سقوط اسرائیل کے بعد مشرق وسطی کانقشہ

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

(29نومبر، فلسطینیوں کے ساتھ عالمی یوم یکجہتی کے موقع پرخصوصی تحریر)

 ایک مستند امریکی جریدے (Foreign Policy Journal)کے مطابق امریکہ کے سولہ خفیہ اداروں نے بیاسی صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے جس کاعنوان ’’بعدازاسرائیل، مشرق وسطی کی تیاری(“Preparing for a Post Israel Middle East.”) ‘‘ہے۔ ان خفیہ اداروں میں بدنام زمانہ CIA،DEA،NSAاورFBIبھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ اسرائیل کی  صہیونی ریاست اب امریکی سلامتی اور امریکی معیشیت کے لیے دنیامیں سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اس رپورٹ پر امریکہ کے اعلی ترین جمہوری و انتظامی و دفاعی ادارے غوروہوض کررہے ہیں۔ رپورٹ میں مشرق وسطی کی علاقائی سیاسی اور معاشی حالات کا تفصیلی تجزیہ کرچکنے کے بعد مذکورہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اسرائیل سے بڑھ کراس تاریخی حقیقت کو اورکون جانتا ہوگا کہ ہر فرعون اپنے موسی کی پرورش خود کرتاہے۔ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ اسرائیل کی طرف سے مسلسل امریکی سلامتی کے خلاف ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔ رپورٹ مرتب کرنے والے خفیہ اداروں نے پوری کرہ ارض پر موجود کل اقوا م عالم کے حوالے سے لکھاہے کہ پوری دنیااسرائیل کی ریاست کودہشت گرداور خونی وقاتل ریاست سمجھتی ہے۔

خفیہ اداروں کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ تمام ممالک کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی سرزمین پر ناجائز اور غاصبانہ قبضہ جما رکھاہے اوراسرائیل کواس کا کوئی اخلاقی و قانونی جواز حاصل نہیں ہے۔ رپورٹ میں امریکی قیادت کو متنبہ کیاگیاہے کہ ان حالات میں اسرائیل کے لیے امریکی فوجی و معاشی وسیاسی امداداور اس کے مقابلے میں اسرائیلی جنگیں اور اسرائیلی ناجائزتصرفاتی اقدامات، ا،مریکی مفادات سے شدید ٹکراؤرکھتے ہیں۔ رپورٹ میں مثال کے طورپر اسرائیل روزبروز بڑھتے ہوئے ایٹمی اسلحے کی تعداداورفلسطینی شہری آبادی پر بے پناہ بمباری کے ذریعے انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کو بھی پیش کیاگیاہے۔ المختصریہ کہ سولہ امریکی خفیہ اداروں کی متفقہ رپورٹ میں اسرائیل کو’’بدمعاش اور مجرم ریاست(rogue, criminal state)‘‘ثابت کردیا گیا ہے۔

امریکہ میں اسرائیلی اورصہیونی گروہ کس قدر منظم،متحرک اورموثرہے،اس کا اندازہ توکیاجاسکتاہے لیکن اس کاادراک کرنا قطعاََبھی ناممکن ہے۔ امریکہ کا جوچہرہ دنیاکے سامنے ہے وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA)ہے جبکہ یہ دکھانے کے دانت ہیں اور اصل چبانے کے دانت ’’کارپوریٹ امریکہ ‘‘ہے،اور یہ امریکہ کی اصل حقیقت  ہے جو دنیاپر حکمران ہے۔ ’’کارپوریٹ امریکہ‘‘دنیاکے سامنے ’’یونائٹڈاسٹیٹس آف امریکہ‘‘ کو تگنی کاناچ نچاتاہے۔ اس ’’کارپوریٹ امریکہ ‘‘کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے۔ اس حقیقت کو مزکورہ رپورٹ میں بھی جگہ دی گئی ہے کہ ساٹھ سے زائد تنظیمیں ہیں جو امریکہ جیسی سرزمین پر خود امریکہ کے خلاف اسرائیل کے لیے کام کررہی ہیں اور ان تنظیموں نے ساڑھے سات ہزار امریکی اعلی عہدیداران اورافسران کی خدمات کو خرید رکھاہے۔ چنانچہ اس خفیہ رپورٹ کی نقول فوراََ سے پیشتر اسرائیل میں پہنچا دی گئیں اور اس کام میں امریکہ کے اندر صہیونی لابی کے متحرک ترین افرادامریکی سینیٹرزچارلس اسکومر(Charles Schumer)اورجان ایم سی کین(John McCain)سرفہرست ہیں، ان کے بعدامریکی کانگریس کے ارکان ایرک کانٹر(Eric Cantor)اورخاتون رکن علینا روزلیتھنن (Ileana Ros-Lehtinen)بھی اس ملک دشمن سازش میں ملوث ہیں۔ اسرائیل میں اس رپورٹ کے پہنچنے پر متوقع ردعمل کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، ظاہر ہے سچ تو کڑواہی ہوتاہے۔ چنانچہ اسرائیلی وزیراعظم اس رپورٹ پر بہت سیخ پاہوئے اور انہوں نے کہاامریکہ میں صہیونی ایجنٹ اس رپورٹ کے مرتب کرنے والوں سے شدید انتقام لیں گے۔ انہوں نے خاص طورپر امریکی افواج کے سربراہ اورامریکی صدرکوبھی اپنی شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس پراسرائیلی پارلیمان کے سربراہ نے کہاکہ آخرامریکی صدر ہماری مخالفت کیسے کر سکتاہے جب کہ ہم یہودیوں نے اس کے لیے سب کچھ کیاتھا۔

 یہودیوں کی دوہزارسالہ تاریخ ہجرت سے ہولوکاسٹ تک اورسیکولرازم کی ریت سے چنی گئی کی ناتمام بنیادوں پر قیام اسرائیل سے مستقبل قریب میں سقوط اسرائیل تک کے حالات کتاب زندہ میں اس آیت کی اظہرمن الشمس تفسیر ہیں کہ:

 ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ أَیْنَ مَا ثُقِفُوْا اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ ذٰلِکَ بَمَا عَصَوْا وَّ کَانَوا یَعْتَدُوْنَ O(سورۃ آل عمران،آیت212)۔

ترجمہ’’یہ(یہود)جہاں کہیں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار پڑی، کہیں اﷲتعالی کے ذمہ یا انسانوں کے ذمے پناہ مل گئی تویہ اور بات ہے۔ یہ اﷲ تعالی کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کر دی گئی ہے،اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ یہ اﷲ تعالی کی آیات سے کفرکرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کوناحق قتل کیا،یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے‘‘

آج یہ نوشتہ دیوار ہے کہ سلطنت  اسرائیل کی عمارت منہدم ہونے کو ہے۔ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم   تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘کے مصداق جہاں اہل نظر امریکہ کی کشتی سے چھلانگیں لگاتے ہوئے چوہوں کو دیکھ رہے ہیں وہاں اسرائیل کا قائم رہنا چہ معنی دارد؟؟؟امریکہ کی کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور امریکی معیشیت اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے، ان حالات میں وہ اسرائیل کو کیونکرسہارادے سکتاہے؟؟؟۔

 مشرق وسطی کے نقشے میں اسرائیل کی ریاست کھجورکی ایک گٹھلی کی مانندہے جس کی چوڑائی بعض مقامات پراکیلے ہندسوں جتنے کلومیٹرکے برابر رہ جاتی ہے۔ قیام اسرائیل کے بعد سے سیکولرازم نے فلسطین کے یہاں ڈیرے ڈالے رکھے اور سیکولر اور کیمونسٹ  نظریات رکھنے والی قیادت نے فلسطینی مسلمانوں کے بندبھاؤلگائے اور انہیں اپنی ذاتی مفادات کی خاطر عالمی منڈیوں میں ساہوکاروں کے ہاتھ فروخت کیااوردولت ورشہرت کی بلندیوں کو چھوتے رہے۔ لیکن آفرین اس قوم پر جس نے بہت جلد اپنے رب کو اورخود اپنی حقیقت کو پہچان لیااور دیندار،جرات منداور صالح قیادت کاانتخاب کیا۔ اس انتخاب کے بعد سے اسرائیل کے دن گنے جانے لگے اوراب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ اسرائیل کے علاقے کے علاقے نفوس انسانی سے خالی ہوتے جارہے ہیں۔ وہ اسرائیل جو ایک مدت پہلے تک اپنے شہریوں کے لیے نئی بستیاں بسانے کے لیے فلسطینیوں کی زمینوں پر غاصبانہ فکر میں تھاآج قانون سازی کے ذریعے اپنے شہریوں کو نقل مکانی سے روکنے پر مجبور ہے۔ اسرائیل اپنے قیام کے بعد سے مسلسل سکڑتاچلا جارہا ہے،تاریخ کے تھپیڑے فلسطینی مسلمانوں کے جذبہ قتال کی شکل میں اسرائیل کی ریاست کو ہر طرف سے کاٹ کاٹ فلسطین میں دریابرد کرتے رہے اور آج کا اسرائیل 1948ء کے اسرائیل کے سامنے کٹا پھٹااورپانچ چھ گناچھوٹااسرائیل ہے۔ کہانی کایہ تسلسل بہت جلد اسرائیل کو نابود کر دے گا،انشاء اﷲ تعالی۔

 اسرائیل کا قیام دورغلامی کا نقطہ عروج(کلائیمکس)تھا،خلافت عثمانیہ کے خاتمے سے شرپسندوں کے حوصلے اس تک بڑھے کہ امت مسلمہ کے سینے پریہ ناسور مسلط ہوا۔ دورغلامی اگر چہ بیت چکااور امت مسلمہ نے آزادی کا سانس لیالیکن امت کاحکمران طبقہ ابھی بھی اپنی بادشاہتوں اورجرنیلیوں کے لیے سامراجی طاغوت کا مرہون منت ہے۔ مغربی استعماراور ظالمانہ وسرمایادارانہ نظام کی بدترین گرفت نے ابھی بھی امت کے ہاتھ ان بادشاہوں اورجرنیلوں کی ہتھکڑیوں سے باندھ رکھے ہیں، لیکن آخر کب تک؟؟؟۔ اسرائیل جن ممالک کے حکمرانوں کی آشیرباد سے فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتاہے، آج ان ممالک کے حکمران اپناعرصہ اقتدارتنگ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ مصر میں تو لولی لنگڑی اوراندھی بہری جمہوریت کے باوجود راسخ العقیدہ مسلمان برسر اقتدارآگئے تھے،شاید نہیں یقیناََانہیں کے ہاتھوں چونکہ اسرائیل کے تابوت پر آخری کیل پیوست ہونی تھی اس لیے شکست خوردہ افواج کے ذہنی پسماندہ اوریورپی غلامی کے مارے ہوئے اخلاق باختہ سیکولرجرنیل اس ملک پر مسلط کر دیے گئے۔

ترکی نے ایک طویل جدوجہد کے بعد سیکولرجرنیلوں سے نجات حاصل کر لی ہے،اسرائیل کے بالکل جوار میں تیزآگ کی بھٹی بھڑک چکی ہے اور مسلمانوں کو شیعہ اور سنی میں تقسیم کرنے والے اسرائیل کی سرحدوں پرشیعہ اور سنی مل کر اس فسطائی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف قتال ہیں۔ مشرق وسطی سے ملحق افریقی علاقوں کا مسلمان بھی جاگ چکاہے، گویا ایک عرصے تک مایوسیوں کی فضاؤں کواب باد صبا کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھوکوں نے معطر کر دیاہے۔ مشرق و مغرب میں امریکہ اور نیٹو کے پاؤں اکھڑتے ہی اسرائیل ہوامیں بھک کیے اڑ جائے گا اور یہ وقت کوئی بہت زیادہ دور نہیں ہے اور پھر مسلمانوں کے غدار حکمرانوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگاجو غزوہ احزاب کے بعد بنی قریظہ کا ہوا تھا۔ امت مسلمہ ایک بارپھر متحد ہوگی بقول امام خمینی کے اسلامی ملکوں کی سرحدیں شیطان کی لگائی گئی حد بندیاں ہیں، امت مسلمہ کے موجودہ حکمران ان سرحدوں کے ساتھ ماضی کی کتب میں عبرت کانشان بن جائیں گے اورغزہ کے مسلمانوں پر جب پوری دنیارو رہی ہے سوائے مسلمان بادشاہوں اورجرنیلوں کے جنہیں موت جیسی خاموشی نے گھیر لیاہے، جب ان حکمرانوں پرموت کاسکوت طاری ہوگاتو کل امت کے چہرے کھل اٹھیں گے، فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُوْلِی الْاَبْصَارِ{۵۹:۲}(پس عبرت حاصل کرو اے نظر والو)۔ فلسطینی مسلمانوں کاخون بہت جلد رنگ لائے گااور انبیاء علیھم السلام کی شاندارتاریخ کاحامل یہ علاقہ ایک شانداراسلامی مستقبل کاحامل ہوگا،انشااﷲ تعالی۔



⋆ ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بیت المقدس

سلام ہو فلسطینیوں پر جن کی تیسری نسل بیت المقدس کی حفاظت کے لیے قربانیوں کی تاریخ رقم کررہی ہے۔ پتھروں سے ٹینکوں کامقابلہ صرف قوت ایمانی ہی سے ممکن ہے۔ حماس کی فلسطینی تحریک نے جہاد فلسطین میں چابک کاکام کیااور فلسطینیوں کو اپنی اصل یعنی قرآن و سنت کی طرف پلٹاکر لے آئے۔ 1948ء میں برطانیہ نے جب اسرائیل کے قیام کااعلان کیاتو بیت المقدس اس ناجائز ریاست کاحصہ نہیں تھا۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کاجو منصوبہ منظورکیاتھااس میں بیت المقدس کو بین الاقوامی تصرف میں رہنے کی سفارش کی گئی تھی۔ فلسطینی عوام نے ان سارے منصوبوں کوپاؤں کی ٹھوکرپررکھااور مجاہدین اسلام نے صہیونیت کے خلاف عسکری وجمہوری جدوجہدجاری رکھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے