آئینۂ عالمہندوستان

ہندو پاک تعلقات کے نشیب و فراز

کسی اور ملک میں حکومت کو گرانا اور بنانا اتنا آسان ہوتا تو مودی جی خود نوازشریف کو ہارنے سے بچا لیتے اور دومنہ والے سانپ کو اقتدار میں آنے ہی نہیں دیتے۔

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی نے جب  اقتدار سنبھالا تو ان کا سابقہ ایک شریف پاکستانی سربراہ سے پڑا جس کو بھرپور شرافت سے نوازہ گیا تھا۔ انتخابی نتائج کا اعلان ہونے کے فوری بعد پاکستانی وزیر اعظم نے ہندوستان میں اپنے ہم منصب  سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے بی جے پی کی متاثرکن فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ نواز شریف  ہندوستان کی نئی حکومت کے ساتھ بہتر اور قریبی تعلقات استوار کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ مودی جی جس وقت اچھے دنوں کے خواب بیچ رہے تھے اور’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘  کی مالا جپ رہے تھے،  اچانک انہیں پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا ساتھ مل گیا۔ سرتاج عزیز نے  ہندوستان کے دورے پر برملا  کہہ دیا تھا کہ وہ نریندر مودی کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہیں۔ اس وقت منموہن سنگھ کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ کہیں پاکستان مودی جی کو برسرِ اقتدار لانا چاہتا ہے اس لیے کہ وہ اس طرح کی اوچھی سیاست کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نےعزت کے ساتھ حکومت  کی اور پروقار انداز میں سبکدوش ہوئے۔ کرسی کا کیا ہے کہ آتی جاتی رہتی ہے لیکن عزت و احترام اگر پامال ہوجائے تو پھر لوٹ کر نہیں آتا۔ منموہن سنگھ کو کسی نے چور کہنے کی جرأت نہ کی اور نہ کرسکے گا۔

مودی جی نے جیسے ہی نواز شریف کو  حلف برداری کی دعوت دی وہ دوڑےچلے  آئے۔  دہلی آنے سے قبل وہ بولے ہماری  ملاقات ایک دوسرے کی جانب دستِ رفاقت  بڑھانے کا اچھا موقع ہے۔ دونوں حکومتوں کو عوام کی واضح حمایت حاصل ہے۔ اس سے باہمی رشتوں میں ایک نئے باب کا آغاز ہوسکے گا۔ دہلی میں  برکھا دت سےگفتگو کرتے ہوئِے  انہوں نےکہا کہ وہ باہمی تعلقات کو اُسی مقام  سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں جہاں۱۹۹۹ ؁ میں منقطع ہو گئے تھے۔یہ نہایت معنیٰ خیز بیان تھا اس لیے کہ ۱۹۹۹ ؁ کے اندر پاکستان میں نواز شریف اور ہندوستان میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت تھی۔ پاکستان کے وزیرِاعظم نے یہ بھی کہا تھا  کہ ہندو پاک کے درمیان جس قدر تاریخی اور ثقافتی مماثلت ہے  اتنی دنیا کے کسی بھی دو ممالک میں نہیں ہے۔ وہ  اس مماثلت کی قوت سے  باہمی خدشات، بداعتمادی اور شکوک و شبہات کو ختم کرکے جنوب مشرقی ایشیا کو عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات سے نکالنا چاہتے ہیں۔ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے بعد  دہلی کے حیدر آباد ہاؤس میں نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی اور نواز شریف کی  بات چیت مقررہ ۳۵ منٹ سے تجاوز کرتے ہوئے پچاس منٹ سے زیادہ دیر تک چلی جسے نیک شگون سمجھا گیا۔

اس ملاقات  کے بعد دونوں رہنماوں نے خارجہ سکریٹری کی سطح پر گفت و شنید جاری کرنے پر اتفاق کیا مگراگست میں مودی جی نے کشمیر دورے کے موقع پر انتخابی کامیابی کے لیے پاکستان درپردہ جنگ کا الزام عائد کردیا جس سے سارے کیے کرائے پر پانی پھر گیا  اور اسی کے ساتھ سرحد پر حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری  ہوگیا جو ہنوز جاری ہے۔ اس کے بعد جب دہلی میں پاکستانی سفیر عبدالباسط نے حریت کے رہنماوں سے بات چیت کو اسکے ردعمل میں مجوزہ سکریٹری سطح کی ملاقات کو ہندوستان نے منسوخ کردیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب  پاکستان میں عمران خان اور طاہر القادری کے اسلام آباد میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے اور نواز شریف کا  جنرل راحیل شریف پر انحصار بڑھ گیا تھا۔ ستمبر ۲۰۱۴ ؁  کے آتے آتے وہی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جو فی الحال ہے۔ اقوام متحدہ کے عمومی اجلاس میں خود نواز شریف نے ہندوستان پر کشمیر تنارعہ میں عدم سنجیدگی کا الزام لگادیا۔ مودی جی بھی وہاں موجود تھے  انہوں نے بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا مگر اس کے لیے تشدد سے پاک ماحول مہیا کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی۔ بہر کیف دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات نہیں ہوسکی۔  کٹھمنڈو میں پھر سے ان ملے  اوردعا سلام و مصافحہ پر اکتفاء کیا ۔

 دسمبرکے اندر پشاور میں فوجی سکول پر حملے کی مودی جی نے مذمت کی اور دوماہ بعد  فروری میں  خارجہ سکریٹری  ایس جے  شنکر نے سرحد پر امن کی بحالی کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس کے بعد پاکستان نے ممبئی بم بلاسٹ کے مجرم صفی الرحمٰن لکھوی کو رہا کرکے پھر سے حالات بگاڑ دئیے۔ حکومتِ ہند نے اس معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھانے کا اعلان کردیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری سے متعلق معاہدے پر اختلافات شروع ہوئے  اور پاکستان نے  کراچی  اوربلوچستان میں جاری شورش  کا الزام  ہندی خفیہ ایجنسی رآ پر لگادیا۔  اس کے پہلے کے حالات قابو میں آتے مودی جی نے ڈھاکہ میں یہ اعلان کرکے نیا تنازعہ کھڑاکردیا کہ بنگلہ دیش کا قیام ہرہندوستانی  کی خواہش تھی۔ اس کے خلاف  پاک قومی اسمبلی میں قرار داد منظور کی گئی اور اقوام متحدہ میں اسے اٹھانے کا اعلان کیا گیا۔

اس سے پہلے یہ کشیدگی کم ہوتی ہندوستانی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے میانمار سرحد کے اندر سرجیکل اسٹرائیک کو پاکستان کے لیے سامانِ عبرت قرار دے کر ایسا زبردست تنازعہ برپا کیا کہ جنگ کا ماحول بن گیا۔ اس بیان کے بات تعلقات اس قدر خراب ہوئے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال تک کی دھمکی دے ڈالی۔اس تشویشناک صورتحال  کو کہا جاتا ہے کہ  امریکہ بہادر نے مداخلت کرکے رفع دفع کیا۔  ہوا کا رخ بدلا تو مودی جی نے نواز شریف کو رمضان کی مبارکباد دے کر معاملہ ٹھیک کیا۔ اس دوران ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین  نے برطانیہ کے اندر بیٹھے بیٹھے  رآ سے عسکری تعاون حاصل کرنے کا اعلان کرکے نیاہنگامہ بپا کردیاتاہم ۲۵ دسمبر ۲۰۱۵ ؁ کووزیر اعظم نریندر مودی نے افغانستان سے واپسی پر اچانک بلا منصوبہ  نواز شریف سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچ کر ساری دنیا کو چونکا دیا۔

مودی جی کے خیر سگالی دورے کی گرد ابھی بیٹھی بھی نہیں تھی کہ پٹھانکوٹ ہوائی چھاونی  پر دہشت گردانہ حملہ ہوگیا اور  تعلقات پھر سے کشیدہ ہوگئے۔ یہ حملہ چار دن چلا اور نشر ہوتا رہا۔ اس میں  ۶ دہشت گرد اور ۷ حفاظتی اہلکار ہلاک ہوئےاورالزام تراشیوں کا لامتناہی کا سلسلہ چل پڑا۔ یہ بالکل  اسی طرح کی صورتحال تھی کہ جب وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس کے ذریعہ نہایت کامیاب  پاکستانی دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ۱۶نکاتی تاریخی اعلامیہ جاری ہوا جس میں میں دونوں ممالک کے خوشحال مستقبل، امن اور استحکام، دوستانہ و برادرانہ تعلقات اور تعاون کے عزم کا عہد کیا  گیا مگر ڈھائی ماہ بعد اس  گرم جوشی کی بوتل سے کارگل کا جن برآمد ہوگیااور اس نے نواز حکومت کے ساتھ ہندو پاک تعلقات کی  بساط الٹ دی۔ کارگل سے  اٹل جی مستفید ہوئے اور  وہ دوبارہ انتخاب میں کامیاب ہوگئے۔

گجرات  میں زلزلہ کے بعدجنرل  مشرف نے  امدادی سامان کا ایک جہاز روانہ کرکے ہمدردی کا اظہار  کیا  اس سے اٹل جی کا حوصلہ بڑھا۔ انہوں نے میاں نوازشریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے والے جنرل پرویز مشرف کو  دہلی آنے کی دعوت دے دی مگر دسمبر ۲۰۰۱ ؁ بہندوستانی ایوان پارلیمان پر حملے سے پھر تعلقات بگڑ گئےلیکن دوسال بعد  ۲۰۰۳ ؁  میںجنگ بندی  کا معاہدہ ہوگیا۔ دونوں ممالک کے درمیان  بس سروس بحال ہوگئی مگر فروری ۲۰۰۷؁ میں سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے نے بہتر ہوتے تعلقات کی ناؤ ڈبو دی۔ پیپلزپارٹی کے برسرِ اقتدار آنے کےبعد  تعلقات کی  بحالی میں پیش رفت ہوئی تو ممبئی حملوں نے نفرتوں کی دیوار کھڑی کردی۔ نواز مودی ملاقات کے بعد پٹھان کوٹ حملہ  اسی سلسلے کی کڑی تھا۔

جون ۲۰۱۶ ؁ میں وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سارک وزرائے داخلہ کی  کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان گئے۔ اس دورے کی دونوں ممالک میں مخالفت ہوئی۔   اسلام آباد میں ہزاروں پاکستانیوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے پرچم تلے مظاہرہ کرکےنعرے بازی کی۔اس ریلی میں حزب المجاہدین کے رہنما سید صلاح الدین بھی موجود تھے۔ اسی دن راجناتھ  کے دورۂ پاکستان کے خلاف نئی دہلی میں قوم پرست ہندو تنظیموں نے مظاہرہ  کرکے  مطالبہ کیا کہ  پاکستان کے ساتھ  مکمل قطع تعلق کر لیے جائیں۔ شیوسینا کے رکن پارلیمان سنجے راوت نے بھی اس کی مخالفت کی۔ اس دورے سےوزیرداخلہ قبل ازوقت لوٹ آئے۔ منی شنکر ائیر نے اسے سفارتی ناکامی قرار دیا۔ اس کے بعدحکومت  ہند کا رخ بدل گیا اور اس نے سارک کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پاکستان کے بغیر جنوب مشرق ایشیا میں ایک نیا گروپ تشکیل دے دیا۔ پٹھانکوٹ حملے  اور راجناتھ کے دورےکے بعد مودی جی غالباً پاکستان کے ساتھ دوستی کو لے کر مایوس ہوگئے۔

جولائی ۲۰۱۶ ؁ میں عسکریت پسندنوجوان برہان وانی کی ہلاکت کے بعد   کشمیر کی شورش عروج پر پہنچ گئی۔ بڑے پیمانے پر  طلباء سڑکوں پر اتر کر مظاہرے کرنے لگے اور ان کے خلاف چھروں کی بندوق کے استعمال سے بدنامی ہونے لگی۔  ایسے میں مودی جی  نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے اپنی  تقریر میں بلوچستان، گلگت بلتستان اور مقبوضہ  کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ  کرکے سیاسی و سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں اس کا خیرمقدم کرتےہوئے کہا، ’’ہندوستانہمارا ہمددر ہے اور وہ بلوچستان سے اظہارِ یکجہتی کر رہا ہے‘‘۔ وزیرِ اعظم نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نےالزام لگایا ’’اس طرح کے بیانات سے کشمیر میں ہونے والی نا انصافی سے عالمی برادری کی توجہ ہٹائی نہیں جا سکتی۔ پاکستان طاقت کے بے دریغ استعمال کے بغیر ہر طرح کی انتہا پسند قوتوں کو ختم کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔خطے میں استحکام سب کے مفاد میں ہے۔ انتہا پسندوں و دہشت گردوں کی حمایت یا اُن کی حمایت میں پیغامات خطے کے لیے اچھے نہیں ہیں۔‘‘ اس تنازع میں سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عطا اللہ مینگل کا بیان  دلچسپ ہے ’’ پاکستان اور ہندوستانایک دوسرے کے دشمن ہیں اور اُن کی دشمنی کی وجہ سے یہاں بلوچ مارے جا رہے ہیں اور وہاں کشمیری مارے جا رہے ہیں۔ کوئی کسی کی مدد نہیں کر رہا، بس دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کا گیم کھیل رہے ہیں۔‘‘

وطن عزیز کے اندربی جے پی کے لیے بہار کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ اترپردیش کے صوبائی انتخابات کا بگل بج گیا۔ مودی جی نے ایسے میں اڑی فوجی کیمپ پرحملہ کا انتقام لینے کے لیے ستمبر کے اواخر میں سرجیکل اسٹرائیک کردیا۔ پاکستان اور اقوام متحدہ کے نمائندے نے اس کی تردید کی لیکن  اس کی مدد سےکارگل کی مانند بی جے پی نے اتر پردیش کا قلعہ فتح کرلیا۔  ۲۰۱۷ ؁ میں پاکستان نے مبینہ جاسوس کلبھوشن کو پھانسی کی سزا  سنادی گئی  اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ ۲۰۱۸ ؁ کے اقائل میں  گجرات انتخاب کے دوران جب بی جے پی کی  حالت پتلی ہوئی تو  پھر سے پاکستان کا ہواّ کھڑا کیا گیا  اور شاہ احمد قصوری کے ساتھ منی شنکر ائیر اور منموہن سنگھ کی ملاقات کو اچھال کر پاکستان کے ذریعہ انتخاب میں مداخلت کا بہتان تراشا گیا حالانکہ شاہ احمد قصوری ایک کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے آئے تھے اور ائیر کی  نجی دعوت میں سابق فوجی سربراہ بھی شریک تھے۔

نواز شریف پر بدعنوانی کے الزام لگے تو انہیں عدالت  نے بے دخل کردیا۔ وہ نہ صرف  جیل گئےبلکہ  انتخاب بھی ہار گئے۔ اس طرح  عمران خان نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی۔  مودی جی نے بڑے اجتیاط سے مبارکباد کا فون کرکے پاکستان کے ساتھ’تعلقات کے ایک نئے دور کا آغازکرنے کا عندیہ دیا‘ ہےاور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے پر زور دیا۔عمران خان انتخابی کامیابی کے بعد  کہہ چکے تھے کہ  اگر باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے ہندوستانایک قدم بڑھے گا تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا۔ان ارادوں پر عمل درآمد کے لیے۲۰ ستمبر کو ہندو پاک  وزرائے خارجہ کی  اقوام متحدہ کے اجلاس میں   ملاقات کی خوشخبری آئی اور ایک بعد دن منسوخی اطلاع آگئی۔  وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کی وجہ یہ بتائی  کہ پاکستان نے برہان وانی کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔ خبر سننے کے بعد ایسا لگا کہ عمران خان نے تعلقات بگاڑنے کے دانستہ طور پر یہ مذموم حرکت کردی لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ یہ ڈاک ٹکٹ تو مودی جی کے منظور نظر نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) نے ۲۴ جولائی کو یعنی پورے  تین ماہ قبل جاری کیا تھا مگر حکومت ہند نے اس پر کوئی اعتراض نہیں جتایا مگر اس کے بہانے مذاکرات کے نکاح کو ایک دن کے بعد یکبارگی تین طلاق دے دی  اوپر سے اس ترجمان نے ایک ایسی غلطی کے لیے جس میں عمران خان کا کوئی عمل دخل تھا  انہیں دو منہ کا سانپ قرار دے دیا۔

عمران خان سے یہ توقع کرنا کہ وہ اس الزام کے جواب میں  ہاتھ جوڑ معافی طلب کریں گے اور مذاکرات کے لیے گڑ گڑائیں گے حماقت سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ عمران خان نے جواب میں  ٹویٹ کیا ’’مذکرات کی بحالی کی میری دعوت کے جواب میں ہندوستانکا منفی اور متکبر رویہ افسوسناک  ہے۔ اپنی زندگی میں نے ادنیٰ لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر قابض ہوتے دیکھا ہے۔ یہ لوگ بصارت سے عاری اور دوراندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں‘‘۔ مودی جی کی ایسی توہین آج تک کسی بیرونی رہنما نے نہیں کی لیکن  اس ردعمل سے  بی جے پی  کی تو من مرا دپوری ہوگئی۔ بھوپال میں بی جے پی  کارکنان کے کے مہا کمبھ میںپاکستان پر ہندوستان کا تختہ پلٹنے کا الزام لگایا گیا۔

 رافیل معاملے میں فرانس کے سابق صدر اولند  کا بیان کو  جیٹلی جی  غیر ملکی سازش قرار دے چکے تھے۔ بی جے پی کے ترجمان  سامبت پاترانے اس سازش کو پاکستان سے جوڑ دیا اور پھر مودی جی اس کی توثیق کردی کہ کانگریس کو ہندوستان کے اندر حلیف نہیں مل رہے اس لیے وہ پاکستان کو اپنا مددگار بنارہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فی الحال  بی جے پی  کے حلیف نائیڈو، ٹھاکرے اور کشواہا پیچھا چھڑا کر بھاگ رہے ہیں۔ اس حالت میں حسبِ روایت بی جے پی کو پاکستان کی یاد آنا فطری  ہے۔ رحمٰن ملک کے حوالہ سےکہا جارہا کہ وہ راہل کوو زیر اعظم بنانا چاہتے ہیں۔ رحمٰن ملک جو اپنی پارٹی کو کامیاب کرنے میں دو مرتبہ ناکام ہوچکے ہیں وہ بھلا راہل کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔ کسی اور ملک میں حکومت کو گرانا اور بنانا اتنا آسان ہوتا تو مودی جی خود نوازشریف کو ہارنے سے بچا لیتے اور دومنہ والے سانپ کو اقتدار میں آنے ہی نہیں دیتے۔  افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوپاک کے  بے قصورعوام اس سیاسی رسہ کشی کی قیمت پہلے بھی ادا کرتے ہیں اور اب بھی ادا کررہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close