مغربی تہذیب کی بنیادیں……

کنزیومر ازم (اندھی صارفیت )، سٹہ بازاری، بد امنی (دہشت گردی )اور فحاشی

عالم نقوی

آج ہم جسے مغربی تہذیب کہتے ہیں وہ دراصل صنعتی تہذیب ہے جو ملٹی نیشنل اور ٹرانس نیشنل کاپوریشنوں کی قیادت میں کھلے بازار کی معیشت (فری مارکٹ اکنامی)کے سہارے معیشت کی آفاقیت (گلوبلائزیشن)یا ایک ایسے آفاقی معاشی نظام کے نصب ا لعین کی تکمیل کے مرحلے میں ہے کہ دنیا کا تقریباً ہر سیاسی نظام اُس کے زیر نگیں آچکا ہے یا آنے والا ہے اور دنیا کی ہر حکومت کسی نہ کسی شکل میں (غلامی نہ سہی دوستانہ معاہدوں ہی کے ذریعے سہی ) اس کے کنٹرول میں ہے۔

جس طرح ہر تہذیب کی اپنی اخلا قیات اور کچھ ضابطےSet of Norms and Ethical Valuesہوتے ہیں اُسی طرح یہ صنعتی تہذیب کچھ مخصوص تجارتی اخلاقیات و اقدار Commercial Values and Ethics کی پابند ہے اور کنزیومر ازم (اندھی اور بے لگام صارفیت ) فحاشی، بد امنی اور دہشت گردی کا فروغ اس کے ضابطے ہیں۔ سماج میں نقلی اور فرضی ضرورت پیدا کر کے بازار میں اپنا مال اس طرح پیش کرنا کہ جیسے بس وہی زندگی کی لازمی ضرورت ہو، کنزیو مر ازم ہے۔ فحاشی چونکہ بذات خود ٹجارت اور صنعت بن چکی ہے اس لیے اس کا فروغ اس صنعتی تہذیب کا اٹوٹ انگ ہے۔ منشیات (نشہ آور اشیا اور Drugs)کی لت اور قانون کے محافظوں کی سرپرستی میں اس کی غیر قانونی تجارت بھی اس تہذیب کے غیر اعلان شدہ اور غیر تحریری ضابطوں Code of Conductsمیں شامل ہے۔

دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں بد امنی، خانہ جنگی اور دیشت گردی کا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ صنعتی انقلاب Industrial Revolution کے بعد پہلی جنگ عظیم سے لے کر تا حال ملٹی نیشنل اور ٹرانس نیشنل کارپوریشنوں یا با لفاظ دگر ان کی مالک بازار کی قوتوں Market Forcesنے سب سے زیادہ منافع اسلحہ کی تجارت ہی سے کمایا ہے جس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے نیو کلیر اسلحے کی تجارت بھی شامل ہو چکی ہے۔ منشیات اور سکس انڈسٹری کا نمبر با عتبار منافع اس کے بعد آتا ہے۔

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے  فتو حات! (اقبال )

سات ہزار سال قبل مسیح دنیا میں کسی تہذیب یا تہذیبی مرکز کا پتہ نہیں ملتا۔ وادی سندھ کی تہذیب (انڈس ویلی سویلائزیشن) ہی سب سے قدیم معلوم تہذیب ہے۔ اس کے بعد بابل (میسو پو ٹا میہ)یعنی موجودہ عراق و ایران کی تہذیب ہے۔ پھر مصر اور اس کے بعد انا طولیہ (ایشیائے کو چک۔ یعنی موجودہترکی ) کی تہذیبیں ہیں۔ پھر دو ہزار سال قبل مسیح اور اس کے بعد چین، یونان اور بھارت کی ویدک تہذیبوں کا دور شروع ہوتا ہے۔ روم کی مشہور سلطنت (رومن امپائر) کا قیام 509قبل مسیح میں ہوا تھا۔ قریب ایک ہزار سال تک اس وقت کی معلوم دنیا پر اپنا تہذیبی غلبہ و دبدبہ قائم رکھنے کے بعد 410 AD(عیسوی) سے زوال پذیر ہوکر 476ADمیں یہ عظیم ا لشان حکومت ’طاؤس و رباب آخر ‘ کا شکار ہوکر پوری طرح بکھر گئی۔

 رومیوں کے زوال کے قریب دو سو سال بعد اسلام کا ظہور ہوا۔ الٰہی نظام حکومت اور آفاقی رحمت و اخوت کے ستونوں پر قائمیہ عظیم اسلامی تہذیب ساتویں صدی عیسوی میں اس وقت تک کی معلوم دنیا کے نصف سے زائد قریب دو تہائی حصے تک وسیع ہو چکی تھی۔ نوی صدی عیسوی میں ہسپانیہ (موجودہ اسپین اور جنوبی اٹلی کا ایک حصہ ) بھی اسلامی پرچم کے سائے میں آچکا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ سندھ، جنوبی چین، چینی ترکستان، وسطی ایشیا ، ترکی، جنوبی یورپ اور شمالی و شمال مشرقی افریقہ پر مشتمل اس وقت کی دنیا کے تقریباً تین چوتھائی حصے پر مسلمان ہی حکومت کر رہے تھے۔

 آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے نہ صرف علم و دانش کے چراغ جلائے  رکھے بلکہ سائنس و حکمت کے پودے کو جسے خود انہوں نے لگایا تھا، سیکڑوں درختوں میں تبدیل کر دیا جن کے سائے میں دنیا کا قافلہء علم و عقل آج تک سر گرم سفر ہے۔ لیکن ’شمشیر و سناں اول ‘ والے لوگ یہاں بھی ’طاؤس و رباب ‘ کے چکر میں پڑ کر قیادت و سیادت عالم کے تاج اور قافلہء انسانیت کی رہبری کے اعزاز سے محروم ہو گئے۔

1492 عیسوی میں سقوطِ ہسپانیہ کے بعد  اگر چہ مسلمانوں کی دو عظیم حکومتیں بلکہ سلطنتیں ترکی کی خلافت عثمانیہ اور ہندستان کی مغل امپائر موجود تھیں لیکن وہ اسلام کے عظیم علمی ورثے سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور نہ ہی انہوں نے اُ س علمی و سائنسی تحقیق کو آگے بڑھایا جس کی داغ بیل ہسپانوی عرب مسلمانوں نے رکھی تھی۔ موجودہ مغربی تہذیب اِسی سقوطِ ہسپانیہ کی پیداوار ہے۔

یورپ کی علمی، سائنسی تہذیبی ترقی کا دور وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں پندرہویں صدی عیسوی کے آخر میں مسلمانوں نے چھوڑا تھا۔ لیکن اسلامی دنیا کے بر خلاف یورپ کی علمی ترقی یا نَشائَ ۃ ِ ثانیہ کی  بنیاد خدا پرستی کی جگہ مادہ پرستی تھی لہٰذا وہ جلد ہی نری کھری  بے روح مادی ترقی  میں تبدیل ہو گئی۔ سیاست اور علم و حکمت (سائنس )  دونوں سے الوہی دین و مذہب کو الگ کر دینے، اصطلاحی الفاظ میں سیاست اور سائنس کو سیکولر بنا دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں جو نئی مغربی تہذیب وجود میں آئی وہ سامراجی، استعماری، استبدادی و استحصالی تہذیب تھی جو اختیار و اقتدار کے مالک طبقہء اعلیٰ کی  غیر معمولی مادی ترقی کی بدولت بہت جلد ’’صنعتی تہذیب ‘‘ میں تبدیل ہوگئی جس نے وقت کی تمام مذہبی، اخلاقی اور سماجی قدروں کو کمر شیلائز کر کے محض صنعتی، تجارتی اور  بازاری  اقدار میں بدل کر ر کھ دیا  جہاں زیہادہ سے زیادہ بے قید و بے حساب  منافع کا حصول ہی تہذیب کی معراج قرار پایا۔

 چار سال بعد 2020میں نئی مغربی تہذیب  کے قائم کردہ تین بنیادی اداروں (اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور بین ا لا قوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی ڈائمنڈ جوبلی  یعنی پچہتر ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ ایک امریکی یہودی ماہر قانون ہنری کلین نے اقوام متحدہ کے قیم کے تین سال بعد Zion Rules the Worldکے نام سے ایک کتاب تحریر کی تھی۔ وہ اس م یں لکلھتا ہے کہ ’’اقوام متحدہ در اصل صہیونیت ہی کا دوسرا نام ہے یہ وہی بالا دست عالمی حکومت ہے جس کا ذکر کئی بار صہیونیت کے اکابرین نے اپنے پروٹو کول میں کیا ہے جو 1897 اور  1905 کے درمیان مرتب کیے گئے تھے ‘‘

اللہ، دین اور اخلاقیات کو الگ کر کے برپا ہونے والا علمی و سائنسی انقلاب موجودہ تہذیب کی اولین بنیاد ہے۔ ڈارون، نطشے، فرائڈ، مالتھس، آدم اسمتھ، انگلس اور مارکس نے سائنس، فلسفے، نفسیات، معاشیات، سماجیات اور تاریخ کے میدانوں میں جو نظریات پیش کیے انہوں نے اس خدا بیزار  انقلاب کے لیے نظریاتی مہمیز  کا کام کیا۔ اِ میں صرف تین عیسائی تھے باقی سب یہودی!

 نطشے کے حیات بے مقصد اور بے خدا کائنات والے قنوطی فلسفے  فرائڈ کی جنس زدہ نفسیات اور ڈارون کی ’انسان تھا پہلے بندر‘  والے نظریہء ارتقا نے دنیا میں خدا نا شناسی، دین بیزاری، زندگی کی بے مقصدیت، اخلاق باختگی اور جنسی انارکی نے جو گل کھلائے ہیں وہ آج اپنی گھناؤنی ا شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔

جدید مغربی تہذیب کی دوسری بنیاد صنعتی انقلاب ہے جو تقریباً یورپ کے سیاسی انقلاب کے ساتھ ہی ساتھ رونما ہوا تھا۔ بازار کی قوتوں کے ذریعے ہونے والی بے مثل مادی ترقی، محنت کشوں کے غیر انسانی استحصال اور  دولت کے غیر معمولی ارتکاز کی بدولت ہی صنعتی انقلاب برپا ہو سکا۔ برطانیہ میں صنعتی انقلاب 1750میں شروع ہوا جبکہ امریکہ میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد 1865میں صنعتی انقلاب کا دور شروع ہو سکا۔

1750 سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی (جس نے مغل امپائر کو ختم کر کے تاج برطانیہ کا نگینہ بنایا )، دی ہُڈ سَن وِے کمپنی  (1670) دی رائل افریکن کمپنی 1672 ء دی ساؤتھ سی کمپنی 1711 ء پوری دنیا میں بنام تجارت، محنت کشوں کا استحصال کر کے برطانیہ کے شاپہی خزانے بھر رہی تھیں۔ انہوں نے ایشیا اور افریقہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کربر طانیہ میں اِتنی دولت جمع کر لی تھی کہ جہاں بھی  اُتنی دولت  ہوتی وہیں صنعتی انقلاب آجاتا! اس انقلاب نے اس وقت کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ترقی کے آسمان کی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس درمیان ہونے والی نئی ایجادات بھی  ان کا کام آسان بناتی رہیں۔

1770ء میں ہندستان میں قحط پڑا جس میں لاکھوں لوگ بھوک سے مر گئے لیکن برطانوی کمپنیوں کے وارے نیارے ہوگئے۔ یہ قحط ایسٹ انڈیا کمپنی کا پیدا کردہ تھا۔ اُس نے قحط کو اس طرح کیش کیا اور موت اور بھوک کی تجارت میں اتنا منافع کمایا کہ برطانیہ کیا دنیا کے کسی پسماندہ ترین ملک کو بھی اتنی دولت مل گئی ہوتی تو وہاں بھی صنعتی انقلاب برپا ہو جاتا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ہندستان کا دوسرا عظیم قحط بنگال بھی ان ہی برطانوی تاجروں اور حکمرانوں کا پیدا کردہ تھا۔ فرق بس اتنا ہے کہ اس میں بھارتی  سود خور بنیوں اور ساہوکاروں نے بھی انگریزوں کی بہائی ہوئی قحط کی اس گنگا میں خوب خوب ہاتھ دھوئے اور اپنے انگریز آقاؤں کے چہیتے بن گئے۔

ہندستان میں مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد سلطنت میں بادشاہ سے اجازت لے کر پچاس ہزار پاؤنڈ اسٹرلنگ سے تجارت شروع کرنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی 1770 تک بیس لاکھ پاؤنڈ کما چکی تھی!

1866ء میں نوبیل انعام کی شروعات کرنے والے مشہور ماہر علم طبیعات الفریڈ نوبیل کی ڈائنا مائٹ بنانے والی کمپنی ہمبرگ جرمنی میں قائم ہو چکی تھی۔ 1890 تک امریکہ میں پانچ ہزار کمپنیہاں موجود تھیں لیکن یورپ میں امریکی کمپنیوں کے داخلے پر پابندی لگی ہوئی تھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ان پانچ ہزار امریکی کمپنیوں نے باہم انضمام کے ذریعے خود کو  صرف تین بہت بڑی ملٹی نیشنل انکارپوریٹڈ  کمپنیز میں تبدیل کر لیااور تینوں اپنے بے تحاشہ سرمائے کے بل پر یورپ میں داخل ہو گئیں اور ان تینوں پورے یورپ میں صرف ہتھیاروں کی فروخت شروع کردی اور فری مارکٹ اکنامی کے طریقے کے ذریعے یورپ کے پشتینی روزگار دھندے کو بھی چوپٹ کر دیا۔ جو کام برطانیہ کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ایشیا اور افریقہ میں کیا تھا وہی ان تین  امریکی  کارپوریشنوں نے یورپ میں کرڈالا۔ اور پھر بوسنیا میں سرب غنڈوں کے ذریعے ہنگری کے ایک شہزادے کا قتل کرواکے پورے یورپ کو پہلی عظیم جنگ میں جھونک دیا جنگ کے دوران اِن’’ اسلحہ ساز۔ فروخت کنندہ امریکی کمپنیوں ‘‘کے مزید وارے نیارے ہو گئے۔ عراق و افغانستان سے یمن و سیریا اور غزہ، مغربی کنارہ، لبنان و ارتفاع جولان تک اور پورے  شمالی، شمال مغربی اور وسطی افریقہ اور وسطی، مغربی اور جنوبی ایشیا میں اپنے غلام حکمرانوں کے تعاون سے عالمی اسلحہ مافیا کے ذریعے مغرب کا یہی کھیل آج 2016 میں بھی بدستور جاری ہے۔

   پہلی جنگ عظیم کے دوران ہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منہ کو ہتھیار سازی اور اس کی فروخت کا خون لگ چکا تھا اس خونیں کاروبار سے ہونے والے بھاری منافع کو دیکھ کر 1914 کے بعد ہر بڑی کمپنی نے اپنی پونجی کا بڑا حصہ اسلحہ سازی اور متعلقہ تجارت کے لیے وقف کر دیا۔ پہلی اور دوسری بڑی عالمی جنگوں کے درمیانی وقفے میں بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کارٹل CARTEL بنالیے یعنی بہت سی کمپنیوں نے مل کر ایک بڑا گروپ تشکیل دے لیا۔ جنرل موٹرس، فورڈ، دو پاں DUPONT، آئی سی آئی، فائر اسٹون جنرل الیکٹریکلس کارپوریشن GEC، کوکا کولا اور انٹر نیشنل بزنس مشین آئی بی ایم وغیرہ اَ یسے ہی امریکی ( بیشتر صہیونی)کارٹل ہیں جو دونوں بڑی عالمی  جنگوں کے درمیان وجود میں آئے تھے اور آج  اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں بھی اُسی طرح پوری دنیا کی معیشت پر چھائے ہوئے ہیں بلکہ عالمی معیشت انہیں کی خواہشات، انہیُ کے اِشارَہئِ چشم و اَبرو اور اُنہی کے مفادات کے تحفظ کا دوسرا نام ہے! دوسری جنگ عظیم کے بعد 1946 سے 1969 تک امریکی صہیونی MNCs کی عالمی سرمایہ کاری باسٹھ 62 ارب ڈالر سے بڑھ کر سات سو آٹھ  708اَرَب ڈالر ہوگئی اور پوری دنیا کی مجموعی سرمایہ کاری کا 65 فی صد حصہ امریکی کمپنیوں کے پاس چلا گیا۔

یورپ کی MNCs کی ترقی کا دور 1948  میں اُس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے اپنے مارشل پلان کے تحت یورپی ممالک کو اپنے بازار کے فروغ کے لیے سترہ 17 اَرَب ڈالر کی اضافی امداد دی جس کے نتیجے میں یورپ کی فی کس آمدنی میں اچانک اضافہ ہوگیا اور یورپی بازاروں میں امریکی اشیا کی مانگ اور زیادہ بڑھ گئی۔

لیکن غریب اور پسماندہ ملکوں کو دی جانے والی امریکی اور یورپی اقتصادی امدداد کا اصل چہرہ 1952 میں کھل کر سامنے آگیا اور سب کی سمجھ میں آگیا کہ ترقی یافتہ ملکوں کی مالی امداد دراصل غریب ملکوں میں بازار پیدا کرنے کے کام میں لائی گئی ہے اُنہیں ترقی یافتہ بنانے کیلیے نہیں۔ مشہور ناول ’دی گاڈ فادر ‘کے مصنف ’ماریو پوزو ‘Mario Puzoنے انتقال سے قبل اپنے آخری چند ناولوں میں سے ایک ’’دی فورتھ کے The Fourth Kمیں یہی سوال اٹھایا ہے کہ ’’ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر جنگ کے بعد کچھ لوگ پہلے سے زیادہ طاقتور اور پہلے سے زیادہ دولت مند ہو جاتے ہیں؟ ‘‘اور پھر خود ہی یہ جواب دیا ہے کہ  ’’ ایسا اس لیے ہوتا  ہے کہ ہتھیاروں کی تجارت اُن کے لیے نعمت ِغیرِ مترَقبہ ثابت ہوتی ہے ‘‘ لیکن اب تو وہ  اور زیادہ منافع کے لیے منشیات اور فحاشی کے بازار بھی تلاش کر چکے  ہیں!

          صنعتی انقلاب اور اس کے تمام تر لوازمات کے بعد جدید مغربی تہذیب کی تیسری بنیاد ہے فرد کی بے لگام آزادی کا  مفسدانہ تصور جو کسی بھی طرح کے دینی و مذہبی کنٹرول یا اَخلاقی قدروں پر مشتمل معاشرتی کنٹرول سے ماوراء ہے! Women’s Libیعنی عورتوں کی نام نہاد آزادی کا نعرہ صنعتی انقلاب کے لیے سستے مزدور اور کارکن مہیا کرانے کے لیے ’فرد کی آزادی ‘ ہی کے نام پر دیا گیا تھا۔

                                      تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

                                      چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر ! (اقبال )

           اس کے بعد جدید تہذیب مغرب کے ڈانڈے جمہوریت (ڈیمو کریسی ) قومیت(نیشنل ازم )اور لادینیت (سیکولر ازم ) سے ملتے ہیں۔

                   جمہوریت کے مغربی تصور کو اسلام کے شورائی نظام سے جوڑنا حد درجے کی منافقت اور تلبیس حق و باطل ہے کیونکہ یہ فی ا لواقع ’’فرد کی مطلق آزادی میں یقین رکھنے والا دینی و مذہبی کنٹرول سے ماورا ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں حکمرانوں کا انتخاب بظاہر عوام( بشمول بے عقل، کم عقل، ان پڑھ اور جہلا) کی رائے سے ہوتا ہے لیکن حقیقتاً اُس پر اَرِسٹو کریٹس (اَشرافیہ )اُمراء، وَڈیروں، جاگیر داروں، نوابوں اور خاندانی رئیسوں میں سے اُن لوگوں کا قبضہ ہوتا ہے جنہیں بڑے صنعتی گھرانے (جیسے بھارت میں امبانی، اڈانی، ٹاٹا اور برلا وغیرہ )یا مغربی MNCs اور TNCsاپنے مفاد ات کے تحفظ کے لیے مسند ِاِقتدار پر لانا چاہتی ہیں۔ حتی کہ ماریو پوزو تک نے اپنے اُسی ناول ’دی فورتھ کے‘ میں اِس امریکی نظام کو ایک کارٹون سے تشبیہ دی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ : ’’ معمولی جرائم (اس نے

Petty Crimesکی اصطلاح استعمال کی ہے )یعنی قتل، ڈکیتی رہزنی، لوٹ مار، عصمت دری وغیرہ کو بیشتر صرف اس لیے  نظر انداز  کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے کہ کہیں وہ  ’بے روزگار اور محروم نوجوان مجرمین ‘  اِنقلابی بن کرMNCs کے نظام کو بدل نہ ڈالیں اور پھر امریکہ اور یورپ سے سرمایہ دارانہ جمہوریت Democracy of Capitalism کا وجود ہی  ختم ہو جائے!

                  نیشنل ازم اور سیکولر ازم کے نظریات بھی حقیقتاً اسلام کی ہمہ گیریت اور آفاقیت سے خوف زدہ ہو کرخلق کیے گئے تھے تاکہ انہیں اسلام کے مقابل ایک’’ انسان ساختہ دینی و مذہبی نظام ‘‘کی شکل میں اسلامی نظام کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

               جدید تہذیب کے سامریوں نے نیشنل ازم کے گوسالے کی تخلیق اس لیے کی تھی اسے اللہ سبحانہ کے مقابلے پر قابل پرستش بناکر پیش کیا جا سکے جو، ہرNation State اور اس کے حدود میں رہنے والوں کا واحد  نصب ا لعین اور مقصد آخر ہو! جس کے لیے وہ اپنے غیر اور اپنے دشمن سے جنگ کر سکیں اور جس کے لیے وہ اپنی زندگی جیسی قیمتی شے بھی قربان کر سکیں!

                 سیکولر ازم کا جنم اسی قوم پرستی کی نجس کوکھ سے ہوا۔ مقصد اس کا بھی یہی تھا کہ فطری طور پر  مذہب کے متلاشی انسانی ذہن کو الوہی مذاہب کے مقابلے میں ایک نیا مذہب دیا جا سکے جو اس کے نزدیک ویسے ہی تقدس کا درجہ رکھتا ہو۔ آپ خود دیکھ لیجے کہ آج نیشنل ازم اور سیکولر ازم کا نام کتنے احترام سے لیا جاتا ہے اور اسے کس طرح اسلام کے مقابلے پر اس کے نام نہاد جدید متبادل کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اب تو اس کی شان میں ابو ذر کمال الدین جیسے’’ مسلم مفکرین‘‘ کے قصیدے بھی کتابی شکل میں شایع ہو چکے ہیں اور بعض دینی قائدین بھی اس کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں اور اتنے  جَسُور ہیں کہ اسلام  ہی کو دنیا کا پہلا اور سب سے بڑا سیکولر مذہب اور سیکولر ازم کا سب سے بڑا علم بردار دین قرار دینے میں بھی ذرا خوف نہیں کھاتے!

            لیکن ’مکروا و مکر ا للہ و ا للہ خیر ا لماکرین ‘وہ اپنی چالوں میں تھے اور اللہ کا اپنا منصوبہ تھا اور اللہ سے بہتر منصوبہ ساز اور کون ہو سکتا ہے؟

      کمپیوٹر ٹکنالوجی کی ترقی اور ترسیل و ابلاغ ( کمیو نی کیشن )کے انقلاب نے جس پر مغرب کی اجارہ داری ہے آج گھر گھر پر مغربی  تہذیب و ثقافت کی یلغار کر رکھی ہے ان کا نشانہ پوری دنیا کا وہ متوسط طبقہ (مڈل کلاس )ہے جو مستقبل کے کسی بھی انقلاب میں کلیدی رول ادا کر سکنے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ نام نہاد تہذیبی انقلاب  ِمغرب دنیا کے عوام کی اِس اَکثریت کو، اُس اَندھی صارفیت (کنزیو مر ازم ) اور اُس سے پیدا ہونے والی نفسا نفسی، بے اطمینانی، جنسی بے راہ روی، فحاشی  اور غربت وس افلاس کے سمندر میں غرق کردینا چاہتا ہے  تاکہ طبقہء اعلیٰ Elite Class حکمراں، دھنا سیٹھ، ارب پتی، کھرب پتی اور MNCs کے مالکان جنہیں خود بھی اپنی اتھاہ دولت کا کوئی اندازہ نہیں ہے، سکون کے ساتھ اپنی دنیا میں مست رہیں، ان کے’ سیکڑوں کمروں والے کروڑوں روپئے کے محلات ‘محفوظ رہیں اور ان کے اختیار اور اقتدار کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ  ہو۔ یہ ساری اشتہار بازی، جھوٹا پروپیگنڈا، ’’مابعد جدید فلسفہ، سفارت، اور جمہوریت‘‘ سب اِسی ’کارِ واحد ‘

میں مصروف ہیں! اقبال نے لینن کی زبان سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حضور یہ شکوہ کیا تھا کہ :

تو قادر مطلق ہے مگر تیرے جہاں میں

 ہیں تلخ بہت، بندہء مزدور کے اوقات!

لیکن اللہ  جل جلالہ کا منصوبہ تو کچھ اور ہی ہے۔ اس نے فرمایا ہے کہ ’’اگر اللہ بعض کا بعض سے دفیعہ نہ کراتا رہے تو یہ زمین تباہ و برباد ہو جائے ‘‘اب وہ دن انشاء اللہ دور نہیں کہ یہی مغرب تہذیب خود اپنی اور اپنے نام لیواؤں کی تباہی کا سبب بنے گی۔ حکیم امت نے اہل مغرب سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بجا طور پر متنبہ کیا تھا کہ :

تمہاری تہذہب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا۔ ۔!

خودی میں ڈوب، زمانے سے نا امید نہ ہو۔ ۔ کہ اس کا زخم ہے درپردہ اِہتِمام ِ رَفو۔ ۔ رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہء و یکتا

اتر گیا جو ترے دل میں۔ لا شریک لہ!



⋆ عالم نقوی

عالم نقوی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

تنقید یا تدارک !

ہمارے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ یہ وقت تنقید کا نہیں تدارک کا ہے …