آئینۂ عالم

ظالم اسرائیل آگ کی لپیٹ میں

محمد وسیم

دنیا میں ملک اسرائیل کا وجود ظلم کی ایک بدترین مثال ہے ، اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک انسانیت کے دشمن ہیں ، یہی وجہ ہے کہ انصاف پسند ممالک نے اسرائیل کو بطورِ ملک کبھی تسلیم نہیں کیا ہے ، یہودیوں کی اکثریت والا یہ ناجائز ملک آج شدید قسم کی پریشانی میں مبتلا ہے اور یہ پریشانی کوئی معمولی نہیں بلکہ عذابِ الٰہی ہے ، جس نے اسرائیلیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اسرائیل کے ایک اہم شہر حیفا میں لگی آگ بجهنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور خبروں کے مطابق یہ آگ لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے ، حیران و پریشان ظالم اسرائیل نے مدد کے لئے انتہائی ترقی یافتہ ممالک اور سپر پاور امریکہ کو بھی مدد کے لئے پکارا ہے مگر سب کے منصوبے ناکام ہیں ، جدید ترین ٹیکنا لوجی بھی آگ بجھانے میں ناکام ہیں ، یہ یاد رہے کہ اللہ کی پکڑ سخت ہوتی ہے ، اس کی تدبیر کے آگے ماہرین کے منصوبے دهرے کے دهرے رہ جاتے ہیں ، جب مظلوم کی آہ و پکار پر اللہ تعالیٰ کی لاٹھی چلتی ہے تو ظالم کو راہِ نجات نہیں ملتی ہے ، اب اسرائیلیوں پر اللہ تعالیٰ کی لاٹھی چل چکی ہے اور دنیا کے ظالموں کے لئے ایک پیغام ہے کہ زمین میں فساد پھیلانے سے باز آ جاءو ، ابھی وقت ہے ورنہ اس کی لاٹھی اب شام و عراق اور کشمیر میں بھی چلنے والی ہے

اسرائیل روےء زمین پر آباد امریکہ ، سوویت یونین ، اقوامِ متحدہ اور برطانیہ کی اکلوتی ناجائز اولاد ہے ، اور اس ناجائز اولاد کی سرپرستی اور آرام و آرائش کا خیال ہمیشہ ان ممالک نے رکھا ہے ، فلسطین زمین پر موجود ایک ایسا ملک ہے جہاں کی زمین سب سے زیادہ چوری کی گئی ہے اور چور اسرائیل ہے ، فلسطینیوں کا ناحق خون اسرائیلیوں نے خوب بہایا ہے ، اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ایک اسرائیلی کے بدلے سیکڑوں اور ہزاروں فلسطینیوں کو مارو ، اور یہی اسرائیلی فوج نے کیا بھی ، انہوں نے ہر روز فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی اور معصوم بچوں کی آنسوؤں پر اسرائیلی فوج نے شراب کی محفلیں سجائیں ، بیت المقدس کی حرمت کو پامال کیا ، غرض کی ظلم کی بدترین مثال قائم کی مگر مظلوم فلسطینیوں کے لئے ہمیشہ عالمِ اسلام میں دعائیں کی گئیں ، حرمین شریفین میں ان کے حق میں دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھے آخر یہ بات ثابت ہوئی کہ مظلوم کی بد دعا رائیگاں نہیں جاتی ، اللہ تعالیٰ کی مدد فلسطین کے لئے آ پہونچی اور دیکھتے ہی دیکھتے ناجائز اسرائیل آگ میں جلنے لگا ، کل ہمارے معصوم بھائیوں کو رلانے والا آج خود خون کے آنسو رو رہا ہے ، دنیا سے مدد کی گہار کر رہا ہے ، کل فلسطینیوں کو دربدر کرنے والا آج خود گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہے ، ہم تو دعا کرتے ہیں کہ یہ آگ ظالموں کے لئے عبرت کا سامان ہو اور یہ آگ اسرائیل کے ایوانوں تک پہونچے.. ان شاء اللہ

فلسطینیوں سے ہمدردی ہمارے خون میں شامل ہے ، ہماری دعاؤں اور ہمدردیوں کا اگر کوئی مستحق ہو سکتا ہے تو وہ ہمارے فلسطینی بھائی ہیں ، اسرائیل ایک بدترین قوم ہے ، جس نے اس زمین کو ظلم و بربریت سے بھر دیا ہے ، اس لئے اسرائیل سے ہمدردی کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے ، اور جو اسرائیل سے ہمدردی رکھے اور اس کا ساتھ دے تو ہم اس کو مسلم امہ کا حصہ نہیں سمجھتے ہیں ، جس طرح سے ہم اپنے فلسطینی بھائیوں سے ہزاروں کلومیٹر کی دوری پر ہونے کے باوجود ان سے ہمدردی رکھتے ہیں ، ان کے حق میں دعائیں کرتے ہیں ، ان کی حمایت میں احتجاج کرتے ہیں ، اسی طرح سے فلسطینی بھائی اور بہنیں اسرائیلی فوجیوں کے سامنے ڈٹ کر یہ آواز بلند کرتے ہیں کہ ہم اس جنگ میں تنہا نہیں ہیں بلکہ عالمِ اسلام کی حمایت ہمارے ساتھ ہے ، ان کے اندر یہ جذبہ اور امید موجود ہے کہ ایک نہ ایک دن ہمارے مسلمان بھائی ہماری مدد کو ضرور آئیں گے

عجیب بات ہے کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو عالمِ اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ، شام ، اردن ، فلسطینی مسلمانوں نے خوشیاں منائیں ، چراغاں کئے ، مٹھائیاں تقسیم کیں اور فلسطینی بچوں نے اسرائیلی فوجیوں کو للکارتے ہوےء کہا تھا کہ آج ہم بھی ایٹمی طاقت کے مالک بن گئے ہیں ، اب ہمارے پیچھے ہماری مدد کے لئے ایٹمی طاقت موجود ہے- یہ جذبہ فطری بھی تھا کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا ہمدرد ہوتا ہے ، اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا ، اسلامی اخوت کا یہ جذبہ آفاقی بھی ہے- خیر عذاب الٰہی نے ظالم اسرائیل کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اسرائیل گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، حد درجہ نقصان ہوا ہے ، مگر بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف خوشی کا لفظ استعمال کرنا صحیح نہیں ہے میں ایسے لوگوں سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ کیا اس میں کوئی شک ہے کہ اسرائیل ہی تمام فتنہ و فساد کی جڑ ہے اور فلسطینیوں کا قاتل بھی ہے ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر اسرائیل سے ہمدردی کیوں ؟ خیر یہ تو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ ہے اگر اس سے اسرائیل اور دوسرے ملکوں نے سبق نہیں لیا تو ان کو بھی بھیانک اور دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا..
ان شاء اللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close