آئینۂ عالم

سعودی عرب اور شامی پناہ گزینوں کی کہانی

دنیا میں جنگ، تعصب، کشیدگی، سیاسی تناؤ، امتیازی سلوک اور دیگر قدرتی آفات کے باعث ہر ایک منٹ بعد آٹھ لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوجاتے ہیں اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہ نقل مکانی کرجاتے ہیں۔

رضی الہندی

دنیا میں جنگ، تعصب، کشیدگی، سیاسی تناؤ، امتیازی سلوک اور دیگر قدرتی آفات کے باعث ہر ایک منٹ بعد آٹھ لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوجاتے ہیں اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہ نقل مکانی کرجاتے ہیں۔ ویکیپیڈیا

اس وقت مسئلہ پناہ گزینوں کا ہے میں ابھی دوسرے ممالک کو چھوڑ صرف اہل شام کے مہاجرین کے بارے میں کچھ لکھوں گا ۔۔اس سلسلہ کی پہلی کڑی سعودی عرب سے متعلق ہے کہ اس کا اب تک کیا رول ماڈل ہے ۔۔۔۔

 شام کے ننھے ’ایلان ‘ کی ہلاکت کے بعد مسلمان ممالک میں عرب دنیا کیخلاف چہہ مگوئیاں جاری تھیں کہ آیا سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک شامی پناہ گزینوں کو پناہ کیوں نہیں دے رہے اور طعنے دیئے جارہے تھے لیکن اب سعودی حکام نے تردید کردی اور اس ضمن میں اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے گفتگو کی ہے اس ضمن میں العربیہ نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ پیش نظر ہے ۔۔۔

 http://urdu.alarabiya.net/ur/international/2015/09/12/-%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%86-%D9%88%D8%B7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF-25-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE-.html

بیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ #ریاض حکومت #شاممصیبت زدگان کے حوالے سے کی جانے والی امدادی مساعی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ رہی ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کوپناہ نہیں دے رہا ہے بلکہ۔ حقیقت یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے بعد سے اب تک 25 لاکھ شامی شہریوں کو سعودی عرب میں پناہ دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شام سے آنے والے بے سہارا شہریوں کے ساتھ دینی اور انسانی بنیادوں پر برابری کا سلوک کیا جاتا ہے۔ سعودی حکومت نے شامی شہریوں کے لیے پناہ گزین یا مہاجرین کی اصطلاح استعمال کی ہے اور نہ انھیں پناہ گزینوں کے طور پر ڈیل کیا جاتا ہے۔ اب چونکہ ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب پر شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بند کرنے کے باربار بھونڈے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ شام میں عوامی انقلاب کی تحریک کے سب سے پر زور حامی سعودی عرب نے شامی پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ اس لیے اب یہ بتانا ضروری ہوچکا ہے کہ سعودی عرب پچھلے چار سال کے دوران پچیس لاکھ شامی شہریوں کا استقبال کرچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بغاوت اور خانہ جنگی کے بعد پہلے مرحلے میں شہریوں نے سعودی عرب کی طرف نقل مکانی شروع کی تھی۔ غیر علانیہ طورپر سعودی عرب میں اب تک پچیس لاکھ کے قریب شامی شہری پہنچ چکے ہیں۔ سعودی حکومت نے انہیں فوج کی نگرانی میں قائم کیمپوں یا پناہ گزینوں کے مراکز میں نہیں رکھا بلکہ انہیں ہر قسم کی آزادی فراہم کی گئی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2012ء کے بعد سعودی عرب نے شام سے آنے والے طلبہ وطالبات کو اپنی جامعات میں تعلیم کے حصول کا بھی مفت حق دیا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف تین سال کے عرصے میں ایک لاکھ شامی طلبہ سعودی عرب کی جامعات میں زیرتعلیم ہیں۔ ان طلبہ کو سعودی عرب کے مقامی شہریوں کی طرح صحت، تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔

سعودی عرب میں آنے والی شامی پناہ گزینوں کی آباد کاری کےساتھ ساتھ الریاض حکومت نے شام کے اندر پھنسے شہریوں، #لبنان اور #اردن سمیت یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کی بھی ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ نقد امداد فراہم کرتا ہے۔ 31 مارچ 2015ء کو #کویت میں منعقدہ تیسری بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے شامی شہریوں کی بحالی اور آباد کاری کے لیے 70 کروڑ ڈالرز کی رقم دی جا چکی ہے۔

حکومتی ذرائع نے ذرائع ابلاغ میں آنے والے الزامات اور گمرام کن پروپیگنڈے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ جتنی مدد سعودی عرب کی جانب سے شامی شہریوں کے لیے کی گئی ہے، کسی دوسرے ملک نے نہیں کی۔ اس لیے یہ الزام قطعی بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روک رہا ہے بلکہ سعودی عرب نے پچیس لاکھ سے زائد شامیوں کو اپنے ہاں ہر قسم کی شہری سہولتیں مہیا کررکھی ہیں۔

یہ امرقابل ذکر رہے کہ ان دنوں جب شامی پناہ گزینوں کے یورپی ملکوں کی طرف جانے کی خبریں سامنے آئیں تو ذرائع ابلاغ میں خلیجی ملکوں بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دوسرے ملکوں پر کڑی تنقید کی گئی اور یہ کہا گیا کہ خلیجی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بند کرکھے ہیں۔ جس کے باعث لاکھوں افراد یورپ کی طرف پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے

بیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ #ریاض حکومت شاممصیبت زدگان کے حوالے سے کی جانے والی امدادی مساعی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ رہی ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کوپناہ نہیں دے رہا ہے بلکہ۔ حقیقت یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے بعد سے اب تک 25 لاکھ شامی شہریوں کو سعودی عرب میں پناہ دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شام سے آنے والے بے سہارا شہریوں کے ساتھ دینی اور انسانی بنیادوں پر برابری کا سلوک کیا جاتا ہے۔ سعودی حکومت نے شامی شہریوں کے لیے پناہ گزین یا مہاجرین کی اصطلاح استعمال کی ہے اور نہ انھیں پناہ گزینوں کے طور پر ڈیل کیا جاتا ہے۔ اب چونکہ ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب پر شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بند کرنے کے باربار بھونڈے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ شام میں عوامی انقلاب کی تحریک کے سب سے پر زور حامی سعودی عرب نے شامی پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ اس لیے اب یہ بتانا ضروری ہوچکا ہے کہ سعودی عرب پچھلے چار سال کے دوران پچیس لاکھ شامی شہریوں کا استقبال کرچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بغاوت اور خانہ جنگی کے بعد پہلے مرحلے میں شہریوں نے سعودی عرب کی طرف نقل مکانی شروع کی تھی۔ غیر علانیہ طورپر سعودی عرب میں اب تک پچیس لاکھ کے قریب شامی شہری پہنچ چکے ہیں۔ سعودی حکومت نے انہیں فوج کی نگرانی میں قائم کیمپوں یا پناہ گزینوں کے مراکز میں نہیں رکھا بلکہ انہیں ہر قسم کی آزادی فراہم کی گئی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2012ء کے بعد سعودی عرب نے شام سے آنے والے طلبہ وطالبات کو اپنی جامعات میں تعلیم کے حصول کا بھی مفت حق دیا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف تین سال کے عرصے میں ایک لاکھ شامی طلبہ سعودی عرب کی جامعات میں زیرتعلیم ہیں۔ ان طلبہ کو سعودی عرب کے مقامی شہریوں کی طرح صحت، تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔

سعودی عرب میں آنے والی شامی پناہ گزینوں کی آباد کاری کےساتھ ساتھ الریاض حکومت نے شام کے اندر پھنسے شہریوں، #لبنان اور #اردن سمیت یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کی بھی ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ نقد امداد فراہم کرتا ہے۔ 31 مارچ 2015ء کو #کویت میں منعقدہ تیسری بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے شامی شہریوں کی بحالی اور آباد کاری کے لیے 70 کروڑ ڈالرز کی رقم دی جا چکی ہے۔

حکومتی ذرائع نے ذرائع ابلاغ میں آنے والے الزامات اور گمرام کن پروپیگنڈے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ جتنی مدد سعودی عرب کی جانب سے شامی شہریوں کے لیے کی گئی ہے، کسی دوسرے ملک نے نہیں کی۔ اس لیے یہ الزام قطعی بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روک رہا ہے بلکہ سعودی عرب نے پچیس لاکھ سے زائد شامیوں کو اپنے ہاں ہر قسم کی شہری سہولتیں مہیا کررکھی ہیں۔

یہ امرقابل ذکر رہے کہ ان دنوں جب شامی پناہ گزینوں کے یورپی ملکوں کی طرف جانے کی خبریں سامنے آئیں تو ذرائع ابلاغ میں خلیجی ملکوں بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دوسرے ملکوں پر کڑی تنقید کی گئی اور یہ کہا گیا کہ خلیجی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بند کرکھے ہیں۔ جس کے باعث لاکھوں افراد #یورپ کی طرف پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

http://urdu.alarabiya.net/ur/international/2015/09/12/-%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%86-%D9%88%D8%B7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF-25-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE-.html

دوسری جانب اور بھی اخبار نے اپنی رپورٹ دی ہیں جو قریب ایک ہی مواد رکھتی ہیں لیکن تھوڑا سا فرق مجھے یہاں ملاپڑھیں:

نیویارک…. اقوام متحدہ میں سعودی سفارتی مشن کے فرسٹ سیکرٹری صالح العمیری نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب نے 30 لاکھ شامیوں اور یمنیوں کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے۔ انسانی حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کیلئے حکومتوں اور عالمی اداروں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ عالمی تعاون کے بغیر یہ معاملہ انجام نہیں پا سکتا۔ وہ پناہ گزینوں کے مسائل سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی رپورٹ پر منعقدہ اجلاس میں سعودی عرب کا موقف پیش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار ادا کررہا ہے اور پناہ گزینوں کے حوالے سے عالمی مساعی کو قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پناہ گزینوں کی ہائی کمشنری نے آئندہ 5برس کیلئے جو پروگرام پیش کیا ہے وہ بہت مناسب ہے۔ سعودی وفد کے نمائندے نے بتایا کہ سعودی عرب اپنے یہاں 25لاکھ شامیوں کو پناہ دے چکا ہے۔ ان کے ساتھ پناہ گزینوں جیسا معاملہ نہیں کرتا بلکہ ان کے وقار، ان کی سلامتی اور ان کی انسانیت کی پاسداری بھی کر رہا ہے۔ ایک لاکھ 41ہزار شامی طلباءسعودی اسکولوں اور کالجوں میں کسی فیس کے بغیر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تعلیم مکمل کر کے ملازمتیں بھی لے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے اردن ، لبنان،ترکی وغیرہ ممالک میں موجود شامی پناہ گزینوں کی مدد کیلئے 800ملین ڈالر سے زیادہ کی نقد امدا د اور امدادی سامان مہیا کیا ہے۔ العمیری نے کہا کہ 5لاکھ یمنی مملکت میں سکونت پذیر ہیں۔ انہیں اقامہ و محنت قوانین سے استثنیٰ دے رکھا ہے۔ غیر قانونی طریقے سے آنے والے یمنی جرمانے اور فیس کے پابند نہیں۔ انہیں اپنے اہل خانہ کو بھی اجازت ہے۔ 2لاکھ 85ہزار یمنی طلباءمفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یمن کے اندر العبر کیمپ اور جیبوتی میں ابخ کیمپ اور صومالیہ میں ایک کیمپ میں سکونت پذیر یمنی پناہ گزینوں کی بھی مدد کی جا رہی ہے۔ شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات یمنی بھائیوں کو 400ملین ڈالر مالیت کا سامان بھی بھیج چکا ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی عالمی ایجنسی اونروا پاکستان میں افغان پناہ گزینوں او رمیانمار میں روہنگیا کے مسلمانوں کی بھی مدد کر رہا ہ

http://www.urdunews.com/node/149891/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D8%B9%D8%B1%D8%A8/%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8/%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D9%86%DB%92-30%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE-%D8%B4%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%8C%D9%85%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D9%BE%D9%86%D8%A7%DB%81-%D8%AF%DB%92-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C-%DB%81%DB%92%D8%8C-%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%B1

ماہ رمضان میں سعودی عرب غیر ممالک میں افطاری کا انتظام بھی کرتا ہے ۔۔۔

: جدہ:   سعودی عرب شامی پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کے لئے 3 لاکھ افطار کی سہولیات فراہم کرے گا۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی رمضان مہم”خدا آپ کو اس کا اجر دے گا “ کے ذریعے شامی بھائیوں کی امداد کے لئے ترکی میں شامی روزہ دار پناہ گزینوں اور شام میں بے گھر افراد کے لئے 3 لاکھ  افطار میل ( کھانے)فراہم کرے گا اور اس سلسلے میں ترکی میں سعودی قومی مہم کے دفتر اور مرکز مارکیٹ کے مابین معاہدہ طے پا گیا ہے ۔

ترکی میں سعودی قومی مہم دفتر کے سربراہ خالد السلاما نے کہا ہے کہ افطار کھانوں میں اعلی معیار اور خصوصیات کی حامل کھانے پینے کی اشیاءکا انتخاب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افطار کھانےشام میں کیمپوں اور ترکی شامی پناہ گزینوں اور شمالی شام میں ادلیب اور حلب میں بے گھر افراد کو فراہم کئے جائیں گے۔

انہوں نے سعودی حکومت کی ہدایات پر عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شامیوں کو سہولیات کی فراہمی کو یقیبی بنایا جائے اور انہیں بہترین زندگی گزارنے اوردرپیش مشکلات پر قابو پانے کے لئے کام کیا جائے۔۔

https://www.neonetwork.pk/26-May-2017/20564

الزام عائد کرناحق ہے لیکن اس کی تحقیق کرنااسکو متحقق کرنااس سےبڑا فریضہ ہے۔۔امید ہے سعودی عرب نے دفاع میں جوبیان دیئے آپکو مطمئن کریں گے۔اور آپ کی بہت سی آراء کو پوری پارہ پارہ کر رہی ہونگی ۔یہ بات یاد رہے کہ کسی پر تنقید آسان ہے۔لیکن اسکوجامہ ثبوت دینا مشکل ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close