طاقتور اردوگان سے کون خوف زدہ ہے؟

نایاب حسن

 ترکی میں پارلیمانی نظام کے خاتمے اور صدارتی نظام کے نفاذیاملکی دستور کی اٹھارہ شقوں میں ترمیم کے مقصد سے منعقدہ ریفرنڈم میں موجودہ صدر رجب طیب اردوگان کی ترقی و انصاف پارٹی کوغیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔اس ریفرنڈم میں ایک دوسری نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی بھی ان کے ساتھ کھڑی تھی،جبکہ ترکی پارلیمنٹ میں اہم ترین اپوزیشن ریپبلکن پیپلزپارٹی نے دستور میں ترمیم کوملک کے مفادات کے خلاف قراردیتے ہوئے حکومت کی مخالفت کی۔الیکشن میں کل پانچ کروڑ شہریوں نے حصہ لیا،کل 86؍فیصد ووٹ پڑے،جن میں اکیاون فیصدسے زائد ووٹ حکومت یعنی دستور میں ترمیم کے حق میں پڑے، جبکہ اڑتالیس فیصد سے کچھ زائد ووٹ حکومت کے خلاف یعنی دستور میں ترمیم کے خلاف ڈالے گئے۔

ابھی تک تقریباً 99فیصدووٹوں کی حتمی گنتی ہوچکی ہے،جبکہ ترکی الیکٹورل بورڈ کے مطابق آخری اور فیصلہ کن نتائج کا اعلان گیارہ ،بارہ دن بعد ہوگا،اپوزیشن نے ووٹنگ میں دھاندلی کاالزام لگاتے ہوئے 60؍فیصدووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیاہے،ایک دوسری اپوزیشن جماعت پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے بھی دوتہائی ووٹوں کو فرضی قراردیاہے ،الیکٹورل بورڈ نے اپوزیشن کے اعتراـضات پر بھی توجہ دی ہے اورکہاہے کہ انھیں بھی مطمئن کیاجائے گا۔اس ریفرنڈم کے قطعی اور حتمی نتائج اگر اردوگان اور ان کی حکومت کے حق میں آتے ہیں ،تواس کے نتیجے میں قومی دستور کی 18؍شقوں میں ترمیم ہوگی،صدرکے اختیار ات میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے گا اوربیوروکریسی سے لے کربجٹ کی ڈرافٹنگ،ناگہانی حالات میں ایمرجنسی کی تنفیذاور ڈگریاں جاری کرنے جیسے معاملوں میں فیصلہ لینے کے لیے صدرِمملکت براہِ راست مختارومجاز ہوگا۔

 ان نتائج پر مختلف ناحیوں سے گفتگوکی جارہی ہے،عالمی میڈیا میں اس پہلو پر زیادہ زور ہے کہ اردوگان کی پارٹی کوبہت معمولی کامیابی ملی ہے اور اکیاون فیصد کے مقابلے میں اڑتالیس فیصد کافرق کوئی زیادہ نہیں ہے،اسی سے یہ بھی اندازہ لگایاجارہاہے کہ ترکی کے عوام دستوری ترمیم و تعدیل کے تئیں یاتو بہت زیادہ کنفیوژڈہیں یاپھر یہ کہ ان کے درمیان آپس میں غیر معمولی اختلاف ہے،جن علاقوں میں حکومت کوحمایت نہیں ملی ہے ، ان میں انقرہ،ازمیراور اسطنبول کے نام خاص طورپر لیے جارہے ہیں ،اسی طرح کردخطے کے عوام بھی اب تک اردوگان حکومت سے مطمئن نہیں ہوسکے ہیں اورانھوں نے بھی زیادہ ترترمیم کے خلاف ہی ووٹ کیاہے۔ حالاں کہ اگر جیت اور ہارکے فرق پر توجہ دی جائے ،تومغرب کے بیشتر اہم ممالک کے انتخابات میں جونتائج سامنے آتے ہیں ، وہ اس سے مختلف نہیں ہوتے،وہاں بھی جیتنے اور ہارنے والی پارٹیوں کے مابین فرق بہت معمولی ہی ہوتا ہے،البتہ اس فرق کونہیں دیکھا جاتا،دیکھا یہ جاتا ہے کہ کس جماعت کوکامیابی ملی اور کونسی پارٹی ہزیمت سے دوچار ہوئی،پس ترکی میں اے کے پارٹی اوراس کے حامیوں کااکیاون فیصد سے کامیاب ہونا بہر حال یہ ثابت کرتا ہے کہ ترکی کے عوام کا اچھا خاصا طبقہ اردوگان کی پالیسیوں سے متفق ہے،ان کے ذریعے کیے گئے اقدامات اور حکومت کی حصولیابیوں کو ترک قوم کے لیے مفید سمجھتا ہے اور وہ اردوگان کے اس قول کا حامی ہے کہ ملک کی ترقی کومزید تیز رفتار بنانے کے لیے صدرکے اختیارات کی توسیع ضروری ہے۔

     جسٹس اینڈڈیویلپمنٹ پارٹی کے اس اقدام کے خلاف اپوزیشن کے پاس کوئی ٹھوس الزام اوراس کے اثبات کے لیے دلائل نہیں ہیں ؛چنانچہ وہ صرف یہی کہہ کر حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی کوشش کررہاہے کہ اردوگان اوران کے حلفاکے اس اقدام سے ترکی کامستقبل خطرے میں پڑ جائے گا اور’ون مین پاور‘کی وجہ سے جلد ہی ملک میں آمریت کی دھمک سنائی پڑنے والی ہے،حالاں کہ جب1923ء میں مصطفی کمال اتاترک کے ہاتھوں ترکی سے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہواتھا اور ایک نئے جمہوری ترکی کومتعارف کروانے کی کوشش کی گئی تھی،تب بھی مصطفی کمال کوتن تنہا ہی تمام تر اختیارات حاصل تھے، جن کا غلط استعمال کرتے ہوئے انھوں نے ترکی کا رشتہ ماضی سے مکمل طورپر کاٹنے اور وہاں کے عوام کو ہر ناحیۂ حیات میں ازسرتاپالبرل اور لادینی بنانے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی،جمہوریت کامطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر طبقۂ عوام کوان کے مزاج و ذوق وپسند کے مطابق زندگی گزارنے اور ملکی ترقیات وسیاست میں حصہ لینے کی آزادی دی جائے ، مگر آپ مصطفی کمال کے ترکی کی تاریخ اٹھاکر دیکھیے کو توعجیب و غریب افراتفری نظر آتی ہے ، مذہب اور مذہب پسندی کو ایک ناقابلِ معافی جرم قراردیتے ہوئے مسجدوں کو میوزیموں میں تبدیل کرنے کی وبا عام کی گئی، دینی تعلیم کو سراسر فرسودہ قراردیتے ہوئے سرکاری سرپرستی میں اس پر بلڈوزر چلادیاگیا،جمہوریت کے نام پر قومیت اور قوم پرستی کا گھناؤنا کھیل کھیلتے ہوئے ترکی زبان کے ہزارسالہ عربی رسم الخط کوکالعدم قراردے کر لاطینی رسم الخط میں بدلاگیا اور پتا نہیں کیا کیا لعنتیں ترکی قوم پر تھوپ دی گئیں ،اس کے مقابلے میں اگر رجب طیب اردوگان اوران کی پارٹی کے حالیہ پندرہ سالہ دورِ حکومت پر نظر کی جائے اورغیر جانب داری کے ساتھ حالات کا تجزیہ کیا جائے ،توصاف ہوجاتا ہے کہ خود اسلام پسند ہونے کے باوجود انھوں نے کسی بھی طبقے پر کسی نظریہ ، لائف اسٹائل یا طرزِ حیات کوتھوپنے کی قطعاً کوشش نہیں کی؛چنانچہ آج اسی ترکی میں جہاں اسلام پسند وں کا طبقہ اپنی پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزاررہاہے،وہیں دانشِ حاضر کے دلدادہ بھی اسی ترکی کی فضا میں تمام تر خوشحالی وآزادی کے ساتھ زندہ ہیں اور زندگی کی تمام تر آسایشوں سے لطف اندوز بھی ہورہے ہیں ۔ پیپلزریپبلکن پارٹی وہی پارٹی ہے،جس کی تشکیل مصطفی کمال کے ہاتھوں پڑی تھی،یہ پارٹی آج اگر جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے دستور میں ترمیم کی مخالفت کررہی ہے ، توماضی میں خود اس کی پارٹی اور اس کے بانی سربراہ کے ہاتھوں ترکی اور ترک قوم کے ساتھ جوزیادتیاں اور مظالم ہوئے،ان کی جواب دہی کس پر ڈالی جائے گی؟

موجودہ دورمیں صدارتی نظام سے خائف ہونے کی کوئی وجہ یوں بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ ترکی کے پڑوس کے تمام تر یورپی ممالک  خود اسی نظام کے تحت چل رہے ہیں اور انھیں کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے،قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ حکمراں پارٹی اور اپوزیشن دونوں ترکی کے مستقبل کے حوالے سے ہی عوام سے مخاطب ہیں ، اردوگان کہتے ہیں کہ موجودہ قومی دستور میں متعددمعنوں میں جمود اور ناکارگی درآئی ہے،جس کی وجہ سے قومی ترقیاتی رفتار کو تیز تر کرنے میں دقتیں پیش آرہی ہیں ؛اس لیے صدارتی نظام کا رواج ضروری ہے،جبکہ اپوزیشن کا کہناہے کہ اگر ایسا ہوا ، توترکی کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا،اس وجہ سے بھی اپوزیشن اپنے خدشات کو چھپانہیں پارہاہے کہ اگریہ نتائج حتمی طورپر اردوگان کے حق میں آجاتے ہیں ،توشاید2029ء تک اردوگان کے برسرِ اقتدار رہنے کی راہ ہموار ہوجائے،گزشتہ پندرہ سالوں سے تووہ یوں بھی حکومت کرہی رہے ہیں ،اب اگر اگلے دس سال تک کے لیے ان کی حکومت ریزرو ہوجائے ،تو عین ممکن ہے کہ حکومت پر آمریت کی چھاپ پڑ جائے۔مگر اردوگان کا جو پندرہ سال کا رپورٹ کارڈ ہے،وہ تواس کی نفی کرتاہے۔

ان سالوں میں متعدد سیاسی اختلافات اور آویزشوں کے باوجود انھوں نے اپنی سربراہی میں ترکی کوخصوصی طورپر تعلیمی ترقی اور معاشی خوشحالی کے باب میں جن بلندیوں تک پہنچایا ہے ،وہ دنیامیں بھر میں تحسین وستایش کی نگاہوں سے دیکھا گیاہے۔اردوگان کو مجموعی طورپر اسلامی دنیا( حکمرانوں سے قطعِ نظر کرتے ہوئے)کے عوام کی بھی غیر معمولی حمایت حاصل ہے،آج کے ٹوئٹر،فیس بک،واٹس ایپ،سنیپ چیٹ اور دیگر سیکڑوں سماجی رابطے کی سائٹس کے دورمیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوانوں اور باشعور مسلمانوں کابہت بڑا طبقہ چاہے وہ ہندوستان سے تعلق رکھتا ہو یاپاکستان سے یا عربی دنیاکے کسی ملک سے،وہ اردوگان کی کامیابی پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتا ہے اور اس کی کامیابی کومسلمانوں کے ایک عظیم راہنما کی کامیابی کے طورپر دیکھتا اوراس کے حق میں دعاؤں کے ساتھ نعروں سے بھی گریز نہیں کرتا،توپھر ان اسباب کی کھوج لگانی پڑتی ہے کہ پچاس سے زائد عربی ملکوں کے حکمرانوں اورعرب لیگ جیسے ادارے کے ہوتے ہوئے آخر ایک غیر عربی حکمراں کومسلمان کیوں پسند کرتے ہیں ،تب ہمیں پتاچلتاہے کہ غزہ کے مظلوموں کی امداد سے لے کربرماکے بے کسوں کی دادرسی،بنگلہ دیشی حکومت کے ذریعے جماعتِ اسلامی کے سربراہوں کی پھانسی،شام میں بشارالاسدکی دیوسیت اور وہاں کے مسلمانوں کی بے چارگی اور اسلامی دنیا کے ساتھ برتے جارہے غیر انسانی رویوں کے خلاف اگر کوئی حرف گیر ہوتاہے ،تو وہ اردوگان ہی ہے،پھر وہ صرف بولتاہی نہیں ،عملی اقدام بھی کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آج کے مواصلاتی انقلاب کے دور میں ایسی خبریں چند لمحوں میں دنیا کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک پہنچ جاتی ہیں ،لوگ انھیں سنتے ،دیکھتے ہیں تو انھیں لگتاہے کہ اردوگان واقعی آج کے دور میں ایک عملی آدمی ہے۔

الیکشن سے دودن پہلے ہی قطر کے بڑے عالمِ دین اورعالمی اتحادبراے علماے مسلمین کے سکریٹری جنرل ڈاکٹرعلی محی الدین قرہ داغی نے عراق کے کردستان میں اپنے ’اناطول‘ایجنسی کو انٹرویودیتے ہوئے کہاکہ ترکی اگردستورمیں ترمیم کے اپنے مجوزہ منصوبے میں کامیاب ہوجاتا ہے ،تو یہ نہ صرف ترکی؛بلکہ سارے عربی واسلامی دنیا کے لیے غیر معمولی فائدے کاسبب ہوگا۔

 ویسے اصل تبدیلی جوان ترمیمات کی وجہ سے رونما ہوسکتی ہے ،وہ ترکی کی خارجہ پالیسی سے متعلق ہے،خاص طورپریورپی یونین کے حوالے سے اردوگان کاکیا موقف ہوگا،اس پر دنیا کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں ؛کیوں کہ حالیہ دنوں میں انھوں نے یونین کی متعدد پالیسیوں کوزدپرلیاتھا،اگروہ مکمل طورپربا اختیار صدر بن جاتے ہیں ،تو یورپی یونین پر ان کا موقف غیر معمولی اہمیت کاحامل ہوگا۔یورپ نے مختلف حوالوں سے اپنے خوف کا اظہار بھی شروع کردیا ہے؛چنانچہ ان نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی جانب سے ترکی حکومت کومشورہ دیاگیا ہے کہ وہ دستور میں ترمیم کرنے کے لیے پہلے مکمل عوامی حمایت کے حصول کی کوشش کرے، کونسل آف یورپ نے ترکی حکومت کو پہلے اچھی طرح غوروفکر کرنے کی تلقین کی ہے،یورپی کمیشن کے صدر، یورپی یونین کے کمشنربراے امورِ خارجہ وسلامتی اور یورپی نیبرہُڈپالیسی کے کمشنرنے اپنے مشترکہ بیان میں کہاہے کہ ترکی کے قومی دستور میں ترمیمات کے اجرا اوران کے نفاذ کے طریقۂ کار کودیکھ کر ہی اس کے یورپی یونین یایورپی کونسل کے ممبربننے کی امیدواری پر کوئی رائے قائم کی جائے گی،جبکہ جرمن وزیر خارجہ نے صاف طورپر کہہ دیاہے کہ رجب طیب اردوگان کے عہدِ حکومت میں ترکی یورپی یونین کا حصہ نہیں بن سکتا،ان کے علاوہ ہالینڈ،آسٹریاوفرانس وغیرہ کی جانب سے بھی مختلف تحفظات کا مظاہرہ کیا جارہاہے۔ اس خوف کی ایک وجہ سیاسی توہے،مگراردوگان کی اسلام پسندی بھی بہتوں کوہضم نہیں ہورہی ہے۔



⋆ نایاب حسن

نایاب حسن

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

سوشل میڈیا میں اردو: لفظیات کو درپیش مسائل

سوشل میڈیا میں اردو زبان کے استعمال کے وقت چاہے وہ چیٹنگ میں ہو یا بلاگنگ اور پوسٹنگ، زبان و بیان کے اصول کو اسی طرح ذہن میں رکھنا چاہیے،جس طرح ہم حقیقی دنیا میں باہمی گفتگو کے دوران یا کچھ لکھتے وقت اس کا خیال رکھتے ہیں ،اس پر توجہ دینا اس لیے ضروری ہے کہ اگر ان غلطیوں کو ناقابلِ اعتنا سمجھتے ہوئے یو ں ہی چلنے دیا جائے،تو دھیرے دھیرے باقاعدہ ایک ایسی زبان وجود میں آجائے گی،جسے ’’اُردِش‘‘سے تعبیر کیا جارہا ہے۔