آئینۂ عالم

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

اگر عمران خان حضرت محمدؐ کی پیروی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں یا شوق پورا کررہے ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ دین کے ساتھ مذاق نہ کریں۔

حفیظ نعمانی

یہ بات پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خاں بار بار دہرا چکے ہیں کہ وہ پاکستان کو مدینہ (منورہ) کے طرز پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے جس کے رہنما اصول وہی ہوں گے جو پیغمبر آخرالزماں حضرت محمدؐ نے قائم فرمائے تھے۔ عمران خاں اس وقت پیدا نہیں ہوئے تھے جب پاکستان بنانے کی کوشش کی جارہی تھی ان کا خاندان امرتسر میں تھا وہاں کے بارے میں ہم نہیں بتاسکتے لیکن ہم بریلی میں تھے اور سنبھل کے رہنے والے تھے اس لئے یوپی کے بارے میں بتاسکتے ہیں کہ ہر گلی کوچہ بازار اور میدان میں ہر زبان پر یہ نعرہ تھا کہ پاکستان کے معنیٰ کیا؟ لاالہ الااللہ۔ اور جو مسلمان یہ نعرے لگا رہے تھے وہ مسجدوں کے سامنے سے گذر جاتے تھے اور خود مسجد میں آکر نماز نہیں پڑھتے تھے اور یہ صرف نعرہ لگانے والوں کا ہی حال نہیں تھا نعرہ تصنیف کرنے والے بھی صرف نعرے بتاتے تھے نماز پڑھنے نہیں آتے تھے۔ حد یہ ہے کہ جو پاکستان کے بانی کہے جاتے ہیں وہ بھی دین صرف پاکستان بنانے کو سمجھتے تھے۔

مسٹر جناح جن پر ہر پاکستانی آج بھی قربان ہے اور ان کی دانشوری لیاقت اور وکالت پر اس کا ایمان ہے انہوں نے جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی ان علاقوں کو پاکستان بنواکر کون سی قابلیت کا مظاہرہ کیا مشرقی بنگال، مغربی پنجاب، سندھ سرحد اور بلوچستان والے اس زمانہ میں بھی کہتے تھے کہ پاکستان بنانا ہے تو یوپی سی پی دہلی اور ان علاقوں میں بناؤ جہاں مسلمان کم ہیں۔ جہاں ہم زیادہ ہیں وہ تو پاکستان ہیں ہی۔ اور یہ کون سی دانشمندی تھی کہ ایسے ملک کو پاکستان بنایا جو آدھا اِدھر اور آدھا اُدھر تھا یہ تو نواز شریف جیسے ماڈرن لوہار بھی کرسکتے تھے۔ اور وہی تھے جنہوں نے پاکستان کے معنیٰ لاالہ الااللہ بتائے تھے۔ اور ہم ہندوستانی مسلمانوں کو قربان کرکے بانی پاکستان بن گئے۔

اگر عمران خان حضرت محمدؐ کی پیروی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں یا شوق پورا کررہے ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ دین کے ساتھ مذاق نہ کریں۔ وہ حلف لینے کے بعد سعودی عرب گئے تھے خبر یہ آئی کہ انہوں نے عمرہ بھی کیا۔ ہم نے ان کو جانے سے پہلے بھی دیکھا تھا (ٹی وی پر) اور آنے کے بعد بھی عمرہ کے بعد بھی ان کے بالوں میں نہ استرا لگا نہ قینچی۔ یہ ان سے کس نے کہا کہ مسلم ملک کے سربراہ کو عمرہ کے بعد حلف یا قصد کی ضرورت نہیں ہے۔ یا تو انہوں نے عمرہ کیا نہیں یا اہم رُکن فیشن کی خاطر چھوڑ دیا اگر وہ سر منڈوا کر آتے اور پورے پاکستان کو دکھاتے کہ میں عمرہ کرکے آیا ہوں تو ہر مسلمان ان کا احترام کرتا اور ان کی بات میں وزن ہوتا۔

ہمیں شرم آتی ہے یہ لکھتے ہوئے کہ پاکستان کے مسلم حکمراں ہندوستان کے ہندو حکمراں کے مقابلہ میں بہت گرے ہوئے ہیں۔ پنڈت نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور بعد میں بہو سونیا گاندھی نے 40 سال کے قریب ملک پر حکومت کی اٹل بہاری باجپئی نے 6 برس حکومت کی سردار منموہن سنگھ نے دس برس حکومت کی کیا کسی پاکستانی نے سنا کہ انہوں نے کتنے مکان دہلی میں، کتنے دوبئی میں، کتنے لندن میں بنائے؟ نہرو خاندان کا الہ آباد میں ایک مکان آنند بھون موتی لعل نہرو کا بنوایا ہوا ہے اس کے بعد کا آج تک کوئی محل نہیں ہے۔ اٹل جی کرایہ کے مکان میں زندگی گذار کر چلے گئے، منموہن سنگھ کے پاس اتنے کپڑے بھی نہیں ہوں گے جتنے نواز شریف کے کمرے ہیں۔ نواز شریف، آصف زرداری، بے نظیر اور جس کو بھی موقع ملا ہے اس نے ایک مکان دوبئی اور لندن میں بنایا ہے۔

کیا عمران خان کو معلوم ہے کہ جب مکہ میں مسلمانوں کو نماز پڑھنا اللہ کا نام لینا خانہ کعبہ کا طواف کرنا اور سب سے اہم لاالہ الااللہ کہنا مشکل ہوگیا تو پروردگار کی طرف سے ہجرت کا حکم ملا اور ہر مسلمان سے کہہ دیا گیا کہ جیسے بھی جاسکو مدینہ چلے جاؤ اور جب حضرت ابوایوب انصاری کے گھر کے قریب سب اکٹھے ہوگئے تو جہاں حضور اکرمؐ کی اونٹنی بیٹھی تھی وہاں کی زمین کو خریدا گیا اور سب سے پہلے مسجد بنانا شروع کی۔

مدینہ کی زمین پر پہلی مسجد صرف نماز پڑھنے کے لئے نہیں تھی وہی پارلیمنٹ تھی وہی یونیورسٹی تھی وہی مشورہ کا ہال تھا وہی سینٹر تھا جہاں سے اس چھوٹی سی ریاست کا انتظام چلایا جاتا تھا اور یہ مسجد ہی ٹھکانہ تھی ان کا جن کا کوئی گھر تھا نہ ٹھکانہ اور یہیں سے وہ اذان شروع ہوئی جس سے پورا عالم لرزتا تھا۔

مسٹر جناح کو تو یہ توفیق ہوئی نہیں کہ جب 13 اگست 1947 ء کو وہ پاکستان کا پروانہ لے کر کراچی گئے جہاں نہ کوئی عمارت تھی نہ دفتر نہ کرسی نہ میز اور نہ اسٹیشنری وہ کسی بڑی مسجد میں جاکر بیٹھتے سب سے پہلے مولانا بشیر احمد عثمانی سے درخواست کرتے کہ فتح مکہ کے بعد مکہ میں داخل ہوکر جو کچھ حضور اکرمؐ نے کیا تھا اس کی امامت کیجئے اور جو مسلمان آئے ہیں وہ اس پر عمل کریں۔

تاریخ کی کسی کتاب میں نہیں ملتا کہ مسٹر جناح نے دو نفل بھی شکر کے پڑھے ہوں۔ اس ملک کو جسے بنانے والوں نے بھی ناپاک کیا اور جنہیں بنا بنایا مل گیا تھا انہوں نے پنجابیوں و ڈیروں اور ان سب نے مل کر لوٹا جو کہا کرتے تھے کہ ہم تو پاکستان میں رہتے ہی ہیں اور وہ اکثریت میں تھے۔ آج ہر مسلمان دیکھ رہا ہے کہ مرکزی حکومت بس نام کی حکومت ہوتی ہے۔ بنگال میں ممتا بنرجی نام کی لڑکی مودی اور امت کو ٹھوکروں سے مارتی ہے جے للتا چپراسی سمجھتی تھی کیرالہ کے کمیونسٹ سیدھے منھ بات بھی نہیں کرتے۔ اگر پاکستان بنانے کی غلطی نہ کی جاتی تو پورا پنجاب پورا بنگال پورا آسام سرحد سندھ بلوچستان ہریانہ پورے علاقے کے مسلمان اور دبے کچلے دلت ایک ہوجاتے تو ملک پر صرف ان کی حکومت ہوتی۔
کسی قوم نے آج تک یہ غلطی نہ کی ہوگی کہ جہاں نہ رہنا ہے نہ جانا ہے وہاں پاکستان ملک بنانے کے لئے 90 فیصدی ووٹ دے دیئے جس کے نتیجے میں ہندو سے دشمنی مول لے لی اور جن کو ملک بناکر دیا وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کب کہا تھا کہ ہمارے لئے پاکستان بنادو۔ مدینہ میں میرے بیٹے کے ایک دوست جاوید کسانہ لاہور کے تھے وہ کہتے تھے کہ ہندوستان میں نہ نماز بند ہوئی تھی نہ اذان تو بن بلائے مہمان ہمارے گھر کیوں آئے اور مسلم لیگ کے کس لیڈر نے آکر دین کی بات کی وہ تو ہم سے زیادہ بے دین ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے زندگی کے بہت دن لندن میں گذارے ہیں اور مدینہ منورہ صرف دیکھا ہے وہ اگر اس کی نقل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے اندر اور اپنی قوم کے اندر وہ جذبہ پیدا کریں جو حضور اکرمؐ نے انصار اور مہاجروں کے درمیان پیدا کرایا تھا بخاری شریف کی روایت ہے کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو حضوؐر نے عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرایا حضرت سعد نے عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ انصار میں سب سے زیادہ دولتمند ہوں آپ میرا مال دو حصوں میں بانٹ کر آدھا لے لیں۔ اور میری دو بیویاں ہیں ان میں جو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں عدت کے بعد آپ نکاح کرلیں۔ عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل اور مال میں برکت دے آپ صرف مجھے بازار دکھا دیجئے۔ بات 71 سال پرانی ہوگئی لیکن سنا ہے کہ اب بھی وہ مہاجر جنہوں نے پاکستان بنانے کا گناہ کیا تھا اب بھی پریشان ہیں۔ اور وہ جو سردار عبدالرب نشتر نے کہا تھا کہ ہم نے تین کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان میں چھوڑکر 6 کروڑ کا ایمان بچالیا آج وہ ہوتے تو ان سے جواب طلب کرتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close