آئینۂ عالم

لہو لہو شام

مولانا محمد اظہر مدنی

پیغمبروں کی سر زمین شام اس وقت خون آشام دور سے گزر رہی ہے۔ وقفے وقفے سے شامی شہریوں پر قیامت کا سلسلہ تیز ہوتا جارہا ہے۔ شام سے آنے والی تباہی کی تصاویر ایسی ہیں کہ دل دہل جائے۔ معصوم بچے اپنی ماؤں کے سینوں سے لپٹے ساکت پڑے ہوئے ہیں۔ عمارتوں کے ملبے سے نکلنے والی لاشیں دیکھ کرکلیجہ منہ کوآنے لگتا ہے۔ سفید کفن میں بچوں کی لپٹی لاشیں دیکھ کر آنکھوں سے خود بخود آنسو رواں ہو جاتے ہیں اور روح کانپ جاتی ہے۔ شام کے تاریخی شہر غوطہ کی حالت ان دنوں انتہائی کربناک ہے۔ آسمان سے برستے آگ کے گولے، فضا میں گرجتے جنگی طیارے، میزائلوں کی دل دہلا نے والی دہاڑیں ، مشین گنوں کی تڑ تڑاہت، بلند بالا عمارتوں سے اٹھتے آگ کے شعلے، اڑتے، چیتھڑے بکھرے ہوئے انسانی اعضا، چیختی چلا تیں خواتین، روتے گڑ گڑاتے بزرگ، تڑپتے بلکتے معصوم بچے، کھنڈر میں تبدیل ہوتیں عمارتیں اور ہر طرف چھایا ہوا غبار۔

یہ اندوہناک منظر ہے شام کا۔ یہ حالت ہے انبیاء کرام کی مبارک سر زمین کی جہاں اللہ کے اولوالعزم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے لئے برکت کا مزدہ سنایا گیاتھا۔ لیکن وہی سر زمین آج انسانی خون سے سرخ  ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق روس کی حمایت سے اسدی فوج کی حالیہ تیز ترین کارروائی میں سات سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ان میں سیکڑوں بچے بھی شامل ہیں ۔ گزشتہ چھ مارچ کو ایک ایسے وقت میں جب تقریباً دو ہفتے کے بعد جنگ زدہ علاقے میں اقوام متحدہ کا امدادی قافلہ پہنچا شامی فورسیز نے بمباری شروع کر دی جس میں ایک دن میں 77سے زائد افراد لقمہ اجل ہو گئے المیہ تو یہ ہے کہ تمام ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ظالم حکومت نے اس حملے میں کلورین گیس کا استعمال بھی کیا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ان ظالموں نے تمام انسانی حدود کوتوڑتے ہوئے ان 46امدادی ٹرکوں کو بھی لوٹ لیا اور انہیں متاثرین تک پہنچنے نہیں دیاجو تقریبا ً دو ہفتے کی تباہی کے بعد پہلی مرتبہ جنگ زدہ علاقے میں پہنچا تھا۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ حالیہ فضائی حملے شام کی حکومت اور روس کی تازہ فضائی مہم کا حصہ ہیں اور یہ حملے اتنے شدید ہیں کہ کسی کو یہ موقع تک نہ مل سکا کہ وہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی گنتی کر سکے۔ اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کے ادارے یونیسیف کے ترجمان کرسٹو فی بولائرک نے بتایا کہ سال رواں کے ابتدائی دو ماہ کے دوران اب تک  ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں ۔

شام 2011کے بہار عرب سے متاثر ہے جہاں بشار الاسد کی ظالم حکومت کے خلاف شہریوں نے انقلابی مظاہرے شروع کئے تاکہ اس ظالم حکومت سے نجات مل سکے۔ ابتدائی دنوں میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ لیبیا، تیونس اور مصر کی طرز پر شام میں بھی حکومت کو بے دخل کر دیا جائے گا اور شام کے عوام اسدی ظلم و جور سے نجات پا جائیں گے لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بشار الاسد کو ایران، لبنان کی حزب اللہ اور روس جیسے سپر پاور ملک کا ساتھ ملااور شام کی سر زمین عالمی طاقتوں کے لئے تختہ مشق بن گیا۔ امریکہ اور روس جیسے سپر پاور کی مقابلہ آرائی نے شام کو ہتھیاروں کی لیبارٹری میں تبدیل کر دیا ہے۔ تقریباً سات برسوں سے جاری یہ جنگ خلیجی ممالک  کے لئے بھی غلبے کی جنگ کا کھلا میدان بن گیا ہے۔

داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے ڈرامائی وجود نے اسے مزید جلا بخشی، شام سے ملحق چند پڑوسی ممالک نے ملکر شام میں قیامت صغریٰ برپا کردیا۔ اسدی فورسیزنے  روس اورایران جیسے دیگر ہمنوا ممالک کے ساتھ ملک کر انسانوں کی مکمل نسل کشی کا تہیہ کر لیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ شام میں یہ تمام نام نہاد امن پسندممالک کس کو ختم کر رہے ہیں اور یہ جنگ کس کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ دہشت گردوں کیخلاف، باغیوں کیخلاف یا انسانوں کے خلاف۔ شام کی تباہیوں سے نکل کرآنے والی تصاویر کیا کہتی ہیں ۔ ؟امریکہ کے ساتھ اس کے حامی اس خونی کھیل کو ساحل پر بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں اور اقوام متحدہ بغیر دانت کے شیر کی طرح دہاڑیں مار رہا ہے ۔ یوروپین ممالک میں چند لوگوں کی ہلاکت پر دنیا سر پر اٹھانے لینے والے مہذب اور امن کے علمبردارممالک بھی اس تباہی پر فی الحال خاموش ہیں ۔ ان کی خاموشی شام میں معصوموں کے قتل کی حمایت سمجھی جائے گی۔

عالم عرب اور عالم اسلام چیختے بچوں اور ملبوں میں زندگی کی تلاش کرتی خواتین کیلئے دعاؤں میں مشغول ہے، مسلمانان عالم اپنے فیس بک اسٹیٹس کواپ ڈیٹ کرنے میں مصروف ہیں ۔ سوشل میڈیا پرتصاویر اور ویڈیو کلپ کا سیلاب سا آ گیا ہے۔ ہر شخص اس طرح فیس بک پر مصروف ہے گویا وہ تصاویر کی مقابلہ آرائی میں اول آنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اسٹیٹس چینج کر کے خوش ہے کہ ہم نے شام کے مظلوموں کوراحت پہونچادی۔ تعجب تو یہ ہے کہ بعض افراد اس قدر حساس ہیں کہ شام کی جنگ میں بھی اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے شامی مظلومین کی مدد کی اپیل تک کرنے سے گریز نہیں کرہے ہیں ۔ اتنی تباہیوں اور ہلاکت خیزیوں کے بعد بھی ’مرگ بر اسرائیل اور مرگ بر امریکہ ‘کا نعرہ لگانے والاملک بھی روسی اور اسدی فوج کی حمایت میں سوشل میڈیا پر سر گرم ہے اور اسد حکومت کوایک مظلوم حکومت اور دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار حکومت کی طرح پیش کر رہا ہے۔ معصوم، بلکتے بچوں اور بے یارو مدد گار لوگوں کی آہ و بکا کرتی تصاویر میں انہیں دہشت گرد نظر آ رہے۔ حالانکہ سب کومعلوم ہے کہ شام میں تباہی کون پھیلا رہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے ؟یہ ایک منظم سازش کے تحت ایک سنی اکثریت ملک کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے نسل کشی کی جا رہی ہے۔ تاکہ اس خطے میں کوئی دوسری سنی طاقت نہ ابھر سکے۔ اور شاید امریکہ کے ساتھ عالمی طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان، عراق اور لیبیا کے بعد شام کی سر زمین اسلحہ ساز ممالک کے لئے ٹیسٹ کامیدان بن چکی ہے۔ نت نئے اسلحوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کی تباہیوں اور ہلاکت خیزیوں پر اپنی  پیٹھ تھپتھپائی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ شام کے جنگ زدہ مشرقی غوطہ کا علاقہ 2013 سے محاصرے میں ہے اور یہاں تقریباً چار لاکھ افراد مقیم ہیں ۔ یہ علاقہ دارالحکومت دمشق کے نزدی اسد مخالفین کا آخری سب سے بڑا گڑھ مانا جا رہا ہے۔ حالیہ تباہی کے بعد اس خوبصورت شہر کا وجود خطرے میں ہے۔ بلند و بالا عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ اب زندگی کی رمق باقی نہیں رہی۔ حلب اور ادلب جیسے تاریخی شہروں کی طرح کھنڈر ہو چکے شہروں میں اب یہ علاقہ بھی شامل ہو چکا ہے۔ شام میں جاری اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ افراد ملک چھوڑ کر ترکی، اور دیگر ممالک میں پناہ گزین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اب بھی کچھ لوگ یہاں موجود ہیں بے سہاراو لاچارزمین میں خندق کھود کر زندگی بچانے کی تگ و دو کر رہے ہیں ۔

غوطہ میں جاری تباہی پر اقوام متحدہ کی تمام تر کوششیں نا کام ہو چکی ہیں ۔ ظاہر سی بات ہے احکام اور ہدایات اس وقت اہمیت رکھتے ہیں جب اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے گزشتہ دنوں شام میں جنگ بندی کے لیے قرارداد منظور کی تھی لیکن اس کے باوجود شام کی تباہی کا سلسلہ جاری  ہے۔ جنگ زدہ شام کی صورت حال میں ایک نئے منظر نامہ کا اضافہ اس وقت ہوا جب کرد باغیوں کو کچلنے کے نام پر ترکی کی افواج اور ان کی بکتر بند گاڑیوں ، توپوں اور ٹینکوں نے شام کی سرحد کو عبور کیا اور اسدی فوج کی پشت پناہی میں عفرین شہر کے اندر داخل ہوگئی۔ وہاں سے بھی انسانی جان ومال کے ضائع ہونے کی اطلاع ہے اور میڈیا کے ذریعہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ عفرین شہر کو نام نہاد باغیوں سے خالی کرالیا گیاہے۔ غرض شام میں ہر طرف باغیوں کو کچلنے کے نام پر پرامن شہریوں ، عورتوں اور معصوم بچوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔ اور عالمی ضمیر چین کی نیند سو رہاہے۔ کہیں سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہورہی ہے، اور نہ انسانوں کے کشت وخون کو روکنے کی کوشش ہورہی ہے۔ شام کی ان تباہ کن حالات کے درمیان عالم اسلام کہاں ہے ؟عالم اسلام کی قیادت کرنے کا دعویٰ کرنے والی طاقتیں کس سے مقابلہ کر رہی ہیں ؟یہ حقیقت ہیکہ تمام ممالک کی اپنی اپنی سرحدیں ہیں اور اپنے اپنے سرحدی قوانین ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی فوجی مداخلت آسان نہیں ہے لیکن عالمی برادری کے سامنے اپنا احتجاج درج کرا کر اثرو رسوخ کا استعمال تو کر ہی سکتے ہیں ۔ متاثرین کی عارضی امداد تو قابل تعریف ہے لیکن ان کے مسائل کے مستقل حل کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بہر حال اب شام میں کسی بھی صبح کی امید کرنا شائد بے کار ہے کیونکہ شام اب عالمی طاقتوں کے لئے تختہ مشق بن گیا ہے لیکن شام کے جو پڑوسی سکون کی نیند سو رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ شام سے اٹھنے والا دھواں اگر یوں ہی جاری رہا تو آنے والے وقت میں یہ ان کے لئے بھی دم گھونٹنے والا بن جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اظہر مدنی

مضمون نگار جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ، بہار کے مدیر اور اقرا گرلس انٹرنیشنل اسکول، نئی دلی کے ڈائرکٹر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close