آئینۂ عالم

ہمیں مہدی کا اور شام سے غزہ تک مظلومین کو ہمارا انتظار ہے!

ڈاکٹر ایاز احمد اصلاحی

گستاخی معاف۔ ہمیں مہدی کا؟ اور شام سے غزہ تک مظلومین کو ہمارا انتظار ہے۔

ارفعوا صوتكم مطالبا بحماية المظلومين من سورية إلى غزة

شام کے تعلق سے ایک تحریر پر نظر پڑی جو کچھ اس طرح تھی ’’تاریخ گواہ رہے گی جب حالیہ دور کا سب سے بڑا قتل عام شام کی سرزمین پر ہوا تو روئے زمین پرایک اعشاریہ آٹھ بلین مسلمان بستے تھے‘‘

شام کے علاقہ غوطہ میں سنی مسلمانوں کے حالیہ قتل عام پر اس قسم کی بہت سی تحریریں دیکھنے کو ملیں، ان سے اس خونیں واقعے پر عالم اسلام کے موجودہ غم و غصہ کا اندازہ ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ ملت اسلامیہ کی بے چارگی و بدحواسی کی داستان بھی سنا رہی ہیں۔

ہم بار بار اپنے اوپر ہوئے مظالم پر مختلف مقاصد سے تاریخ کو گواہ بناتے رہتے ہیں لیکن تاریخ ہے کہ وہ نہ بدل رہی ہے اور ہم پر رحم کھا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

تاریخ تو تقریبا دو سو سال سے ہماری بے کسی و مظلومیت کی گواہ بن رہی ہے۔ آخر ہم کیا کر پا رہے ہیں؟ 1982 میں اسی شام کے علاقے حماة میں كیا ہوا تھا جس میں 20 ہزار مسلمان اسی ظالم خاندان کے ہاتھوں ذبح کردیئے گئے تھے جو آج بھی وہاں جبرا حکمراں ہے؟ 2014 میں غزہ میں کیا ہوا تھا جہاں عام فلسطینی مسلمانوں کے علاوہ سحری اور افطار کرتی سیکڑوں عورتوں اور بچوں کو اسرائیل کی میزائیلوں اور جنگی جہازوں نے کارپیٹ بامبنگ کر کے بھون دیا تھا؟ صابرہ و شتیلا میں فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہوا تھا جہاں وہ ہفتوں پتے، پھینکی ہوئی ہڈیاں اور چمڑے کھا کر گزارا کرتے رہے؟ 2015 مین شام میں فلسطینی مہاجرین کے یرموک کیمپ میں کیا ہوا تھا کہ انہیں اپنے وطن کی طرح یہاں بھی اجاڑ دیا گیا؟ جنگ ہائے خلیج کے وقت لاکھوں عراقی مسلمانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کیسے ہلاک کیا گیا؟ افغانستان میں ایک دہائی سے زیادہ مدت سے جاری جنگ میں کس طرح لاکھوں مسلمان مغرب کی متحدہ افواج کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوئے، شام میں اب تک مختلف حملوں میں کس طرح ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسلمان ہلاک ہوئے؟ آخر کب تک ہم تاریخ کو گواہ بنابنا کر خود پرانی ڈگر ہر چلتے رہیں گے؟ کب تک ہم لاشیں گنتے اور ایک ایک واقعہ پر الگ الگ مرثیہ کہتے رہیں گے۔

مسلمانوں کے سروں سے اب تو بہت قلیل وقفوں کے ساتھ مسلسل رونما ہونے والی خونی موجیں گزرتی رہتی ہیں۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ ہر بار وہ پچھلے طوفان کو بھول کر نئے طوفان کی نئی تباہ کاریوں پر نوحہ کرتا اور پھر ایسا لگتا ہے کسی اگلے خونی طوفان کے انتظار میں خاموش ہوجاتا ہے۔

اس بیچ وہ کسی سطح پر کوئی قابل لحاظ تیاری کرنے کی بجائے اپنی داخلی گروہی کشمکش پر اپنی پوری انرجی لگا دیتا ہے۔ ایک دوسرے کو کافر و گمراہ قرار دینے میں، ایک دوسرے کو مطعون کرنے میں ، ایک دوسرے کو بد عقیدہ مسلمان ثابت کرنے میں، مساجد کے گروہی تنازعا ت میں، مسلم عوام کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں اور ہر ایک خود کو سب سے زیادہ صحیح العقیدہ مسلمان ثابت کرنے میں۔

نفسیاتی طور سے بھی ہم اتنا کمزور ہو چکے ہیں کہ اپنے آپ کو صحیح راہ پر لگانے کی بجائے ہم اب بھی بیساکھیوں اور مفروضہ سہاروں کی تلاش میں ہیں۔ کہیں مسلمانوں کی عظیم تعداد کا حوالہ ہے تو کہیں تاریخ کو گواہ بنانے پر اکتفا، کہیں بنا کچھ کئے غیبی مدد کا انتظار ہے تو کہیں مہدی موعود کے حوالے سے دور و نزدیک کی روایات اور رطب و یابس احادیث پر بھروسہ۔ ان دنوں شام کے حوالے سے لکھی گئی تحریروں میں امام مہدی سے متعلق روایات کی بھر مار ہے۔ نہ تو کسی کو روایات کی چھان پھٹک کی مہلت ہے اور نہ یہ دیکھنے کی کہ قدیم شام اور موجودہ شام کے جغرفیائی حدود میں بہت فرق ہے۔ قدیم شام میں فلسطین ، اردن اور لبنان جیسے علاقے بھی اس کا حصہ تھے جب کہ موجودہ شام ایک چھوٹا سا ملک ہے جس پر کئی دہائیوں سے ایک ظالم و سفاک نصیری خاندان کی ظالمانہ حکومت قائم ہے۔ یہ روایات جس حد تک بھی صحیح ہیں کیا ان کا تعلق قدیم شام کے ایک خطہ بیت المقدس سے نہیں ہے؟ ، آخر اس وقت ان روایات کا حوالہ کیوں نہیں دیا گیا جب 2014 میں اسرائیل نے غزہ پر دہشت گردانہ حملہ کرکے پورے شہر کو تباہ و برباد کردیا تھا؟ ، اس کا ظلم تو آج بھی جاری ہے، مشرق وسطی کو موجودہ خوں بار مرحلےتک پہنچانے کے پیچھے اصلا اسی کا صہیونی منصوبہ کارفرما ہے اور مسجد ا قصی و ارض معراج اج بھی اسی اسرائیل کے قبضے میں ہے، مگر ایسا لگتا ہے ہمیں ان تمام پہلووں پر غور کرنے کی فرصت نہیں ہے کیوں کہ اپنے اپنے مسلکی حصار کے سبب ہم ہر مسئلے کو مسلکی و گروہی عینک سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس موقع سے بلا تفریق فرقہ و مسلک تمام مسلمانوں سے یہی بات کہنے کو جی چاہتا ہے جو ایک عرب بھائی سے میں نے غوطہ قتل عام کے حوالے سے کہی تھی” ارفعوا صوتکم لحمایة المظلومین من سوریة الى فلسطين ، (اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرو شام سے فلسطین تک)۔

اس تازہ المیہ نے ملت کے تعلق سے ایک اور پہلو کی طرف ہمیں متوجہ کیا ہے وہ یہ کہ اس حالت میں بھی جب کہ عام اسلام شرق تا غرب لہو لہو ہے، نہ تو ہم اپنے احتساب کے لئے آمادہ ہیں اور نہ اپنے اوپر مسلط حکمرانوں کے احتساب کے لئے، ہم وہی بولتے اور وہی کہتے ہیں جس کی ہمارا مسلک، ہمارے اپنےگروہ یا ہماری مخصوص وابستگیوں اور وفاداریوں کی طرف سے ہمیں اجازت ملتی ہے، ،ہر قتل عام ایک ہی جیسا ہوتا ہے، لیکن ہر جگہ کے لئے ہمارا رد عمل الگ الگ ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پابند اسلام و انسانیت نہیں بلکہ پابند مسلک و مفاد ہیں۔ اس صورت حال میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ کوئی ایران و حزب اللہ کی شرکت سے مشرقی غوطہ کے قتل عام کی یہ کہ کر تاویل کرلیتا ہے کہ وہاں مرنے والے بچے اور عورتیں دہشت گردی کا آلہ کار تھے، کوئی غزہ و فلسطین میں اسرائیلی خونریزی پر یہ کہ کر سب کو خاموش کردیتا ہے کہ حماس اور مظلوم فلسطینی ہماری ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں کیوں کہ ان کے روابط ایران و قطر سے ہیں۔ مظلومیت کو الگ الگ پیمانوں سے ناپنے اور اپنے پسندیدہ ظالموں کے ساتھ رعایت برتنے کا یہ جواز آخر ہمیں قرآن و سنت کی کس دلیل سے ملتا ہے؟

خدایا یہ تیرے مظلوم بندے جائیں تو کدھر جائیں ؟ ہم مصلحت کوشوں، موقع پرستوں اور مسلکی سوداگروں کے خلاف بد دعا تو نہیں کر سکتے لیکن ان کی ھدایت اور شام سے فلسطین تک تمام مظلوموں کی مدد کے لئے تیرے آگے ہاتھ ضرور پھیلا رہے ہیں۔ مولی وہ تیرے ہی بندے ہیں ، وہ جیسے بھی ہیں تیرے ہی نام لیوا ہیں، ان کے اپنے بھائیوں نے انھیں بے رحم بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے لیکن میرے رحیم و رحمن مولی تو اپنی مدد سے انھیں محروم نہ کرنا ، تجھ سے التجا ہے کہ تو انھیں تنھا نہ چھوڑنا۔

ظلم و نا انصافی اور معصوم انسانیت پر بلا وجہ جوروستم دنیا میں کہیں بھی ہو وہ اسلام میں ناقابل برداشت ہے ، ناحق خون مسلم کسی طرح بھی جائز نہیں چاہے وہ شیعہ کا ہو، یا سنی کا ، یا بریلوی کا یا وہابی کا۔ اس باب میں کسی قسم کا امتیاز برتنا ظالموں کا ساتھ دینے کے مترادف ہے اور کسی گروہ کو ہم اس ابدی اصول سے مستثنیٰ نہیں کر سکتے۔ لیکن افسوس کہ جب بھی اس ظلم و امتیاز کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا ہے تو اسے کبھی ایران نواز تو کبھی سعودی نواز کہ کر اور کبھی وہابی یا شیعی ایجنٹ کہ کر مجرم اور نکو بنا دیا جاتا ہے ۔ سنیوں پر عراق و شام میں اس وقت جو ظلم ہو رہا ہے اور قتل و خوں ریزی کے جو روح فرسا مناظر اور کٹی پھٹی لاشوں کی جو تصویریں سامنے آرہی ہیں انھیں دیکھ کر جب بھی کوئی اس درندگی پر احتجاج کرتا ہے تو خصوصا ہمارے شیعہ بھائی اور ایران نواز ساتھی حق کا ساتھ دینے کی بجائے چیں بجبیں ہی ہوتے دیکھے گئے ہیں، یہی حال دوسری جانب بھی نظر آتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں میں موجود گروہی و مسلکی تعصب و عناد نہ صرف کسی مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے بلکہ وہی مسلم ممالک میں عدل و انصاف کا بھی سب سے بڑا دشمن ہے۔ ان حالات میں اس وقت حق پر قائم رہنا اور حق کی طرفداری کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ جو بھی اس کا حوصلہ دکھاتا ہے اس پر الزامات و اتہامات کی بوچھار کردی جاتی ہے، حد تو یہ ہے کہ فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کے لئے مدتوں سے سینہ سپر رہنے والی حماس جیسی تنظیم بھی اس ذہنیت کا شکار ہونے سے نہیں بچ پاتی اور سعودیہ و سعودیہ نواز میڈیا صہیونیوں کی سر میں سر ملاتے ہوئے انھیں ” دہشت گرد” کہنے سے نہیں چوکتا۔

اسی قسم کی ایک مضحکہ خیز مثال ایران و اہل تشیع سے تعلق رکھتی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب سنی حضرات داعش و القاعدہ کے مظالم اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور فتوے دیکر انہیں خارجی تک قرار دےدیتے ہیں تو انہیں بہت اچھا لگتا ہے، لیکن جب شام میں بشار الاسد کی فرعونیت اور ظالمانہ روش کی یہی سنی مذمت کرتے ہیں تو انہیں یہ بات بالکل پسند نہیں آتی۔ یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ شدت پسند تشیع کے حامی خامنہ ای کا ایران شامی حکومت کی جانب سے معصوم عوام پر ڈھائے جانےوالے مظالم و بربریت کو نہ صرف برداشت کر رہا ہے بلکہ فوجی سطح پر اس کا کھل کر ساتھ بھی دے رہا ہے اور اس کا روحانی قائد ظالم و جابر بشار الاسد کو "دہشت گردی” کے خلاف لڑنے والا سب سے بڑا ہیرو بھی کہہ رہا ہے،اس کھلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف اگر کوئی بولنے کی ہمت کرتا ہے تو حکومت و مسلک پرست میڈیا اس کی مذمت میں تمام حدیں پار کرجاتا ہے، مثال کے طور پر لبنان کےمشہور شیعہ عالم اور حزب اللہ کے قائد نیز اس کے پہلے سیکریٹری جنرل صبحی الطفیلی نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور اسے ناقابل قبول ٹہرایا تو انہیں نافہم اور سنی ایجنٹ تک کہ دیا گیا۔ شام و ایران کے حامی سوشل میڈیا پر صبحی الطفیلی اور ان جیسے دیگر تمام ناقدین کو داعش کا حامی یا سعودی ایجنٹ قرار دیکر مسترد کردیا گیا جس نے بشار الاسد کے زیر تسلط شام میں سنی مظلوموں کی حمایت میں زبان کھولنے کی ہمت کی۔

اس کے علاوہ شام میں ہوئے موجودہ قتل عام میں دلچسپی لینے والا دوسرا گروہ وہ ہے جس کی تمام تگ ودو ایسی رطب و یابس روایات کی تلاش اور موجودہ احوال پر انہیں منطبق کرنے پر مرکوز ہیں جو ظہور مہدی کی علامتیں اور شام سے متعلق پیشین گوئیوں پر مبنی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مسلمان گویا امام مہدی کے ذریعہ اپنی بے عملیوں کی تلافی کرنا چاہتے ہیں اور ہاتھ پیر توڑ کر امام مہدی کے انتظار میں بیٹھ گئے ہیں۔ ان روایات میں سر کھپانے کی بجائے اگر وہ قرآن کی واضح تعلیمات کو حرز جاں بنا لیتے تو شاید ان کا بیڑا پار ہوجاتا اور حالات میں کچھ فرق آتا لیکن یہاں تو ماحول ہی کچھ اور ہے، قرآن کہتا ہے مظلوموں کی حمایت میں آگے بڑھو لیکن وہ آگے بڑھنے کو تیار نہیں، قرآن کہتا ہے ظالم و جابر حکام کا ساتھ نہ دو بلکہ ان کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ لیکن وہ نہیں اٹھاتے، قرآن کہتا ہے اللہ ورسول کے نام پر متحد ہوجاؤ لیکن مسلکی و گروہی بیڑیاں توڑنے پر وہ امادہ نہیں ، ، قرآن کہتا ہے حق و عدل کا ساتھ دو لیکن وہ ظلم و نا انصافی کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں، قرآن کہتا ہے آزمائشوں میں پورا اترنے والے ہی نصرت الہی کے مستحق ہوتے ہیں لیکن یہ بغیر کسی ابتلاء و ازمائش میں پڑے اللہ کی مدد کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر بھی امید کرتے ہیں کہ کوئی ایسی روایت ہاتھ لگ جائے جو انھیں امام مھدی کے جلد آنے کی بشارت دےدے۔ آخر اس نفسیات کی بنیادی وجہ کیا ہے، روح اسلام سے بے خبری یا حوادث و واقعات کے اسباب و نتائج سے لاعلمی؟

 اس کی وجہ جو بھی ہو ظلم کے اسباب اور اس کے اصل مصادر پر یلغار کی بجائے یہ جو مہدی مہدی کا نوحہ کیا جارہا ہے یہ بھی کسی زندہ، بیدار اور صحیح الحواس قوم کی نہیں بلکہ ایک ایسی قوم کی علامتیں ہیں جو عاجزی و بےچارگی کے آخری درجے کو پہنچ چکی ہو۔ اس سے نہ صرف ضعیف الاعتقادی و دون ہمتی کے رجحان کا پتہ ملتا ہے بلکہ یہ حیرت انگیز رویہ ہماری بےعملی کی بھی کھلی دلیل ہے۔

۔ اس موقع سے یہ کہنا بلکل غلط نہ ہو گا کہ جن عناصر نے امت مسلمہ کو صدیوں سے ناکارہ و بے عمل بنا رکھا ہے ان میں سے ایک اس امت کی مہدی جوئی بھی ہے۔ کیا تاریخ اس بات کی گواہ نہیں بنے گی کہ ایک طرف شام کے مظلوم بھائیوں کے حمایت کی بجائے ان کے اپنے تمام دینی بھائی (شاذ و نادر استثنا کے ساتھ) مہدی کے انتظار میں بیٹھے رہے اور دوسری طرف’سکھ پنتھ‘ کے لوگ شام جاکر انتہائی حوصلہ و ہمت کے ساتھ دوا و غذائی سامانوں سے مسلم مظلوموں کی مدد کر آئے۔

یہ وہ صورت حال ہے جس میں ہم بارہا ہم ظلم کے سیل رواں میں خس و خاشاک کی طرح بہہ چکے ہیں اور ہمیں کہیں سے کوئی پرسان حال نہیں ملا، دیکھتے دیکھتے ریت کے ٹیلوں کی طرح ہم بکھر گئے لیکن سمجھ نہ سکے کہ طوفان کدھر سے آرہا ہے۔ یہ حالت تو بھیڑ بکریوں اور حشرات الارض کی ہوتی ہے اور ہو سکتی ہے، نہ کہ اس قوم کی جس کا قبلہ ایک، جس کا خدا ایک، جس کا رسول ایک اور جس کی کتاب ہدایت ایک۔ اگر یہ مسلم قوم حشرات الارض کی ہی طرح رہنے پر بضد ہے اور اللہ و رسول کے لئے خود کو منظم و مربوط کرنے کو تیار نہیں ہے تو پھر اس میں اس کی تعداد کیا کر سکتی ہے۔ اس طرز عمل کے ساتھ تو ان کی تعداد ایک ارب اور ہڑھ جائے تب بھی وہ ایسے ہی رہیں گے اور اسی طرح ذلت و رسوائی ان کا پیچھا کرتی رہےگی۔ ایک منتشر و پراگندہ، مجبور و مقہور اور شکستہ و پڏمردہ قوم کی طرح۔ جس کی نہ کوئی منزل نظر آرہی ہے اور نہ منزل کی سمت پیش قدمی کے لئے کوئی قافلہ بندی۔

اگر ان پستیوں سے نکلنے اور ان حالا ت میں بھی بدلنے کا ارادہ نہیں ہے تو پھر (گستاخی معاف) مرثیہ جاری رکھیے۔

شاید ہمارا نالہ غم سن کر آسمان و زمین پگھل جائیں اور ہم پر رحم کھا کر اچانک مہدی موعود نمودار ہوجائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ایاز احمد اصلاحی

وطن اعظم گڑھ، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن اور پی ۔جی، لکھنؤ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی۔ پروفیسر، عرب کلچر اینذ سویلائزیشن، لكهنؤ یونیورسٹی، سابق ایڈیٹر رفیق منزل۔، ایریا۔ قرآنیات اور مسرق وسطی ، خصوصا فلسطین۔ فلسطین و مشرق وسطی پر تقریبا 300 انگریزی مضامین۔، تحقیقی ادارے، علوم القرآن، علی گڑھ اور سنٹر فار اسٹڈی اینڈ ریسرچ، حیدآباد کی عاملہ کا ممبر

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close