آئینۂ عالمخصوصی

مسلمانان پاکستان اور علمائے  پاکستان سے ایک درخواست

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جس حکمت اور موعظت کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تعریف ہے

ڈاکٹر عمیر انس

آج پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ کو نے گناہ قرار دے دیا ہے، اس بیحد غریب مسیحی خاتون کے خلاف توہین رسالت کا الزام عورتوں کی تو تو میں میں کے دوران ۲۰۰۹ میں لگایا گیا تھا، ظاہر ہے کہ خاتون کوئی ہالینڈ کے خاکے بنانے والے مجرموں کی طرح توہین کی سیاست نہیں کر رہی تھی، اسکے ساتھ مسلسل نا انصافی کرتے ہوئے لوکل عدالتوں نے غلط فیصلے سنائے۔ آخر کار سپریم کورٹ نے تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اسلام کو ایک بڑی بدنامی سے بچا لیا ہے۔ اہل اسلام کی طرف سے سرپیم کورٹ کے ججوں کو شکریہ ادا کرنا۔چاہیے کہ جنہوں نے بغیر کسی دباؤ کے ایک معصوم غریب عورت کو بے گناہ قتل ہونے سے بچا لیا۔

لیکن اب اسکے خلاف پاکستان کی دینی جماعتوں نے جو رد عمل دینا شروع کیا ہے وہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں اپنی عدالتوں کے فیصلے اور اسکے نظام سے باہر جاکر معاشرے میں بھیڑ کا قانون دیکھنا چاہتی ہیں، اس بات کا امکان ہے کہ سپریم کورٹ نے غلط فیصلہ دے دیا ہو لیکن اس بات کہ بھی پورا امکان ہے کہ فیصلہ درست ہو، کیا آپ نے رسول اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ ہمیں فیصلے ظاہری دلائل اور حالات کی بنیاد پر سنانے کا حکم ہے، أمرت أن أحكم بالظاهر . والله يتولى السرائر اور اسی مفہوم کی دیگر احادیث اور اقوال مختلف کتابوں میں وارد ہوئے ہیں۔ اگرچہ فیصلہ غلط ہی کیوں نہ ہو جائے لیکن غلط فیصلے کی سزا سے دنیا میں فائدہ اٹھانے والا آخرت میں خسارہ اٹھائے گا، دنیا کے کسی بھی مسلے کا تصفیہ اب صرف ظاہری حالات پر ہی ممکن ہے اور ان حالات کے صحیح تجزیے اور تفتیش کی ذمےداری فاضل قاضیوں کی ہے نہ کہ جنون کے نشے میں بے قابو بھیڑ کی۔ آج اگر آپ اپنی عدالتوں کے فیصلوں پر اس طرح سے اثر انداز ہونگے تو کل دوسرے گروپوں اور لوگوں کو بھی اس بات کی اجازت دے دینی چاہیے کہ وہ بھی اپنی پسند کا فیصلہ نہ آنے پر اپنی اعلی عدالتوں کی تحقیر کریں اور اسکے خلاف دلائل کی جگہ جذبات کی جنگ برپا کریں۔

لیکن ایک دوسرا تشویشناک اور افسوسناک پہلو بھی ہی جس پر مسلمانان عالم کو پاکستان کی دینی جماعتوں اور طبقوں نے سخت مایوس کر رکھا ہے اور رنجیدہ کیا ہے، توہین رسالت کوئی ایسا معمولی جرم نہیں ہے کہ جو خواتین اپنے آپسی جھگڑوں میں انجام دینے لگیں، یہ کوئی ایسا معاملہ بھی نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس پر یونہی توہین رسالت کا الزام لگا کر اس سے اپنے سیاسی، تجارتی اور خاندانی جھگڑوں کا حساب چکتا کیا جائے، توہین رسالت کوئی حادثاتی جرم نہیں ہے کہ وہ غیر ارادی طور پر کسی شخص سے سر زد ہو جاتا ہو۔ توہین رسالت ایک باقاعدہ، بالاراده انجام دیا جانے والا جرم ہے۔ اسکا مرتکب ایسا شخص کیوں کر ہو سکتا ہے جو توہین رسالت کے جرم سے بھی ناواقف ہو، پاکستان میں پلاٹ پر قبضہ کرنے کے لیے۔ پڑوسی کو پریشان کرنے کے لیے سمجھ کے سب سے کمزور طبقے کو توہین رسالت کے جرم میں پھنسا کر انکی زندگی اجیرن کرنا بقول سپریم کورٹ خود ایک جرم ہے، پاکستان کی عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں ماضی کی مثالیں دیکر معاشرے کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ توہین رسالت کے قانونی عمل کو انکے ہی معاشرے نے ناقابل اعتبار بنا دیا ہے۔

اب پاکستان کی دینی جماعتیں اس فیصلے کے خلاف بروز جمعہ پورے پاکستان میں احتجاج برپا کر رہی ہیں، جسمیں وہ عدالتی عمل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت پر اس بات کہ دباؤ بنایا جارہا ہے کہ حکومت اپنی طرف سے بھی عدالت کے خلاف مداخلت کرے، یہ طریقہ سراسر غیر اسلامی، غیر آئینی اور غیر انسانی بھی ہی۔

پاکستانی جماعتوں کا رد عمل غیر اسلامی اس لیے ہے کیوں کہ وہ ملک کی عدلیہ کو ایک مخصوص فیصلہ لینے کے لیے مجبور کر رہی ہے، مجبوری میں اگرچہ عدالت پھانسی کی سزا بحال کردیں لیکن ایک قتل ناحق ہی نہیں بلکہ ریاست کے دستور اور قانونی عمل کو سبوتاژ کرنے کے بھی مرتکب ہوں گے۔

کتنا افسوسناک منظر ہے کہ جو دینی جماعتیں گزشتہ ستر سالوں میں ایک بار بھی انسانوں کو غلام بنائے جانے کے پاکستانی جاگیردارانہ نظام کے خلاف یکجا نہیں ہوئے، جنہوں نے پاکستانی سیاست میں خود کو جاگیر داروں اور فوجیوں کا ایجنٹ بنا دیا ہے، وہ جماعتیں توہین رسالت کے معاملے میں مصنوعی حساسیت کا مظاہرہ کر رہی ہیں، آج پاکستانی اسلام عوامی اسلام کی اس بد ترین شکل میں بدل دیا جارہا ہے جہاں اسلامی اصولوں کی بالادستی سے پہلے سیاسی دبدبے کی مقابلہ آرائی اور مذہبی معاشرے میں مذہب کو اپنی سیاسی شخصیت کو چمکانے کے لیے اسلام کا استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ وہی پاکستانی دینی جماعتیں ہیں جو اپنے بنگالی اسلامی۔بھائیوں کے خلاف اسلامی اخوت کے جذبے کو پامال۔ہونے۔سے بچا۔نہیں سکے۔ جو پاکستان کے اندر غربت، جہالت، کرپشن اور دیگر سنگین مسائل کے خلاف متحد تحریک۔چلانے میں۔ناکام ہو گئے، مذہبی قیادت کی اس سے بڑی ناکامی کیا ہوگی کہ وہ معاشرے میں کھوکھلی مذہبیت کو اپنی ناکامی چھپانے کے لیے کرتے آئے ہیں۔

تین نکات بیحد اہم ہیں جن کو پاکستان کی دینی جماعتیں جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہیں:

1۔ عدلیہ کے فیصلے کا احترام کا اصول سبھی۔لوگوں پر اور۔سبھی قسم کے فیصلوں پر لاگو ہونا چاہیے، جو معاملہ قانونی ہے اسے قانونی چارہ جوئی سے ہی حل کیا جائے اور اسکے لیے معاشرے میں عدلیہ کی برتری کو قائم رکھا جائے، عدلیہ بھر حال آپکے پسندیدہ فیصلے صادر کرتی رہےیہ توقع غیر اسلامی ہے، غیر قانونی ہے، یہ۔نہیں بھولنا چاہیے کہ دور رسالت اور خلافت میں عدلیہ کی برتری کو قائم رکھا گیا تھا،

2۔  توہین عدالت کی سنگینی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسکی تعریف ایسی ہو کہ اسکا بیجا استعمال نہ ہو سکے، توہین رسالت کے ملزم شخص کو جس ذہنی تکلیف اور سماجی بے۔عزتی سے گزرنا ہوتا ہے وہ خود اپنے آپ میں ایک مقصد بن گیا ہے جسے پاکستانی معاشرے کے بعض لوگ اپنی سیاسی، تجارتی مفادات کے حصول کے لیے کر رہے ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر یہ کہتا ہے کہ توہین رسالت کوئی حادثاتی جرم نہیں ہے جسے ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کی طرح سمجھا جائے۔ یہ ایک نقطہ نظر کا، ایک۔فکری، اور عقیدے کو زک پہنچانے والا باقاعدہ جرم ہے جسکا ارتکاب مثلا تسلیمہ نسرین، یا سلمان رُشدی نے کیا ہے اور آج بھی اس پر علانیہ قائم ہیں، لیکن آسیہ بانو اور اس جیسے معاملات میں ملزم توہین کے ارتکاب کا باقاعدہ انکار کر رہا ہے، یہ انکار اپنے آپ میں کافی ہے کہ ملزم پر توہین رسالت کا مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ معاذ اللہ اگر ہم اس طرح سے توہین کو اتنے نیچے تک لے جائیں گے تو اس بات کا خدشہ ہےکہ بعض دینی جماعتیں اور شخصیات اور مسلم رہنما احکام رسالت کی خلاف ورزی کرکے خود توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

3۔  قانونی معاملوں میں عوام کو سڑکوں پر اتارنا اور انہیں عدلیہ کے خلاف تیار کرنا، ریاست کے خلاف کھڑا کرنا ایک نا عاقبت اندیش حکمت عملی ہے جسکی زد میں خود آپ، آپکا گھر، آپکا مذہب آئیگا۔ معاشرے کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ اگر عدالتیں ناپسندیدہ فیصلہ دے۔دیں تو بھی اسے یا تو قبول کرنا سیکھیں یا پھر اسے اس سےبھی بڑی قانونی چارہ جوئی سے حل کریں، لیکن اسکے خلاف خود اپنے ہی بنائے گئے دستور اور دستوری اداروں کو توڑنا خود کشی کے مانند ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جس حکمت اور موعظت کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تعریف ہے، عدالت نے توہین رسالت کو ایک سنگین جرم تسلیم کیا ہے، لیکن عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہےکہ پاکستان کی دینی جماعتوں کی ذمےداری وہ ہے جسکی طرف انکی عدالت نے توجہ دلائی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close