آئینۂ عالمآس پاس

فِفتھ جنریشن وار اور ہمارا گھر

منیر احمد خلیلی

اُمّتِ مسلمہ اقتصادی اور عسکری اعتبار سے بے حد کمزورہے۔ رہبرانِ ملّت بے حِس، بے حکمت وبے تدبیرہیں۔ وہ اخلاقی حدود جن کا تعین ازلی طور پر مذہب کرتا آیا ہے اب ان کی توضیح و تعریف کا اختیار دولت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ سرمائے اوردولت ہی نے طبقہ ٔ ِ اشرافیہ کی تخلیق کی ہے۔ اس طبقے کے طور اطوار اور چال چلن کو دولت ہی اعتبار بخشتی ہے۔ جس کے پاس دولت ہو وہی صاحبِ عزت قرار پاتاہے۔ ایک پنجابی کہاوت ہے’: جنہاں دے گھر دانے انہاں دے کملے وی سیانے ‘یعنی جن کے گھر میں اناج کی فراوانی یا موجودہ دور میں روپے پیسے کی کثرت ہے ان کے احمقوں کو بھی داناسمجھا جاتا ہے۔ اس فارمولے کے مطابق دولت عقل مند ی کا معیار ہے۔ سیاست امورِ مملکت اور معاملاتِ ریاست کا سب سے بااثر اور طاقتور شعبہ ہے۔ دولت اور سرمائے نے سیاست کو یرغمال بنا لیا ہے۔

جمہوریت عوام کی مرضی، رائے یا آواز کا نام ہے۔ متموّل طبقوں نے بڑی عیاری سے سیاست پر قابض ہو کر جمہوریت کی روح مار دی ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں۔ تحریکِ انصاف نے electables کے نام سے متعارف ہونے والی مخلوق کو ٹکٹ دیے۔ اپنی دانست میں مستقبل کے وزیر اعظم عمران خان کا فلسفہ ہے کہ ان کو قبول کرنا مجبوری ہے کیوں کہ یہ لوگ الیکشن جیتنے کی سائنس جانتے ہیں۔ بے تحاشا دولت کے بل پر ان ’سائنس دانوں ‘ کے منتخب ہونے کا امکان ہے۔ یہ مخلوق جس سیاسی نظام کا حصہ بنے گی وہ democracy نہیں بلکہ plutocracy ہو گا۔ یعنی ایسا نظام جس کا قیام اور انتظام طاقتور اور دولت مند اشرافیہ کے ہاتھوں ہو اور اسی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری فوج کے جرنیلوں اوراعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا تعلق یاتو ہوتا ہی اس طبقۂ ِ اشرافیہ سے ہے یا ملازمت کے دوران کی تنخواہوں اور بے پناہ مراعات اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات کی وجہ سے وہ اس اشرافیہ میں شمار ہونے لگتے ہیں۔ عوام اور اس اشرافیہ کے درمیان ایک بہت بڑی طبقاتی خلیج حائل رہتی ہے۔ عوام کے لیے یہ توممکن نہیں کہ وہ اس اشرافیہ کے ہمسر ہو جائیں لیکن موجودہ سماجی اور سیاسی رویوں نے ہمسری کی ایک اور صورت پیدا کر دی ہے۔ نیچے سے اوپر تک سارامعاشرہ خود غرضی، نفس پرستی، حرص و ہوس اور جلب و حصولِ زر کی دوڑمیں شامل ہو گیا ہے۔ مذہبی لیڈر اور روحانی پیشوا تک بھی اس دوڑ میں پیش پیش ہیں۔ یہ ہماری وہ اجتماعی صورت حال ہے جس میں دنیا کے اندر Fifth Generation Warfare کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ جنگ کا یہ نیاتصور پیش کرنے والوں کے خیال میں افریقہ، جنوبی ایشیا میں خاص طور پر پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک، بالخصوص خلیجی  ریاستیں اس جنگ کا میدان بن سکتی ہیں۔

ففتھ جنریشن وارکے حوالے سے ’احتیاطی تدابیر‘ کے طور پر آج کل میڈیا ایک غیر علانیہ سنسر شپ کی زد میں ہے۔ کچھ زیادہ سر پھرے اور آزادیِ رائے کے جنون میں مبتلا اینکرز، کالم نویسوں اور خبر نگاروں پر راتوں رات کوئی ان دیکھی افتاد آ پڑتی ہے اور ان کے ہوش ٹھکانے آ جاتے ہیں۔ لکھنے والے خوف کی ایک ایسی کیفیت میں مبتلا ہیں جس کا سخت سے سخت آمریت میں بھی کبھی انہیں تجربہ نہیں ہوا تھا۔ تشدد اور ہراسگی کے مسلسل واقعات ہو رہے ہیں۔ missing personsکی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سوشل، پرنٹ اور برقی میڈیا کی بے محاباآزادی غیر ریاستی جنگجووں کے ان جذبات ا ور احساسات اور رویوں کی آگ پر تیل کا کام کر رہی ہے جو ففتھ جنریشن وار کا موضوع ہیں۔ سماجیاتی اور عسکری دانشوروں کے نظریے کے مطابق ففتھ جنریشن وار نہ تو کسی انقلاب کے لیے ہے، نہ یہ روس اور امریکہ کے خلاف کھڑی ہونے والی کوئی جہادی تحریک ہے اور نہ القاعدہ اور داعش کی طرز کی دہشت گرد ی کی کوئی لہر ہے۔ یہ غربت، محرومی، استحصال، ریاستی و عدالتی نا انصافیوں کے شدید احساس سے پھوٹنے والا ہیجان و اضطراب ہے۔ بے چینی کی ایک کیفیت ہے۔ بغاوت و سرکشی کا اندر ہی اندر کھولنے والالاواہے جواگر پھٹ پڑا تو ریاستوں کی جغرافیائی سرحدوں کا پابند نہیں رہے گا۔ القاعدہ کا سراغ لگایا جا سکتا تھا، داعش کے کیمپوں کی نشاندہی ہو سکتی تھی، جہادیوں کی گوریلا سرگرمیوں کا کھوج لگانا ممکن تھا لیکن ففتھ جنریشن جنگجووں کے باطن میں اٹھنے والے مایوسی اور غم و غصہ کے وہ بادل جو برس کر مشرق و مغرب کے حکومتی ایوانوں کو ہلا مار سکتے ہیں انہیں ناپنے کا کوئی آلہ ایجاد نہیں ہوا۔ ہمارے عسکری تھنک ٹینکس اور ففتھ جنریشن وار سے نمٹنے کے منصوبہ ساز سخت غفلت کا شکار سمجھے جائیں گے اگر وہ دہکتی چنگاریوں کی تپش محسوس نہیں کر رہے ہیں جو کسی وقت بھی شعلوں میں بدل سکتی ہیں۔

ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح کے خالق اور اس موضوع کے اولین مصنف امریکہ کے عسکری حلقے ہیں۔ انہوں نے ہی سب سے پہلے ممکنہ ففتھ جنریشن وار کا تصوراتی بگل بجایا اور وہیں سے اس موضوع پر کتابوں اور اخباری مقالوں کی صورت میں خطرے کی گھنٹیاں بجیں۔ چونکہ امریکہ کی وحشیانہ پالیسیوں کی وجہ سے دنیا میں سب سے زیادہ نفرت اسی سے پائی جاتی ہے۔ اس لیے امریکہ کو ڈر ہے کہ وہ ففتھ جنریشن وار کے جنگجووں کا بڑا ہدف بن سکتا ہے۔ چنانچہ پیش بندی اور مقابلے کی تیاری بھی سب سے زیادہ امریکہ میں ہی بتائی جاتی ہے۔ داخلی محاذ پر سفید فام امریکی عوام جنہوں نے صدر ٹرمپ کو منتخب کیا وہ یہ ادراک نہیں کر سکے تھے کہ امریکی آبادی کی دیگر درجنوں اکائیوں میں سفید فاموں کے خلاف ردِّ عمل پیدا ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو سفید فام سرمایہ دار امریکی اشرافیہ کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہاں نفرت و حقارت کے بھنور اٹھنے لگے تو گوناں گوں نسلوں اور رنگوں کے اس ملک کا سماجی ڈھانچہ درہم برہم ہو سکتا ہے۔ رد عمل کے ابتدائی بگولے اظہارِ رائے کے مراکز سے اٹھتے صدر ٹرمپ کو بھی نظر آ رہے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر آزادانہ اظہارِ رائے سے خائف بھی ہیں اوراس پر برہم بھی۔ وہ ملک کے ایک بااثر اخبار نیویارک ٹائمز سمیت رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے بڑے اخبارات پر برس رہے ہیں۔

ففتھ جنریشن وار کے جنگجوبجا طور سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ عسکری اور عدالتی نظام سرمایہ دار سیاسی اشرافیہ کے مفادات کا محافظ ہے۔ اس لیے نہ وہ ریاست اور حکومت پر اعتبار کرتے ہیں ، نہ ان کا عدلیہ پر اعتماد ہے اور نہ وہ فوج کو قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں۔ ادھر اگر عدالتی اور سیاسی اشرافیہ غفلت میں ہے تو کم از کم عسکری اشرافیہ اس امر سے بے خبر نہیں ہونی چاہیے کہ ففتھ جنریشن وار کے خطرے کوابھارنے والے جذبات اسلحہ سے زیادہ مہلک چیزہیں۔ فاٹا سے منظور پشتین کی قیادت میں ’پشتون تحفّظ موومنٹ ‘ اس نوعیت کا پہلا ظاہرہ   (phenomenon)ہے۔ یہ اگر مقبول ہو کر پھیلتا گیا تو سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ’مشرقِ وسطیٰ میں ’عرب بہار‘ کے پھول کھلتے ہی کچل دیے گئے تھے۔ آزادی اور روٹی کے نعرے کا گلا گھونٹ دیا گیا جذبات دبا تو دیے گئے مٹائے نہیں جا سکے تھے۔ زیرِ سطح ایک گرداب جوش میں ہے۔ یہ جب پوری قوت سے وہ سطح پر نمودار ہو گا تو بادشاہتوں ، امیریوں ، سلطانیوں اورفوجی آمریتوں کے قصور و ایوان کی کو بہا کر لے جائے گا۔ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے کہ ففتھ جنریشن وارکے وقوع کی پیش گوئی کرنے والے ماہرین اس کابڑا متوقع ’میدانِ جنگ ‘افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بتاتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت میں کارپوریٹ سیکٹر کا غیر معمولی پھیلائو دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وہاں اس کے خلاف مزاحمتی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ لیکن ان سطور کے راقم کو اس موضوع پر قلم اٹھانے پر اپنے وطن کے حالات نے مجبور کیا ہے۔ اپنی بہادر افواج کے شجاعانہ کارنامے ہمارے لیے موجبِ فخر ہیں۔ دفاعِ وطن میں ان کی بے مثال قربانیاں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ خارجی جارحیت ہو یا داخلی محاذ پر خطرات کے بادل امڈیں ، ہمیں اطمینان ہوتا ہے کہ ہماری افواج  چوکس ہیں۔ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بایں ہمہ ہمارے لیے ایک پہلو حد درجہ تشویش کا بھی ہے۔ ایوب خان جیسے فوجی افسروں اور سول بیوروکریسی کے کچھ کارندوں کے دماغوں میں تأسیس وطن کی بالکل ابتدا ہی میں اپنی بالادستی کا خنّاس بیٹھ گیاتھا۔ ان کے اندرہوسِ اقتدارکی علامتیں قائدِ اعظم ؒ کی زندگی میں ہی نظر آنے لگی تھیں۔ بابائے قوم کی رحلت کے معاً بعد انہوں نے ملی بھگت سے سیاسی عمل  میں روڑے اٹکانے اور سیاسی حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ کا مکروہ کھیل شروع کر دیاتھا۔ قیامِ پاکستان کے صرف گیارہ برس بعد ہی ایوب خان نے فوجی انقلاب کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کر لیاتھا۔ جس طرح ایک ملک کی دیر پا یا دائمی state policyہوتی ہے عین اسی طرح فوج نے جوازِ تولیتِ اختیارات کا ایک ڈاکٹرائن از خود وضع کر لیاتھا۔ تب سے اب تک سیاست کو فوج کے تابع رکھنا ایک مستقل institutional policyہے۔

 ملکی تاریخ کے تقریباًستّر برسوں میں کم و بیش تیس سال تو ملک براہِ راست فوجی آمریت کے شکنجے میں رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے پانچ مکمل برسوں کے علاوہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی اڑھائی اڑھائی تین تین سال اور 2008 سے 2018 تک پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی جوسیاسی حکومتیں قائم رہیں ان پربھی جس غیر مرئی مخلوق کا دہشت ناک سایہ رہا وہ فوج ہی تھی۔ چنانچہ گھٹن، تنائو، غربت و افلاس، محرومی و مایوسی، وحشت اور جبر، سختی اور زیادتی اور سماجی ناہمواری اور نا انصافی جیسے معاشرتی اور نفسیاتی عوامل جن کی وجہ سے ففتھ جنریشن وار کی راہ ہموار ہوتی ہے ان کی ذمہ داری سے فوج مبرّا نہیں ہے۔ سیاسی حکومتیں ختم کرتے وقت ان پر کرپشن کا الزام لگانا فوجی آمروں کا وتیرہ ہے لیکن جب آمریت کوسیاسی چہرہ فراہم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو سیاسی بے وفائی اورضمیر فروشی کی منڈیاں لگتی ہیں اور انہی کرپٹ سیاست دانوں کو خریدکریا دبا کر کوئی نئی پارٹی کھڑی کر لی جاتی ہے۔ ایوب خان کے دور سے شمار کریں توکنونشن مسلم لیگ،جونیجوحکومت کی سیاسی شناخت والی مسلم لیگ، اسی کی کوکھ سے جنم لینے والی ن لیگ، پھر پرویز مشرف کی ناجائز تخلیق قاف لیگ جمی جمائی سیاسی پارٹیوں میں نقب لگا کر اورمکروہ ہتھکنڈوں سے بنائی گئی تھیں۔ ان کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم جیسے پریشر گروپوں اور علاقائی پارٹیوں کے سر پر بھی ہاتھ رکھتی ہے۔ ملک میں بظاہر اب مارشل لا نہیں ہے لیکن معاملات جس طرح چلائے جا رہے ہیں صورتِ حال مارشل لا سے ابتر ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑکے وہ سارے کام کر رہی ہے جو فوجی آمریت کے عہد میں ہوتے رہے ہیں۔ 2011 میں اسٹیبلشمنٹ نے تحریکِ انصاف کوown کیاتھا۔ آئی ایس آئی کے اس وقت حاضر سروس سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے بہت سے ابن الوقت، مفاد پرست،جاہ پسند، بزدل سیاست دانوں کو پنڈی کی ’ڈرائی کلیننگ فیکٹری ‘ میں دھو کر پی ٹی آئی میں شامل کرایاتھا۔ اب چند ماہ سے یہ سلسلہ 25 جولائی کے متوقع انتخابات کے تناظر میں تیز تر نظرآتا ہے۔

2013 کے الیکشن میں نادیدہ طاقتور قوتوں کی توقع اور منصوبے کے علی الرّغم ن لیگ کو اکثریت ملی اور نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوگئے تھے۔ کچھ تو نواز شریف کے شاہانہ طرزِ حکمرانی نے خود بھی کئی بہانے فراہم کر دیے تھے اور کچھ یہ کہ اسی وقت یہ طے کر لیا گیا تھا کہ اس حکومت کو چلنے نہیں دینا۔ ایک سال کے بعدہی دھاندلی کو ایشو بنا کر حکومت کو دھرنوں کے ذریعے مفلوج کرنے کی ٹھانی گئی۔ ددو مہرے اپنے حتمی ہدف کے لیے  اسلام آباد کے ڈی چوک پر امپائر کی انگلی اٹھنے کے منتظر رہے۔ اتفاق یہ ہوا کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں کے سوا ساری پارلیمانی پارٹیاں متحد ہو گئیں یوں حکومت گرانے کا وہ منصوبہ ٹل گیا۔ اس کے بعد اس کے لیے کئی اور عنوان بھی ڈھونڈے گئے۔ آخر پانامہ کا کارڈ ہاتھ لگ گیا۔ یہ کیس عدالت میں گیا توسپریم کورٹ کے ججوں کی آبزرویشنز سے بالکل شروع ہی میں یہ عیاں ہو گیا تھاکہ ان کا جھکائو استغاثہ کی طرف ہے۔ پانامہ میں وزیر اعظم کے نام کی کمپنی نہ نکلی تو اسے اقامہ پر نااہل قرار دے دیا گیا۔ NA120نواز شریف کی نشست پر ضمنی الیکشن ہونے لگا تونیکٹا (National Counter Terrorism Authority) کے اصولوں کے یکسر منافی اقدام کے طور پر اچانک لبیک یا رسول اللہ کے نام کی ایک فرقہ پرست پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ایک اور گروہ کو ملی مسلم لیگ کے نام سے میدان میں اتار دیا گیا۔ گزشتہ نومبر میں پارلیمنٹ میں ختمِ نبوت کے نکتے پرایک ایشو کھڑا ہوا۔ یہ حکمران پارٹی اور اس کی سب سے بڑی حریف پارٹی کے دو ارکان کی جانی بوجھی شرارت تھی یاخطا اور سہو کا معاملہ تھا لیکن لبیک پارٹی کے سربراہ نے اس کی بنیاد پر راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دے کر شہریوں کی نقل و حرکت کے راستے مسدود کردیے۔ دھرنے والوں کے جارحانہ اور اشتعال انگیز رویے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان کو کوئی غیر مرئی پشت پناہی حاصل ہے۔ آخر پشت پناہی کی یہ حقیقت اس وقت کھلی جب دھرنا ختم کرانے کے لیے آرمی چیف کی مداخلت سے ریاست اور سرکش عناصر میں ایک معاہدہ طے پایا اور رینجر نے دھرنے والوں کو لفافوں میں رقوم تقسیم کیں۔

اب جب الیکشن سر پر آئے تو ن لیگ، پیپلز پارٹی، قاف لیگ کے وہ لوگ جن کی کامیابی کے امکانات واضح ہیں ان کوترہیب اور ترغیب (stick & carrot)سے پی ٹی آئی میں شامل کیا گیا۔ ن لیگ کے پندرہ کے قریب ٹکٹ ہولڈرز کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس کا ٹکٹ واپس کر دیں۔ یہ ایسے مرحلے پر ہوا جب ان کی جگہ کسی اور کو ٹکٹ دے کر کھڑا کرنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ اس سے قبل بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت گرانے، سینیٹ الیکشن میں اسے ہزیمت سے دوچار کرنے اور اس کے امیدوار کوچیئرمین سینیٹ بننے سے روکنے کے لیے پہلے زرداری کے تعاون سے ارکان ِ صوبائی اسمبلی کوخریدا گیا۔ ایک دم وفاداریاں تبدیل ہوئیں اور بلوچستان عوامی پارٹی وجود میں آگئی۔ ’سنجرانی ماڈل‘ ایک استعارہ بن کر سامنے آیا۔ ادھر کراچی میں ایم کیو ایم کو تحلیل کرنے کے لیے پہلے مصطفیٰ کمال کی ہٹی کھولی گئی اور پاک سرزمین پارٹی کو جنم دیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کو ڈیفنس کے ایک سیف ہائوس میں بلا کر دبائو ڈلا گیا کہ وہ ایم کیو ایم کے پاک سرزمین پارٹی سے الحاق کا اعلان کریں۔ بھونڈے طریقے سے کھیلے جانے والے خفیہ کھیل کا بھانڈہ جلدی پھوٹ گیا۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیاتو مضمحل ایم کیو ایم کو پھاڑکر مزید دو ٹکڑے کر دیے گئے۔ حال ہی میں ن لیگ کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے خسرو بختیار کی قیادت میں آٹھ ارکانِ اسمبلی کے ایک گروپ کی ولادت ہوئی جسے  South Punjab Province Frontکا نام دیا گیا۔ اس گروپ کی ولادت واضح طور اسٹیبلشمنٹ کے زچہ خانہ میں ہوئی اور اس کا الحاق پی ٹی آئی سے کرایا گیا۔ انفرادی طور پر تو ایسی بیسیوں اور مثالیں ہیں۔ یہ کھیل کھیلتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ اس حقیقت سے مجرمانہ اغماض برتتی ہے کہ اس کے اشارے پراپنی پارٹی سے بے وفائی کرنے والے بے ضمیر بھی ہیں ، کرپٹ بھی اور سفاک جاگیردارانہ فطرت کے مالک بھی ہیں۔

یہ ساری کارروائیاں قوم کے حقیقی وجود سے انکار کے مترادف ہیں۔ یہ حقیقی وجود ٹوٹ اور مٹ جائے تو’گھر‘ یعنی ریاست کا شیرازہ بکھرنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ شیرازہ بکھرنے سے ففتھ جنریشن وارکے جنگجووں کو غذا فراہم ہوتی ہے اور ان کا کام آسان ہوجاتا ہے۔ یہ کارروائیاں ’ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘ والی صورتِ حال پیدا کر رہی ہیں۔ ففتھ جنریشن وار کے سارے اسباب خود پیدا کیے جارہے ہیں۔ ایک طرف سیاست دانوں کو مردود اور ملعون ثابت کیا جاتا ہے اور دوسری طرف کبھی کسی کنونشن مسلم لیگ کو، کبھی پیپلز پارٹی کو، کبھی جونیجو اور نواز لیگ کو، کبھی قاف لیگ کو اور کبھی کسی تحریکِ انصاف کو آغوش میں لے لیا جاتا ہے۔ چند جرنیلوں کی سوچ کے نتیجے میں کسی ایک چہیتے گروہ کو پوری قوم پر محمول کر کے اسٹیبلشمنٹ اس کی خاطر ساری قوم کی ناراضی اور غصے کا نشانہ بنتی رہی۔ پرویز مشرف کے عہدِ نامسعود میں تو یہ حال تھافوج  سے نفرت اس درجے کو پہنچ گئی تھی کہ اس کے اہلکاروں کو عوام کے غیض و غضب سے بچانے کے لیے وردی میں باہر جانے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ

 قومی وحدت و اتحاد سے ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قوم کا ہر طبقہ فوج کو اپنی فوج سمجھ کر اس کی پشت پر کھڑاہو۔ فوج کی پالیسیوں سے کسی کی طرفداری کا تأثرملنے لگے توسیاسی تعصبات پیدا ہوتے ہیں۔ قومی وحدت اور ہم آہنگی مجروح ہوتی ہے۔ حمایت، رعایت، اور عنایت کے جام اگر بالقصد ایک ہی گروہ کے اندر گردش کرتے رہیں تو قوم کی صفوں میں افتراق و انتشار، بیزاری و بے تعلقی، ناراضی اور شکایات کا پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اوپر حالات و واقعات کی جوحالیہ تصویر پیش کی گئی ہے یہ ہمارے انتشار زدہ ’گھر‘ کی تصویر ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے اسی طرزِ عمل سے ہمیشہ اس ’گھر‘ کو عدمِ ِ استحکام کی دلدل میں دھکیلا۔ اسی سے قومی اتحاد میں شگاف پڑے۔ اسی کی وجہ سے سیاسی سفر میں بار بار تعطل پیدا ہوا۔ یہی طرزِ عمل ترقی کے پہیے کوبار بار جام کرتا رہا۔ اسی نے عوام میں احساسِ محرومی پیدا کیا۔ اسی کے سبب مایوسی جنم لیتی رہی اورغم و غصہ کی لہریں اٹھتی رہیں۔ اسی سے نفرت کا وہ زہر پھیلتا رہا جس کے اثر سے فوج سے اپنائیت کے پھول مرجھاتے رہے اور وہ سخت تنقید کا نشانہ بنتی رہی۔ اگرعسکری تھنک ٹینکس میں واقعی جانچنے کی صلاحیت موجود ہے تو دیکھ لیں کہ یہ منفی کیفیات اس وقت عروج پر ہیں۔ ففتھ جنریشن وار میں دشمن انہی کیفیات کو ہوا دیتا ہے۔ فوج عوامی حمایت سے محروم ہو کر دفاع کے قابل نہیں رہتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

منیر احمد خلیلی

منیر احمد خلیلی تقریباً چالیس برس شعبہ تعلیم سے وابستہ رہ کر ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ موصوف گزشتہ پچاس برس سے قلم و قرطاس سے وابستہ ہیں۔ مختلف اخباروں میں شائع ہونے والی ہزاروں تحریروں کے علاوہ آپ کے قلم سے مختلف موضوعات پر کم و بیش 16 کتب نکل کر شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں انفاق فی سبیل اللہ، تزکیہ نفس کیوں اور کیسے؟، عصر حاضر کی اسلامی تحریکیں، مقالات تعلیم، عورت اور دور جدید، اور مغربی جمہوریت کا داغ داغ چہرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close