آئینۂ عالم

نیوزی لینڈ کی مسجد کا سانحہ

سید منصورآغا

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ایک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک 
ایک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گزشتہ جمعہ جو سنگین واردات ہوئی،وہ سب کے علم میں ہے۔ایک شخص نے عین نماز جمعہ کے وقت مسجد میں گھس کر پچاس نمازیوں کو گولیاں مارکرشہیداورپچاس کو زخمی کردیا۔اس پر وہاں کی سرکار اور خصوصاً وزیراعظم جاسندا آردیرن کے رویہ کا قابل صدتحسین ہے جس نے دنیا بھر کے انصاف اورامن پسندعوام کے دلوں کو جیت لیا ہے۔پہلی نوٹ کرنے کی بات یہ ہے ہندستان کی طرح مقامی پولیس نے شاطرقاتل کوگولی مارکرہلاک نہیں کردیا بلکہ پکڑ کر عدالت کے حوالے کردیاحالانکہ پولیس کو معلوم تھا کہ وہ شخص ہلاکت خیزاسلحہ سے لیس ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اس کو عبرتناک سزاملے گی۔ انہوں نے اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک دہشت گردانہ کاروائی ہے۔ مگرمیڈیا کی مکاری دیکھئے کہ بے قصورانسانوں کی جانوں کے اس دشمن کو ’دہشت گرد‘ کے بجائے صرف ’وہائٹ سپرماسسٹ‘ یعنی ’سفید فام نسل پرست ‘ کہا جارہا ہے۔ اس میڈیا کو نہتھے فلسطینی باشندوں میں تو دہشت گردنظرآتے ہیں جو ظلم کاشکارہیں، سفید فاموں میں دہشت گرد نظرنہیں آتے۔

وزیراعظم جاسنداآردیرن اگلی صبح خود جائے واردات پہنچیں ۔متاثرین سے ملنے گئیں توپوری طرح ساترسیا ہ لباس پہنا تھا اور سرسے پورا دوپٹہ اوڑھا تھا۔غم زدہ خواتین سے گلے مل کر دلاسادلایا۔وہ تدفین کے وقت بھی وہاں پہنچیں اوراپنی موجودگی سے ٹوٹے دلوں کاحوصلہ دیا۔پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ۔ اس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کریا۔ یہ جذبہ خیرسگالی اورمسلم اقلیت کے اعتقاد کے احترام کا بڑا مظہر ہے۔ قاری صاحب کی وضع وقطع اورلحن نے مولانا احتشام الحق کاندھلوی ؒ (کراچی) کی یاد کو تازہ کردیا۔ سورۃبقرہ کی آیات 157-153کی تلاوت کی۔ ان کا ترجمہ کیا گیا۔ اعلان کیا کہ اگلے جمعہ کی اذان ٹی وی اورریڈیو نیک ورک پر نشر ہوگی۔ یہ علامتی اقدام زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ بہت اہم ہے ان کو وہ پیغام جو انہوں نے امریکا کے صدرڈونالڈ ٹرمپ کو دیا۔ جب مسٹرٹرمپ نے اس سانحہ عظیم کے بعد محترمہ آردیرن کو فون کیا اورپوچھا کہ امریکا آپ کی کیا مدد کرسکتا ہے تو 38سالہ خاتون وزیراعظم نے جو جواب دیا وہ ان کی فکر کی شائستگی، سلامت روی، انسانیت دوستی اورحق نوازی کی علامت بن گیا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا:

"He asked what offer of support the United States could provide. My message was: ‘Sympathy and love for all Muslim communities,'” Ardern said.

’’انہوں نے پوچھا امریکا کیا مدد کرسکتا ہے؟ میرا جواب تھا، ’تمام مسلم اقوام کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا اظہار۔‘ وزیراعظم نیوزی لینڈکا یہ مشورہ اس لیے اہم ہے کہ دنیابھر میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف جاری تباہ کن مہم کا سرخیل اوران پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے کا ذمہ دارامریکا ہی ہے جس کوسابق صدربش نے ’نئی صلیبی جنگ ‘ قراردیا تھا۔ خود صدرٹرمپ نے کہا تھا، ’ اسلام امریکا سے نفرت کرتا ہے۔ مسلمانوں پراوران کی مساجد پر نظررکھی جانی چاہئے۔‘

دنیا میں اس سے بڑاجھوٹ کوئی ہونہیں سکتا کہ اسلام کسی سے نفرت کرسکتا ہے۔ یہ دراصل خود اپنے ذہن میں بھری ہوئی نفرت کا غبارہے۔ صدرٹرمپ کے اس مشورے سے یقیناامریکی عوام میں مسلم اقلیت کے خلاف شکوک اورمنافرت کو شہ ملی ہے۔ حقیقت یہ کہ امریکا میں آبادمسلمان سچے معنوں میں امریکا کے خیرخواہ ہیں ۔وہ امن پسندہیں۔ملک کی ترقی، خوشحالی اورتعلیمی معیار میں ان کی حصہ داری مقامی آبادی سے زیادہ ہے۔ اگرکسی کوکوئی شکایت ہے تووہ مسلم ممالک کے خلا ف امریکا کی جارحیت کے خلاف ہے۔کوئی کیسے بھول سکتا ہے کئی خوشحال مسلم ممالک کو امریکا نے کھنڈروں میں بدل دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ قیادت کے جوہر بحران کے وقت ہی کھلتے ہیں۔ کرائسٹ چرچ کے اس سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے جوہر بھی کھلے۔ اپنی مسلم اقلیت سے ان کا اظہاریگانگت ایک مثال بن گیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی مسلم آبادی قریب 50 ہے جو کل آبادی کا ایک فیصد ہے ۔ ان میں سے بیشتر تارکین وطن ہیں جوگزشتہ چند دہائیوں میں جنگ وجدال اورخانہ جنگیوں سے متاثر مسلم ممالک سے آکر یہاں بس گیے ہیں۔ مسجد نور میں گولی باری کے سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ کے عوام بھی متاثرین کی ہمدردی میں گھروں سے نکل آئے۔ دعائیہ تقریبوں میں بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ ان نوآباد لوگوں سے کوئی نہیں کہتا کہ یہاں سے نکل جاؤ۔جب کہ ہندستان میں مسلم آبادی 14فیصد ہے ۔ہم ہزاربارہ سو سال سے یہاں آباد ہیں۔ بیشتر یہیں کے اصل باشندے ہیں۔ مگر تنگ نظر سیاستدانوں کو ان کی ہی فکرلگی رہتی ہے۔روز کہتے ہیں پاکستان چلے جاؤ۔ نفرت کے ان تاجروں نے وادی کشمیر کو جہنم بناکررکھ دیا ہے۔ان کو اس چھوٹے سے ملک سے سبق سیکھنا چاہیے جس کا دل اتنا بڑا ہے اور ہمارے بھائیوں کو ان بدزبانوں کوووٹ کے ذریعہ سبق سکھادینا چاہئے جو ان فتنوں کے سوداگر ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close