آئینۂ عالمآج کا کالم

کیا سچ میں ہندوستان – امریکا کا قریب آنا تاریخی ہے؟

رویش کمار

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان گہری ہوتی دوستی سے چین اور پاکستان پریشان ہیں یہ تو ایک بات ہوئی، لیکن اس دوستی میں ایسا کیا خاص ہے کہ ہم بالکل پریشان نہیں ہیں. ہندوستان اور امریکہ اب ذہنی اور سیاسی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں. احتیاط برتنے کے لحاظ سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے سے کافی قریب پہنچ چکے ہیں. اتنا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرنے کے لئے امریکہ اور ہندوستان میں کچھ لوگ بینر پوسٹر لے کر آ گئے. جو بھی ہے ہندوستان اور امریکہ اب اپنی اس محبت کا اظہار پبلک میں خوب کر رہے ہیں.

پیر کو واشنگٹن میں ہندوستان کے وزیر دفاع منوہر پاریکر اور امریکہ کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے ایک معاہدہ پر دستخط کئے، جسے LEMOA کہتے ہیں Logistics Exchange Memorandum of Agreement. اب امریکہ اپنے جنگی طیاروں کی مرمت، ایندھن کی فراہمی کے لئے ہندوستان کی مدد لے سکے گا. ہندوستان بھی امریکہ سے مدد لے سکے گا. اس موقع پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ عملی تبادلے کے لئے اضافی مواقع فراہم کرے گا. سننے میں تو یہ لائن انتہائی آسان ہے مگر بغیر تفصیل کے آپ کو اس سے کچھ بھی پتہ نہیں لگے گا. وزیر دفاع نے کہا کہ معاہدے کی وجہ سے لوجسٹک سپورٹ دینے کے لئے دونوں میں سے کوئی بھی پابند نہیں ہے.

ہر کیس میں دونوں فریق کو الگ سے منظوری لینی پڑے گی. وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان لوجسٹک کو لے کر جو معاہدہ ہوا ہے، اس میں فوجی اڈے بنانے کی کوئی بات نہیں ہے. یہ ان کا بیان ہے نہ کہ معاہدہ کے مسودہ کی تفصیلات عوامی ہوئی ہیں. فوجی اڈے نہیں بنائیں گے اور فوجی اڈوں کا استعمال کیا جا سکے گا دونوں میں بہت فرق ہے. دونوں کے اپنے اپنے خطرے اور خوبياں ہوں گی.

ایکسپریس میں سشانت سنگھ نے لکھا ہے کہ وزیر دفاع نے ایک امریکی صحافی کو کہا ہے کہ پہلے وہ اس معاہدے کی تفصیلات عوامی کریں گے اور دیکھیں گے کہ لوگوں کی رائے کیا ہے. دہائیوں سے ہم امریکہ کے پارٹنر ہیں ہی. قریب آ ہی چکے ہیں. لیکن ان معاہدوں کے ذریعہ پارٹنر ہونے کا کیا مطلب ہے؟ بس یہ گوگل کرتے رہیں کہ امریکہ کا پارٹنر بن کر دنیا میں کون سا ایسا ملک ہے جو اپنے علاقے میں سپر پاور ہے؟ زمانے تک پاکستان کو امریکہ کا قریبی بتایا جاتا رہا ہے، اس ترتیب میں اور بھی ممالک کے نام لیے جا سکتے ہیں. کیا چین بھی امریکہ کا پارٹنر بن کر طاقتور بنا ہے؟ بہر حال ہندوستان، امریکہ کے ساتھ چار بنیادی معاہدے کرنے والا ہے. یہ چاروں معاہدے دونوں ملکوں کی فوجی میدان میں رشتہ داری کو مکمل کر دیں گے. ان چار میں سے ایک ہے LEMOA. ہندوستان نے چار میں سے دو پر دستخط کر دیئے ہیں.

سب سے پہلے ہے، جنرل سیكيورٹي آف ملٹری انفارمیشن اگريمینٹ (GSOMIA)، 2002 میں ہندوستان نے اس پر دستخط کر دیا تھا.

دوسرا ہے لوجسٹک ایکسچینج میمورنڈم اگريمینٹ LEMOA

تیسرا ہے کمیونیکیشنس اینڈ انفارمیشن سیکورٹی میمورنڈم آف اگريمینٹ (CISMOA)

چوتھا ہے بیسک ایکسچینج اینڈ كوپریشن اگريمینٹ (BECA)

ریسرچ کے دوران پڑھنے کو ملا کہ 2002 میں پہلے سمجہوتے پر دستخط کرنے کے بعد واجپئی حکومت اور منموہن حکومت دوسرے، تیسرے اور چوتھے معاہدے پر دستخط کرنے کو لے کر بہت خواہش مند نہیں تھی. خدشہ تھا کہ ہندوستان امریکہ کی باںہوں میں نہ چلا جائے. پیر کو واشنگٹن سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ہندوستان کو اہم دفاعی اتحادی کا مرتبہ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس کا اعلان اسی جون میں وزیر اعظم مودی کے امریکہ کے سفر کے دوران ہوا تھا.

ہندوستان کے وزیر دفاع کا یہ دورہ بتاتا ہے کہ دونوں فریق کئی میدانوں میں دفاعی تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں. اسٹریٹجک شراکت داری اور میدانی تعاون بڑھانے کے علاوہ ایک دوسرے کے فوجیوں کے تبادلے، دفاعی ٹیکنالوجی اور تحقیق میں بھی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں. اس معاہدے کے بعد امریکہ، ہندوستان کو دفاعی ٹیکنالوجی اور کاروبار میں ہندوستان کے درجے کو بلند کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے. وہ اب ان چیزوں کا اشتراک کرے گا جو ابھی تک صرف اپنے قریبی شراکت داروں اور حصہ داروں سے کرتا آیا ہے.

امریکہ کی وجہ سے ہندوستان حال ہی میں Missile Technology Control Regime (MTCR) کا رکن ہے، جس کی ہندوستان کے دفاعی ماہرین نے خوب تعریف کی تھی. مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بحریہ، فضائیہ، انٹیلی جنس نظام کے میدانوں میں دونوں کے درمیان کئی طرح کے معاہدے ہوئے ہیں. امریکہ ہندوستان کی بحری صلاحیتوں کو بڑھانے میں بھی مدد کرے گا.  بحریہ اور فوجی مشقیں تو دونوں ملکوں کے درمیان ہوتی ہی رہتی ہیں. فوجی خدمات کے معاملے میں باہمی سمجھ اور بڑھانے پر بھی بات ہوئی ہے.

پیر کو ہوئے معاہدے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں کافی بڑی تبدیلی آ چکی ہے. یہ تبدیلی 90 کی دہائی سے آ رہی تھی مگر اقتصادی پالیسیوں کے میدان میں، لیکن حال فی الحال میں یہ دوستی دفاعی کاروبار اور شراکت کی طرف بھی مڑی ہے. اتنی تیزی سے یہ تبدیلی آئی ہے کہ واجپئی اور منموہن کے پندرہ سولہ سال میں جو نہ ہو سکا وہ دو تین ماہ میں ہو گیا. ہم نے اس معاہدے کے بارے میں میڈیا میں دستیاب مواد کا ہی مطالعہ کیا ہے. منموہن سنگھ نے بھی نیوکلیئر ڈیل کے وقت اپنی حکومت داؤ پر لگا دی تھی، اس ڈیل کا نتیجہ آج تک آنا باقی ہے.

دو سال کے اندر مودی حکومت نے اعتماد کے ساتھ امریکہ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے. پر ایسا نہیں لگتا کہ خدشات کو ایک دم سے درکنار کر دیا ہے. ایکسپریس میں سشانت سنگھ نے لکھا ہے کہ اسی وجہ سے وزیر دفاع پاریکر نے لموا میں کافی کچھ ترمیم کروایا جبکہ اس کا ایک طے شدہ ڈرافٹ ہوتا ہے جس پر امریکہ نے کئی ممالک کے ساتھ 100 سے زیادہ ایسے معاہدے کئے ہیں. اس معاہدہ سے بڑی بازی امریکہ نے ماری ہے یا دونوں کے درمیان برابر کا معاہدہ ہوا ہے؟

دہلی میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری ہیں. انہوں نے منگل کی شام کہا کہ تاریخ میں دونوں ملک ایک دوسرے کے اتنے قریب کبھی نہیں رہے. کیری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ پاکستان سے ہی کام کرتے ہیں. لیکن ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور وہاں کے فوجی سربراہ راحیل شریف سے ہوئی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں پر کارروائی کا بھروسہ دیا ہے جس میں تھوڑا وقت لگتا ہے. ایک طرح سے کیری نے پاکستانی حکومت کا بچاؤ کر دیا. امریکہ میں ہندوستان کے وزیر دفاع ہیں. دہلی میں بھی ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو دنوں میں کافی سرگرمیاں ہوئی ہیں. وقت کی ضرورت کے حساب سے سفارتی اور اسٹریٹجک تعلقات تبدیل ہوتے ہیں. کیا ہم وقت کے اسی دہانے پر کھڑے ہوکر یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں یا کسی آنے والے نتائج سے بے خبر استقبال کرنے میں لگے ہیں؟

یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس کی خوشبو سے بے خبر رہ جائیں لیکن خوش فہمی میں ہی پوری شام گزر جائے، یہ بھی ٹھیک نہیں ہے. دوسری طرف اسے لے کر چین اور پاکستان کیوں پریشان ہیں؟ پاکستانی میڈیا میں کیوں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو چین کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لینا چاہئے. چین کی میڈیا میں کیوں کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان امریکی قرار سے پاکستان اور چین چڑ سکتے ہیں. اس دلیل سے ہندوستان کوئی قدم ہی نہ بڑھائے کیا یہ مناسب ہوگا؟ ہندوستان امریکہ کے اوپر لکھنے والے دو چار باقاعدہ ماہرین کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ وہ اس معاہدے سے کافی متاثر ہیں. ایم کے بھدرا كمار ہیں جو سابق سفیر ہیں انہوں نے اپنے مضمون میں کچھ سوالات اٹھائے ہیں. انہوں نے کہا ہے کہ

ہندوستان نے کبھی کسی غیر ملکی طاقت کو اپنے فوجی اڈوں کا استعمال کرنے نہیں دیا ہے.

کسی گروہ کا حصہ ہونے سے بچنے کے لئے اور اسٹریٹجک خود مختاری برقرار رکھی.

دیکھنا ہوگا کہ ہندوستان امریکی سہولیات کا استعمال زیادہ کرے گا یا امریکہ ہندوستان کی سہولیات کا.

محدود تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ امریکہ کے ہندوستان کے آس پاس کے علاقے میں تمام اڈے ہیں. پاکستان، افغانستان، وسطی ایشیا، ایران ہر جگہ ہیں. سنگاپور، فلپائن، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور جاپان میں بھی اس کے اڈے ہیں. خلیج کے ممالک میں تمام اڈے بنے ہیں، جہاں اس کے سینکڑوں جنگی ہوائی جہاز، طیار بردار بیڑے، ہزاروں فوجی تعینات ہیں. پھر بھی اسے ہندوستانی سہولیات کے استعمال کرنے کی بے چینی کیوں ہے؟ اس کے لئے یہ تاریخی کیوں ہیں؟ کیا اس لئے کہ ہندوستان قریب آیا ہے یا اس وجہ سے تاریخی ہے کہ آس پاس اب ہر جگہ ٹھکانا ہو گیا تھا مگر ہندوستان ہی رہ گیا تھا. یہ ضرور ہے کہ لموا کے بعد سے

ہندوستان فضائیہ اور بحریہ کے لئے امریکہ سے جدید ٹیکنالوجی خرید سکے گا.

ایف -16 بنانے والی کمپنی اب یہ طیارہ ہندوستان میں بھی بنا سکتی ہے.

لیکن پڑھنے کو ملا کہ یہ کمپنی ترکی کے انقرہ میں بھی بناتی ہے.

یہ بھی ملا کہ ایف -16 اب پرانا ہو گیا ہے، اس لئے اسے امریکہ سے ہٹایا جا رہا ہے.

ایف -16 بنانے والی کمپنی لوكہيڈ مارٹن کور ایف -35 بنا رہی ہے.

ایم کے بھدراكمار نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم مودی ایف -16 کیوں قبول کریں گے، اگر ایف -35 جدید لڑاکا طیارہ مارکیٹ میں آ گیا ہے تو؟ ان کا یہ بھی سوال ہے کہ کیا ہم امریکہ کے بھروسے چین کی برابری کا خواب دیکھ رہے ہیں؟ کہیں اس سے پاکستان اور چین ایک دوسرے کے اور قریب نہ آ جائیں؟ بھدراكمار کے خدشہ کو جگہ اس لئے دی کیونکہ آپ کو بتایا ہی کہ زیادہ تر لوگ اس کی تعریف کر رہے ہیں. اگر ہندوستان اور امریکہ کا اتنا قریب آنا تاریخی ہے تو ہم بھی اس تاریخ کو آج قریب سے دیکھیں گے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close