آئینۂ عالمآج کا کالم

عظیم جمہوریت ہندوستان  کے لیے نیم جمہوری اردن سے سامان عبرت

کاش کہ یہ عظیم جمہوریت  مشرق وسطیٰ کی  ننھی سی جمہوریت سبق سیکھتی اور اپنے عوام کی  شکایات پر توجہ دے کر ان فلاح و بہبود کی سعی کرتی۔  

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی کو دنیا کی سیر کرنے کا شوق ہے۔ اس کے چلتے انہوں نے امسال فروری میں امارات، اردن  اور فلسطین کا دورہ کیا۔ اس دورے کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے جگر گوشے  اسرائیلی وزیراعظم  نتن یاہوسے ملاقات کیے بغیر لوٹ آئے۔ اس کے  بعد  ماہِ مارچ میں اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے  ہندوستان کا  دورہ  کیا اور مختلف شعبوں میں ۱۲ معاہدوں پر دستخط کیے۔  اس موقع پر مہمان  کے اعزاز میں وگیان بھون میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ مسلم قائدین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جن میں مختار عباس نقوی، سید غیور الحسن رضوی، شیخ ابو بکر احمد، مولانا سید کلب صادق، ڈاکٹر مفتی مکرم احمد،مولانا امام مہدی سلفی، ڈاکٹر شہزادہ بھائی عزالدین،  سید زین العابدین، پروفیسر اختر الواسع اور مولانا محمود مدنی بھی موجود تھے۔

اس کانفرنس میں شاہ عبداللہ دوم نے ’’اسلامی ورثہ، مفاہمت اور میانہ روی کی ترغیب‘‘ کے عنوان پر دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے پر جامع تقریر کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں شاہ عبد اللہ ثانی کا خیر مقدم کرتے ہوئے  کہا تھا کہ آپ نے جس سادگی کے ساتھ ہندوستان کی دعوت قبول کی اس کے لئے ہم شکر گزار ہیں۔ اردن خدا کی پاک سرزمین ہے جہاں سے پیغام امن و اتحاد پوری دنیامیں پھیلایا جاتا ہے۔ہم آپ کی قیادت میں عالمی امن کے لئے اور دہشت گردی و تشدد کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے  تیار ہیں۔  دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے شاہ عبداللہ کو قائد مان لینا ایک فریب ہے اس لیے کہ وہ خود اس بابت کوئی اہم کردار ادا نہیں کرسکتے لیکن اگر ان جیسا کوئی  سربراہ  مملکت اگر ہندوستان میں موجود ہوتا  تو مودی جی کب کے بن باس پر بھیج دیئے جاتےکیونکہ شاہ عبداللہ دوم نے ملک میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے پیش نظر وزیراعظم ہانی الملقی کے استعفے کو قبول کرتے ہوئے معروف اصلاح پسند رہنما کو نیا وزیراعظم بنانے کی تجویز  پارلیمان کودے چکے ہیں۔

اردن میں عالمی مالیات فنڈ (آئی ایم ایف) کی ہدایت کے مطابق معاشی اصلاحات کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی کے خلاف گزشتہ  چند دنوں  سے احتجاج جاری تھا۔ مظاہرین وزیراعظم کےاستعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے۔ مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کی معاشی حیثیت کم تر کردی گئی ہے  اور انھیں ٹیکس کے مطابق خدمات نہیں دی جاتیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی جانب سے پارلیمان میں بھیجے گئے ٹیکس بل کی واپسی تک احتجاج جاری رکھیں گے،یہ حکومت شرم ناک ہے،  ہمارا مطالبہ جائز ہے اور ہم کرپشن کی اجازت نہیں دیں گے۔مختلف تنظیموں کے مشترکہ  سربراہ علی ابوس نے کہا تھا کہ ’ہم کسی شخص کی انفرادی تبدیلی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں ‘۔

اردن حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس قانون پر ایک  مسودہ تیار کیا گیا تھا جو ہنوز پارلیمان میں  منظور نہیں ہوا، تاہم اس قانون کا مقصد ملازمین پر ۵ فیصد جبکہ کمپنیز پر ۲۰ تا ۴۰  فیصد کے درمیان ٹیکس بڑھانا تھا۔ جنوری سے اردن میں بڑے پیمانے پر بےروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور روز مرہ کی اشیا جیسے ڈبل روٹی  اورایندھن کی قیمتیں بڑھائی گئیں جبکہ بجلی کے بلوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے خلاف عوام نے  شاہ عبداللہ دوئم پر زور دیا کہ وہ ایسے حکام کے خلاف کارروائی کریں۔ عوام کے مطالبات کی جانب توجہ دیتے ہوئے اردن کے شاہ عبداللہ نے وزیر اعظم ہانی ملکی کو اپنے محل طلب کرکے ان کا استعفیٰ لے لیا۔ اس ایک نیم جمہوری ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری  کے مسئلے پر وزیراعظم کی چھٹی کردی گئی۔ وزیراعظم ملقی کا استعفیٰ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک وکیل حاتم جرارنے کہا کہ’ یہ اردن کے عوام کی جیت ہے جو حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے‘۔

کیا دنیا کی عظیم ترین جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے ملک ہندوستان میں بدعنوانی کا آسیب اردن سے چھوٹا ہے؟ دنیا بھر کے ۱۸۰ ممالک میں اردن ۵۹ ویں مقام پر ہے جبکہ ہندوستان کا نمبر ۸۱ ہے۔ کیا یہاں مہنگائی آسمان کو نہیں چھورہی ہے؟ کیا یہاں ٹیکس میں بے شمار اضافہ نہیں ہورہا ہے؟ کیا عوام کو ان کے ٹیکس کے عوض مناسب  سرکاری سہولیات مل رہی ہیں یا ارباب اقتدار کی نذر ہورہی ہیں ؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو ہم احتجاج کیوں نہیں کرتے ؟ اپنے وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ شاید اس لیے کہ  ہم من حیث القوم ہم لوگ  مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں۔ اناّ ہزارے کی تحریک کے سہارے اقتدار پر قابض ہونے والے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے لوک پال کا تقرر تک کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔

 آج ملک کا  کسان سڑکوں پر اترا ہواہے۔ مندسور میں گزشتہ سال  پولس فائرنگ سے مرنے والے۶ کسانوں کی برسی منائی جارہی ہے جہاں ۲ لاکھ کسان جمع ہورہے ہیں ۔ یہ احتجاج یکم مئی سے جاری ہے لیکن وزیراعظم کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ ان کا ٹوئٹر حرکت میں نہیں آیا۔ وزرائے مملکت اس احتجاج کو تشہیری مہم قرار دے رہے ہیں۔ کاش کہ ہمارے صدر مملکت کے اختیارات بھی شاہ عبداللہ دوم کی طرح ہوتے اور اس صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے میدان عمل میں آتےلیکن وزیراعظم کی مرضی سے منتخب ہونے والے صدر سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟  کاش کہ یہ عظیم جمہوریت  مشرق وسطیٰ کی  ننھی سی جمہوریت سبق سیکھتی اور اپنے عوام کی  شکایات پر توجہ دے کر ان فلاح و بہبود کی سعی کرتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close