آئینۂ عالمخصوصی

نیوزی لینڈ سے سری لنکا تک دہشت ہی دہشت

اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد مچ جاتا۔

ڈاکٹر سلیم خان

کرائسٹ چرچ حملے کے ۳۵ دن بعد  عیسائیوں  کے تہوار ایسٹر کے دن سری لنکا میں کوچھیکاڈے، کٹواپٹیا اور بٹیکالوا میں واقع تین گرجا گھروں اور دارالحکومت کولمبوکےاندر تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری میں جملہ ۸بم دھماکے ہوئے۔ اس دہشت گردانہ کارروائی  میں تقریباً  ۳۰۰  لوگوں کی ہلاکت اور ۴۰۰ کے قریب زخمیوں کی خبر نے ساری دنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس طرح کی بربریت عام دنوں میں بھی  ناقابلِ برداشت ہے   کجا کہ خوشی  کے  موقع پر غیر متعلق بے قصور لوگوں پر ایسا حملہ  ہو۔ یہی وجہ ہے کہ  کولمبو کے کارڈینل آرک بشپ میلکم رنجیت نے عوام سے ‘صبر کے ساتھ امن و صلح کے لیے کام کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا ’یہ ہم سب کے لیے انتہائی مشکل حالات ہیں کیونکہ ہمیں اس کا ذرا بھی اندیشہ نہیں تھا اور وہ بھی ایسٹر کے دن۔ ہمارے لوگ بغیر کسی خدشے کے چرچ گئے اور دو چرچوں میں زیادہ تر لوگ ہلاک ہوئے۔ ‘گڈ فرائیڈے کے بعد والے اتوار کو ایسٹر کی دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے اسی  کے دوران یہ  وحشیانہ حملہ ہوا۔ نیوزی لینڈ کے مقابلے  سری لنکا  کی واردات اس لحاظ سے مختلف   ہے کہ   اس بار کسی نے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی  تاہم حکام ابھی تک ۲۲ افراد کو گرفتار کرچکے ہیں ۔

سر ی لنکا میں ۷۰ فیصد آبادی بودھ مذہب کی پیروکار ہے جو ۲ قبل مسیح سے اس ملک میں پھل پھول رہا ہے۔ یہ لوگ سنہالی زبان بولتے ہیں۔ سری لنکا کی سب سے بڑی اقلیت ۱۳ فیصد  ہندو ہے۔ ان میں سے کچھ سنہالی زبان بولتے ہیں لیکن زیادہ  تمل ہیں جو شمال اور مشرقی ساحل پر آباد ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی  ۱۰ فیصدی ہے اور عیسائی باشندے  ۷ فیصد  ہیں۔ سری لنکا ایک طویل عرصہ تک شورش و بغاوت کا شکار رہا ہے۔ ۱۹۷۶ ؁ میں قائم ہونے والی تمل ہندووں کی تنظیم  ایل ٹی ٹی ای تین دہائیوں  تک حکومت سےبرسرِ پیکار رہی اور اس بیچ اپنی بحری قوت اور مختصر و موثر فضائیہ بھی قائم کرلی۔ سری لنکا کے شمال میں یہ لوگ  ایک علیحدہ متوازی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کی اکثریت چونکہ تمل بولتی ہے اس لیے وہ ابتداء میں ایل ٹی ٹی ای کے ہمدرد تھے لیکن جب  تمل ٹائیگرس نے انہیں اپنے علاقوں سے نکا ل دیا  تواس کے بعد ان کے تعلقات ختم ہوگئے۔ ایل ٹی ٹی ای اور سری لنکا کی حکومت کے مابین ناروے کی مدد سے۲۰۰۲ ؁ میں مذاکرات  کا آغاز ہوا جو ۲۰۰۷ ؁ میں ناکام ہوکر ختم ہوگئے۔  اس کے بعد لنکا کے صدر مہندا راجا پکسے نے تامل ٹائیگرز کے خلاف فوجی کارروائی کی نیز  ستمبر۲۰۰۸ ؁ میں  ان  کے اہم ترین  مرکز ملاوی کو اپنے قبضے میں لے  کر تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کردیا۔

ایل ٹی ٹی  ای  کو دنیاکی سب سے طاقتور اور منظم عسکری  علیحدگی پسند تنظیم سمجھا جاتا تھا۔ اس کو خودکش حملوں میں خاص مہارت حاصل تھی ان حملوں میں مرد اور  عورتیں  دونوں شامل ہوتے اور وہ  ہوائی جہازوں تک کا  استعمال کرکے حکومت اور فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو قتل کرتے۔ ان  کے حملے کا شکار ہونے والوں میں ہندوستان  کےسابق  وزیراعظم راجیو گاندھی، سری لنکا کے صدر رانا سنکھے پریمادھاسا اور وزیردفاع رنجن ویجیر انتے شامل ہیں۔ اس  خانہ جنگی کے کے ۹ برس   بعد  پچھلے سال مارچ   پھر سے بڑے پیمانے پر  تشدد کے واقعات ہوئے لیکن ان میں بودھ مذہب کی سنہالالوگ  ملوث تھے۔ ان لوگوں نے  مساجد اور مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنایا تھا۔ شورش کے  بعد ملک میں پہلی بار ایمرجنسی کی صورت حال کا اعلان کرنا پڑا۔ ان حملوں کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ  ٹریفک کے مسئلے پر چند مسلمان لڑکوں نے بودھ مذہب کے ماننے والے ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ اس کے ردعمل پھوٹ پڑنے والے تشدد واقعات میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ سخت گیر بودھ مذہبی  تنظیم ‘بودو بالا سینا‘پران  حملوں کا الزام لگا۔ اس تنظیم نے سابق صدر راجہ پکسے کے دور میں مسلمانوں کے خلاف ریلیاں اور مظاہرے کیے تھے۔ مسلمانوں کے خلاف افواہیں اڑانے اور حملوں کی حمایت حاصل کرنے میں فیس بک کا استعمال کیا تھا۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ افواہیں اور نفرت انگیز تقاریر پھیلائی گئی تھیں ۔

سری لنکا کے سنہالا اکثریت میں ہونے کے باوجود خود کو اقلیت سمجھتے ہیں۔ وہ تملوں کو ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو کا حصہ اور مسلمانوں  وسیع تر مسلم امت کاجز مانتے  ہیں۔ ۲۰۱۱ ؁ سے ان لوگوں نے  مسلمانوں پر حملے شروع کیے مگر عموماً سزاوں سے محفوظ رہے۔ ‘سیکرٹیریٹ فار مسلم’ نامی تنظیم نے۲۰۱۳ ؁ سے ۲۰۱۵ ؁ کے درمیان مسلمانوں کے خلاف ۵۳۸ واقعات درج کیے ہیں۔ ‘بودو بالا سینا’ برما کے انتہا پسند بدھسٹ گروپوں سے ترغیب لیتی ہےاور مسلمانوں پر زیادہ بچے پیدا   کرنے اوربودھوں جبراً مسلمان بنا نے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان منظم  حملوں کے بعد مقامی تجزیہ کاروںمثلاًدایان جیا تیللیکا نے اخبار ‘دی آئی لینڈ ‘ میں لکھاتھا  کہ ان کے نتیجے میں مسلم نوجوان انتہا پسندی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں اور مسلمانوں کے اعتدال پسند طبقے کمزور پڑ جائیں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سری لنکا کے مسلمانوں نے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا کرتے ہوئے پر امن اور آئینی  طریقوں سے احتجاج کیا۔ صدر سری لنکا میتھری پالا سری سینا نے خود اس مسئلے کو پارلیمان میں اُٹھایا اورتشدد پر قابو پانے کے لیے سہ  رکنی کمیٹی کی تشکیل دی۔ میانمار کے بودھ پیروکاروں کے برعکس سری لنکا کے بدھسٹوں نے مسلم مخالف  تشدد کے خلاف کولمبو میں احتجاجی ریلی نکال کر مسلمانوں کی حمایت کی۔

یہ زمینی صورتحال دنیا بھرکے عیسائیت نواز  ذرائع ابلاغ میں موجودہے۔ عالمی میڈیا میں حملوں سے متعلق مختلف امکانات کی قیاس آرائی کی جارہی  ہے۔ میامنار کے بدھووں  نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کس قدر سفاک ہیں اس لیے ان کے رویہ پر بھی گفتگو ہورہی ہے۔   ان حملوں کو ممبئی سے جوڑا جارہا ہے حالانکہ وہ خودکش حملہ نہیں۔ تھا۔ خود کش حملوں کی مہارت تو  ایل ٹی ٹی ای کی پاس سب سے زیادہ تھی۔ ان حملوں کے پس پشت سابقہ وزیر اعظم راپکسے  کا ہاتھ بھی دیکھا جارہا ہے اس لیے کہ اب  عوام ان کی ضرورت محسوس کرسکتے ہیں۔ سری لنکا کی حکومت کا رویہ نہایت محتاط ہے۔ اس نے ابھی تک  نہ تو کسی تنظیم کو اور نہ کسی قوم کو موردِ الزام ٹھہرا یاہےلیکن ہندوستانی میڈیا جان بوجھ کر اسے مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ سوئے اتفاق سے  خود کش حملہ آور کا نام سوائے ہندوستانی اخبارات کے کہیں نہیں چھپا۔

حملہ آور  محمد اعظم محمد  بارے میں بتایا  گیا کہ وہ ہوٹل   میں ایک دن پہلے آیا تھا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ  کیا اس طرح کا حملہ کرنے والے اپنے اصلی نام سے سفر کرتے ہیں ؟ اس پر کسی نے غور کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی اور اگر وہ مسلمان بھی تھا تو کس کا آلۂ کار تھا یہ بھی پتہ لگانے کی چنداں ضرورت نہیں محسوس کی گئی۔ سری لنکا کو دس دن پہلے ہندوستانی خفیہ ایجنسی نے حملے سے آگاہ کیا تھا۔ اس کو کیسے پتہ چلا کوئی نہیں جانتا؟ سری لنکن حکومت نے اس پر کارروائی کیوں نہیں یہ سوال خود وزیراعظم صدر مملکت  سے کررہے ہیں ۔  مسلم تنظیم نیشنل توحید جماعت پر ۲۰۱۴ ؁ میں گوتم بودھ  کی  مورتیاں توڑنے کا الزام بھی  یوروپ و امریکہ کے اخبارات میں ندارد ہے لیکن صرف ہندی ذرائع ابلاغ میں خوب  گردش کررہا ہے۔ اب یہ خبر پھیلائی جارہی ہے کہ وہ ہندوستان کے تمل ناڈو میں بھی بہت زیادہ سرگرم ہے۔ یہ عجیب مدعی سست اور گواہ چست کا  سامعاملہ  ہے۔ بعید نہیں کہ  اس مہم  کے پیچھےانتخابی  مفاد  کارفرما ہو؟

اس تناظر میں کولمبو کے سب سے بڑے عیسائی مذہبی پیشوا کارڈنل مالکم رنجیت کا بیان سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے سری لنکا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ’نہایت ہی غیر جانبدارانہ اور سخت تفتیش کی جائے‘اور حملہ آوروں کو  سخت ترین سزا دی جائے اس لیے کہ صرف درندے ہی ایسی حرکت کرسکتے ہیں۔ سری لنکا کے وزیرِ دفاع روان وجے وردنے بھی  دہشت گردوں کی شناخت کا دعویٰ کرنے کے بعد کہا  کہ  وہ  اس  کارروائی میں ملوث ہرانتہا پسند گروپ کے خلاف تمام ضروری کارروائی کریں گے  اور  ان کے پیچھے جائیں گے چاہے وہ جس بھی مذہبی انتہا پسندی کے پیروکار ہو۔ اس طرح کے بے لاگ  اور جرأتمندانہ اقدام کے بغیر دہشت گردی پر لگام لگانا ممکن نہیں ہے۔ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے کہ ’’ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے‘‘۔ قرآن حکیم میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے’’اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد مچ جاتا۔ ‘‘۔ اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو دفع کرنا ضروری ہے ورنہ کبھی کرائسٹ چرچ، تو کبھی ایودھیا اور  سری لنکا  کی عبادتگاہوں میں اس طرح کی وارداتیں رونما ہوتی رہیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close