آئینۂ عالم

عجیب الہیئت ٹرمپ کی عجیب و غریب جیت

عبدالعزیز

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کئی پارٹیوں کے امیدواروں کے علاوہ ایک آزاد امیدوار نے بھی حصہ لیا مگر حسب سابق دو پارٹیوں یعنی ڈیموکریٹس کے امیدوار ہیلری کلنٹن اور ریپبلکن ڈونالڈ ٹرمپ میں ہی مقابلہ تھا۔ 2016ء کے الیکشن میں مقابلہ کیلئے ٹرمپ کے آنے سے الیکشن خوفناک ہوگیا۔ ٹرمپ ایک ارب پتی تاجر ہیں۔ سیاست سے ان کا کبھی تعلق نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کی پارٹی کے بزرگ انھیں امیدوار کیلئے نامزد نہیں کرنا چاہتے تھے ، ا س کے باوجود وہ ڈرامائی انداز سے پارٹی کے امیدوار ہوگئے اور اپنی انتخابی مہم کا آغاز جارحانہ انداز سے کیا جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر بھی کنفیوژن رہا مگر شومیِ قسمت سے الیکشن میں کامیابی حاصل ہوگئی۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے برعکس ہیلری کلنٹن ایک پیشہ ور قانون داں ہیں اور حریت پسند سماجی کارکن کی حیثیت سے برسہا برس سے کام کرتی رہی ہیں۔ امریکہ کی خاتونِ اول کی حیثیت سے بھی سیاست میں دخیل تھیں۔ امریکہ کی خارجہ سکریٹری بھی رہ چکی ہیں۔ ایک حوصلہ مند اور جرأتمند خاتون ہیں۔ بڑے بڑے چیلنجز سے ان کا سابقہ پڑا ہے۔ ایک قابل اور باصلاحیت خاتون کا مقابلہ ایک ناہنجار اور نا اہل قسم کے مرد سے تھا جو زن بیزار اور اقلیت کی دشمنی کے ساتھ بیرون ملک کے لوگوں سے شدید قسم کی نفرت رکھتا ہے۔ رنگ و نسل کے امتیاز میں شہرت حاصل ہے۔ سفید فاموں کی برتری کے قائل ہے۔سیاہ فاموں سے نفرت ہے۔ ان سب خرابیوں کے باوجود اس کی جیت امریکہ کے عوام کیلئے ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کیلئے بدقسمتی ہی کہی جائے گی۔امریکہ کی معیشت خراب تر ہوگئی ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی اور ناامیدی کا احساس پایا جاتا ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کا فائدہ اٹھایا اور عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے کہ وہ بے روزگاری کو ختم کر دیں گے اور باہر کے لوگ جو امریکہ میں کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکن کا حق مارا جاتا ہے اس کے تدارک کیلئے بہت سے لوگوں کو باہر کا راستہ دکھائیں گے۔ سابق صدر کلنٹن نے ٹرمپ کی کامیابی پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’معیشت کی بدتری نہیں بدمعاشی کی جیت ہے‘‘۔
ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران جس طرح کی تقریریں کر رہے تھے اس سے دنیا بھر کے مہذب افراد کو امید تھی کہ امریکہ کی سوسائٹی جو تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے ایسے بدتہذیب اور انسانیت دشمن کی حمایت نہیں کرے گی مگر ایسا لگتا ہے کہ امریکن پڑھے لکھے جاہل ہیں جسے عقلمندوں کی جہالت ہی کہی جائے گی کیونکہ ٹرمپ جیسے فرد کی لوگوں نے حمایت کی۔ اگر چہ ہیلری کلنٹن کو ڈونالڈ ٹرمپ سے 2 لاکھ ووٹ زیادہ ملے مگر امریکی جمہوریت میں کالج الیکٹرول سسٹم ہے جس میں نمائندے حصہ لیتے ہیں۔ اگر ایک ووٹ بھی کسی ریاست میں کسی امیدوار کو زیادہ مل گیا تو اس ریاست کی ساری نمائندگی اس شخص کے حصہ میں شمار کی جائے گی۔ یہ امریکن جمہوریت کی زبردست خامی ہے جس کی وہ اصلاح کسی وجہ سے نہیں کرنا چاہتے۔
ٹرمپ کی پوری مہم منفی پہلو لئے ہوئے تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام میں جو بے چینی اور غصہ تھا اس کی پیاس ٹرمپ اپنی تقریروں سے بجھانے میں کامیاب ہوئے۔ جس طرح ہندستان کے ٹرمپ ہندستان کے عوام کو بڑے بڑے خواب دکھاکر آج گدی پر بیٹھ کر ڈرامائی کرتب دکھا رہے ہیں ۔ جہاں تک امریکہ کے معاشی نظام کی بات ہے تو وہ یقینا اب لڑکھڑا چکا ہے ۔ امریکہ سرمایہ داروں کا سردار ہے۔ اب اس کی سرداری کے شر کا پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے۔ دنیا کے ممالک خاص طور سے مسلم ممالک کو اپنی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے نشانہ بنائے ہوئے ہے ۔کئی عرب ممالک امریکہ کی سرمایہ داری کو اپنے عوام کے خون پسینے کی کمائی ہوئی رقم سے دودھ پلا رہے ہیں جس کی وجہ سے نظام ٹکا ہوا ہے مگر لرزہ بر اندام ہے، کسی بھی وقت نظام لڑکھڑا کر گرسکتا ہے۔ ٹرمپ نے جو خواب دکھایا ہے وہ محض خواب ہے جو جلد ہی امریکی عوام دیکھیں گے کہ ان کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔ امریکہ سامراجیت اور سرمایہ داری کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اسکی خارجہ پالیسی بہت حد تک ناکام ہوچکی ہے۔جس دن ان مسلم حکمرانوں کی آنکھیں جو بند ہیں عوام کی بیداری مہم سے کھلیں گی اس دن امریکہ کی سفید پوشی کی قلعی دنیا کے سامنے کھل جائے گی۔ نظام عدل صرف اسلام میں ہے نہ اشتراکیت کے معاشی نظام میں توازن ہے اور نہ ہی سرمایہ داری کے نظام میں عدل اور توازن ہے۔ روس میں اشتراکی نظام کی ناکامی دنیا کے سامنے آچکی ہے جہاں اشتراکیت کا جنم ہوا وہاں آج اشتراکیت پریشان حال ہے۔ اب وہ کبھی امریکہ کے سر میں سر ملاتا ہے تو کبھی برطانیہ کی ہم نوائی کرتا ہے۔ روس کے اشتراکی نظام کا جو انجام ہوا اس سے برا انجام امریکہ کی سرمایہ داری نظام کا ہونے والا ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے چھوٹے بڑے بش تھے۔ چھوٹے بش نے نیا نظام (New Order) قائم کرنے کا خواب امریکیوں کو دکھایا تھا اور دہشت گردی کے نام پر عراق اور افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ دونوں ملکوں میں امریکہ کو اپنی پالیسی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اب بش کی طرح ٹرمپ بھی اچھل کود کرسکتے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی اگر چہ ہندستان کے حق میں نظر نہیں آتی مگر فرقہ پرستوں کی لابی ٹرمپ کی مسلم دشمنی کی وجہ سے ٹرمپ کی ستائش کر رہی ہے اور ان کی جیت پر شادیانے بجارہی ہے، مگر اسے جلد معلوم ہوجائے گا کہ ٹرمپ امریکہ میں غیر ملکیوں کیلئے جس میں ہندستانی بھی شامل ہیں کیا قہر ڈھاتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close