آئینۂ عالم

لا تُفسِدُو ا وَلا تَقنطوا!

عالم نقوی

ہم نے ابھی تک براہ راست روہنگیا مسلمانوں  پر برما(میانمار ) کے نام نہاد ’اَہِنسَک ‘ بودھوں کےشرم ناک انسانیت سوز اور لرزہ خیز  مظالم  کے تعلق سے کوئی  مخصوص کالم تحریر نہیں کیا ہے۔ اس کا  ایک سبب یہ بھی  ہے کہ ہم پوری دنیا کے دوغلے پن کے شاکی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ  مردم شماری کے خانے والے، ہم پونے دو ارب مسلمان بھی اِسی دُنیا کا حصہ ہیں! اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جو 9 ستمبر کے اخبارات میں شایع ہوئے ہیں ،میانمار میں پچھلے دو ہفتوں سے جاری تشدد میں ایک ہزار مسلمان ہلاک  اور دو لاکھ ستر ہزار بے وطن ہو چکے ہیں۔ اَقوام ِمتحدہ کے ترجمان نے اِن اَعداد و شمار کو ’’بہت خطرناک ‘‘ قرار دیتے ہوئے صورت حال پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی پر زور دیا ہے !ویسے اقوام متحدہ کو اپنی اوقات بھی پتہ ہے اور یہ بھی کہ برما کے ظالموں کو جن طاقتوں کی عملی حمایت حاصل ہے ان کے خلاف ’یو این او ‘چوں بھی نہیں کر سکتا اور یہ واویلا بھی دنیا کو صرف یہ دکھانے کے لیے ہے کہ ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں !

رہے مسلمان تو صرف برماکے سرکاری و غیر سرکاری بودھ  ظالموں اور آنگ سان سو چی جیسے ظلم اور بد امنی کی حمایت کے لیے ’نوبیل انعام ‘  یافتہ منافق  لیڈروں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے سے ان کے خلاف  پوری دنیا میں جاری  مظالم کا سلسلہ بند نہیں ہو نے والا ۔ غزہ ،فلسطین ،عراق ، شام  اور یمن کے ساتھ  ساتھ دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں   میں مسلمانوں  کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ کسی  نسل کشی کسی ’پوگروم ‘ اور کسی ’ ہولو کاسٹ ‘ سے کم ہے ؟  غزہ کی  معاشی ناکہ بندی  دس سال سے جاری ہے۔ اس دوران کم از کم دس ہزار مسلمان اسرائیلی فوجوں کی گولہ باری اور فائرنگ نیز بھکمری اور دواؤں کی قلت کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں اور غزہ کے جن مسلمانوں کو اس عرصے میں اسرائلی ٹینکوں اور جنگی طیاروں نے بے خانماں کیا ہے ان کی تعداد تو ہلاک ہونے والوں سے دسیوں گنا زیادہ ہے ! اگر ایران ترکی سعودی عرب   متحدہ عرب امارات وغیرہ نے غزہ کو اکیسویں صدی کا شعب ابی طالب بننے سے بچا لیا ہوتا، اور ظالموں کو سبق سکھا دیا ہوتا تومیانمار کے بَودُّھوں کی بھلا کیا مجال تھی کہ وہ یہودیوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے !

پندرہ سال قبل  2002  میں 28 فروری سے 28 مارچ کے دوران گجرات میں ایک ہزار نہیں دو ہزار سے زائد مسلمان زندہ جلا کر مار دیے گئے تھے اور بے گھر و بے آسرا ہوجانے والوں کی تعداد تو تین  لاکھ سے بھی زائد تھی ! لیکن جو اُس وقت گجرات کے حکمراں تھے وہی  آج پورے دیش کا راج سنگھاسن سنبھالے بیٹھے ہیں! اور ایران و سعودی عرب وہ ملک ہیں کہ جب گجرات تجربے کے  ذمہ دار  دلی کے تخت پر براجمان ہونے کے  بعد تہران اور ریاض کے دورے پر پہونچےتوان کو اپنے ملک کے اعلیٰ اعزازات سے نوازنے میں بھی کوئی شرم نہیں محسوس کی !

اور ستر سال قبل بھی دنیا میں مسلمانوں  اور ان کی حکومت والے ملکوں کی تعدادکچھ کم تو نہیں تھی لیکن کیا وہ  اپنے اندر پیدا ہوجانے والی داخلی خرابیوں کی بدولت قلب مسلم میں صہیونی خنجر کو پیوست ہونے سے  روک سکے؟اور اس سے بھی بیس برس پہلے کیا مسلمان خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور ترک امپائر کے  حصے بخرے ہونے کو روک سکے ؟ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنے افتراق و انتشار پر قابو نہیں پا سکے ہیں ورنہ پہلے افغانستان و عراق اور پھر شام و یمن برباد نہ ہوتے ! اور غزہ کے بارے میں تو شاید  روہنگیا کا ماتم کرنے والے مسلمانوں  کا خیال یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے سیارے پر واقع ہے!اور وہ مسلمان جو شام کی بربادی کا نوحہ پڑھتے ہوئے یمن کو اس طرح فراموش کر دیتے ہیں گویا وہ عرب دنیا کا حصہ ہی نہ ہو بلکہ  اس دنیا ہی میں نہ ہو ،ان کے تعلق سے یہ امید کوئی احمق ہی کر سکتا ہے کہ ان کا احتجاج روہنگیا مسلمانوں کو ان کے بنیادی انسانی شہری و جمہوری حقوق دلا سکے گا !

 اور ویسے بھی اگر ہم متحد ہوتے اور ہماری ہوا اکھڑی ہوئی نہ ہوتی تو ہمیں 2013 ہی میں اس وقت ہوشیار ہوجانا چاہیے تھا جب  نسل پرست اور قوم پرست ’بودھ قومی تحریک 969 ‘کے سربراہ ’آشِن وارتھو ‘ نے ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے 20 جون 2013 کو کہا تھا کہ ’’۔۔آپ میں محبت اور شفقت کوٹ کوٹ کر بھری ہو پھر بھی آپ ایک پاگل کتے کے ساتھ نہیں سو سکتے۔ اگر ہم کمزور ہوگئے تو ہماری زمین تک مسلمان ہو جائے گی۔ ۔‘‘آشن وارتھو سے بہت پہلے نریندر مودی نے بھی 2002 میں ایک بار کسی صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’۔کتے کا پلا بھی گاڑی کے نیچے آجائے تو دکھ ترو ہوتا ہی ہے۔ ‘‘اوریا مقبول جان نے اپنے حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ آشن وارتھو ہی نے سب سے پہلے برما میں مسلمانوں کی دوکانوں اور کاروبار کے بائکاٹ کی مہم چلائی جو کامیاب ہوگئی۔ مگر ہم تو سوئے ہوئے تھے۔ ہم تو جاگتے اسی وقت ہیں آگ لگ چکی ہوتی ہے خون بہہ چکا ہوتا ہے ،عزتیں لُٹ چکی ہوتی ہیں ،مال و متاع سارا نفرت و وحشت کی آگ میں جل چکا ہوتا ہے ! ورنہ مسلمانوں کے قتل عام کی شروعات تو برما میں 2012 ہی میں ہو چکی تھی جب آشن وارتھو کی نسل پرست دہشت گرد تنظیم کے نام نہاد ’بوردھ بھکشوؤں نے بسوں سے اتار اتار کر مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا ایک ہی دن میں گیارہ مسلمان قتل کیے گئے اور پچاس دن تک یہ سلسلہ بے روک ٹوک چلتا رہا اور ایران ،سعودی عرب اور ترکی سمیت ہم سب ستاون ملک اور پونے دو ارب مسلمان سوتے رہے کہ کم از کم ایک ہزار مسلمان قتل ہوجائیں ،ہزاروں ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں لُٹ جائین اور لاکھوں بے گھر بار ہوجائیں تو جاگیں اور مذمت ، احتجاج  اور ریلیف کا کام شروع کریں جس میں ہم ماہر ہیں !

سری لنکا کی دہشت گرد تنظیم ’بودھ بالا سینا ‘ نے میانمار میں جاکر 2012 میں اسی نام کی تنظیم قائم کی جس نے پہلا کام یہ کیا کہ میانمار میں حلال ذبیحہ کے خلاف تحریک شروع کی اور با لاخر اسے بند کرا کے ہی دم لیا۔ لیکن ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔ 2014 میں اِدَھر بھارت میں مودی راج شروع ہوا اُدھر میانمار میں آشن وارتھو نے بودھ بالا سینا کے ساتھ مل کر پھر دھرگہ قصبے  سے مسلمانوں کے گھروں اور دوکانوں کو گجرات 2002 کی طرح لوٹنے اور جلانے کا سلسلہ شروع کر دیا   اور پورے قصبے کو مسلمانوں سے خالی کرا لیا گیا۔ وزیر اعظم مودی کے دورہ میانمار کا وقت  بہت سوچ سمجھ کے مقرر کیا گیا تھا۔ مودی جی ایک ہزار مسلمانوں کے قتل عام اور دو لاکھ کے بے گھر بار ہونے کے فوراً بعد یانگون  پہونچے تھے۔ یہاں لوگ سوشل میڈیا پر سوال کر رہے ہیں کہ مودی جی نے  برمی حکومت سے کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا ؟

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا !

بقول اوریا مقبول جان ’’سرمایہ داری (قارونیت ) کے بد مست ہاتھی اپنے مفادات کے لیے روہنگیا مسلمانوں کا خون کروارہے ہیں۔ عالمی ضمیر کے یہ ٹھیکے دار لوٹ مار (اور قتل عام) میں  متحد ہیں ۔ پوری دنیا میں رنگ و نسل ،زبان اور مذہب کے نام پر آپ (مسلمانوں کا ) قتل عام کریں۔ لیکن آپ دہشت گرد نہیں (مصلح کہلائیں گے )۔ ہاں ڈونالڈ ٹرمپ (اور نیتن یاہو یعنی امریکہ اور اسرائل  )ہی نہیں روس ،چین (حتیٰ کہ ) برکس ممالک (بھی ) مسلمانوں ہی کو   دہشت گرد کہیں گے۔ ‘‘

یعنی وہ جب بھی دہشت گرد کی اصطلاح کا استعمال کریں گے تو ان کی مراد مسلمان ہی ہوں گے۔ اور ہم ؟ ہمیں اپنے مسلکی پھڈے اور مذہبی لفڑے ہی چکانے سے فرصت نہیں ! ہمیں شام اور یمن میں مسلمانوں کا خون بہانے ،ایران یا سعودی عرب کو گالیاں دینے اور افغانستان و عراق اور  پاکستان و سیریا میں ٹارگٹ کلنگ کرنے اور  بازاروں ،مسجدوں ،درگاہوں ،مزاروں اور امام باڑوں میں بم دھماکے کرنے سے فرصت ملے تب تو۔۔! باقی رونے گانے ،چیخنے چلانے ،زندہ باد اور مردہ بادکہنے کی پوری آزادی ہے کیونکہ اس سے ’’اہل ایمان کے دائمی دشمنوں ‘‘ کو  اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔! بلکہ موساد ، سی آئی اے ،کے جی بی ،ایم آئی سکس اور عالمی صہیونی پریوار اور  اُن کا حلیفِ خاص بھارتی  سنگھ پریواروغیرہ  صرف ’خوارج ‘ہی کو نہیں پالتے  ،اپنے خلاف بولنے کے لیے بہت سی این جی اوز کو بھی  پیسے دیتے ہیں !

تو بات وہی ہے جو قرآن نے کہی ہے کہ یہ ’’فساد بحر و بر ہمارے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے‘‘ اور وہ سمیع و بصیر اور علیم و خبیر خوب جانتا ہے کہ ہم زبان سے کیا کہہ رہے ہیں اور ہمارے دلوں میں کیا چھپا ہوا ہے۔ لیکن لا تقنطوا من رحمت اللہ۔ ۔مالک حقیقی اور ہر شے پر قدرت رکھنے والے اللہ  سبحانہ تعالی کی رحمت  سے مایوسی بھی کفر ہے۔ اور ہم  الحمد للہ کافر نہیں۔ ہمیں اپنے صادق و امین نبی کا یہ وعدہ یاد ہے کہ یہ دنیا ایک روز عدل و انصاف سے اسی طرح بھر نے والی ہے جس طرح وہ اس وقت ظلم و عدوان سے بھری ہوئی ہوگی۔ ’’اہل ایمان کے دائمی دشمنوں ‘‘کی سازشیں خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔مکروا ومکر ا للہ واللہ خیر ا لماکرین۔ اللہ سبحانہ کا اپنا منصوبہ ہے اور اس سے بہتر منصوبہ ساز بھلا اور کون ہو سکتا ہے ! وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ ۔اور ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کیا (برا) انجام ہونے والا ہے !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close