آئینۂ عالمخصوصی

نیوزی لینڈ: امتحاں ہے ترے ایثار کا، خودداری کا

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگ اس  انتہا پسندی کے باوجود اپنے آپ کو امن کا دیوتا سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نےنیوزی لینڈ کی مسجد  میں ہونے والے حملوں کو ’’ہولناک قتل عام‘‘ قرار دیا ہے۔ قصرِ ابیض  نے حملے کی ’’شدید الفاظ میں مذمت‘‘ کرتے ہوئے اس کو  ’’نفرت پر مبنی ظالمانہ حرکت‘‘ قرار دیا ہے۔نائب صدر مائیک پینس نے بھی  ٹوئٹر پر لکھا  کہ میں ’’ نمازیوں  پر ہونے والے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں‘‘۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم، جیسنڈا آرڈرن نے  تو اسے اپنے ملک میں مہلک ترین دہشت گردی قرار دیا لیکن امریکہ کے صدر و نائب صدر نے دہشت گردی کی اصطلاح سے گریز کیا البتہ وائٹ ہاؤس میں  قومی سلامتی کے مشیر، جان بولٹن نے کہا کہ  ’’یہ دہشت گردانہ  حملہنفرت پر مبنی جرم‘‘ لگتا ہے۔اس بیان کا اختتام اس بہیمانہ تشدد کو یقینی دہشتگردی کے زمرے میں نہیں ڈالتا۔ امریکی وزیر خارجہ، مائیک پومپیو نے اپنے عوام کی جانب سے متاثرین کے لیے اظہار ہمدردی اور لواحقین کے لیے دعائیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا  کہ ’’ہم مصیبت کی اس گھڑی میں نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام کو اپنی غیر متزلزل یکجہتی کی پیشکش کرتے ہیں‘‘۔

امریکہ کی سبھی  سیاسی جماعتوں نے نفرت اور شدت پسندی کی مذمت اور ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔ سینیٹر کملا ہیرس نے کہا ہے ’’ نمازیوں کا  قتل عام بزدلانہ شیطانی عمل ہے‘‘۔بیٹو او رورکے مطابق  ’’لاتعلقی کے اظہار سے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔سینیٹر برنی سینڈرز کا کہنا تھا  ’’نفرت اور شدت پسندیہر شکل میں قابل مذمت ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کسی کو جان کا خطرہ نہیں ہونا چاہیئے‘‘۔امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کی وزیر کرسٹین ایم نیلسن نے یقین دلایا  کہ پُرتشدد انتہاپسندوں سے تحفظ کے لیے ان کا محکمہ ضروری  اقدامات کر رہا ہے۔ داخلی طور پر کوئی یقینی و عملی  خدشہ  نہیں ہے۔ نیو زی لینڈ کے حملہ آوروں سے منسلک کوئی فرد یا گروہ امریکہ میں موجود نہیں ہے تاہم وہ  امریکی مسلمانوں کے اندرنماز کی ادائیگی کے لیے مساجد جاتے ہوئے ممکنہ تشویش سے بخوبی واقف ہیں ۔ نیلسن نے اعادہ کیا کہ ’’ مذہبی آزادی اس ملک کا خاصہ ہے۔ پر امن لوگوں پر عبادتگاہوں میں ہونے والے حملے قابل مذمت ہیں جنھیں کسی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہماری کوشش ہوگی کہ نمازی کسی ڈریا خوف کے بغیر آزادی کے ساتھ نماز کی ادائیگی جاری رکھیں۔نیو یارک شہر کےگورنر اور میئر نے شہر کی مساجد کے گرد پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا نیز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مہلوکین کے لواحقین سے قلبی  ہمدردی اور ہر ممکنہ تعاون کی پیشکش کی۔

اعتماد بحالی کی اس مشق کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف  ہوا کہ کرائسٹ چرچ کی النور مسجد کا بندوق بردار حملہ  آوربرینٹن  ٹیرینٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پرستار ہے۔ وہ ٹرمپ کو گوروں کی نئی پہچان مانتا ہے۔ اس بیان سے وہ تمام لوگ ششدر رہ گئے جو امریکی صدر کے خیالات سے واقف نہیں ہیں۔    سفید فام نسلی تفاوت کے جنون میں گرفتار ٹیرنٹ اور ٹرمپ میں کئی اقدارمشترک  ہیں اور انہیں  نے اس کو  امریکی صدر ٹرمپ کا فداکار بنادیا  ہے۔ صدرٹرمپ کے لیے اس حقیقت کا انکار ناممکن ہے کہ وہ سفید فام نسل پرست نہیں ہیں۔ پہلے زمانے میں  لوگ بیان دے کر مکر جاتے تھے یا کہہ دیتے تھے  کہ ان کے  بیان توڑ مروڈ کر پیش کیا گیا ہےلیکن اب یہ ممکن نہیں ہےکیونکہ  فی زمانہ  الفاظ ہوا میں تحلیل نہیں ہوتے بلکہ تصویر سمیت انٹر نیٹ پر محفوظ ہوجاتے ہیں۔ بوقتِ  ضرورت بڑی آسانی سے گوگل انہیں تلاش کرکے حاضرِ خدمت کردیتا ہے۔ اسلامو فوبیا کے موضوع پرڈونلڈ ٹرمپ اپنے  زرین  خیالات کے سبب  ہی اس   اندوہناک  واردات کو  دہشت گردی نہیں کہہ  سکے۔

ڈونلڈ  ٹرمپ نےصدارتی امیدوار کے طور پر ۲۰۱۵ ؁ کے اواخر میں مسلمانوں کے امریکہ کی سرزمین پر داخلہ پر روک لگانے کی دھمکی دی تھی   اور منتخب ہونے کے بعد کئی مسلم اکثریتی ممالک کے لوگوں پر پابندی بھی لگائی  تھی۔ اس عمل کی  ہو بہو جھلک ٹیرنٹ  کے منشور میں ملاحظہ فرمائیں۔ وہ لکھتا ہے ’’حملہ  آوروں  کو دکھانا ہے کہ ہماری زمین کبھی ان کی نہیں ہوگی ، جب تک ایک بھی گورا شخص رہےگا ، وہ کبھی فتحیاب نہیں ہوں  گے ـ‘‘ ٹرمپ کو محض مسلمانوں سے پرخاش ہوتی تو مغرب نواز علمائے  دین اس کا ٹھیکرہ  الٹا مسلمانوں کے سر پھوڑتے ہوئے  یہ توجیہ کرتے کہ اس ردعمل کے پیچھے  دین اسلام سے ہمارا  انحراف کارفرما ہے۔ ہم لوگ  اگر اپنے دین پرکاربند ہوجائیں تو یہ نفرت ازخود محبت میں بدل جائے گی۔  ایسے لوگوں کی خوش فہمی کو دور کرنے کے لیے ۲۰۱۶ ؁ کے اندر سی این این چینل  کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’میرے خیال میں اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے‘‘۔ یہ دراصل منافقانہ سیاسی بیان بازی  ہے۔ امریکہ کا صدارتی امیدوار  دراصل یہ کہنا چاہ رہا تھا  کہ ’’میں اسلام سے نفرت کرتا ہوں‘‘۔ اس لیے کہ  اسلام بھلا کسی سے نفرت کیوں کرسکتا ہے؟  اگر ایسا ہوتا تو آج بھی  یوروپ اور امریکہ میں بے شمار غیر مسلم مشرف بہ اسلام نہیں ہورہے ہوتے۔

اس معاملے کا ایک  دلچسپ پہلو یہ بھی  ہے  کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس انتہا پسندی کے باوجودبرینٹن ٹیرنٹ اس سے مطمئن نہیں ہے۔ اس نے اپنے منشور میں لکھا ہے  گوکہ وہ ٹرمپ کو سفید فام قوم پرستی کی علامت سمجھتا ہے اس  کے باوجودایک سیاسی رہنما کے طور پر انہیں مسترد کرتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی   تنظیم  سی اے آئی آر  کے ترجمان نہاد عوض  کے مطابق ٹرمپ نے اسلامو فوبیا کو ایک عام سی بات قرار دے کر مسلمانوں اور مہاجرین سے ڈرانے والوں کو جواز فراہم کردیا ہے۔ ویسے ٹیرنٹکو مسلمانوں کے ذریعہ یوروپی تہذیب کی نام نہاد تباہی کا جو قلق ہے وہی درد  ٹرمپ کو بھی ستاتا  ہے۔  ابھی حال میں ٹرمپ  نے  یوروپ کے دورے پر مہاجرین سے متعلق ایک سوال  کے جواب میں  کہا تھا  ویسے تو یہ سیاسی طور پر درست نہیں ہے لیکن میں یہ کہوں گا اور زور دے کر کہوں گا کہ میں سمجھتا تہذیب بدل رہی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یوروپ کے لیے یہ منفی عمل ہے۔ امیت  شاہ کی طرحڈونلڈ  ٹرمپ بھی پناہ گزینوں  کو درانداز کہہ کر پکارتے ہیں  جبکہ ٹیرنٹ انہیں حملہ آور کہتا ہے۔ان  دونوں ناپسندیدہ  اصطلاحات میں بنیادی طور پر   بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں امریکہ کے پٹسبرگ شہر کے اندر  یہودیوں کی عبادتگاہ  کے اندر ۱۱ لوگوں کو ہلاک  کرنے والے نسل پرست سفیدفام نے انہیں  حملہ آوروں کا مددگار قرار دیا تھا۔

نسل پرستی کا یہ مرض صرف امریکہ تک محد ود نہیں ہے۔ برطانیہ کی قدامت پرست جماعت ٹوریز کو ابھی حال میں اپنی جماعت کے ۱۴ ارکان کونسلی امتیاز کے تضحیک آمیز تبصروں کے سبب   معطل کرنا پڑا۔  یہ جملے جیکب  ریس موگ نامی رکن پارلیمان کے فیس بک پیج  کی دیوار پر پائے گئے تھے۔ ۱۴۰۰۰ لوگ فیس بک پر ریس موگ کا تعاقب کرتے ہیں  اور ان کی  پارٹی کاپیچھا کرنے والوں کی تعداد  ایک لاکھ سے تجاوز کرتی   ہے۔ ریس موگ نے ایک جگہ لکھا  ’تمام مسلمانوں کو عوامی دفاتر سے نکال دیا جائے  اور تمام مساجد سے نجات حاصل کرلی جائے‘۔ وہ برطانیہ  کے ہوم سکریٹی  ساجد جاوید کی حمایت اس لیے نہیں کرسکا کہ  جاوید کے آبا و اجداد پاکستان سے آئے تھے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیکولر جمہوریت کے بلند بانگ دعووں کے باوجود اپنے آپ کو مہذب دنیا کا سرخیل سمجھنے والا یوروپ  ابھی تک نسلی  امتیاز و منافرت سے ابھر  نہیں سکا ہے۔ ہندوستان جیسے ممالک میں بھی مغربی نظریات کے فروغ کے ساتھ ہی  فسطائیت مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ قوم پرست جمہوری  رہنما انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے  ذرائع ابلاغ کے ذریعہ یہ زہر پھیلاتے ہیں جس سے  برینٹن ٹیرنٹ جیسے انتہا پسند دہشت گرد وجود میں آتے ہیں۔ اس دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے ان فاسد نظریات سے نجات لازمی ہے۔

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگ اس  انتہا پسندی کے باوجود اپنے آپ کو امن کا دیوتا سمجھتے ہیں۔ ابھی حال میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی کاوشوں کے باعث، جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے انہیں نوبل امن اعزاز کے لیے نامزد کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شنزو آبے یہ انکشاف  کرتے لیکن  اس وقت تک ڈونلڈ ٹرمپ خود کو قابو میں نہیں رکھ سکے اور خوشی سے پھٹ پڑے۔ صدر ٹرمپ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب  جاپان  کے اوپر سے کوریائی میزائل گزرتے تھے، تاہم اب ان کی کاوشوں کے باعث جاپانی عوام خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس کی تردید میں  ايک جاپانی اخبارنے احسانمندی کا پول کھولتے ہوئے لکھ دیا کہ  ٹرمپ کے نامز کیے جانے کی وجہ  امريکی  دباو  بمعنیٰ درخواست  تھی ۔ اس طرح غبارے کی ہوا نکل گئی۔

   نوبل امن انعام کا اعلان  ویسے تو ہر سال اکتوبر میں کیا جاتا ہے لیکن اس کے لیے نامزدگی فروری میں شروع ہوجاتی ہے۔ اس بابت جاپانی وزارت خارجہ نے نہایت محتاط  تبصرہ کرتے ہوئے  صرف اتنا کہنے  پر اکتفاء کیا  کہ ٹوکیو حکومت اس صورت حال سے آگاہ ہے۔ سرکاری  ترجمان نے نہ تو   سفارش کی تصدیق کی اور  نہ  اخباری رپورٹ کو مسترد کیا۔  ماضی میں تین امریکی صدور اس باوقار انعام سےسرفراز ہوچکے ہیں۔ سب سے پہلے ۱۹۰۶ ؁  میں صدر تھیوڈور روزویلٹ کو روسی جنگ ختم کرانے کی کوششوں پر یہ انعام ملا  اور پھر ۱۹۱۹؁  میں صدر ووڈرو ولسن کو ’لیگ آف نیشنز‘(جو آگے چل کر اقوام متحدہ بن گئی) کے قیام پر   نوبل امن پرائز سے نوازہ  گیا۔  اس   ادارے کے متعلق علامہ اقبال فرماتے  ہیں؎

گرمیِ گفتارِ اعضائے مجالس، الاماں! 

 یہ بھی اک سرمایہ‌داروں کی ہے جنگِ زرگری

صدر ولسن  کے ۹۰ سال بعد ۲۰۰۹ ؁ میں  امریکی صدر براک اوباما کو یہ اعزاز ملا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو اوبامہ سے زیادہ اس انعام  کا حقدار سمجھتے  ہیں۔ ان کے مطابق اوبامہ کوتو پتہ  ہی نہیں تھا کہ انہیں  یہ اعزاز  کیوں دیا جارہا ہے؟ اس بات کا علم اوبامہ کو تھا یا  نہیں یہ کہنا مشکل ہے لیکن   نوبل پرائز دینے والے ماہرین کو ضرور  تھا۔ نوبل فاؤنڈیشن کی روایت یہ ہے کہ وہ  اپنی  موصول شدہ   نامزدگیوں کو پچاس برس تک صیغۂ راز میں  رکھنے کے بعد منصۂ شہود پرلاتی ہے لیکن ٹرمپ ’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘  صبرکرنے کے قائل ہیں اس لیےضبط نہیں کرسکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹرمپ اپنی تمامتر ہیکڑی کے باوجودبراک اوبامہ سے فروتر ہیں۔ وہ  نہایت  زیرک سیاست داں تھے۔

براک اوبامہ  نے  ایک تیر سے دو شکار   کرتے ہوئےایک طرف آزادی و جمہوریت کا نغمے سنائے۔ قاہرہ میں آکر عالم اسلام کو مخاطب کیا لیکن  امن و مفاہمت کا پیغام دینے کے بعد مسلم دنیا پر امریکی  جبر مسلط کرنے کی خاطر چپکے سے  داعش کو میدان میں اتار دیا۔اس طرح مسلمانوں کے ساتھ  اسلام کو  بھی بدنامی کی لپیٹ میں لے لیا۔ نظریاتی اور عملی سطح پر مغرب کی اس عظیم خدمت کے لیے نوبل انعام سے نوازہ جانا ان کا حق تھا۔   مغرب کے دانشور  ٹرمپ کی مانند احمق نہیں بلکہ سفاک وچالاک ہیں۔  وہ ٹرمپ اور اوبامہ کا فرق سمجھتے ہیں اور اسی لحاظ ان کی قدر دانی کرتے ہیں۔ ۔ اس کے باوجود کئی مسلمانوں کو افسوس ہے کہ انہیں نوبل انعام  سے کیوں نہیں نوازہ جاتا؟  ان نادان مسلمانوں سے زیادہ حقیقت پسند تو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں  کہ جوجاپانی وزیراعظم  آبے کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ازخود   اعتراف کرلیتے ہیں کہ  ہوسکتا ہے انہیں  نوبل انعام   نہ ملے۔

ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ جیسا بددماغ امریکی صدر ہے اور دوسری جانب  اسلامی تعلیم سے آراستہ کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسجد کے امام ابراہیم عبدالحلیم  ہیں۔ انہوں نے نہایت صبرو تحمل کے ساتھ  کہا کہ اس حملے سے مسلمانوں کے دلوں میں نیوزی لینڈ کے لیے محبت کے جذبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔لینووڈ مسجد کے امام کا کہنا تھا کہ "ہم اب بھی اس ملک سے محبت کرتے ہیں۔ انتہا پسند ہمارے اعتماد کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے”۔امام مسجد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے  کہا  کہ "نیوزی لینڈ کےعوام  کی اکثریت نے ہمارے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے”۔ امام ابراہیم کا عزم و حوصلہ   شاہد ہے کہ مسلمان حزن و ملال کے بعد    مایوس ہوکر بیٹھ جانے والی امت نہیں ہے۔ بقول اقبال ؎

ہے جو ہنگامہ بپا یورشِ بلغاری کا

غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا

تُو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا

 امتحاں ہے ترے ایثار کا، خودداری کا

امت مسلمہ  قرآن حکیم کی اس آیت میں یقین رکھتی ہے کہ  ’’اس (مخالف) جماعت کی تلاش اور تعاقب میں سستی نہ دکھاؤ۔ اگر اس میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ تو انہیں بھی اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے۔ جس طرح تمہیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے اس چیز (ثواب) کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے‘‘۔ اہل ایمان ہر مشکل اور آسانی میں اپنا مقام و مرتبہ  کا خیال رکھتے ہیں ۔ وہ ہر حال میں کتاب حق کی اس آیت پر عمل پیرا ہوتے ہیں کہ ’’ بے شک ہم نے (یہ) کتاب حق کے ساتھ آپ پر اتاری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے اور آپ خیانت کاروں کے طرفدار نہ بنیں۔ (النساء ۱۰۴ تا ۱۰۵)۔ وقار و   پامردی کے ساتھ دشمنانِ دین  کا مقابلہ کرنا اور خائنوں کی حمایت کیے بغیر کتاب حق کے مطابق عدل و انصاف قائم کرنا امت مسلمہ کا فرض منصبی  ہے۔ دشمنان اسلام امت کے اسی شعار سے خوفزدہ ہوکر بزدلانہ حملے کرتے ہیں  لیکن  امت اپنے مقام  و مرتبہ سے واقف ہے بقول حکیم الامت   ؎

چشمِ اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری

ہے ابھی محفلِ ہستی کو ضرورت تیری

وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے

نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close