آئینۂ عالم

صدی معاہدہ یا تباہی کا معاہدہ

عادل فراز

ڈیل آف سینچری یعنی ’صدی معاہدہ‘ کو عملی شکل دینے کے لئے امریکہ نے اپنی پوری طاقت صرف کردی ہے۔ مشرق وسطیٰ پر جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں اور ایران کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ صدی معاہدہ کو عملی شکل دی جاسکے۔ یہ معاہدہ ڈنالڈ ٹرمپ اور انکے داماد کے ذہن کی پیداور نہیں ہے بلکہ اسکے پس پردہ استعماری ذہن کارفرماہے۔ ساتھ ہی اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لئے دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی خدمات پیش کررہی ہیں جن میں چین،سائوتھ کوریا،آسٹریلیا،کناڈا،امریکا، یوروپی یونین، سعودی عرب اور اسکےتمام حلیف ممالک شامل ہیں۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے لئے یوروپی یونین، خلیجی ممالک اور تمام بڑی طاقتیں سرمایہ کاری کرینگی جس کی سالانہ لاگت چھے بلین امریکی ڈالر ہے۔اس سرمایہ کاری کا مقصد یہ ہے کہ پانچ سالوں میں نئی فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکے اور اسرائیل کو مستقل حیثیت دیکر فلسطین کی موجودہ حیثیت کو ختم کردیاجائے۔

صد ی معاہدہ کے تحت فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا جائے گا۔ فلسطینیوں کو اپنی حفاظت اور دفاع کا بھی حق حاصل نہیں ہوگا۔ صدی معاہدہ کے تحت فلسطینیوں کے لئے غزہ کے علاقہ میں ایک نئی بستی آبادکی جائے گی۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس بستی کے جغرافیائی حدود کیا ہونگے ؟ سوال یہ ہے کہ ایک پورے ملک کے باشندوں کو انہی کی زمین پر مہاجر کیسے قرار دیاجاسکتاہے۔ اسرائیل جس زمین پر قابض ہے وہ فلسطینیوں کی ملکیت ہے۔ لہذا یہ اختیار اسرائیل کو نہیں ہے کہ وہ فلسطینیوں کی منتقلی کی منصوبہ سازی کرے کیونکہ جو خود فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہے اسے مالکوں کو بے دخل کرنے کا حق نہیں ہے۔ مگر امریکہ اور اسکے حلیف ممالک فلسطین کی زمین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو ہٹوانے کے برخلاف فلسطینیوں کو ہی انکی زمین سے بے دخل کرنے کی تیاری میں ہیں۔ اس معاہدہ کے تحت فلسطینی اپنی ہی زمین پر بنجاروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے۔ افسوس ہوتاہے کہ امریکہ کے اس منصوبے کی حمایت میں سعودی عرب سمیت اسکے تمام حلیف اسلامی ممالک بھی شامل ہیں۔ کیا ان نام نہاداسلامی ممالک کو یہ علم نہیں ہے کہ اسرائیل کہاں اور کس کی زمین پر قابض ہے۔ یروشلم کس کی ملکیت ہے اور آج کس سازش کے تحت استعمار یروشلم کو اسرائیل کا پایۂ تخت تسلیم کرچکاہے ؟۔اس وقت یروشلم میں چار لاکھ سے زائد فلسطینی آباد ہیں مگر ’صدی معاہدہ ‘ کے نفاذ کے بعد اگر فلسطینی ایک خاص مدت تک یروشلم سے دور رہتے ہیں تو اسرائیل انکی شہریت منسوخ کرنے کے لئے مجاز ہوگا۔مصر اس ڈیل میں اہم کردار ادا کررہاہے۔ غزہ کے قریب مصر اپنی زمین کا ایک حصہ نئی فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے پیش کرےگا جس پر ائیر پورٹ،فیکٹریاں اور زرعی سیکٹر قائم ہوگا لیکن فلسطینی شہریوں کو اس علاقے میں قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔ صدی معاہدہ پر دستخط کے بعد حماس اپنے تمام تر فوجی و ذاتی ہتھیار مصر کے حوالے کردے گا اوراسکے بعدحماس کے سربراہوں اور فوجیوں کو عرب ریاستوں کی طرف سے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی گویا انہیں غلام بناکر کتےّ کی طرح لقمے کھانے کے لئے مدعو کرنے کی منصوبہ سازی ہے۔

صدی معاہدہ کے تحت مغربی کنارے کا تمام تر علاقہ اسرائیل کی ملکیت سمجھا جائے گا۔ مغربی کنارے پرابھی تک عالمی قانون کے تحت اسرائیل کو کسی بھی طرح کی تعمیرات کا حق حاصل نہیں ہے مگر ’صدی معاہدہ ‘ کے تحت انہیں یہ حق حاصل ہوگاکہ وہ مغربی کنارے پراپنی ضرورت کے لحاظ سے تعمیراتی امور انجام دے سکیں۔ ابھی تک مغربی کنارے پر جتنی بھی اسرائیل کی غیر قانونی تعمیرات ہیں انہیں قانونی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ ساتھ ہی چین کے تعاون سے غزہ اور مغر بی کنارے کو جوڑنے کے لئے اسرائیلی زمین سے تیس میٹر بلند ایک ہائی وے تعمیر کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ آخر چین کو اسرائیل میں جاکر ہائی وے تعمیر کرنے اور اسرائیل کے مفاد میں ہورہی صدی ڈیل کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ بغیر کسی فائدے کے کوئی ملک کسی دوسرے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرسکتا۔یہ سوال ابھی تشنۂ جواب ہے کہ اسرائیل میں سرمایہ کاری سے چین کو کونسے فائدے حاصل ہونگے۔

اس معاہدہ کے تحت فلسطینیوں کونئی بستی میں اپنی حفاظت کے لئے فوج رکھنے کا بھی حق حاصل نہیں ہوگا۔اگر کوئی بیرونی طاقت ان پر حملہ آور ہوتی ہے تو انہیں اپنے دفاع کے لئے اسرائیل سےمدد طلب کرنی ہوگی جس کے عوض میں انہیں دفاعی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔نئی بستی میں فلسطینی شہری سہولیات کے لئے صرف پولیس کا محکمہ رکھنے کے لئے مجاز ہونگے۔ اس محکمۂ پولیس کے اختیارات بھی محدود ہونگے جنہیں اسرائیلی قانونی محکمات طے کرینگے۔ حد یہ ہے کہ میونسپلٹی کے امور کی انجام دہی کے لئے بھی فلسطین کو اسرائیلی میونسپلٹی کا دست نگر ہونا پڑے گا۔ میونسپلٹی کے تمام کاموں کے لئے فلسطین کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ’صدی معاہدہ ‘ کے یہ وہ چند نکات ہیں جو ابھی تک منظر عام پرآئے ہیں۔ ان نکات سے یہ واضح ہے کہ استعمار فلسطین کی موجودہ حیثیت کو ختم کرکے غلاموں کی بستی بسانا چاہتاہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ  فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں نے ’صدی معاہدہ ‘ کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیاہے۔ حماس جیسی مقاومتی تنظیم نے واضح الفاظ میں ’صدی معاہدہ ‘ کی مخالفت کی ہے۔ اس حقیقت سے استعمار بخوبی واقف تھا کہ ’صدی معاہدہ ‘ کے نکات کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیمیں کبھی قبول نہیں کرینگی اس لئے استعمار نے اس ڈیل کو منوانے کے لئے ’صدی معاہدہ ‘ میں جبرو طاقت کے استعمال کی راہیں کھلی رکھی ہیں۔ یعنی اگر فلسطینی ’صدی معاہدہ ‘ کے نکات کو بہ سروچشم قبول نہیں کرتے ہیں تو ان پر جبرو ظلم کرکے اس منصوبہ کو منوایا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اسرائیل کو مستقل حیثیت دینے کے لئے استعمار کس حدتک طاقت کا استعمال کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

’صدی معاہدہ ‘ کےاہم نکات ابھی مخفی رکھے گئے ہیں۔ جو نکات منظر عام پر آئے ہیں انہیں ایک اسرائیلی اخبار Israel Hayom    نے ۷ مئی ۲۰۱۹ کو اپنے ایڈیشن میں شائع کیا تھا۔ لہذا انہی نکات کی روشنی میں یہ گفتگو کی گئی ہے۔ ’صدی معاہدہ ‘ کے نکات کو مخفی رکھنے کی کئی اہم وجوہات ہیں جن پرتفصیلی گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن ایک حقیقت جو پوری دنیا پر آشکار ہوچکی ہے وہ یہ ہے کہ صدی معاہدہ فلسطینیوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے اور انہیں انہی کی زمین سے بے دخل کردینے کا نام ہے۔ اس لئے عالم اسلام کو چاہئے کہ متحد ہوکر اس معاہدہ کی مخالفت کریں۔ ان نام نہاد اسلامی ممالک کے مؤقف کی بھی مخالفت کریں جو اس تباہ کن ڈیل میں اہم کردار ادا کرہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close