آئینۂ عالم

کیا امریکہ سے سعودی بادشاہ کی دوستی راس آئے گی؟

 عبدالعزیز

 عراق کے سابق صدر صدام حسین امریکہ کے دوستوں کی فہرست میں شامل تھے اور بہت سے کام امریکہ کے اشارے پر کرنے کے عادی ہوتے جارہے تھے؛ حالانکہ وہ بعث پارٹی عراق کے بھی صدر تھے۔ بعث پارٹی سوشلسٹوں کی پارٹی تھی۔ اپنے نظریات کے لحاظ سے اسلامی نظریات سے یکسر مختلف اور سوشلزم سے قریب ہونے کی وجہ سے روسی بلاک میں شامل سمجھی جاتی تھی۔ جس وقت ایران میں انقلاب آیا اور بادشاہ رضا شاہ پہلوی کو اپنا ملک چھوڑ کر مصر میں پناہ لینا پڑا اس وقت دنیا میں ایران امریکہ کا اور امریکہ ایران کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ امریکہ رضا شاہ پہلوی کی حمایت اس طرح رہا کرتا تھا جس آج امریکہ سعودی عرب کے شاہ سلمان کا کر رہا ہے یا اس سے پہلے شاہ عبداللہ کا کر رہا تھا۔

امریکہ نے صدام حسین کو ایران کی مخالفت کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ صدام نے ایران اور عراق کے درمیان ایک پرانے معاہدے کا مسئلہ اٹھایا۔ وہ مسئلہ شط العرب کا تھا۔ سمندر کا ایک راستہ جو تنازع میں پڑ گیا تھا جس وقت یہ تنازع ابھر کر سامنے آیا تھا تو اس وقت صدام حسین عراق کے نائب صدر تھے۔ الجیریا نے ایران اور عراق کے اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور الجیریا کی راجدھانی میں ایک وفد ایران کا اور دوسرا وفد عراق کا پہنچا۔ عراق کے وفد کی سربراہی صدام حسین کر رہے تھے۔ بحث و مباحثہ کے بعد عراقی وفد شط العرب کو ایران کا حصہ سمجھنے پر مجبور ہوا۔ تنازع ختم ہوا۔

  اپنے صدارتی دور میں صدام حسین نے امریکہ کے اشارے پر اس گڑے ہوئے مردے کو پھر سے اکھاڑنے کی کوشش کی کہ شط العرب عراق کا حصہ ہے۔ امریکہ در اصل ایران سے بدلہ لینا چاہتا تھا اور ایران کو کمزور کرنے کیلئے عراق اور ایران میں جنگ برپا کرنے کا خواہاں تھا۔’ ریڈر ڈائجسٹ‘ میں چھپے مضمون کے مطابق عراق کا ایک وفد امریکہ پہنچا۔ وہائٹ ہاؤس میں مشورہ ہوا امریکہ نے عراق کو گرین سگنل دے دیا کہ اگر وہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو عراق کا ساتھ دے گا۔ صدام حسین نے اپنی طاقت بڑھانے کے نشے میں ایران پر حملہ کردیا۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور تقریباً آٹھ لاکھ آدمی اس جنگ میں مارے گئے۔ عراق نے جب دیکھا کہ اس کی ہار ہوسکتی ہے تو ہائیڈروجن گیس کا استعمال کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے ہزاروں ایرانی زخموں کی تاب نہ لاسکے اور ہزاروں آج بھی اپنی موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔

اس وقت سعودی عرب اور کویت عراق کی مدد کر رہے تھے۔ دونوں ممالک امریکہ سے ہتھیار خرید کر عراق کو پہنچا رہے تھے۔ چند سال بعد صدام حسین نے کویت کو عراق میں شامل کرنے کیلئے کویت پر حملہ کردیا۔ اس کے تیل کے کنوؤں کو جلانا شروع کر دیا۔ کویت کے اسپتالوں پر بھی حملہ کیا۔ اس طرح کویت کی پوری معیشت کو تہس نہس کر دیا۔ امریکہ جس نے عراق کا ساتھ دیا تھا کویت کی طرف داری کرنے لگا، جنگ بند ہوگئی مگر سعودی عرب کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ صدام حسین سعودی عرب پر بھی حملہ کردیں گے۔ سعودی عرب نے مسلم ممالک سے مدد مانگنے کے بجائے امریکہ کے سامنے ہاتھ پھیلایا۔ امریکہ نے سعودی عرب میں بڑی تعداد میں اپنی فوج بھیج دی جو آج تک امریکہ کیلئے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

صدام کے ساتھ پھر امریکہ کا جھگڑا شروع ہوا کہ عراق میں نیوکلیئر ہتھیار ہے۔ یہ بہانہ کرکے سابق امریکی صدر جارج بش نے کئی یورپی ممالک کو ساتھ لے کر عراق پر حملہ کر دیا اور پھر صدام کا کیا حشر ہوا دنیا اسے جانتی ہے۔ امریکہ نے صدام کو عراق کے ایک سرنگ سے نکالا جہاں وہ چھپے ہوئے تھے اور ان پر عراق کی امریکی حکومت نے مقدمہ چلایا اور عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس طرح صدام حسین کا انجام ہوا۔ عراق میں جنگ کے نتیجہ میں پانچ لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے اور پوری معیشت تباہ و برباد ہوگئی۔

  اس وقت سعودی عرب کے بادشاہ اسی راستے پر گامزن ہیں جس راستہ پر کبھی رضا شاہ پہلوی گامزن تھے اور کبھی صدام حسین نے خراماں خراماں چل رہے تھے اور تباہی و بربادی کی منزل پر پہنچے۔ ایران آج بھی انقلاب کی وجہ سے صحیح سلامت ہے مگر عراق آج بھی ان حالات کا شکار ہے جس کو صدام نے اپنی نادانی سے پیدا کئے تھے۔

  اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ جو کٹر یہودی نواز ہیں اور اسرائیل کے طرف دار ہیں ، امریکہ کے صدر ہیں ۔ پہلے انھوں نے انتخابی مہم کے دوران اسلام اور مسلمانوں کو اپنا دشمن قرار دیا اور اعلان کیا کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دیں گے۔ کامیابی کے فوراً بعد ہی ٹرمپ نے کئی مسلم ممالک پر پابندی عائد کردی مگر اپنی اس فہرست میں سعودی عرب کو شامل نہیں کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں کیا بلکہ عرب ممالک میں جنگ برپا کرنے کیلئے سعودی عرب کے بادشاہ کو اشارہ نہیں بلکہ حکم دیا گیا کہ وہ ایران کے خلاف محاذ آرائی کرے اور اپنے ملک میں چند ملکوں کو چھوڑ کر سب مسلم ممالک کے سربراہوں کو بلائے اور اس سے پہلے اسلامی فوج کی تشکیل کرے۔ ٹرمپ کے آنے سے پہلے اسلامی ممالک کی اتحادی فوج کی تشکیل ہوگئی۔ 56 ممالک نے تائید کردی۔

 پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی حکومت کی تشکیل شدہ امریکی فوج کے سربراہ ہوگئے۔ پاکستانی دانشوروں اور تنظیموں نے میاں نواز شریف کے اس قدم کو غلط بتایا مگر میاں نواز شریف نے سعودی حکومت سے قربت بڑھانے کیلئے اس قدم کو ضروری سمجھا۔ امریکہ کے صدر پھر سعودی عرب کی راجدھانی ریاض آئے۔ انھوں نے عرب ممالک یا مسلم دنیا کے اتحاد کے بجائے ایران کو اپنی تقریر میں ہدفِ ملامت بنایا اور آدھ گھنٹے کی تقریر میں گیارہ مرتبہ ایران کا نام لیا۔ دورہ کے خاتمہ کے تیسرے دن سعودی عرب نے قطر کو ہدف ملامت بنایا اور اس پر الزام لگایا کہ کیا وہ اخوان المسلمون اور حماس جیسی تنظیموں کو جو دہشت گرد ہیں ان کی حمایت کرتا ہے اور ایران کی بھی حمایت کرتا ہے۔ پانچ ممالک نے سعودی عرب کی سرکردگی میں قطر جیسی ریاست کا مقاطعہ کا اعلان کر دیا۔ اس کے زمینی، فضائی اور بحری راستوں کو بند کر دیا جس سے قطر کو ہی نہیں پوری دنیا کو پریشانی لاحق ہے۔ سعودی عرب نے دنیا کو یہ باور کیا کہ یہ کام سعودی عرب کر رہا ہے مگر ٹرمپ نے ٹوئٹ کرکے سارا بھانڈا پھوڑ دیا جس کے اندیشے ظاہر کئے جارہے تھے۔ ٹرمپ کے بقول سعودی عرب نے قطر کے خلاف یہ سب ہمارے کہنے پر کیا ہے۔ قطر کے خلاف اسلامی دہشت گردی جنگ کی ابتدا ثابت ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے اس بات پر اظہارِ اطمینان کیا کہ سعودی بادشاہ ہمارے پڑھائے ہوئے سبق پر عمل پیرا ہے۔

 ادھر ’نیو یارک ٹائمز‘ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر نشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ کے جارحانہ خیالات کی وجہ سے ملک کی سلامتی کو خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جرمنی نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

 ساری دنیا جانتی ہے کہ دنیا میں سارے مسلمان تقریباً نوے پچانوے فیصد بلکہ اس سے زیادہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اسلام اور مسلم دشمنی اور اسرائیلی حکومت کی حمایت کی وجہ سے امریکی حکمرانوں کے خلاف ہیں ۔ سعودی حکومت نے مصر میں عوام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو 2013ء میں امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے کچل کر رکھ دیا۔ اخوان المسلمون کے 26 ہزار کارکنوں ، لیڈروں اور حمایتیوں کو شہید کردیا، اس لئے کہ وہ یہودی نواز جنرل السیسی کی فوجی بغاوت کے خلاف پر امن احتجاج کر رہے تھے اور پچاس ہزار سے زائد بے گناہ اور بے قصور اخوانیوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کر دیا۔ اب بھی سعودی عرب امریکہ کی وجہ سے حماس اور اخوان کے خلاف ہیں ۔ حماس فلسطینیوں کی اس واحد تنظیم ہے جو اسرائیل کی جارحیت، بربریت اور درندگی کے خلاف برسر پیکار ہے۔ سعودی عرب کو رضا شاہ پہلوی اور صدام حسین کے انجام سے سبق لینا چاہئے تھا مگر سبق تو وہی لیتے ہیں جو دیدۂ بینا رکھتے ہیں ۔ یہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سعودی بادشاہوں کا حشر کیا ہوگا؟  یا کیا ہونے والا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close