آئینۂ عالم

ٹرمپ سے ڈرنے کی کیاضرورت ہے؟

تحریر:مامون فندی
(مصری نژادامریکی محقق،پروفیسر،سیاسی تجزیہ کار،کالم نگارروزنامہ الشرق الاوسط،الاہرام)
ترجمانی:نایاب حسن
امریکی سیاست میں ڈونالڈٹرمپ کے تواناترین ظہور کے بعد سے یہ بحث تیزتر ہوتی جارہی ہے کہ عالمِ عربی پراس کا کیااثرپڑے گا؟یہ موضوع عام گفتگو کا بھی حصہ بن رہاہے،سیاسی تجزیہ کاربھی اس پر لکھ اوربول رہے ہیں اورمیڈیاکے مختلف حلقوں میں اس پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ مباحثے کیے جارہے ہیں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کاعالمی سطح پر یاعربی دنیاکی سطح پر کوئی خاص اثرپڑنے والانہیں ہے،کیوں؟اس کا جواب جاننے کے لے کیمرے کی آنکھ ذراوسیع کرکے عرب خطے کی گزشتہ کم ازکم سوسالہ صورتِ حال پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالناچاہیے۔
شایدمیرایہ کہنامبالغہ ہوگاکہ ایک جانب محترمہ تھریسامے (برطانو ی وزیر اعظم)کی خلیج تعاون کونسل کی چوٹی کانفرنس میں شرکت اور دوسری طرف شام میں روسی افواج کی موجودگی دوقابلِ ذکراوراہم واقعات ہیں،باوجودیکہ دونوں کے مفادات مختلف ہیں،مگربرطانیہ و روس کے درمیان باہمی اتفاقات کاعہدبڑاقدیم ہے اوراس کی داغ بیل پہلی عالمی جنگ کے دوران ہی پڑچکی تھی،جس جنگ میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا،جس کے اثرات تاہنوزمحسوس کیے جاسکتے ہیں،جس جنگ میں عربوں کی اکثریت اتحادی افواج کے ساتھ تھی اور بہت کم لوگ اور ممالک عثمانی سلطنت کے ساتھ تھے،مشرقِ وسطیٰ کے اسٹیج پر رچی گئی یہ ایک عظیم الشان جنگ تھی،اسی دوران برطانیہ و فرانس کے درمیان روس کی رضامندی اور خوشی کے ساتھ ایک معاہدہ عمل میں آیاتھا،جس کے نتیجے میں ہلالِ زرخیز(Fertile Crescent،مصر،اردن،شام،فلسطین،لبنان اورمشرقی ترکی پرمشتمل علاقہ)کوبرطانیہ و فرانس کے مابین تقسیم کردیا گیا اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج بھی ہم اسی ہلالِ زرخیز کے قضیے میں الجھے ہوئے ہیں؛چنانچہ شام خون آلودہے،عراق کاتیاپانچہ ہوچکاہے اورفلسطین صہیونی تسلط اورجبرِمسلسل کاشکارہے۔باوجودیکہ عربوں میں سب سے زیادہ’’سائکس پیکو‘‘معاہدے اور مشرقِ وسطیٰ پر پڑنے والے اس کے منفی اثرات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے،مگرحقیقت یہ ہے کہ آخرکاریہ ہلالِ زرخیزکابحران ہے اوراس کے کھلاڑی سب کے سب وہی ہیں،جوپہلے تھے(برطانیہ،فرانس اورروس)البتہ بعد کو اس میں امریکی و اسرائیلی کردارکااضافہ ہوگیااوراس کے باوجودکہ پہلی عالم گیر جنگ میں جوکچھ بھی ظہورپذیرہوا،وہ اپنے نتائج و آثار کے اعتبارسے عظیم اور غیر معمولی تھا،مگراس کے باوجوداس جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں کچھ زیادہ بڑی تبدیلی رونمانہیں ہوئی،ہاں!مختلف قسم کی قومیتیں اور آزادی کے رجحانات ضرور ظہورمیں آئے۔
اوراگر آپ کوپتالگے کہ مصر،جس نے برطانوی استعمار سے خلاصی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی تھی،وہ آزادی کے بعد سے تاحال اسوان سے اسکندریہ تک کی ریلوے لائن(جسے انگریزوں نے بنوایاتھا)تک میں ذرہ برابراضافہ یاتبدیلی نہ کرسکا،البتہ حال میں میں نے ایک خبرسنی ہے کہ مصری صدرعبدالفتاح السیسی اسوان ریلوے اسٹیشن کی اصلاح کاارادہ رکھتے ہیں،یہ جان کر آپ اپنے آپ سے یہ سوال کرنے پر مجبورہوں گے کہ آخرآزادی کیوں حاصل کی گئی تھی؟اورملکی ذخائرووسائل میں قومی حکومتوں نے کیااضافہ کیاہے؟کس سے اور کیوںآزادی حاصل کی گئی تھی؟اگرصورتِ حال جوں کی توں ہے اورآزادی حاصل کرلینے کے بعدبھی وطن پرستوں نے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا؛بلکہ اسے نقصان ہی پہنچاتے رہے، توپھرمثلاًٹرمپ مصر کا کیا کرلے گا؟یاتھوڑااوروسیع معنیٰ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب ہمیں عالمی جنگ نہیں بدل پائی،توٹرمپ بھلاکیابدل سکتاہے؟
اس کے بعدایک دوسراعالمی حادثہ دوسری عالمی جنگ (1939-1945)کی شکل میں رونماہوا،اس جنگ کے بعدبھی مشرق وسطیٰ میں کیاتبدیلی ہوئی کہ ہم یہ کہنے لگیں کہ ٹرمپ کے امریکہ کاصدربننے سے صورتِ حال میں بدلاؤآنے والاہے؟حقیقت یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران عالمِ عرب کافکری یانظریاتی اعتبار سے کوئی موقف ہی نہیں تھا؛کیوں کہ تب تمام عربی ممالک ان ملکوں کے حلیف تھے،جواُن پر قابض تھے،مثلاً اردن اور مصربرطانوی صف میں شامل ہوگئے،عراق اورہلالِ زرخیزکے کچھ نوجوان جرمنی کے ہم نواہوگئے تھے،جبکہ سعودی عرب تقریباً غیر جانب داررہا۔قابلِ ذکربات یہ ہے کہ جنگ شروع ہوئی اور ختم بھی ہوگئی،اس کے بعدہی یہودیوں نے اپنی سلطنت کا باقاعدہ اعلان کیا،پھرعربوں نے1948ء میں آزادیِ فلسطین کے لیے یہودیوں سے جنگ کی،یہ سلسلہ1967ء تک درازرہا،جب عربوں کودوسری جنگ لڑنی پڑی اوراُس دوران مصر،اردن اور شام کے خاصے علاقے بھی انھوں نے گنوائے اور حاصل بھی کچھ نہ ہوسکا…..پس جب1945سے1967ء تک کے دورانیے میں کچھ خاص بدلاؤنہیں آسکا،توہمیں ٹرمپ سے ڈرنے کی کیاضرورت ہے؟ٹرمپ اس سے زیادہ براکیاکرسکتاہے،جومذکورہ عرصے میں رونماہواتھا؟!
تینوں محاذوں(مصر،اردن،شام)پر عربوں نے اسرائیل کے ساتھ کم و بیش چھ سال تک جنگیں لڑیں،جوخود ان کے لیے نقصان دہ تھیں، پھر اکتوبر 1973ء کی جنگ رونماہوئی،جس میں عربوں کوجزوی کامیابی حاصل ہوئی،مصری محاذپر وہ کامیاب ہوئے،جبکہ شامی محاذپر انھیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا، اس جنگ میں عربوں نے اپنے پاس موجودتمام ہتھیار استعمال کیے،جن میں تیل(پٹرول)بھی تھا،جواس وقت اُبلناشروع ہواتھااوراس کے بعداس میں اضافہ ہوتاگیااوراس سے ان ملکوں کوفائدہ ہوا،جوکم آبادیوں والے اور نوآبادیاتی نظام سے تازہ آزادہوئے تھے۔1973ء سے لے کر اسی کی دہائی تک عربوں میں جھگڑوں اورحصولِ آزادی کی آنکھ مچولیاں ہی چلتی رہیں،یہاں تک کہ تحکیم(1989) کے معاہدے کے بعدمصرکواپنی زمین کاآخری حصہ بھی حاصل ہوگیا،اس کے بعدنوے کی دہائی شروع ہوئی اوراس کے ساتھ ہی صدام حسین کے ذریعے کویت پر تسلط اورپھراس کی آزادی کاواقعہ رونماہوا،اُن دنوں جواندوہ ناکیاں ہم نے دیکھیں،کیاٹرمپ ان سے بھی بدترصورتِ حال دکھانے والاہے؟
پھرنوے کی دہائی بھی ختم ہوئی اوراس کے ساتھ ہی بیسویں صدی اختتام پذیرہوگئی،اب اکیسویں صدی کاآغازہم نے نائن الیون(2001ء)سے کیا، جس کے بعدمشرقِ وسطیٰ کودہشت گردی کی آماجگاہ قراردے دیاگیا،پھرعراق میں صدام حسین کی حکومت اور اس کے عہدکاخاتمہ ہوا،امریکی لشکرعراق کی سرزمین میں داخل ہوکروہاں بم وبارودبرسانے لگے،ایسے کہ حالیہ دنوں میں شام و عراق پر ہونے والی بمباریاں بھی ان سے کم تر ہیں،اب ٹرمپ اس سے زیادہ بدتراقدام کیاکرسکتاہے؟پھر2011ء میں ہم نے بہارِ عرب کا مشاہدہ کیا،اس کے ساتھ ہی مختلف اور متضادتحریکیں رونماہوئیں اورمشرقِ وسطیٰ کے سارے ممالک بے سکونی کی بھٹی میں تپنے لگے،پڑوسی ملکوں نے ان عرب ملکوں میں دخل اندازیاں کیں اوراپنے مفادات کی خاطرآمادۂ ظلم و جبرہوگئیں،آج شام ویمن میں ایرانی گھس پیٹھیے جوکچھ کررہے ہیں،وہ ہمارے سامنے ہے،اب ٹرمپ اس سے براکیاکرسکتاہے؟
گزشتہ سوسال عربوں پر بھی اُسی طرح بیتے ہیں،جیساکہ دنیاکے دیگرملکوں پر،مگراس پورے عرصے میں عربوں کامزاج یہ بن گیاہے کہ وہ اپنی پسماندگی و پس گردی کاساراالزام خارجی مداخلتوں اور استعماری قوتوں کوقراردیتے ہیں،حالاں کہ عربوں کے ساتھ جوکچھ پیش آیا،اس کاموازنہ اگربرطانوی ہندیاسیاہ فاموں پر ہونے والے مظالم سے یاجاپان پر گرائے جانے والے ایٹمی بم سے کریں،تووہ کچھ نہیں ہے،مگراس کے باوجودہندوجاپان کے عوام کی امنگوں اور حوصلہ مندیوں کی بدولت دونوں ملک عالمی منظرپرپہلے سے زیادہ تروتازگی کے ساتھ ابھر کرسامنے آئے۔حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ جاپان یاہندوستان کاکچھ نہیں بگاڑسکتا؛کیوں کہ یہ دونوں ممالک طاقت ورہیں اورنہ وہ عربوں کے لیے اُتناخطرناک ثابت ہوسکتاہے،جتناکہ خودعرب اپنے لیے خطرناک ہیں۔
یہ خبرمیرے کانوں میں ابھی بھی گونج رہی ہے کہ مصری حکومت انگریزوں کے ذریعے سوسال قبل بنائے گئے اسوان اسٹیشن کی اصلاح و مرمت کروانے کی سوچ رہی ہے،کیاآزادی کے نعروں کانشانہ بس اسوان اسٹیشن کی اصلاح تھا؟تحریکِ آزادی کے لیے قربانیاں کیامحض اسی لیے دی گئی تھیں؟آخرآزادی حاصل ہی کیوں کی گئی تھی؟ٹرمپ اس سے براہمارے ساتھ کیاکرسکتاہے،جوخودہم اپنے ساتھ کرتے رہے ہیں؟ٹرمپ سے ڈرنے کی کیاضرورت ہے؟؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close