آئینۂ عالم

عالمی تنظیم تجارت

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

 استعمار نے دنیاپر قبضہ جمانے کے لیے اور اپنا تسلط مضبوط تر کرنے کے لیے خوبصورت ناموں سے مکروہ دھندوں کا آغاز کیا۔اس مقصد کے لیے یہودیوں نے کم و بیش ایک صدی قبل پوری دنیاپر اپنی حکومت کے خواب کی عملی تعبیرکے لیے بین الاقوامی تنظیمیں بنانے کے متعدد منصوبے شروع کیے۔اقوام متحدہ کی چھتری تلے جینوامعاہدے کے دلفریب سرابوں کی حقیقت اب دنیاکے سامنے آہستہ آہستہ نہیں بلکہ بہت تیزی سے کھلتی چلی جارہی ہے۔صحت،تعلیم ،خوراک اور جملہ امور سیاست سمیت امن کے نام پراقوام متحدہ نے پوری دنیا میں سامراج کے تحفظ کے لیے انسانیت کی آنکھوں میں جودھول جھونکی ہے وہ آج روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔آج سے ایک سوسال پہلے دنیامیں بھوک ،ننگ،افلاس اورجہالت سمیت ممالک کے درمیان اس طرح کے کھنچاؤکی کیایہ صورتحال تھی جو آج ہے؟؟کیا آج سے ایک صدی قبل دریاؤں میں انسانی خون بہاکرتاتھا؟؟ کیا دس دہائیوں جیسی مختصر مدت قبل تک بھی کوئی جنگ عظیم ہوئی تھی؟؟اور کیا محض تین نسلوں پہلے کے دور میں سودی معیشیت نے اس طرح کی اندھی مچائی تھی؟؟۔

ان سب سوالوں کے جواب کے لیے کسی عرق ریزی اور تحقیق و جستجو کی ضرورت نہیں ہے ،ہرروز صبح کے اخبار اور ابلاغیات کے ادارے پل پل کی خبروں میں یہودیوں کے ان اداروں کے اصل اور بھیانک چہروں کا ببانگ دہل اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔جس طرح ایک چھوٹی سی بستی کابدمعاش اس بستی میں آنے والے اور وہاں سے جانے والے ہر سامان تجارت پر اپنا جگا ٹیکس وصول کرتاہے اسی طرح عالمی بدمعاش دنیا کی تجارت سے اپنے ناجائز حصے کی وصولیابی اپنا حق سمجھتا ہے خواہ اسے کیسے ہی پر کشش نام دے دے۔ اسی طرح کی ایک تنظیم’’ عالمی تنظیم تجارت(WTO) ‘‘بھی ہے۔

 یہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو ملکوں کے درمیان تجارت کے جملہ معاملات طے کرتی ہے انکی نگرانی کرتی ہے ،نزاعات کا فیصلہ کرتی ہے اوردنیامیں آزادانہ تجارت کویقینی بنانے میں اپنا کلیدی کرداراداکرتی ہے ۔اس تنظیم سے پہلے ایک اور تنظیم ’’جنرل اگریمنٹ آن ٹیرف اینڈ ٹریڈ‘‘(GATT)تھی جو 1947میں دوسری جنگ عظیم کے بعدجینیوامیں وجود میں آئی جس کا مقصد اتنی بڑی جنگ کے تجارت پر پڑنے والے اثرات بد سے دنیاکو بچانا تھا،23ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسکے رکن بنے۔یکم جنوری 1948ء سے ’’جنرل اگریمنٹ آن ٹیرف اینڈ ٹریڈ‘‘(GATT)نے اپنا کام شروع کر دیا تھا بعد میں اقوام متحدہ کی تنظیم ’’بین الاقوامی تنظیم تجارت ‘‘(ITO)بھی اسکے ساتھ مل گئی لیکن دونوں کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آسکے۔ 15اپریل 1994کے دن اس تنظیم کو باقائدہ سے ختم کردیاگیااوران جملہ تجارتی مقاصد کے حصول کے لیے اس پلیٹ فارم کو مزید وسیع کرنے کی خاطر ایک نئی تنظیم بنائی گئی جسے’’عالمی تنظیم تجارت‘‘(WTO)کانام دیاگیا۔اس نئی تنظیم نے اپنی پیش روتنظیم کے تمام معاہدوں کو اپنا کر اپنا دامن مزید وسیع کردیا۔ایک سال سے کم مدت میں ضروری ذمیہ کام نمٹاکریکم جنوری 1995سے عالمی تنظیم تجارت(WTO)اس دنیاکے سامنے اپنے کام کے لیے ہشیارباش ہو گئی۔عالی تنظیم تجارت کے درج ذیل مقاصدمتعین کیے گئے:

 1۔دنیامیں عالمی تجارت کے اصول وضع کرنا اور انہیں لاگوکرنا۔

 2۔عالمی تجارت کوجملہ پابندیوں سے آزادکرنے کے لیے ملکوں اور قوموں کے درمیان گفت و شنید کاپلیٹ فارم مہیاکرنا۔

3۔عالمی تجارت کودرپیش مسائل کا حل تلاش کرنا۔

 4۔عالمی تجارت کی رفتاز کو تیزسے تیز تر کرنا۔

5۔عالمی تجارت کے دیگر اداروں سے تعاون کرنا اور

 6۔ترقی پزیر ملکوں تک بھی اس تنظیم کے فوائد و ثمرات پہنچانا۔

عالمی تنظیم تجارت سے قبل گاٹ (GATT)نے صرف اشیا کی تجارت پر توجہ دی تھی اور ان میں سے بھی زراعت اور کپڑے کی اشیاسے یہ ادارہ متعلق نہیں تھا اس کے مقابلے میں ڈبلیوٹی اونے تمام اشیا کی تجارت کے راستے کھول دیے اور اس کے ساتھ ساتھ خدمات،مشینری اورانسانی وسائل کی منتقلی پر بھی خصوصی توجہ دی۔اس نئی ننظیم نے متعدد دیرینہ مسائل کو بھی حل کیا اور نئی پالیسیاں دیں اور ان پالیسیوں میں وقتاََ فوقتاََ تبدیلی کا طریقہ کار بھی وضع کر دیا۔ ڈبلیوٹی اوکی ان کامیابیوں کی بدولت اب دنیاکے 90%سے زیاد ممالک اس تنظیم کے رکن ہیں اور رکن ہونے کے ناطے اپنے مفادات بھی سمیٹے ہوئے ہیں ۔ ڈبلیوٹی اونے کہنے کو چھوٹے ملکوں کی تجارت میں بڑے ملکوں کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے اقدامات کیے،رکن ممالک کو پابند کیا اپنی منڈیاں بلاتخصیص سب کے لیے کھول دیں ، ڈبلیوٹی اونے تمام ملکوں کی حکومتوں کو پابند کیاکہ وہ مقامی اور بین الاقوامی تاجروں کے لیے جداجداقوانین نہ بنائیں اور باہر سے آنے والے سرمایادوروں کو بھی متوازی مراعات مہیاکریں ۔ ڈبلیوٹی اونے ممالک کے اندر ٹیکسوں کی بھرمارکو بھی ختم کرنے کی کوشش کی اور یوں چاہا کہ پوری دنیامیں آزادانہ تجارت اور مساویانہ مواقع کو فروغ دیاجائے تاکہ اس کے نتیجے کے طور پردنیابھرمیں خوشحالی آئے اوراس طرح ممالک کے درمیان سیاسی تنازعات کے حل کا راستہ بھی کھل جائے۔

 کوئی بھی ملک جملہ شرائط پوری ہونے پراس تنظیم کی رکنیت اختیار کر سکتا ہے جس میں کم و بیش پانچ سال کی مدت درکار ہوتی ہے۔رکنیت کاخواہشمند ملک پہلے ڈبلیو ٹی اوکی جنرل کونسل میں درخواست رکنیت دائر کرتاہے،اور اپنے تجارت سے متعلق تمام ترجیحات کی وضاحت بھی کرتاہے جس کے دستاویزی ثبوت اس درخواست کے ہمراہ منسلک ہوتے ہیں ۔اس درخواست کو ڈبلیو ٹی اوکی یادداشتوں میں شامل کرلیاجاتاہے اور تنظیم کے کچھ ماہرین اس کاجائزہ لیتے ہیں کہ اس ملک کے تجارتی وسیاسی قوانین کا ڈبلیو ٹی اوکے اصول و ضوابط سے کوئی ٹکراؤ تو نہیں ؟؟ہاں کی صورت میں اس ملک کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں اور اسے ایک مناسب وقت دیا جاتا ہے تاکہ وہ متعلقہ قانون سازی کر سکے ۔متعلقہ شرائط پوری ہو نے پر جنرل کونسل اس ملک کی رکنیت کی توثیق کر دیتی ہے اور وہ ڈبلیو ٹی اوکا رکن تصور ہونے لگتاہے۔

 ڈبلیوٹی اوکی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ مختلف ملکوں کی تجارتی پالیسیوں کی نگرانی کرے گی اور ان پالیسیوں کو عالمی پالیسی سے قریب تر لانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔معاشیات سے متعلق تحقیقی امور بھی اس ادارے کے ذمے ہیں اس ضمن میں یہ ادارہ پوری دنیا کی معیشیت پر اپنی گہری نظر رکھتا ہے اور اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں اسے شائع کرتا ہے نیز اس ادارے سے متعدد تحقیقی وتجزیاتی جریدے بھی شائع ہوتے رہتے ہیں ۔اپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے یہ ادارہ آئی ایم ایف اور ولڈ بنک سے بڑے گہرے تعلقات کار رکھتا ہے۔ ڈبلیوٹی اومیں اگرچہ متعدد کمیٹیاں ہیں لیکن اس تنظیم کے فیصلے کمیٹیوں میں اراکین کی کثرت رائے سے نہیں ہوتے بلکہ یہ تنظیم اپنے پلیٹ فارم پرایسے ممالک کو جمع کرتی ہے جن کے درمیان کسی بھی طرح کے تجارتی معاہدات ممکن ہو سکتے ہیں مثلاََ ایک ہی جغرافیہ کے حامل ممالک یا ایسے ممالک جن میں ایک کی کارخانوں کی ضروریات دوسرے ممالک پوری کر سکتے ہوں یا کچھ ممالک کی زرعی پیداوار دوسرے ممالک کی خوراک کی ضروریات پوری کرسکتی ہوں ، ڈبلیوٹی اوایسے ممالک کے درمیان مناسب شرائط پر معاہدے کراتی ہے۔ایسے معاہدے ’’گرین روم‘‘کہلاتے ہیں اور جینوامیں ڈائرکٹر جنرل کادفتر ان کی توثیق کردیتاہے۔اکثر ممالک اس طرح کے معاہدات پر اعتراض بھی کرتے ہیں کیونکہ انکے مفادات متاثر ہو رہے ہوتے ہیں چنانچہ اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے  ڈبلیوٹی اوکے اپنے ادارے ہوتے ہیں جہاں وہ ان ممالک کو بٹھاکر ان کے تنازعات کا فیصلہ کردیتے ہیں ان اداروں کو ڈی ایس بی پینلزکہاجاتا ہے اگر یہاں بھی متعلقہ ممالک کی تسلی نہ ہو تو  ڈبلیوٹی اوکے اپنے اپیل کے ادارے ہیں جہاں ان شکایات کی شنوائی ہوتی ہے اور بہت اعلی درجے کے معاشی و تجارتی ماہرین اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث ان نزاعات کو حل کر دیتے ہیں ۔

 بے روزگاری،مہنگائی،کساد بازاری،افراط زراور سرمایادارانہ اجارہ داری وہ مکروہ تحفے ہیں جو اس تنظیم نے انسانیت کو دیے ہیں ۔ان تحفوں کے نتیجے میں پوری دنیا میں مشرق سے مغرب تک بے چینی کی ایک لہر ہے جو کل انسانیت میں پھیلتی ہی چلی جارہی ہے۔سود در سودکا نظام اوردولت کا چند ہاتھوں میں سمٹنا وہ مقاصد ہیں جو اس تنظیم نے قرطاس ارض پر رقم کیے ہیں ۔اب صورتحال یہاں تک پہنچی ہے خود مغربی ممالک اس نظام کا آخری نشانہ بنتے چلے جارہے ہیں ،دنوں دنوں میں بیسیوں مالیاتی ادارے زمین بوس ہو رہے ہیں ،بنک دیوالیہ ہو رہے ہیں اور دولت کے حریص گویا ایسے ہو گئے ہیں جیسے شیطان انہیں چھو کر باولا کر دیاہو۔سلام ہوں اﷲ تعالی کے مقدس نبیوں پر اور خاص طو رپر محسن انسانیت ﷺپر جنہوں نے استحصال سے پاک معاشی نظام انسانیت کو عطا کیا اور لوٹ مار چھین کی بجائے اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے بہتر گردان کر زرودولت بانٹنے کی ترغیب دی اور زکوۃ و صدقات سے مزین معاشرہ تشکیل دے کر طبقاتی کشمکش کا خاتمہ کردیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close