آئینۂ عالم

کیا امریکہ بھی ٹوٹ جائے گا؟

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

 علامہ محمداقبال رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ’’ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں‘‘، گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔ سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے، چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،صدی کے آغاز میں جرمنی نے اپنے زوال پر خود مہر ثبت کی،صدی کے وسط میں برطانیہ کا کبھی نہ ڈوبنے والا سورج ہمہشہ کے لیے غروب ہو گیااور صدی کا آخریونائٹڈاسٹیٹس آف سوویت ریپبلکس(USSR) کاناقابل شکست ریچھ کا وجود ہی اس دنیاکے نقشے سے نابود و عنقا ہو گیا۔ قرآن مجید نے سورۃ آل عمران کی 140نمبر آیت میں فرمایا کہ ’’یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز میں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ‘‘۔ آج سے پہلے کاکوئی انسانی اقتدار ہمیشہ رہاہے اور نہ آج اور آج کے بعد کاکوئی اس نوعیت کاحاکم یا حکومت یا نظام باقی رہے گا۔ تاہم ایک سوال ضرورپیداہوتاہے کہ کیا ایسے عوامل موجود ہیں جوامریکہ کے وجود کو بھی قصہ پارینہ بنادینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ؟؟

’’الاسکا‘‘رقبے کے اعتبارسے امریکہ کی سب سے بڑی ریاست ہے جوبراعظم کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ اس ریاست میں Alaskan Independence Party(AIP)کے نام سے امریکہ سے آزادی کی تحریک آہستہ آہستہ زور پکڑ رہی ہے۔ 1970میں اس پارٹی کی تاسیس ہوئی اور1984میں اسے ریاست کی سطح پر دفتری و قانونی حیثیت بھی مل گئی۔ اس پارٹی کے مقاصد میں الاسکاکوایک آزاد ریاست کے طور پر دنیاکے سامنے لانا ہے تاکہ الاسکا کے لوگوں کو ایک جداگانہ قوم کی شناخت میسر آ سکے۔ اس پارٹی کے پروگرام میں پرامن اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھنا بھی شامل ہے۔ ’’جوئی ووگلر‘‘نے اس تصور کو پارٹی کی شکل عطا کی اور 1986سے 1993اپنی وفات تک اس آزادی کی تحریک کا سرپرست بھی رہا۔ اس دوران اس کی پارٹی نے مقامی انتخابات میں حصہ بھی لیااور ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ اس پارٹی کے مطابق 1958میں ہونے والے ریفرنڈم میں دحاندلی اور زبردستی کے ذریعے متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے حق میں ووٹ ڈلواکراپنے ساتھ الحاق کا فیصلہ کروایا گیاجبکہ مقامی افراد کی اکثریت اس فیصلے کے حق میں قطعاََ بھی نہیں تھی۔ AIPچاہتی ہے کہ اس کے علاقوں کے وسائل اسی پر خرچ کیے جائیں اور اس خطے کے باسیوں کو ان کے صحیح حقوق پہنچائے جائیں ۔

 ’’اوریگان‘‘(Oregon)امریکہ کی ایک اور ریاست ہے جوواشنگٹن کے ساتھ بحراوقیانوس کے ساحلوں میں واقع ہے۔ امریکی بحراوقیانوس کے سواحل پر مشتمل اوریگان اور واشنگٹن سمیت متعدد دیگر جغرافیائی خطوں کو مشترکہ طور پر ’’کاساکاڈیا(Cascadia)‘‘کہاجاتا ہے۔ اس خطے کی ایک بہت بڑی سیاسی جماعت ’’کاساکاڈین نیشنل پارٹی(The Cascadian National Party (CNP)) ہے جس کے منشور میں یہ بات شامل ہے کہ خطے کی عوام امریکہ سے آزادی چاہتے ہیں ۔ اس پارٹی کا دعوی ہے کہ وہ اپنے ماضی،اپنی روایات،اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی عظیم معاشرتی روایات میں باقی تما م تر امریکہ سے مختلف ہیں ۔ یہ پارٹی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ عالمی معاملات میں امریکہ کہ قیادت اپنے اصل مینڈیٹ سے منحرف ہے چنانچہ ان کا نعرہ ہے کہ وہ امریکی قیادت کو اپنی قیادت تسلیم نہیں کرتے اور امریکہ کی جنگوں کو بھی اپنی جنگیں تصور نہیں کرتے۔ یہ پارٹی اپنے خطے سے امریکی افواج اور ایجنسیوں کا مکمل انخلاچاہتے ہیں اور اس کی جگہ اپنے خطے کے لوگوں کی آزاد اور خودمختار ریاست کا وجود چاہتے ہیں تاکہ دنیا کی اقوام میں انہیں جداگانہ شناخت میسر آ سکے۔ اس مقصد کے لیے اس پارٹی کے پاس مستقبل کا ایک مکمل پروگرام موجود ہے جس کی بنیاد پر یہ خطے کے عوام میں دن بد ن اثرونفوذ کرتی چلی جا رہی ہے۔ یہ پارٹی اپنی عوام کی خوشحالی کے لیے فکرمند ہے اورامریکی معاشی زوال سے بے حد پریشان ہیں اور امریکہ کی ڈوبتی ہوئی کشتی سے بلاتاخیر کود کر اپنی جان بچانا چاہتے ہیں ۔

 ’’کاساکاڈین نیشنل پارٹی(The Cascadian National Party (CNP))نے اپنی مستقبل کی ریاست کے لیے ایک پرچم بھی تیارکررکھاہے،اس پرچم میں دوسنہری ستارے ہیں جو دوریاستوں ’’اوریگون‘‘اور ’’واشنگٹن‘‘کو ظاہر کرتے ہیں ۔ اس پرچم کا پس منظر آسمانی رنگ کاہے جو آزادی کو ظاہر کرتاہے،ایک سفید لکیر ہے جو امید کی نشاندہی کرتی ہے اور ایک لکیر سبزرنگ کی ہے جو اس خطے میں دفن بے پناہ قدرتی وسائل کو ظاہر کرتی ہے۔ مجوزہ پرچم میں ان لکیروں کے نیچے کا نیلا رنگ بحراوقیانوس کی موجوں کی نمائندگی کررہاہے۔ بعض لوگوں نے تو اس مجوزہ ریاست کانام بھی تجویز کررکھاہے اور ’’جمہوریہ  کاساکاڈا‘‘(Republic of Cascadia)کے نام سے وہ سرزمین امریکہ پر موجود بھی ہیں ۔ اس ریاست کا دارالحکومت بھی کسکاڈا نامی شہر ہو گا،اس کا رقبہ  855762مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا،2005 کے تخمینے کے مطابق اس جمہوریہ کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے کچھ کم نفوس پر مشتمل ہو گی، کسکیڈین زبان کا انگریزی لہجہ اس ریاست کی قومی زبان ہو گی اور 323بلین امریکی ڈالراس ریاست کی کل مجوزہ جی ڈی پی ہواکرے گی۔ اس ریاست کا مجوزہ پرچم کاسکاڈین نیشنل پارٹی کے پرچم سے قدرے مختلف ہے،تمام تر پرچم میں نیلی اور سفیدلکیریں ہیں ،نیلی لکیریں بحراوقیانوس کے پانیوں کے رنگ سے مستعار ہیں جب کہ سفید لکیریں کاساکاڈا کے برف پوش پہاڑوں کی نمائندگی کرتی ہیں ،پرچم کے بالائی بائیں نصف چوتھائی کو دو رنگوں کے پس منظر میں ظاہر کیاگیاہے ایک سبزرنگ ہے جو خطے کی سبزہریالی فصلوں کی نشاندہی کرتاہے دوسراسرخ رنگ ہے جو پہاڑوں کے اندر زیرزمین چھپے ہوئے ہوئے لاوے کی نمائندگی کرتے ہوئے اس قوم کی پوشیدہ صلاحیتوں کا اظہار ہے،ان دونوں رنگوں کے پس منظر میں سورج کو بھی دکھایاگیاہے جو براعظم امریکہ کے ایک کونے میں واقع ہونے کی علامت ہے اوراس خطے کے پوشیدہ قدرتی وسائل کی طرح ایک سبز پتہ اس سورج کے پیٹ میں پنہاں نظر آ رہاہے۔ کاساکاڈا کے لوگ اپنی مستقبل کی امریکہ سے آزا ریاست سے کس قدر جذباتی طورپر وابسطہ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتاہے کہ ان لوگوں نے اس مجوزہ آزاد ریاست کا دستور،قانون،داخلہ و خارجہ پالیسی اور ڈاک ٹکٹیں تک مدون کررکھی ہیں ۔

  ’’ہوائیHawaii ‘‘ 21اگست1959کو امریکہ کا حصہ بنے والی آخری ریاست ہے،یہ مکمل طور پر جزائر پر مشتمل رقبوں پر محیط ہے،یہ جزیرے امریکہ کے جنوب مغربی سمندروں کے اندر واقع ہیں ۔ یہاں کے لوگ’’ہوائی کی آزادی(HAWAIIAN INDEPENDENCE)‘‘کے نام سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف کار ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر امریکہ کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جبکہ وہ اپنے مستقبل میں ہر لحاظ سے اس سے آزادی چاہتے ہیں ۔ آزادی کی دستاویزات کے نام سے ان کے پاس ہوائی کی ریاست کے زمانے سے لے کر امریکی قانون ساز اداروں کی تحریکات و قراردادوں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ ’’Hawaiian rights movement ‘‘کے نام سے ہوائی کے عوام کی ایک اور تحریک گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ سے آزادی کے منصوبے پر کاربند ہے، تعلیم اورپرامن قانونی جدوجہد ان کا طریقہ کار ہے۔

ہوائی میں ایک زمانے میں ’’سلطنت ہوائی‘‘قائم تھی جسے نوآبادیاتی نظام نے تلپٹ کر دیا۔ اب وہاں کے لوگوں نے اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنے کے لیے دوبارہ اس ریاست کی تاسیس کی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایک عرصے سے ہماری قوم کو غلام بنارکھاہے۔ ہوائی آزاد ریاست کی یہ تحریک 1907کے ہوائی بادشاہوں کی طرز پر اپنی حکومت کی تعمیر نو چاہتے ہیں ۔ 5 جولائی 2001کواس تحریک کی طرف سے اقوام متحدہ میں ایک شکایت بھی درج کرائی گئی جس کا عنوان تھا’’Hawaiian Kingdom Complaint filed with U.N. Security Council against the United States ‘‘یعنی ہوائی کی سلطنت کی طرف سے اقوام متحدہ میں امریکہ کی حکومت کے خلاف شکایت۔ 139صفحات پر مشتمل یہ درخواست سلطنت ہوائی کے وزیرداخلہ ڈیوڈ کینیوسائی کی طرف سے سیکورٹی کونسل میں جمع کرائی گئی کہ 1898کی امریکہ اسپین جنگ کے بعد سے امریکی افواج نے ہوائی کی عوام کو ناجائز طور اپنا غلام بنارکھاہے۔ اقوام متحدہ کے ضوابط کے تحت قانون نمبر35(2)کی  پیروی میں یہ درخواست سیکورٹی کونسل نے اپنے دفتر میں رجسٹر کی۔ اس درخواست میں سیکورٹی کونسل سے استدعاکی گئی کہ اقوام متحدہ کے ضابطہ نمبر36(1)کے تحت ہوائی کی درخواست کودرخور اعتنا سمجھ کر اس پر مزید کاروائی کی جائے۔ 6جولائی کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے نیویارک میں اس درخواست کے مندرجات کا خلاصہ عالمی میڈیا کے حوالے کیاگیاجس کے مطابق 13اگست1898کی شکست کے بعد سے امریکہ نے ایک براہ راست قانون کے ذریعے ہوائی کی عوام پر اپنی حکمرانی مسلط کررکھی ہے جس سے سلطنت ہوائی کا اقتدار متاثرہواہے اور یہاں کے عوام کی انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے چنانچہ 1907کے بین الاقوامی قانون کی شق43کے مطابق اس درخواست کا فیصلہ کیاجائے۔

 ہوائی کی آزادی کی خواہاں تحریکات نے آزاد ہوائی ریاست کا پرچم کی تشکیل دے دیاہے جس میں تین رنگ کی زمین سے متوازی پٹیاں ہیں ،اوپر ایک پتلی سفید پٹی ہے،درمیان میں موٹی سنہری پٹی ہے اور پھر نیچے پتلی کالی پٹی ہے۔ سفیداورسیاہ پٹیاں کائنات کے جملہ تضادات کے درمیان توازن کا پتہ دیتی ہیں جیسے دن اوررات کے درمیان توازن،اندھیرے اور روشنی کے درمیان توازن وغیرہ۔ سنہری رنگ سے مراد انسانی خاندان کی خوشحالی ہے۔ پرچم کے سنہری رنگ کے حصے پر ایک نشان بھی لگایاگیاہے جو ہوائی کی قدیم روایات کے مطابق آسمان اورزمین کے درمیان مقدس رابطوں کا نشان ہے،اس نشان کے ساتھ ہوائی کے ایک درخت کے پتے بھی دکھائی گئے ہیں جوروحانی طاقتوں کی طرف سے محافظت کا ایک محترمانہ اظہار ہے۔

  ’’ورمانٹ(Vermont )‘‘امریکہ کی ایک اور ریاست جو شمال مشرق کے نیوانگلینڈریجن میں واقع ہے۔ یہاں کی عوام نے The Second Vermont Republic کے نام سے امریکہ سے آزادی کا پرچم بلند کررکھاہے۔ 11اکتوبر2003کوگلوورکے مقام پر اس تنظیم کی تاسیس ہوئی اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں امریکہ سے سیاسی آزادی اورپرامن طور پر امریکہ سے اتحاد کااختتام ہے۔ 5سے7نومبر2004کو اس تنظیم نے ایک بین الاقوامی کانفرنس کرائی جس کا موضوع تھا’’After the Fall of America, Then What?” ‘‘یعنی امریکہ کے زوال کے بعد کیا ہوگا؟؟یہ تنظیم چاہتی ہے کہ ہم بہت بڑے ملک کی بجائے ایک ایسی چھوٹی لیکن بہترمملکت میں رہنا پسند کرتے ہیں جوانسانی اقدار سے قریب ترہو۔ ان کے پاس مستقبل کا پروگرام بھی موجود ہے جس میں اپنی قوم اور عوام کے لیے بہترین طرززندگی اورمساوایانہ مواقع کاحصول سرفہرست ہے۔ عوام میں یہ تنظیم زیادہ تر Vermont’s independence movementکے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے اور ان لوگوں کا دعوی ہے کہ یہ علاقے کی تاریخ میں سب سے بڑی تحریک ہے جو بڑی کامیابی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ 2008میں اس تنظیم نے آزادی کی تحریک کے تحت ایک بہت بڑے کنونشن کا بھی انعقادکیا۔ اس تنظیم نے اپنی آزادی کے بعد کا پرچم بھی تیارکررکھاہے جو ساراکاساسبزرنگ پر مشتمل ہے جبکہ اس کی بالائی دائیں چوتھائی حصے پر کچھ ستارے بنے ہیں ۔ اس تنظیم کے راہنماؤں کا خیال ہے کہ امریکہ کی ’’ڈاؤن سائزنگ‘‘ہونی چاہیے اور اس مقصد میں ان کی ریاست پہل کرے گی تاکہ باقی ریاستیں بھی امریکہ سے الگ ہونے کا پروگرام بنائیں اور پھراس پر عمل کریں ۔

  الاسکا( Alaska)رقبے کے اعتبار سے امریکہ کی سب سے بڑی ریاست ہے اورشمالی امریکہ کے انتہائی شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہاں کی آزادی پسند عوام نے The Alaskan Independence Partyکے نام سے امریکہ سے نجات کا پروگرام بنارکھاہے۔ اس پارٹی پر اگرچہ ستر کی دہائی کے آغاز سے ہی کام شروع ہو چکاتھالیکن 1984میں یہ باقائدہ رجسٹرکرائی گئی۔ ’’سب سے پہلے الاسکا‘‘اس پارٹی کا بنیادی نعرہ ہے۔ پرامن جدوجہد کے ذریعے آزادریاست اور خودمختارحکومت کاقیام ان کی پہلی اور آخری منزل ہے۔ یہ پارٹی انتخابات میں بھی حصہ لیتی ہے اور ان کے دعوے کے مطابق ہربارپہلے سے زیادہ رائے دہندگان ان کے حق میں اپنی رائے استعمال کرتے ہیں ۔

   ٹیکساس(Texas)رقبہ اور آبادی دونوں کے لحاظ سے امریکہ کی دوسری بڑی ریاست ہے جوامریکہ کے جنوب میں واقع ہے۔ The Texas Nationalist Movement کے نام سے یہاں بھی امریکہ سے آزادی کی تحریک آہستہ آہستہ جڑ پکڑ رہی ہے۔ اس تحریک نے گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنی رکنیت سازی کی مہم چلارکھی ہے اور ٹیکساس کے عوام تیزی سے اس تحریک کی رکنیت حاصل کرکے تو امریکہ سے آزادی کی اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ ابتدا میں اس تحریک کا ایک ماہانہ رسالہ شائع ہوتارہاہے جو اراکین کا باقائدگی سے بھیجاجاتاہے اب اس تحریک نے آزادی کی اہمیت پر تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیاہے اور کانفرنسوں کا انعقادبھی کیاجا رہاہے۔ اس تحریک کا مشن ہے کہ یہ ٹیکساس کی عوام کوسیاسی،ثقافتی اور معاشی آزادی دلاناچاہتے ہیں اور ایک آئینی جمہوریہ کے طور پر اس خطے کو دنیاے نقشے پر دیکھناچاہتے ہیں ۔ اس تحریک کے پروگرام میں انہیں تین مقاصدیعنی سیاسی،ثقافتی اور معاشی آزادیوں کے حصول کے لیے ایک وسیع ایجنڈا موجود ہے جس کی تفصیل اس تحریک کے لٹریچر میں وضاحت کے ساتھ لکھی گئی ہے۔

  سفید وسیاہ کی کشمکش بھی ہنوز امریکہ میں جاری ہے چنانچہ حال ہی میں اس تناظر میں دو کتب لکھی گئی ہیں جن میں اس کشمکش کی جملہ تفصیلات درج ہیں ایک کتاب ’’Black separatism in the United States‘‘ہے جو Raymond L. Hallکی تصنیف ہے۔ یہ کتاب یونیورسٹی پریس آف نیوانگلینڈ نے شائع کی ہے۔ 306صفحات کی یہ کتاب پہلی دفعہ1978میں شائع کی گئی تھی۔ اس کتاب میں ماضی اور حال کی حبشی نسل سے متعلق لوگوں کی جملہ تحریکات آزادی کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اس موضوع پر آج بھی کتب کی تصنیفات جاری ہیں ۔ گورے بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہے بلکہ اصل میں اس جنگ کا طبل بجانے والے اور اس تعصب کو جنم دینے والے تو گورے ہی ہیں چنانچہ ان کی طرف سے بھی ایک کتاب ’’The White Separatist Movement in the United States: "White Power, White Pride!” ‘‘کے نام سے آچکی ہے جسے  Betty A. Dobratz, Stephanie L. Shanks-Meileنے تصنیف کیا ہے اور دی جان ہاپکنزیونیورسٹی پریس نے 1997میں پہلی دفعہ شائع کیا ہے۔ کتب کی اشاعت سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ سے آزادی کی تحریکوں کا پس منظر صرف جذباتی ہی نہیں ہے بلکہ اب سنجیدہ اور غوروفکر کرنے والے لوگ بھی اس تدبر میں شریک ہو رہے ہیں ۔

  ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف امریکہ کے باہر کے عوام ہی امریکی قیادت سے متنفرنہیں ہیں بلکہ امریکہ کی انسانیت دشمن پالیسیوں سے اس کے اندر کے عوام بھی حد درجہ تنگ آ چکے ہیں ۔ درج بالا معلومات تو گویادیگ کاایک چاول ہے حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور سبق آموزہے۔ امریکی قیادت اور اس ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے دنیابھر میں آزادی پسند تحریکوں کو ہوا دے رکھی ہے، دیگرممالک کے اندر ونی معاملات میں مداخلت یہ ملک اپنا حق حکمرانی سمجھتاہے،جمہوریت،انسانی حقوق،معاشی قرضے وغیرہ اور اب دہشت گردی کے نام پر امریکہ کی دوسری دنیاؤں میں دراندازی ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے۔ ایک طرف علیحدگی پسندوں کو زیرخانہ بھاری امدادفراہم کرناتو دوسری طرف ملکی قیادت کو علیحدگی پسندوں کا خوف دلاکر ان سے اپنے مذموم مقاصدپورے کراناامریکی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اصول نظر آتاہے۔

ماضی قریب میں افغانستان کے حالات اس اصول کی عمدہ مثال ہے۔ مکافات عمل انسانی تاریخ کا بہت بڑا سبق ہے اورحقائق بتارہے ہیں کہ آج جو گڑھاامریکی قیادت دوسری دنیاؤں کے لیے کھود رہی ہے اﷲ تعالی نے چاہاتوسب سے پہلے خود اس میں گرنے والے یہ خود ہو ں گے اور باقی دنیاتماشادیکھ کرتالیاں پیٹ رہی ہو گی اوراہل نظر و صاحبان بصیرت اس منظر طلوع ہونے والے سورج کے عقب میں فی الوقت مشاہدہ کررہے ہیں پس کچھ ہی دیر میں پردہ اٹھنے کی دیر ہے  کہ یہ منظر ہر خاص و عام اپنی چشم بصارت سے بالیقین مشاہدہ کر پائے گا۔ تاج برطانیہ،ہیل ہٹلراورسرخ سویراباقی نہیں رہاتو ’’کارپٹ بمبارمنٹ‘‘کرتی امریکی افواج کوبھی دنیابھر میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ رہے نام اﷲ تعالی کاکہ اس کی سلطنت و حکومت کو کوئی زوال نہیں وہ ہمیشہ سے سربلندوعروج واقتدارکامالک ہے اور ہمیشہ ہی اس کانام و اقتدارو حکومت و کرسی وعرش بلندوبالارہے گا’’ہرچیزجواس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب ذوالجلال واکرام کی ذات ہی باقی رہنے والی ہے،پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ ‘‘(سورۃ رحمن)۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close