آئینۂ عالم

شامی بحران پر ایک طائرانہ نظر

شامی بحران پر ایک طائرانہ نظر
سید صفوان غنی، پٹنہ
ملک شام کے حالات سے شاید ہی کوئی شخص بے خبر ہو۔جو لوگ اخبارات و رسائل اور مختلف ویب پورٹل کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں وہ وہاں کی صورت حال سے بخوبی واقف ہوں گے۔ البتہ ایک بڑا طبقہ بدقسمتی سے صرف اس حد تک معلومات رکھتا ہے کہ شام میں خانہ جنگی چل رہی ہے۔اسی بڑے طبقے کے شاید چند فیصد لوگوں کو ہی یہ علم ہوگا کہ اس خانہ جنگی میں امریکہ، روس،شامی حکومت،شامی باغی وغیرہ شامل ہیں۔افسوس کا مقام ہے کہ ہم نہ اس سے زیادہ جانتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔سب سے افسوس ناک معاملہ ہم نوجوانوں کا ہے۔ ہماری معلومات صرف فیس بک ، ٹوئٹر اور واٹس اپ پر فارورڈ کیے گئے کچھ مناظر تک ہی محدود ہیں۔حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ شام کے حالات سے ہم پورے طور پر واقف ہوتے،صرف اس لئے نہیں کہ اس خطہ میں مسلمان آباد ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ آثار ِ قیامت کی بہت ساری پیشن گوئیاں(Prophecies)اسی خطہ ارضی سے تعلق رکھتی ہیں ۔اس مختصر سی تحریر میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ شامی بحران کو اختصار کے ساتھ اور آسان طریقہ سے پیش کیا جائے۔
1) تعارف:
موجودہ شام جسے انگریزی میں سیریا Syria اور عربی میں سوریا یا شام کہتے ہیں پہلےچار ملکوں کو ملا کر ایک ملک تھا۔فلسطین(موجودہ اسرائیل)Palestine،لبنانLebanon) (، اردن (Jordan)اور موجودہ شام(Syria)۔
(الف ) سرحد(Border):
مغرب – بحیرہ روم (Mediterranian Sea) اور لبنان
شمال: ترکی (Turkey)
مشرق: عراق
جنوب: اردن
جنوب مغرب:اسرائیل
(ب) اہم شہر: دمشق Damascus(دارالحکومت)، حمص Homs، حلب Aleppo، حمائہ Hama.،دير الزورDeir ez-Zor، ادلب Idlib۔
(ج) شامی صدر اور ان کا مذہب: بشار الاسدسن 2000 سے شام کے صدر اور فوج کے چیف کمانڈر ہیں۔حکمراں جماعت یعنی بعث پارٹی کے جنرل سکریٹری بھی بشار الاسد ہی ہیں۔ان کا تعلق شیعہ جماعت کے علویAlawites فرقہ سے ہے۔مانا جاتا ہے کہ یہ فرقہ نویں صدی عیسوی میں ابن نصیر نے قائم کیا تھا اسی لئے علویوں کو نصیری بھی کہتے ہیں۔یہ فرقہ شام کی کل آبادی کا 11 فیصد ہے۔علویوں نے اپنے عقیدہ کو غیر علویوں سے مخفی رکھا ہے۔ یارون فریڈمین، جنہوں نے اس فرقہ پر رسرچ کا کام کیا ہے ،کے مطابق علوی فرقہ سے متعلق جو بھی معلوما ت انہیں ملی ہیں وہ سبھی صرف پبلک لائبریریزاور شایع شدہ کتابوں سے ماخوذ ہیں کیونکہ علویوں کی "مقدس کتابیں” غیر علویوں حتی کہ عام علویوں سے بھی مخفی رکھی گئی ہیں۔
(د) جنگ کا سبب: عرب سپرنگ (Arab Spring)
عرب سپرنگ: تیونیشیا سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرےجو شمال افریقی ممالک اور مشرق وسطی Middle Eastتک پھیل گئے۔(آکسفورڈ ڈکشنری)
2) حمایتین و مخالفین حکومت:
عام طور پر کسی جنگ میں دو گروہ ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہوتے ہیں۔ لیکن شام کی جنگ کا معاملہ اس سے کچھ مختلف ہے۔یہاں ایک دو نہیں کئی گروہ بیک وقت کئی دوسرے گروہ سے جنگ کر رہے ہیں۔اسی وجہ سے کئی ماہرین جنگ اسے تیسری عالی جنگ کا پیش خیمہ بھی مان رہے ہیں ۔ ان کے اس موقف کوچند روز قبل ترکی میں ہوئے روسی سفیر کے قتل سے اور زیادہ مضبوطی ملتی ہے۔ قارئین جنگ کی صورت حال کو مجموعی طور پر اور آسانی سے سمجھ سکیں اس کے لئے ایک خاکہ کی مدد لی گئی ہے ۔خاکہ پر نظر ڈالنے سے قبل حکومت کے مخالفین اور حمایتین کے متعلق جان لیں تاکہ واقعات کو سمجھنے میں مزید آسانی ہو۔
(الف) مخالفین : (ترکی، سعودی عرب، قطر،امریکہ اور باغی)
بشار الاسد کی حکومت کے مخالفین ان کے حمایتیوں سے زیادہ ہیں۔لیکن چونکہ حکومت کے پاس سارے ذرائع اور وسائل موجود ہیں اس لئےوہ کم و بیش اب تک مخالفین پر حاوی ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جو ممالک اس حکومت کے خلاف ہیںوہ سیدھے طور پر باغیوں کی فوجی یا معاشی مدد نہیں کر سکتے۔ اس سے ایک خطرہ تو یہ ہے کہ عالمی برداری ان کے خلاف ہو جائے گی اور دوسرا خطرہ خود ان کے ملک میں عدم استحکام کی صورت پیدا ہو جانے کا بھی ہے۔ اس کی سیدھی سی مثال ترکی ہے۔ترکی کو چہار طرفہ مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کا بارڈر سب سے زیادہ ترکی کے ساتھ منسلک ہے۔جنگ کے مارے لوگ پناہ حاصل کرنے کے لئے ترکی کا ہی رخ کرتےہیں۔اب تک تقریبا 30 لاکھ پناہ گزیں ترکی میں موجود ہیں۔ یہ دنیا کے کسی بھی ملک میں پناہ گزینوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ان کے رہنے، کھانے اور علاج کا انتظام کرانا ترکی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔قطر ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن مانا یہ جاتا ہے کہ اس نے باغیوں کی درپردہ معاشی مدد کی ہے۔سعودی عرب کی طرف سے مخالفت کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے۔اول تو اس کی شام کے ساتھ شدید فکری اور مذہبی مخالفت ہے اور دوئم ان دونوں کے درمیان اپنی حاکمیت کو بلند تر دکھانے کی بھی جنگ رہی ہے۔
اب ان تنظیموں پر نظر ڈالتےہیں جن کو مجموعی طور پر باغی کہا جاتا ہے:
٭ فری سیرین آرمیFree Syrian Army: اس کی بنیاد جولائی 2011 میں پڑی۔یہ دراصل شامی فوج کا وہ دھڑا ہے جو بشا ر الاسد کے ظالمانہ احکام سے باغی ہو گیا تھا۔شام کے ایک شہر درعا میں عرب سپرنگ سے متاثر ہو کر کچھ نوجوان مظاہرہ کر رہے تھے۔مظاہرے کو دبانے کے لئے فوج کے ایک حصہ کو وہاں بھیجا گیااور گولی چلانے کا حکم ہوا جسے کچھ فوجی ٹکڑی نے ٹھکرا دیا۔ یہیں سے فری سیرین آرمی کی شروعات ہوئی۔ ایک سال کے اندر ان کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی حالانکہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ 2015 کےاخیر تک اس کے تقریبا ًسبھی فوجی النصرہ ، سیرین ڈیموکریٹک فورس اور داعش میں جا چکے ہیںاوراب ایف ایس اے کا وجود ختم ہو چکا ہے۔
٭ جبہت فتح الشام (پرانا نام – النصرہ فرنٹ):2012 میں قیام سے لے کر 2016کے جولائی تک یہ القاعدہ کی شامی شاخ تھی اور اس کا نام النصرہ فرنٹ تھا۔ القاعدہ سے ٹوٹنے کے بعد اس کا نیا نام جبہت فتح الشام ہے۔امریکہ، اقوام متحدہ ترکی، سعودی عرب،ایران، روس وغیرہ نے اسے دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
٭حرکت احرار الشام السلامیہ:2013 میںاس کے ساتھ تقریبا دس سے بیس ہزار جنگجو تھے۔ ایف ایس اے کے بعدباغیوں کی یہ دوسری بڑی قوت مانی جاتی ہے۔ترکی ،سعودی عرب، جبہت فتح الشام ، جیش الاسلام کی اسے حمایت حاصل ہے۔یہ تنظیم عام شہریوں کے درمیان امداد کا کام بھی کرتی ہے۔اس کے ایک قائد نے تسلیم کیا ہے کہ ان لوگوں نے داعش کے ساتھ مل کر کچھ جنگیں لڑی ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ ان کی( یعنی داعش کی) اور ہماری فکراور ایجنڈے میں کافی فرق ہے۔حلب کے ایک شرعی کورٹ کےقاضی محمد نجیب بنان کے مطابق داعش کے لوگ ایک مستحکم اسلامی حکومت کے قیام سے قبل ہی شرعی قوانین نافذ کرنے لگے جو اصولاً غلط تھا۔ان لوگوں نے ہر اس شخص کو قتل کرنا شروع کر دیا جس نے داعش کی مخالفت کی۔ ایران ،مصر، یو اے ای اور روس نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
٭داعش:سب سے زیادہ جس تنظیم کو شامی خانہ جنگی میں مشتہر کیا گیا وہ داعش ہی ہے۔یہ ایک نہایت انتہا پسند تنظیم ہے اور تقریبا سبھی ممالک اور بڑی مسلم تنظیموںنے اسے دہشت گرد قراد دے رکھا ہے۔حالانکہ اس کے افراد بھی شامی حکومت کے خلاف جنگ لڑنے کا دعوی کرتے ہیں لیکن دوسری باغی تنظیموں نے اس کے انتہا پسندانہ اقدام اور غیر انسانی سلوک کی وجہ سے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
اس کے علاوہ کئی چھوٹی بڑی حکومت مخالف تنظیمیں شام کی اس خانہ جنگی میں شامل ہیں۔
(ب)حمایتین:(روس، ایران، حزب اللہ اور شامی فوج)
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ روس اور ایران اگر بشار الاسد کی مددنہ کرتے تو اب تک اس حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔سعودی عرب ،ترکی اور قطر کے علاوہ اتنے سارےمخالف جنگجو گروہوں کا مقابلہ کرنا صدر شام کےلئے آسان نہیں تھا۔فوجی قوت کے معاملہ میں روس دنیا میں پانچویں اور ایران آٹھویں نمبر پر ہے۔اتنی بڑی عسکری قوت کا ساتھ ہی تھا کہ شامی حکومت نےحلب پر پھر سےقبضہ کر لیا۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے لئے پورے حلب کو تہس نہس کر دیا گیا۔
اب مختصر میں چند حمایتین حکومت پر نظر ڈالتے ہیں:
٭حزب اللہ:یہ وہی حزب اللہ ہےجس نے 2006میں اسرائیل کے ساتھ ایک زبردست جنگ لڑی جس کے بعد اسے سنی حلقے میں خاطر خواہ مقبولیت بھی حاصل ہوئی تھی۔یہ لبنان کی ایک شیعہ عسکری جماعت ہے اور ایران کے ساتھ اس کے دوستانہ تعلقات ہیں۔جب شامی حکومت کو پسپائی نظر آنے لگی تو اسے ایرا ن کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی بھی مدد حاصل ہوئی۔شامی حکومت کی حمایت نے اسے سنیوں میں پھر سے غیر مقبول کردیا۔
٭کردKurd:یہ ایک نسلی گروہ ہے جو کردوں کے لئے ایک الگ ریاست کی خواہش رکھتا ہے۔کرد معاشرتی اور لسانی طور پر ایرانیوں کے قریب رہے ہیں۔ تاریخی طور پر کرد خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے ہیں جن کا گز بسر بھیڑ بکریوں کی پرورش پر ہوتا ہے۔ کرد خانہ بدوش قدیم میسوپوٹیمیا کے میدانوں اور پہاڑی علاقے میں بستے تھے جو اب جنوب مشرقی ترکی، شمال مشرقی شام اور شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور جنوب مغربی آرمینا کا حصہ ہیں۔کرد کئی مذاہب کو ماننے والے ہیں لیکن ان کی اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے۔
٭سیرین ڈیموکریٹک فورسز: اس کی ابتدا 2015 میں ہوئی۔یہ شام میں ایک سیکولر،جمہوری اور وفاقی حکومت چاہتی ہے۔امریکی فوج نے داعش کے خلاف کچھ جنگیں ایس ڈی ایف کے ساتھ مل کر لڑی ہیں۔
٭سیرین آرمڈ فورسز:یہ شامی فوج ہے۔اس میں اکثریت سنی فوجیوں کی ہے لیکن فوج کی قیادت کا 80 فیصد حصہ علویوں کے ہاتھ ہے۔2014 میں فوج کی تعداد سوا تین لاکھ سے گھٹ کر دیڑھ لاکھ ہو گئی تھی۔اس کی اہم وجہ جنگی اموات اور بغاوت ہے۔
اس کے علاوہ المقاومت السوریہSyrian Resistance، ایران کے پاسداران انقلاب Revolutionary Guardsوغیرہ نے شامی فوج کے ساتھ مل کر جنگیں لڑی ہیں۔
(3)تنازع کی ٹائم لائین :(Conflict Timeline)
مارچ 2011: عرب اسپرنگ سے تحریک پا کر کچھ نوجوانوں نےدرعا شہر میں مظاہرہ شروع کیا ۔ شامی فوج نے گولی چلائی جس میں 4لوگ جاںبحق ہوئےاور تحریک مزید تیز ہوئی۔
اپریل 2011: حمص میں دھرنے پر بیٹھے لوگوں پر فوج نے گولی چلائی۔
جون 2011: جسر الشغور شہر میںپولس اور فوج نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کر دیا اور ان کے ساتھ ہو گئی۔
جون 2012: مظاہرہ اور جھڑپ شام کے سب سے بڑے شہر حلب تک پہنچی۔
مارچ 2013: باغیوں نے ایک بڑے شہر رقعا پر قبضہ کیا۔
مئ،جون 2013: لبنان سے سٹے شہر القصیر پر شامی فوج حزب اللہ کی مدد سےدوبارہ قابض ہوئی۔
ستمبر 2013:دمشق میں ایک کیمیائی حملہ میں سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔
جنوری 2014: مختلف باغی گروہ میں جھڑپ شروع ہوئی۔
مئی 2014: حمص کے کچھ علاقوں سے باغیوں کا قبضہ ختم ہوا۔
جون 2014: داعش نے شمالی اور مغربی عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا اور نام نہاد اسلامی خلافت کا اعلان کیا۔
اگست،ستمبر 2014: امریکی صحافی جیمس فولے کو داعش نے قتل کیا۔امریکہ نے داعش کے ٹھکانوں پر حملہ شروع کیا۔
جنوری 2015: اقوام متحدہ کے مطابق خانہ جنگی سے سوا دو لاکھ شامی مارے گئےاور تقریباایک تہائی بےگھر ہو گئے۔
مارچ 2015: ادلب شہر پر النصرہ نے قبضہ کیا۔
ستمبر2015: روس نے بشار حکومت کی حمایت میںکئ علاقوں پر بمباری شروع کی۔
نومبر 2015:شام سے متعلق 17 ملکوں کی ایک میٹنگ وینا میں منعقد ہوئی۔
فروری 2016:جنیوامیں حکومت شام اور باغیوں کے بیچ امن مذاکرات غیر نتیجہ ثابت ہوئی۔
مارچ 2016: امریکہ اور روس نے جزوی طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا۔شامی فو ج نےروس کی مدد سے حمص کے ایک شہر پامیراپر پھر سے قبضہ کیا۔
اگست 2016: ترک فوج داعش اور کرد کو اپنے ملک کی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے شام میں داخل ہوئی۔
دسمبر 2016: شامی فوج نے روس اور ایران کی مدد سے باغیوں کے آخری قبضہ والے شہر حلب کوخالی کرایا۔
(4)کون کس کے ساتھ:
اسے سمجھانے کے لئے ایک خاکہ کی مدد لی گئی ہے۔ اس کے ذریعہ آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ کون کس کے ساتھ اور کس کے خلاف لڑ رہا ہے(خاکہ دیکھیں)۔
ترکی، سعودی عرب اور قطر باغیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔باغیوں کی لڑائی کرد سے بھی ہے اور داعش سے بھی لیکن یہ تینوں (یعنی باغی ،کرد اور داعش) شامی فوج کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں۔کچھ جگہوں پر شامی فوج اور کردنے داعش کے خلاف بھی لڑائی لڑی ہے۔شام کو روس ،ایران اور حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے۔
(5)شام کے متعلق پیشن گوئی:
یہ بات ذہن نشیں رہے کہ احادیث میں جہاں بھی ملک شام کا ذکر ہے اس سے مراد صرف موجودہ شام نہیں ہے بلکہ فلسطین،اردن،لبنان اور سیریا یعنی پورا بلاد شام Greater Syriaمراد ہے۔مضمون کی طوالت کے پیش نظر کچھ منتخب احادیث ہی درج کی جارہی ہیں:
٭ شام حشر ونشر کی سرزمین ہے ۔ ( مسند بزار:۳۹۶۵)
٭قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عراق کے بہترین لوگ شام اور شام کے بدترین لوگ عراق منتقل نہ ہو جائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم شام کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔
(مسند احمد: ۲۲۱۴۵)
٭ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے کتاب کے ستونوں کو دیکھا کہ انہیں میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا ، میں سمجھ گیا کہ اسے لے جایا جارہا ہے چنانچہ میری نگاہیں اس کا پیچھا کرتی رہیں پھر اسے شام پہنچا دیا گیا ۔یاد رکھو! جس زمانے میں فتنے رونما ہوں گے اس وقت ایمان شام میں ہوگا۔(یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس خواب کی تعبیر یہ بیان کی کہ فتنہ کے ظہور کےوقت میں ایمان شام میں ہوگا۔(مسند احمد: ۲۱۷۳۳)
٭(فتنوں کے دور میں) مومنوں کا ٹھکانا شام ہوگا۔(نسائی :۳۵۶۱)
اپنی بات:
تاریخ 2014کو غزہ کی بربادی اور 2016 کو حلب کی بربادی کے لئے یاد رکھے گی ۔سر زمین شام دوسری "جنگ صفین” کی گواہ رہے گی۔ اس بار کوئی "معاویہ ” نہیں تھا جو "قیصر روم” کی حمایت کی پیش کش کو ٹھکرا تا، کوئی "علی” نہیں تھا جو شہدا پر آنسوں بہاتا۔سفاکیت کا ننگا ناچ ہوتا رہا اورنام نہاد انسانیت کے علمبردار خاموش تماشائی بنے رہے۔شام کی خون آشام کتنی دراز ہو گی یہ کوئی نہیں جانتا۔ ہاں یہ بات یقینی ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہRenaissance) )اسی خطہ ارضی سے ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سید صفوان غنی

اعزازی مدیر اردو نیٹ جاپان، نائب مدیر سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز اور معاون مدیر ماہ نامہ کائنات کولکاتا

متعلقہ

Back to top button
Close