آئینۂ عالم

 فلسطین اسرائیل تنازعہ اور امریکی صدارتی امیدوار

مولانا محمد کلیم اللہ حنفی

            گزشتہ روز نیویارک میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے طویل ملاقات کی جس میں مختلف سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کویہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ امریکی صدر بننے کے بعدتل ابیب کے بجائے بیت المقدس کو غیر منقسم اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیں گے۔ نیتن یاہو سے اس ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بیت المقدس پچھلے تین ہزار سال سے یہودیوں کا دارالحکومت رہا ہے اور میرے صدر بن جانے کی صورت میں امریکی کانگریس بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا ’’ابدی دارالحکومت‘‘تسلیم کرتے ہوئے اس کا طویل المدتی مینڈیٹ بھی قبول کرلے گی۔ انہوں نے اس ملاقات میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو امریکی فوجی تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک فلسطینی ریاست کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر جاری ’’اسلامی دہشت گردی‘‘کے خلاف جنگ میں اسرائیل کو امریکہ کا ’’اہم اتحادی‘‘بھی قرار دیا۔

            اس سے قبل وہ یہودیوں کی نمائندہ تنظیم ’’ایپک‘‘کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کے دوران اس طرح کی باتیں کہہ چکے ہیں۔ خوشامدانہ سیاست کی بنیاد پر یہودیوں کی چاپلوسی کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک بھی کہا کہ میری بیٹی نے یہودی مذہب قبول کر لیا ہے۔ جلد ہی میرے ہاں ایک خوبصورت یہودی بیٹا بھی پیدا ہوگا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہودی صرف اسے ہی یہودی مانتے ہیں جو نسلا یہودی ہو، اگر کوئی نسلا پیدائشی طور پر کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور بعد میں یہودی بننا چاہے تو وہ اسے یہودی تسلیم ہی نہیں کرتے۔ اپنی متوقع خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی اوقیانوس کے عسکری اتحاد’’ناٹو‘‘ کی بھرپور حمایت کے عزم کا اظہار خیال بھی کیا اور کہا کہ امریکہ نے اتحادیوں کی مدد کے لیے اپنی ضرورت سے زیادہ تعاون کیا ہے۔ ناٹو کی بھی بھرپور امداد کی گئی۔ اب اتحادیوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ فلسطینیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فلسطین کے عوام کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم ودائم رہیں گے۔ فلسطینیوں کو اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں بند کرنا ہوں گی اور انہیں اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے ایک یہودی ریاست تسلیم کرنا پڑے گا۔

            یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی دوسری صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے حل کے لیے سلامتی کونسل یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے حل مسلط نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہیلری کلنٹن نے اپنے بیان میں اس کی وضاحت کی ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کے لیے اوباما سے بڑھ کراقدامات کریں گی۔

            یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت بھی امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی مالی امداد اور جدید ترین اسلحے کی فراہمی جاری ہے اور امریکی وسائل سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے والا ملک بھی اسرائیل ہی ہے۔ جدید ترین اور سب سے مہنگا امریکی لڑاکا طیارہ ’’ایف 22 ریپٹر‘‘ اگرچہ صرف امریکی فضائیہ کیلئے بنایا گیا ہے لیکن مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق یہ اسرائیل کو بھی  بلاقیمت دیا جائے گا، جبکہ مشہورِ زمانہ ایف 16 لڑاکا طیارے کا جدید ترین ورڑن ’’ایف 16 آئی‘‘ (F-16I) بطورِ خاص اسرائیل ہی کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد بیت المقدس کے مغربی حصے پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا اور 1980 میں اسے ’’متحدہ اسرائیل‘‘ کا دارالحکومت بھی قرار دے ڈالا تھا۔ لیکن امریکہ سمیت اقوامِ متحدہ کے بیشتر رکن ممالک نے اسرائیل کا یہ فیصلہ آج تک قبول نہیں کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ جب تک فلسطین کے ساتھ اسرائیل کے امن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے تب تک بیت المقدس کی حیثیت کا کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

            اگرچہ اس دقت دنیا بھر کے سیاسی و دفاعی تجزیہ نگار اور مبصرین امریکہ کے مستقبل کے بارے بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں لیکن  جہاں تک ہمارا خیال ہے کہ امریکہ میں آنے والا وقت اور سیاسی تبدیلیاں پہلے سے زیادہ اہل اسلام کے لیے خطرناک ہوں گی۔ موجودہ منظر نامہ آنے والے مستقبل کا خاکہ پیش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں اسلامی ممالک پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے مضبوط حکمت عملی سے کام لیں اور امریکی تسلط سے جان چھڑانے کے لیے مستحکم اقدامات کریں۔ ورنہ خاکم بدہن امریکہ کا بدمست ہاتھی انہیں روند ڈالے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد کلیم اللہ حنفی

مولانا محمد کلیم اللہ حنفی مرکزی سیکرٹری اطلاعات عالمی اتحاد اہل السنت والجماعت ہیں۔

متعلقہ

Close