آئینۂ عالم

نیوزی لینڈ سانحہ: اسلامو فوبیا اور دہشت گردی کے تناظر میں

محمدصابرحسین ندوی

ملا ہے ہمیں بوئے گل کا مقدر

  ہمارا سکوں ہے پریشاں ہو جانا

آج پوری دنیا دہشت گردی اور خوف و ڈر کے سایہ میں جی رہی ہے، ہر ملک کی قدریں اور وہاں کے باشندوں کی جانیں اچانک ہونے والے جرائم اور قتل وخون سے معلق ہیں، درخت کا ہر پھل کڑوا کسیلا ہوتا جارہا ہے، بلکہ ا س کے جراثیم اور مسموم فضا پورے ماحول کو زہر آلود کر رہی ہے،چمن کا ہر پھول بے سود اور ہر سکہ کھوٹا ہوتا جارہا ہے،بہ مشکل ہی کہیں کوئی ایسی جگہ دستیاب ہے جو آہنی ذرات اور کیمیکل سے محفوظ ہو، کبھی یہ کام بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے، تو کبھی اسے شخصی طور پر انجام دے کر پوری انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا جاتا ہے،یہ دراصل ہتھیار اور اوزاروں کی غلطی نہیں؛ بلکہ یہ ایک گندی سوچ و فکر اور ذہنی فتور کا معاملہ ہے، جس کے نتیجہ میں باری باری مذاہب اور سماجی طبقات کچلے جاتے رہےہیں، تو اب اسلام اس کے نشانے پر موجود ہے، اسے جدید اصطلاح میں ’’اسلامو فوبیا ‘‘ کہا جاتا ہے، یہ فوبیا ہر اس چیز کی تعبیر ہے جو انسان کو ذہنی غذا کے طور پر دی گئی ہو، خواہ وہ اسکول و کالج کے نصاب کے تحت ہو یا معاشرتی زندگی میں طرز بود وباش سےہو، یہ نفرت و بغض کی ایک ہوا ہے جو کسی بھی خاص گروہ کے خلاف نشو و نما پاتا ہے، اس کی تازہ مثال نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی ہے۔

نیوزی لینڈ ایک جزیرہ ملک ہے جس کا دارلحکومت ویلنگٹن ہے۔ اس کی یوم تاسیس 26 ستمبر 1907 ہے، سرکاری زبان انگریزی ہے۔ مشہور سیاح جیمز کک نے اسے تلاش کر کے اسے دنیا کے نقشے پر براجمان کیا تھا، نیوزی لینڈ جزیرہ ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر بہت خوبصورت ہے، موسم خوشگوار رہتا ہے، اس کا خاص تعلق آسٹریلیا سے ہے، لوگوں کا مزاج بھی معتدل اور غیر متشددانہ ہے،بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا دوسرا سب سے زیادہ پر سکون پر اطمینان ملک ہے، اسلام کی نیوزی لینڈ میں آمد 1870ء میں مسلم چینی سونے کی آمد کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ ہندوستان سے مسلم تارکین وطن اور مشرقی یورپ کی چھوٹی چھوٹی تعداد میں 1900ء سے 1960ء کی دہائی تک آباد ہونے والے اور بڑے پیمانے پر مسلم امیگریشن 1990ء کی دہائی میں، مختلف جنگ سے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی آمد مسلسل مسلم آبادی کے اضافے کا سبب بنا۔ 2006ء کی مردم شماری میں 72،360 سے زیادہ لوگوں نے اپنے آپ کو اس مذہت کا پیرو بتایاتھا، یہ کل آبادی کا نواں فیصد بنتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں اسلام ایک بڑھتا ہوا مذہب ہے، عموما اس کے بارے میں معتدل رائے رکھی جاتی ہے، خود حکومت نے وہاں کی ایک اسلامی انجمن کو تمغہ سے نوازا تھا، بعض افراد وہاں کی سیاست میں بھی اہم رول رکھتے ہیں؛ لیکن ظاہر ہے کہ فاسد خیال اور اسلام دشمنوں کو اسلام کی سلامتی اور مسلمانوں کی شانتی کیوں کر راس آنے لگی؟ یہی وجہ ہے کہ آج 15/03/2019 بروز جمعہ کو جب سبھی نماز جمعہ کی تیاری میں تھے، اسلام کے پروانے خدا تعالی کی پکار پر لبیک کہہ رہے تھے، لوگ کشاں کشاں دربار الہی کی طرف کھنچے چلے آرہے تھے؛ کہ تبھی وہاں کرائسٹ چرچ (یہ نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرہ کے مشرقی ساحل پر واقع ہے، جو انگلش ورثہ کے طور پر مشہور ہے، خوبصورتی میں یہ اپنی مثال آپ ہے) کی دو مسجدوں میں دہشت گردانہ حملہ کیا گیا، آٹو میٹک مشین گن سے فائرنگ کی گئی، یہ حملہ اسی قدر وحشیانہ اور درندگی سے پر تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے سب سے معزز گھر اور لا مکاں کے مکین کو خون آلود کردیا گیا، معصوموں کا خون تیرنے لگا اور صفیں سرخ رنگ سے لت پت ہوگئیں، نہتے مسلمان چیختے اور اپنے رب رحیم کی رحیمی کو یاد کر رہے تھے، تو بہت سے حواس باختہ ہو کر فائرنگ کے مد مقابل ہوگیے، تقریبا اڑتالیس یا اس سے زائد مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

نیوزی لینڈ کے وزیراعظم نے اسے تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے صاف صاف اعتراف کیا ہے کہ یہ ایک دہشتگردانہ حملہ تھا،ساتھ ہی انہوں نے تمام مسلمانوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے ان کے حق میںآواز بلند کی، اور یہ تسلیم کیا کہ یہ ملک جس قدر ان کا ہے اتنا ہی مسلمان یا مہاجرین کا ہے؛ لیکن اس کے باوجود مغربی میڈیا اسے دہشت گردی ماننے سے انکار کر رہا ہے، بلکہ اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک سر پھرے کی حرکت ہے، اسے کسی مذہب اور دہشت سے نہیں جوڑنا چاہئے، اس سے زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ عموما دنیا کی قیادت خاموش ہے، فرانس میں حملے کے بعد جس طرح عالمی طاقتوں نے اور خود مسلمانوں نے بیدار مغزی دکھائی تھی، دہشت کے خلاف اتحاد کی آواز بلند کی تھی، اور لبرل ازم کے ماروں نے اسلام و مسلمان کو دنیا کیلئے خطرہ بتانے کا دور جاری ہوگیا تھا، آخر اس حملے کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ کیا مسلمانوں کا خون رائیگاں ہے، اس کی سانسوں پر ہر رہزن کا حق ہے؟ اقوام متحدہ کی للکار ایسے وقت پر کہاں غائب ہوجاتی ہے؟ نیوز چینلوں اور ڈبیٹس پر یہ موضوع بحث کیوں نہیں بنتا؟ یہ تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا کہ اسلام نہیں بلکہ صلیبی و صیہونی فکر اس دنیا کیلئے خطرہ ہے، اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہنے والے اور دوسروں کو حقیر جاننے والے ہی انسانیت کے دشمن ہیں۔

قابل غور امر یہ ہے کہ مسلمانوں کا خون اس قدر سستا کیوں ہے؟ اس کی سانسوں پر لٹیروں نے قبضہ کیوں کر لیا ہے؟کیوں دنیا خون سے اٹی لاشوں کو دیکھ کر لطف اندوز ہورہی ہے؟ اگر نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں خونی کھیل کے وہی چند افراد دہشت گرد ہیں، تو وہ صہیونی اور صلیبی جس نے ان کی رگوں میں نفرت کا زہر گھول دیا اور مسلمانوں کے مد مقابل کھڑا کر کے معصوموں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دینے پر اکسایا؛ ایسے میں انہیں دہشت گرد کیوں قرار نہیں دیا جاتا؟ اگر کہیں پر ایسی واردات کے پس منظر میں کسی نام نہاد مسلم کا نام آجائے یا اس سے صرف منسوب کر دیا جائے، تو پوری مسلمان برادری دہشت گرد اور قابل مطعون ٹھہر جاتی ہے؟ یہ سوالات ہیں اور ضرور ہیں؛ لیکن اس سے زیادہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ مسلمان جو دوسروں کی نجات کا باعث تھا، جس کا مقصد اندھیرے سے اجالے کی طرف نکالنے اور ظلم و قہر کا خاتمہ کر کے امن و سلامتی بحال کرنا تھا وہ آخر ایسی کیسی حالت زار میں پہونچ چکے ہیں،ان کے بارے میں فوبیا یعنی فطری ڈر پیدا کردیا گیا ہے، جو انہیں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر رہا ہے، کیا ان کے نبی (صلی اللہ علیہ و سلم) نے نہیں کہا تھا: کہ مانگنے والے ہاتھ سے زیادہ بہتر دینے والے ہاتھ ہیں، اور یہ کہ مومن ایک ہی سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا نہیں جاتا۔

آج پوری دنیا میں مسلمانوں کی گردنیں تشتری میں سجائی جارہی ہیں، بندوق کی نوک پر بھونا جارہا ہے، ہم افغانستان کی پندرہ لاکھ لاشیں دیکھ چکے، عراق کے بارہ لاکھ یا اس سے زائد نعشوں پر ماتم ہو چکا، سیریا میں جل رہے لاکھوں لاشوں پر روزانہ فاتحہ پڑھتے ہیں، مصر اور سعودی عرب سے لیکر لیبیا اور یمن میں ہر دن مسلم جسموں کے چیتھڑے کئے جا رہے ہیں، ان کا مثلہ کر کے ریگستان کے حوالہ کیا جا رہا ہے، بئر معنونہ جیسے سینکڑوں واقعات رونما ہوئے رہے ہیں، اس کے باوجود مسلمان کبھی اقوام متحدہ کی گہار لگاتا ہے، کبھی وہ عالم عربی جس پر زمانہ ہوا فاتحہ پڑھا جا چکا ہے اور جس کی نعش سے سڑاند کی بو آنے لگی ہے، اس سے مدد و نصرت کی بھیک مانگتے ہیں، وہ یوروپ جس نے پوری دنیا کو دو عظیم عالمی جنگیں سوغات میں دی، جس نے فرانس، برطانیہ اور اطالوی سامراج میں دنیا کو زنجیر پہنا دیا تھا، ہر انسان کو اپنا غلام بنا کر آخر اسے اپنی چوکھٹ کا پالتو جانور بنا کر چھوڑ دیا تھا،خود ہمارا ملک ہندوستان ہندتوا کی دہائی دیتا ہے، اور مسلم جانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتا ہے، ان کی موت پر جشن مناتا ہے، کیا اس سے ہم مدد مانگتے ہیں؟ یا ایسا تو نہیں کہ ہم بھول گئے ہوں: کفر کی ملت ایک ہے، اس  کے نام بدلے جا سکتے ہیں، ان کی پہچان بدلی جا سکتی ہے؛ لیکن ان سب کا محور مسلم جان کا شکار اور اسلام کی بیخ کنی ہی ہے۔

حیرت کی انتہا یہ ہے کہ ہم نے تا تاری دور کو بھی مات دے دی ہے، تاریخ میں پڑھتے تھے کہ ایک خاتون مسلمان مرد سے کہتی تھی؛ کہ تو یہیں اپنی گردن رکھنا میں تلوار لے کر آتی ہوں، اور واقعہ یہی ہوتا کہ اس کی ہمت اتنی بھی جسارت نہیں کرتی؛ کہ وہ اپنا سر مامور بہ جگہ سے ہٹا سکے، وہ یوں ہی رہتا اور وہ تلوار لے آتی اور اس کا سر قلم کر دیتی۔ کیا یہ قصہ آج پھر ہمارے سامنے نہیں؟ بیرون ممالک، برما ہو یا ہندوستان غیر مسلموں نے سب سے آسان ٹارگیٹ ہمیں ہی بنا رکھا ہے؟ ابھی آپ نیوزی لینڈ میں ہوئے حادثے کی ویڈیو دیکھئے ایک بدمست ناہنجار اپنے پوری توانائی کے ساتھ پچاسوں مسلمانوں پر حملہ ور ہے، لیکن کیا مجال کہ کسی نے بھی دفاع کیا ہو؟ یا کسی نے بھی اف تک کی ہو؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب اسی دن اور وقت کا انتظار کر رہے تھے، اور وہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہماری جان اتنی سستی ہے؛ کہ بس کوئی اسے لینے  والا چاہئے!!! سوچئے! جب بھی مسلمانوں پر کوئی حملہ کرتا ہے تو عموما بغیر کسی چوں چراں وہ اپنا سر جاں پناہ کی حضور میں حاضر کر دیتا ہے، آخر ایسا کیوں؟ یاد رکھئے!! آپ چیخئے! چلائیے! گلا پھاڑ لیجئے! لیکن اگر آپ یہ نہ سمجھ سکے کہ "و اعدوا لھم ماستطعتم من قوہ” ایمان کا حصہ ہے تو آپ یونہی لقمہ تر بنتے رہیں گے۔

ضرورت ہے کہ عالمی منظر نامہ پر نظر رکھی جائے، لوگوں میں اٹھتے جذبہ محبت اور حق پسند جماعت کی ہمدردی کے ساتھ دعوت دین کی طرف پیش قدمی کی جائے، غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی جائے، اورنیوزی لینڈ حکومت نیز حق پسند لوگوں کے اسلام کے تئیںدرد دل ومحبت کے احترام اور بسر وچشم قبول کے ساتھ یہ سوال بھی کیا جائے کہ اس اسلامو فوبیا کو جنم دینے والا امریکہ خود امن کی خاطر کیوں دنیا پر نفرت کی سیاست کرتا ہے، ڈونالڈ ٹرمپ اور ساہمنس جیسوں کی شر انگیز فکریں کیوں برداشت کی جاتی ہیں؟ کیا انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے ہی ایٹم بم کے ذریعہ ہیرو شیما کو تباہ کیا تھا اوروہاں کی نسلیں تباہ کردی تھیں، طیب اردوغان کا وہ سوال بھی اٹھانا چاہئے کہ جب کوئی صلیبی یا صہیونی اور بدھسٹ حملہ آور ہو تو اسے اور ا سکے مذہب کو بھی دہشت گرد کیوں نہیں کہتے؟ اور جب کسی مسلمان کا نام آئے تو کیوں بانچے کھل جاتی ہیں؟ اور پورے اسلام کو ہی دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے؟ کینڈل مارچ کیوں نہیں نکالے جاتے؟ احتجاجات کیوں درج نہیں کئے جاتے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close