آئینۂ عالم

کشمیریوں کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش

حالیہ دنوں میں ریاست جموں وکشمیر میں ایک نیا تنازعہ اس وقت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جب سرینگر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی، جس نے بالی ووڈ کی ایک فلم میں کام کیا ہے، نے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملاقات کرنے کے بعد قوم سے معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے ایسے حالات پیدا کیے گئے ہیں کہ اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ریاستی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات کرنی پڑی۔ اپنی فیس بُک پوسٹ میں اس لڑکی نے کہا کہ ”جن لوگوں کو میری حالیہ ملاقات کے ذریعے سے تکلیف پہنچی ہو، میں اُن کے جذبات کو جانتی ہوں اور اس بات کا بھی ادراک رکھتی ہوں کہ گزشتہ چھ ماہ میں یہاں کیا کچھ ہوا ہے، میں اُن سے معافی مانگتی ہوں۔“ فیس بُک پر اس لڑکی نے پوسٹ کیا کیا، پوری ہندوستانی میڈیا نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ کشمیری قوم کو شدت پسند، تنگ نظر، دہشت گرد اورنہ جانے کن کن القابات سے نوازا گیا۔ مباحثےہوئے کہ وادی کشمیر میں نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کالوہا منوانے نہیں دیا جارہا ہے۔ اسلام پسندوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جانے لگا۔ پرنٹ میڈیا میں بڑے بڑے کالم لکھے گئے۔ غرض ہر طرح سے کشمیری قوم کو بدنام کرنے اور اُنہیں تنگ نظر اور شدت پسند ثابت کرنے کے لیے زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے۔ المیہ تو یہ ہے کہ وادی سے تعلق رکھنے والے ایک مخصوص ٹولے نے بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے جان بوجھ کر اپنے ہی سماج کو کوسنا شروع کردیا حالانکہ وہ بخوبی یہ جانتے ہیں کہ یہاں نہ ہی ایسا کوئی معاملہ ہے اور نہ یہاں کے سماج میں کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی چلن ہے۔ اس کے باوجود یہ طبقہ اپنے آپ کو دلّی اور مقامی آقاوں کی نظروں میں لبرل اور روشن خیال رہنے کے لیے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتاہے۔

سچائی یہ ہے کہ مذکورہ لڑکی کوئی پہلی فرد نہیں ہے جس نے کشمیر سے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ اس سے قبل درجنوں نوجوان اور افراد نے فلموں میں کام کیا ہے اور کررہے ہیں۔ اگرچہ کشمیر کی سوسائٹی مجموعی طور پر فلمی دنیا کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتی ہے اور اِس میں لڑکیوں کا بالخصوص کام کرنا معیوب سمجھتا جاتا ہے، تاہم آج تک ایک بھی مثال ایسی نہیں دی جاسکتی کہ کسی کو زبردستی ایسا کرنے سے روکا گیا ہو، یا اُسے ڈرایا دھمکایا گیا ہو۔ یہ افراد کی اپنی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہاں کا ذی حس طبقہ پیار محبت سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی کو بزور کسی کام سے روکنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاتا ۔سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مسائل اور معاملات کے حوالے سے ہر کوئی اپنی رائے کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے۔ کشمیری بھی اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں۔  نہ صرف مختلف ایشوز کے حوالے سے کشمیر ی نوجوان بڑھ چڑھ کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اپنے اوپر ہورہے مظالم، ناانصافیوں اور حقوق کے غصب ہونے پر بھی اپنا ردعمل سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں۔  دنیا کو اپنی مجبوریوں اور لاچاریوں سے باخبر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا بجا طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ زائرہ وسیم نامی اس لڑکی نے فلمی دنیا میں قدم رکھا، کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ اس نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی، اس پر بھی کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ لیکن جب وزیر اعلیٰ نے اُنہیں کشمیری نوجوان نسل کے لیے رول ماڈل قرار دیا تو یہاں کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر نہ صرف محبوبہ مفتی کے ریمارکس کو رد کردیا بلکہ اُنہوں نے زائرہ وسیم کی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات پر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہاں کے گلی کوچوں کو کس طرح لالہ زار بنایا گیا ہے، کس طرح نونہالوں اور نہتے لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا، کس طرح معصوموںکی آنکھیں چھینی گئیں ہیں اور کس طرح ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ یہ سب محبوبہ مفتی کی حکومت کے دوران ہے۔ نوجوانوں نے جمہوری طریقے پر سوشل میڈیا پر اس بات کولے کر اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کیا کہ مذکورہ لڑکی کو کشمیری سوسائٹی کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اُن لوگوں سے ملنے نہیں جانا چاہیے تھا جو یہاں کی نوجوانوں کی نسل کشی میں کسی نہ کسی طرح ذمہ دار ہیں۔کسی نے مذکورہ لڑکی کو معافی مانگنے کے لیے نہیں کہا تھا،کسی نے اُسے دھمکی نہیں دی تھی جیسا کہ اُنہوں نے خود دوسری پوسٹ میں قبول کیا ہے کہ اس  کے”اعتراف“ کو میڈیا نے غلط رنگ دے دیا، حالانکہ اسے اس کے لیے کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔لیکن اِس کو اتنا اچھالا گیا کہ جیسے کشمیری قوم میں ہی جنم لینے والی یہ لڑکی اپنوں میں نہیں بلکہ ”درندوں“ اور ”وحشیوں“ کے نرغے میں تھی۔ میڈیا کے ذریعے سے ماحول تیار کیا گیا ہے اور دلی میں حکومتی ذمہ داروں نے اس بات کا اعلان کرنے میں دیر نہیں لگائی کہ وہ زائرہ وسیم کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ ریاستی حکومت اس بات کے لیے راضی ہوجائے ۔گویا ریاست سے باہر کشمیریوں کی ایک خوف ناک اور گھناؤنی تصویر پیش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے۔ کشمیریوں کی شبیہ مسخ کرکے اُنہیں دنیا کی خطرناک ترین مخلوق قرار دینے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ یہ منفی پروپیگنڈا بیرون ریاست کشمیری طلبہ اور تاجروں پر جان لیوا حملوں کا شاخسانہ بن جاتا ہے۔

جس طرح ہندوتوا کے علمبردار زور زبردستی، ڈرا دھمکاکر لوگوں کی آواز یں خاموش کرنے کے روا دار ہیں، جن ہتھکنڈوں کو استعمال میں لاکر حقوق کی باز یابی کی جائز مانگ کو دبانے کے طریقے کار پر عمل پیرا ہیں، اُن کے جیسا طرز عمل اگرکشمیری قوم نے بھی اختیار کرلیا ہوتا یا کرلے تو ہم یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آج کشمیر میں کوئی بھی شخص مختلف الفکر خیمے میں شامل نہیں ہوتا۔ یہاں ۵۹فیصد سے زائد عوام کی آوازایک ہے، سوچ ایک ہے۔ اپنے سیاسی حقوق کی باز یابی کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں، صرف ۵فیصد لوگ ہی ایسے ہیں جو اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے دوسرے خیمے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جن میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران بھی شامل ہیں۔ اس قوم نے کبھی بھی کسی کی سوچ پر قدغن نہیں لگائی ہے، کسی کو اپنی راہ متعین کرنے سے نہیں روکا ہے، یہاں سچائی کا پرچار ہوتا ہے، سیدھی راہ کی تلقین کی جاتی ہے، حق کا کلمہ بلند کیا جاتا ہے لیکن کسی پر سچائی تھوپی نہیں جاتی ہے، کسی کو زبردستی سیدھی راہ پر گامزن نہیں کیا جاتا ہے اور کسی کو باطل کے خیمے سے طاقت کے بل بوتے پرپکڑ کرحق کے جھنڈے تلے کھڑا نہیں کیا جاتا ہے۔یہاں زور زبردستی نہیں بلکہ پیار و محبت سے سمجھنے کا رواج ہے، یہاں علم اور تلقین سے دلوں پر راج کرنے کی روایت رہی ہے، یہاں ذہن سازی میں یقین کرلیا جاتا ہے۔ شاید اِسی لیے 70سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود اس قوم کو توڑنے میں کامیابی نہیں ملی ہے۔ اس قوم نے جوبھی راہ اپنائی ہے، سوچ سمجھ کر اور شعور کے ساتھ اپنائی ہے۔اس قوم نے شرافت کا دامن چھوڑا ہوتا تو یہاں کوئی استحصالی ٹولہ نہیںہوتا، سازشیں کرنے اور سازشوں کا حصہ بننے والے نہیں ہوتے۔ اس قوم کی شرافت ، صداقت اور اپنائیت کی مثالیں دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملےں گی۔ ہمارا ہی یہ شیوہ رہا ہے کہ ہم اپنے خطرناک سے خطرناک ترین دشمن کو بھی معاف کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں، اپنے قاتلوں کو بھی کھلاتے پلاتے ہیں، ہم وہیں ہیں جن پر سی آر پی ایف کے اہلکار بے تحاشا پلیٹ او رگولیاں برستاتے ہیں اور ہم سیلاب میں سامبورہ میں اپنی جانوں پر کھیل کر اُنہیں بچاتے ہیں، ہمیں وہیں ہیں جن کے خلاف امرناتھ یاترا کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بدلے میں ہم کرفیو توڑ کر بجبہاڑہ میں نہ صرف حادثے کا شکار ہونے والے یاتریوں کو نکال کر ہسپتال پہنچاتے ہیں بلکہ وہاں اپنے زخمیوں کے لیے عطیہ کیا ہوا خون تک اُنہیں چڑھا دیتے ہیں۔یہ سب کھلی کتاب کی طرح عیاں ہے اور اس کے باوجود اگر کوئی ہمیں شدت اور انتہا پسندی کا طعنہ دیتا ہے تو ہم یہیں کہیں گے کہ آسمان پر تھوکنے سے آسمان کی اونچائی اور عظمت کا تو کچھ نہیں بگڑ جائے گا البتہ تھوکنے والے کا اپنا ہی چہرہ گندہ ضرور ہوجاتا ہے۔

حالیہ عوامی ایجی ٹیشن نے نہ صرف ارباب اقتدار کو بوکھلاہٹ کر شکار کردیا ہے بلکہ اُن کی ترجمانی کرنے والی پی ڈی پی اور بی جے پی کوالیشن سرکار کے پاوں تلے سے بھی زمین سرکا دی ہے۔سرینگر سے دلی تک دفاعی ماہرین اور سیاسی پنڈت سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ کس طرح عوامی جذبات کو ٹھنڈا کیا جاسکے۔ دکھاوا کیا جاتا ہے ، جیسا کہ اس لڑکی نے از خود اعتراف کرلیا ہے کہ محبوبہ مفتی سے اُن کی ملاقات کے لیے ایسا ماحول بنالیا گیا کہ وہ نا نہیں کرسکیں۔

اس سارے مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے، فلمی دنیا کی روایت رہی ہے کہ وہاں کے لوگ اپنی فلموں کو ہٹ کرانے کے خاطر کسی بھی حد تک جاتے ہیں۔ جوں ہی کوئی فلم تیار ہوکر ریلیز ہونے والی ہوتی ہے تو اِس میں کام کرنے والے کسی اداکار یا اداکارہ سے جڑا کوئی کنٹراورسی بھرا مسئلہ اچھالا جاتا ہے، یا اُن کو کسی سکینڈل میں ملوث کرکے میڈیا کے ذریعے اُس کی خوف تشہیر کی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُن کی جانب متوجہ ہوکر وہ فلم دیکھنے آجائیں۔ ایسا گزشتہ کئی برسوں کے اخبارات کھنگالنے سے واضح بھی ہوجاتا ہے۔یہاں میڈیا اور فلم کے بنانے والوں کے نزدیک کئی فائدے سمیٹنے کا نشانہ تھا۔ کشمیری لڑکی کو مظلوم دکھایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُس کا کام دیکھنے سینماہالوں میں آجائیں گے، کشمیریوں کو بدنام کرنے کے لیے بھی یہ سنہرے موقع ہے اور محبوبہ مفتی بھی اپنا نام عوام کی نظروں میں ”شدت پسندوں“ کے گھیرے میں پھنسی ہوئی دکھانے کی متمنی ہیں تاکہ اُنہیں دلی دربار میں زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل ہوجائے اور وہ زیادہ دیر تک بغیر عوامی حمایت کے بھی برسر اقتدار رہ سکے ۔

موجودہ زمانے میں بڑی بڑی طاقتوں نے جھوٹ، فریب اور مکاری پر اپنی ترقی کی بنیادیں استوار کررکھیں ہیں، مسائل حل کرنے اور اغراض حاصل کرنے کے لیے غلط پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ رہی بات میڈیا اور سیاست دانوں کی، دنیا جانتی ہے کہ اُن میں کتنی سنجیدگی ہے اور کتنی دور اندیشی۔وقت کشمیر اور کشمیریوں کی تحریک کے خلاف کیا جانے والا ہر پروپیگنڈہ غلط ثابت کرے گا اور کشمیر دشمن طاقتوں کو ہر مرحلے پر رسوا ہونا پڑے گا۔

رابطہ:9797761908

[نوٹ: ادارے کے ذریعے اس مضمون کی ایڈٹنگ کی گئی ہے اور بعض حصوں کو حذف کیا گیا ہے۔]

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایس احمد پیرزادہ

ٔایس احمد پیرزادہ جموں وکشمیر کے معروف اخباروں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ ایک کتاب 'وادی خونناب' کے منصف بھی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close