آئینۂ عالممعاشرہ اور ثقافت

گیمبا کائزن: جاپانیوں کی ترقی کا راز

معزالرحمان

( ناندیڑ)

دوسری عالمی جنگ میں جاپان بری طرح تباہ و برباد ہوگیا، لیکن چند ہی برسوں میں جاپان نے معاشی اور کاروباری میدا ن میں اتنی ترقی کی کہ دنیا ان کی ترقی دیکھ کرحیران رہ گئی۔

 آج ہم ان اصولوں اور حکمت عملیوں کو جاننے کی کوشش کریں گے جس کے ذریعہ جاپان بہت کم وسائل کے باوجو دنیا کی ایک اہم معاشی و اقتصادی طاقت بن گیا۔

جاپانیوں کی ترقی کا راز جاننا اس لئے بھی ضروری ہیکہ آج ہندوستان میں مسلمانوں کو معاشی، سیاسی، سماجی اور نفسیاتی سطح پر بہت سے چیلنجز ہیں۔ ان چیلنجز کو فیس کرنے کیلئے  ایسی اسٹریٹیجیز پر عمل کرنا ضروری ہے جو کم وسائل اور کم وقت میں زیادہ نتائج پیدا کر سکیں۔

  گیمبا کائزن (Gemba Kaizen)بھی ایک ایسی ہی تکنیک ہے۔

لفظ گیمبا Gembaکے معنی ہے کام کی جگہ یا میدان عمل۔ترقی کی جانب مسلسل اور مستقل بڑھنے کو  کائزن Kaizenکہتے ہیں۔

اس فلسفہ کو اقبال کے اس شعر سے سمجھ سکتے ہیں؂

ز شرر ستارہ جویم ز ستارہ آفتابے

سر منزلِ نہ دارم کہ بمیرم از قرارے

(مجھے ایک شرر  یعنی چنگاری سے ایک ستارہ اور ستارے سے آفتاب بننا ہے، اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی منزل ہے جہاں مجھے قرار یا سکون میسر آئے۔)

کائزن یعنی constant and never ending improvement مستقل اور مسلسل جاری رہنے والی امپرومینٹ۔ جسکے ذمہ دار ملازمین خود ہوتے ہیں۔

گیمبا کائزن کے اہم اصول:

 گیمبا کائزن میں پانچ ایس (Five Ss) ہیں جو اس طرح ہیں۔

1۔پہلا اصول۔ SEIRI: 

کام کی جگہ سے غیر ضروری اشیاء کو ہٹانا۔ اس میں کائزن ماسٹر آتا ہے اور کام کی جگہ پر  تمام ہی غیر ضروری چیزوں کو لال نشان لگا دیتا ہے۔ ایسی چیزوں کو وہاں رہنا کیوں ضروری ہے یہ ملازمین کو ثابت کرنا پڑتا ہے، بصورت دیگر وہ چیزیں وہاں سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ غیر ضروری اشیاء کو Mudaکہا جاتا ہے۔Mudaکبھی غیز ضروری وقفے unhealthy intervals یا زیا دہ پیداوار، یا کم وقت میں ختم ہونے والے کام کو زیادہ وقت دینا یا دیر تک جاری رہنے والی شورائی نشستیں lengthy meetingsبھی ہو سکتے ہیں۔

2.دوسرا اصول SEITON :   

کام کی جگہ پر چیزوں کوخاص ترتیب میں رکھنا اور تمام کام کرنے والوں کو پہلے سے بتا دینا کونسی چیز کہاں مہیا رہیگی۔ ایک آدمی کام کرتے ہوئے پیچھے پلٹ کر بار بار ٹول باکس سے سامان لے رہا تھا اچانک اس نے آگے بڑھ کر ٹول باکس اٹھایا اور اپنے سامنے رکھ کر کام کرنا شروع کردیا اب اسے با ر  بار پلٹنا نہیں پڑ رہا تھا اب کام ذرا تیزی سے ہوتا ہے۔ اسے ہی Seitonکہتے ہیں۔ اس اصول کو آپریشن تھیٹر میں سرجری کے دوران استعمال کیا جا رہا ہے جس سے سرجری کے دوران ہونیوالی اموات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ اسکے علاوہ تمام کاموں کو تدریج کے ساتھ نوٹ ڈاون کرنا بھی اسی میں شامل ہے، مثلاً آفس میں صبح کون دفتر کا تالا کھولے گا، اور اسکی غیر حاضری میں دوسری چابی کہاں رہیگی سے لے کر آخر تک تمام اہم کاموں کا جائزہ لے کر ایک ترتیب میں انہیں رکھا جانا اس میں شامل ہے۔

3۔ تیسرا اصولSEISO:

اس کے معنی صاف رکھنا، اپنے آپ کو، اپنے کام کی جگہ کو ٹیبل کرسی اور سارے آفس کو صاف ستھرا رکھنا، یہ ذمہ داری ہر ملازم کے ذمہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے کام کی جگہ پر صحت مند ماحول پروان چڑھتا ہے۔

4۔چوتھا اصول Seiketsu: 

کام کرنے کے پروسیس کو اسٹائینڈرایز کرنا یا اصولوں کی شکل میں ڈھالنے کو Seiketsuکہتے ہیں۔ اس اصول کے تحت تمام ہی کام کرنے والوں کو ویجولائز کیا جاتا ہے اس سے کام کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔

پانچواں اصول Shituski: 

جب اوپر کے چار اصول کام کی جگہ پر قائم ہوجائیں تو کمپنی یا ادارہ پانچویں اصول کی جانب توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے معنی ہیں ان تمام اعمال کو قائم کرنا اور مسلسل برقرار رکھنا۔

گیمبا کائزن میں ملازمین کی شمولیت سب سے اہم نکتہ ہے، جتنی حکمت عملیاں تیار کی جاتی ہیں ان میں مینیجر کے علاوہ ملازمین کی شمولیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس طرح ملازمین پالیسی سازی اور نئی حکمت عملی بنانے اور اسے نافذ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

 دراصل ایک آدمی اپنی زندگی کا سب سے زیادہ وقت کام کی جگہ پر گزارتا ہے جب وہ گھر میں جاتا ہے تو وہاں بھی زیادہ وقت بستر پر حالت نیند میں گزارتا ہے۔ ملازمین کو بتایا جاتاہیکہ کام کی جگہ پر ان اصولوں کو اپنا لیں تو انکی زندگی کے اسی فیصد مسائل درست ہو سکتے ہیں۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے اور جب ملازمین خود کمپنی کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کر رہے ہوں تو آپ کو بیرونی مشیر کی خدمات حاصل کرنے یا بہت قیمتی اختراعات و آلات کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ اس طرح کم خرچ میں زیادہ پیدوار ہونے لگتی ہے۔

مختصراً یہ کہ Gemba Kaizen ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جو کسی بھی صنعت، شعبہ، آفس، فیکٹری تعلیمی ادرارہ، این جی او اور ہرکلچر میں اختیار کی جا سکتی ہے اور سبھی جگہوں پر اس کے اثرات سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close