے:

سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الشَّامُ، فَإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِيهَا، فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ، فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ، وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۷۰، حدیث صحیح)

’’عنقریب تمہارے ہاتھوں شام فتح ہوجائے گا، جب تمہیں وہاں کسی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار دیا جائے تو دمشق نامی شہر کا انتخاب کرنا، کیونکہ وہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا اور اس کا خیمہ (مرکز) غوطہ نامی علاقے میں ہوگا‘‘

حضرت ابو الدرداءرضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ، إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ، مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ(ابوداؤد: ۴۲۹۸، صحیح)

’’مسلمانوں کا خیمہ جنگ کے روز غوطہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں ہوگا مدینہ کی طرف جسے دمشق کہا جاتا ہوگا جو مدائن شام کے بہتر علاقوں میں سے ایک ہے‘‘

یہ روایت مستدرک حاکم میں بھی ہے جس کے الفاظ میں یہ صراحت ہے کہ ان دنوں سرزمین دمشق مسلمانوں کے منازل میں سے سب سے بہتریں منزل ہوگی(مستدرک حاکم:۴؍۵۳۴) اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عقر دار المؤمنین بالشام (نسائی :۳۵۶۱)

’’(فتنوں کے دور میں ) مومنوں کا ٹھکانا شام ہوگا‘‘

علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ اس فرمان نبوی کا اشارہ ہے کہ دور فتن میں شام ایمان والوں کا پرامن ٹھکانا ہوگا جہاں وہ اپنے دین وایمان کی حفاظت کرسکیں گے(النہایہ:۳؍۷۱)

مشہور صحابی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ شام کو اہل حق کا مرکز بتاتے ہوئے فرماتے ہیں:

لاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلاَ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ» قَالَ عُمَيْرٌ: فَقَالَ مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ: قَالَ مُعَاذٌ: وَهُمْ بِالشَّأْمِ ( بخاری:۳۶۴۱)

’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، ان کو رسوا کرنے والوں اور ان کی مخالفت کرنے والوں سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہونچے گا اور قیامت تک وہ اسی حالت پر ثابت قدم رہیں گے، (روایت کے راوی حضرت)عمر بن ہانی مالک بن یخامر کی وساطت سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذؓ نے فرمایا یہ لوگ ملک شام میں ہوں گے ‘‘

حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

 سَيَصِيرُ الْأَمْرُ أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيَرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيَرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدَرِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ – عَزَّ وَجَلَّ – تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِه (مسند احمد: ۱۷۰۰۵)

’’ عنقریب معاملہ اتنا بڑھ جائے گا کہ بے شمار لشکر تیار ہو جائیں گے چنانچہ ایک لشکر شام میں ہوگا، ایک یمن میں اور ایک عراق میں، ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عر ض کی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو مجھے کوئی منتخب راستہ بتا دیجئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا، کیونکہ وہ اللہ کی بہترین زمین ہے، جس کے لئے وہ اپنے منتخب بندوں کو چنتا ہے، اگر یہ نہ کر سکو تو پھر یمن کو اپنے اوپر لازم کر لینا، اور لوگوں کو اپنے حوضوں سے پانی پلاتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اہل شام اور ملک شام کی کفالت اپنے ذمے لے رکھی ہے‘‘

کفالت اپنے ذمہ لینے کا مطلب محدثین نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی اس ملک کی اور اس کے باشندگان کی ہلاکت اور دشمنوں کے تسلط سے خصوصی حفاظت فرمائیں گے، اس لئے کہ اس سرزمین کو اللہ نے اپنے منتخب بندوں کے لئے متعین کیا ہے، اور اللہ کے منتخب بندےیہاں رہتے ہیں، چناں چہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ وَسَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ  (مشکوۃ:۶۲۷۷)

’’ ابدال شام میں ہوتے ہیں، یہ کل چالیس آدمی ہوتے ہیں، جب بھی ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ بدل کر کسی دوسرے کو مقرر فرما دیتے ہیں، ان کی دعاء کی برکت سے بارش برستی ہے، ان ہی کی برکت سے دشمنوں پر فتح نصیب ہوتی ہے اور اہل شام سے ان ہی کی برکت سے عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے‘‘

شام کی فضیلت کے سلسلہ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

رَأَيْتُ عَمُودًا مِنْ نُورٍ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي سَاطِعًا حَتَّى اسْتَقَرَّ بِالشَّامِ (دلائل النبوۃ  بیہقی: ۶۔۴۴۹)

’’میں نے (خواب میں ) دیکھا کہ نور کا ایک ستون میرے سر کے نیچے سے برآمد ہوا، اوپر کو بلند ہوا اور پھر ملک شام میں جا کر نصب ہوگیا ‘‘

اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے:

 بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي، فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ (مسند احمد: ۲۱۷۳۳)

’’ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے کتاب کے ستونوں کو دیکھا کہ انہیں میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا، میں سمجھ گیا کہ اسے لیجایا جارہا ہے چنانچہ میری نگاہیں اس کا پیچھا کرتی رہیں پھر اسے شام پہنچا دیا گیا یاد رکھو! جس زمانے میں فتنے رونما ہوں گے اس وقت ایمان شام میں ہوگا۔‘‘(یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس خواب کی تعبیر یہ بیان کی کہ فتنہ کے ظہور کےوقت میں ایمان شام میں ہوگا)

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَحَوَّلَ خِيَارُ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى الشَّامِ، وَيَتَحَوَّلَ شِرَارَ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى الْعِرَاقِ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ "(مسند احمد: ۲۲۱۴۵)

’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عراق کے بہترین لوگ شام اور شام کے بدترین لوگ عراق منتقل نہ ہو جائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم شام کو اپنے اوپر لازم پکڑو‘‘

حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: ملک شام کے لئے خوش خبری ہے، ملک شام کے لئے خوش خبری ہے، میں نے پوچھا کہ شام کی کیا خصوصیت ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملک شام پر فرشتے اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ (مسند احمد:  ۲۱۶۰۶، ترمذی: ۳۹۵۴)

حضرت عبد اللہ بن رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَفِي يَمَنِنَا(بخاری: ۱۰۳۷)

’’ اے اللہ ہمیں ہمارےشام میں اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما‘‘

ان روایات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ شام مقدس اور بابرکت سرزمین ہے، جس میں اللہ نے برکتوں کو چھپا رکھا ہے اور جسے اپنے مقربین متقین کے مسکن کے طور پر منتخب کیا ہے، مزید یہ کہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سرزمین شام کو ہی میدان حشر بنایا جائے گا جہاں قیامت کے بعد اولین وآخرین جمع ہوں گے، چناں چہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الشَّامُ أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ ( مسند بزار:۳۹۶۵)

’’شام حشر ونشر کی سرزمین ہے ‘‘

بہر حال ملک شام روئے زمین پر ایک ایسی سرزمین ہے، جسے اللہ نے تقدس وبرکت سے نوازا ہے، اس لئے یہ سرزمین بہت ہی بابرکت اور باعظمت ہے، ہمیں اس کی عظمت وتقدس کا خیال رکھنا ہے اور یہاں کے تلخ حالات پر ہمیں متفکر ہوکر بقائے امن کی دعا کرنی ہے۔ اللہ اس سرزمین کو دشمنوں کے کید ومکر سے محفوظ رکھے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان حیدرآباد ، الہند ۔۔ رکن عاملہ آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ ۔۔۔ نائب مدیر ماہنامہ حضرت عائشہ حیدرآباد ۔۔ ناظم مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم الربانیہ ، حیدرآباد ، تلنگانہ ، الہند ۔۔۔ تصانیف : (۱) مصباح السنن ( یہ کتاب متعدد مدارس میں داخل نصاب ہے اس میں ایمانیات اور اخلاق وآداب کی احادیث جمع کی گئی ہیں ) ، (۲) تیسیر اصول الحدیث ( یہ کتاب بھی متدد مدراس میں داخل درس ہے) ، (۳) رسول اللہ ﷺ کی نماز (۴) ذبح قربانی اور عقیقہ وغیرہ

ایک تبصرہ

  1. محترم زبیرصاحب کی واال سے.

    بلاد شام کے بارے احادیث کی وضاحت

    احادیث مبارکہ سے سر زمین شام کی فضیلت ثابت ہوتی ہےلیکن احادیث میں شام سے مراد موجودہ شام (Syria) نہیں بلکہ بلاد شام (Levant) ہیں کہ جن کا مرکز فلسطین ہے اور موجودہ شام بھی اس کا ایک حصہ ہے۔

    شام کے بارے وارد احادیث کی موجودہ حالات کے مطابق صحیح شرح وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ تو فتنہ مزید پھیل سکتا ہے۔ مثال کے طور مستدرک حاکم کی ایک صحیح روایت میں ہے کہ

    «يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْكُبْرَى فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ، بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ»۔

    ترجمہ: جب بڑی جنگ ہو گی تو اس وقت مسلمانوں کا گھر ایک ایسی جگہ ہو گی کہ جس کا نام "غُوطہ” ہے۔ اب حدیث کے اتنے سے حصے کو بیان کرنے سے غلط فہمی ہو سکتی ہے جبکہ اس کے بعد کے الفاظ ہیں:

    «فِيهَا مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ، خَيْرُ مَنَازِلِ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ»

    ترجمہ: "اس غُوطہ کی سرزمین میں ایک شہر ہے کہ جس کا نام دمشق ہے تو بڑی جنگ کے زمانے میں مسلمانوں کا بہترین ٹھکانہ یہ شہر دمشق ہو گا۔” تو مکمل روایت سے واضح ہوا کہ یہ "دمشق” کی بات ہو رہی ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوا کہ حدیث میں بڑی جنگ کی بات ہو رہی ہے کہ جسے ہم تیسری جنگ عظیم (third world war) کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں۔ البتہ "غُوطہ” میں موجودہ بمباری اس جنگ عظیم کا مقدمہ ہو سکتا ہے کہ تمام بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز شام میں موجود ہیں۔

    دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان روایات کا "الملحمۃ الکبری” یا "تیسری جنگ عظیم” کے مقدمہ کے طور پر ہونے والے موجودہ جنگ وجدال پر اطلاق کرنا ہو تو ایسے میں لڑنے والوں پر ان روایات کا اطلاق نہ کیا جائے کہ لڑائی کا معاملہ ابھی "بینہ” اور "برہان” کی طرح واضح نہیں ہوا لیکن یہ "بینہ” اور "برہان” کی طرح واضح ہو گا جیسا کہ احادیث میں ہے۔ تو موجودہ حالات میں ان روایات کا اطلاق ان شہریوں پر کیا جائے کہ جو اس جنگ وجدال میں ظلم کے ساتھ قتل کیے جا رہے ہیں کہ اس آزمائش میں ان کے لیے ان احادیث میں بیان شدہ فضائل میں صبر کا سامان موجود ہے۔

    ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ جب فتنے پھیل جائیں گے تو "ایمان” شام میں ہو گا۔ اور دوسری روایت میں "فتنوں” کی شرح میں یہ موجود ہے کہ مسلمان تین لشکروں میں تقسیم ہو جائیں گے؛ ایک لشکر شام میں ہو گا جو سب سے بہتر ہو گا۔ دوسرا یمن میں ہو گا جو اس سے کم تر ہو گا اور تیسرا عراق میں ہو گا جو بدترین ہو گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے لشکر کا ساتھ دینے کا کہا ہے۔ اگر وہ ممکن نہ ہو تو یمن کے لشکر کا ساتھ دیا جائے۔ تو مسلمانوں کی ان تین لشکروں میں تقسیم ابھی ہو رہی ہے۔ اور مستقبل میں یہ امکان موجود ہے کہ ترکی "شام” میں اور سعودی عرب "یمن” میں اور ایران "عراق” میں اپنی حکومت قائم کر لے۔

    سنن ترمذی کی روایت میں ہے کہ آخر زمانے میں قیامت سے پہلے حضر موت یعنی یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ایک جگہ جمع کر دے گی تو آپ نے فرمایا اس زمانے میں شام کے ساتھ رہو۔ تو یہ آگ بھی ابھی ظاہر نہیں ہوئی البتہ اس کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں جیسا کہ یمن کی جنگ کی آگ کی وجہ سے مسلم دنیا میں بلاکس اور اتحاد بن رہے ہیں اور ٹوٹ بھی رہے ہیں۔ تو ایسے میں ہمیں اس بلاک اور اتحاد کا ساتھ دینے کا کہا گیا ہے جو بلاد شام یعنی فلسطین اور موجودہ شام وغیرہ کی حمایت میں ہے۔ سنن ترمذی ہی کی ایک روایت میں ہے کہ جب اہل شام میں فساد یعنی جنگ پھیل جائے تو پھر اب کوئی خیر باقی نہیں ہے یعنی اب یہ جنگ پھیلے گی اور پوری امت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی یعنی تیسری جنگ عظیم کی طرف سفر شروع ہو جائے گا۔

    اور جن روایات میں فتنوں کے زمانے میں شام کی طرف ہجرت کی بات آئی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ اگر فتنہ عام ہو جائے یعنی جنگ چاروں طرف پھیل جائے مثلا تیسری جنگ عظیم شروع ہو جائے تو اب جس کو استطاعت ہے تو شام کی طرف ہجرت کر جائے کہ وہاں ہی آخری معرکہ سجنا ہے اور وہاں ہی عیسی بن مریم علیہ السلام کا نزول ہونا ہے۔ باقی اس دنیا کی تقدیر جنگ وجدال ہے کہ جس کا اظہار فرشتوں نے آدم کی پیدائش سے پہلے ہی ان الفاظ میں کر دیا تھا: «قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء»۔ ترجمہ: "پروردگار، کیا آپ ایسی مخلوق پیدا کرنے والے ہیں جو زمین میں فساد پھیلائے اور قتل وغارت گری کرے۔” اور بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ فرائیڈ نے بھی آخر عمر میں "جنس” کی جگہ "جنگ” کو انسان کی اصل جبلت قرار دے دیا تھا۔

متعلقہ

Close