آئینۂ عالمسیاست

لندن کی سڑکوں سے اٹھنے والی یہ آوازیں

شاید گزشتہ چار سال میں پہلی بار ملک سے باہر نریندر مودی کو اس قدر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اشرف علی بستوی

وزیر اعظم نریندر مودی کا لندن کا یہ پانچ روزہ دورہ  ان کا  53 واں غیر ملکی دورہ تھا  جس میں انہیں لندن کے سرد موسم کے باوجود لندن میں مقیم ہندوستانی برادری نے  انہیں گرمی کا شدیداحساس کرا دیا۔ لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر کا درجہ حرارت  کافی بڑھ سا گیا تھا ہزاروں مظاہرین آصفہ کو انصاف دلانے کے مطالبے کے ساتھ  مودی اور ہندتوا مخالف فلک شگاف نعرے لگاتے دیکھے گئے۔ شاید گزشتہ چار سال میں پہلی بار ملک سے باہر نریندر مودی کو اس قدر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نریندرمودی یہاں دولت مشترکہ کے سربراہان کی میٹنگ میں شرکت کیلئےتشریفلے گئے  تھے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں آصفہ، جنید، گوری لنکیش کی بڑی بڑی تصاویر تھیں اور مظاہرین ہندوتواور مودی کے خلاف  نعرے لگارہے تھے۔ ان مظاہرین کا تعلق مختلف نظریات والی جماعتوں سے تھا ان میں سب سے زیادہ فعال ساؤتھ ایشیا سالیڈاریٹی گروپ تھا۔

 لیکن وزیر اعظم  کو سڑکوں سے اٹھنے والی یہ آوازیں نہیں سنائی دے رہی تھیں کیونکہ یہاں ایک نغمہ نگار کو انٹر ویو دینے میں مصروف تھے یہ انٹر ویولینے والے کوئی  صحافی نہیں بلکہ ان کے پسندیدہ نغمہ نگار پرسون جوشی  تھے  یہ وہی  جوشی ہیں جنہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم  میں ‘اچھے دن آئیں گے کا نعرہ دیا تھا ‘ یہ جناب ہندوستانی فلم سینسر بورڈ کے صدر بھی ہیں انہوں نے نے  یہاں  وزیر اعظم سے ایسے ایسے سوالات کیے جن کا تعلق محض تفریح طبع اور پذیرائی کے سوا کچھ نہیں تھا،  سوالات کیے  کہ ریلوے اسٹیشن سے رائل پیلیس تک کا یئہ سفر کیسا رہا  جس پر نریندر مودی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس کا سہرا  سواسو کروڑ ہندوستانیوں کے سر باندھا اور انتہائی عاجزانہ لہجہ تھا، سامنے موجود بھیڑ بھی عام لوگوں کی بھیڑ  نہیں تھی بلکہ اپنے اعتماد کے منتخب لوگ ہی بلائے گئے تھے جوہر حال میں محفل کو خوش گوار بنائے رکھیں ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ پروگرام میں کوئی  بدمزگی نہ پیدا ہوجائے اس کا پورا خیال رکھا گیا تھا اسی احتیاط کے پیش نظر آخری وقت میں کچھ لوگوں کے دعوت نامے منسوخ بھی کر دیے گئے تھے۔

 لیکن اب وہ جوش نظر نہیں رہا جو شروعاتی دور کے پروگراموں میں ہوا کرتا تھا۔ لیکن پروگرام کے باہرکامنظر بالکل جداگانہ تھا  پارلیامنٹ اسکوائر کے باہر لوگ آصفہ کی تصویر کے ساتھ  مارچ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے باقاعدہ ایک وین تیار کی تھی جس پر آویزاں پوسٹر میں لوگ نریندر مودی کی لندن آمد کے خلاف نعرے  لکھ رکھے تھے، مظاہرین اس بات کی بھی وضاحت کر رہے تھے کہ برطانیہ میں مقیم ہندوستانی نریند مودی کی برطانیہ آمد کے خلاف کیوں ہیں؟ لیکن اس درمیان ایسی  بھی اطلاعات ملی ہیں  کہ مظاہرین میں شامل سبھی تنظیمیں غیر مسلمین کی تھیں جبکہ برطانیہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی آبادی اور بڑی بڑی تنظیمیں ہونے کے باوجود کسی ایک بھی تنظیم نے اس مظاہرے میں حصہ نہیں لیا۔ یقینا  یہ افسوس ناک بات ہے، اور اس کا پتہ لگانے کی ضرور کوشش ہونی چاہیے، کیا لندن میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے وطن عزیز کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں اور حالات سے کوئی سروکار نہیں ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ لندن میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں میں بااثر قابل ذکر اکثریت ہندوستان کی ریاست گجرات سے تعلق رکھتے ہیں شاید ایک  وجہ یہ  رہی  ہو لیکن ہندوستان کے دیگر خطوں کے لوگ بھی یہاں آباد ہیں جو ہندوستان کی سماجی اورتعلیمی سرگرمیوں میں دل  چسپی لیتے ہیں کم ازکم انہیں انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کا ساتھ دینا چاہیے  تھا ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اشرف بستوی

اشرف بستوی معروف اخبار سہ روزہ دعوت کے نائب مدیر اور اردو کے مشہور و معروف نیوز پورٹل ایشیا ٹائمز کے مدیر اعزازی ہیں۔ آپ آل انڈیا آئیڈیل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے موسس بھی ہیں۔ آپ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ

Close